Podcasts by Category
دروس حُجّةُ اللہ البالِغة

- 204 - حجۃ اللہ البالغہ | 204 | کتاب کے مضامین ایک نظر میں اور فضلیتِ شیخین | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 204
(اختتامی درس)قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تتمۂ کتاب: باب 03 (حصہ دوم)
کتاب کے مضامین ایک نظر میں اور ملت کی حقیقت، ملتِ ابراہیمیہؑ حنیفیہ کی جامعیت نیز فضلیتِ شیخینؓ کا بیانمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 25؍ دسمبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز درس
00:33 حُجّةُ اللّٰہِ البالِغة کی تصنیف کا پسِ منظر اور موضوع؛ احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ بطور فلسفہ دینِ اسلام
11:02 حضور ﷺ کی بعثت تک مذاہبِ عالم کے ہاں مسلمہ اُصول و ضوابط کا تعارف
13:07 دنیا بھر کے نظام ہائے حیات کے مطالعے سے واقعی و حقیقی البِرّ (نیکی) اور الإثم (برائی) کا تعین
17:38 نیکی و بدی پر قائم ہونے والے عملی نظام ’’السّیاسۃ المِلّیۃ‘‘ کا تحلیل و تجزیہ اور ملتِ ابراہیمیہؑ کے اُصول و ضوابط
20:48 حقائقِ کائنات، انسان کی حقیقت اور اسے قانون کا پابند بنانے کے اَسباب و وجوہ اور نیکی و بدی کے تین معیارات کا تعین
21:34 1۔ اعمال کی سزا و جزا اور اس کے دنیا و آخرت میں نتائج
22:40 2۔ انسانی ضروریات و احتیاجات کی تسکین پر مبنی ارتفاقات کا نظام
23:18 3۔ تمام مذاہب کے ہاں نوعِ انسان کی کامیابی کے معیارات
30:02 نیکی و بدی کی حقیقت
36:52 ’’سیاستِ ملت‘‘؛ یعنی نظامِ سیاست کی حقیقت اور سیاسی رہنما و مفہّمین کا تعارف
39:03 نبی اکرم ﷺ کی اَحادیث سے نیکی و بدی و سیاستِ ملیہ کے اُصول و ضوابط کے اَخذ و استنباط کے طریقے
40:18 الایمان سے الحج تک دین کے سات نظاموں کی مربوط تفصیل
51:35 دین کا آٹھواں نظام؛ اَحادیث کی روشنی میں علم السلوک والاحسان کی جامع لاجواب ترتیب اور اس کے احکامات و ضوابط
55:56 نظامِ معاملات و تدبیرِ منزل و سیاستِ مدن اور آدابِ زندگی
58:55 حضور ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ
1:02:06 دینِ اسلام کو ممکنہ درپیش اور لاحق ہونے والے فتنوں کے خلاف مزاحمتی شعور پر جامع گفتگو
1:08:00 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کے تین بنیادی اُصول
1:15:17 آخری سبق: ملت کی حقیقت، مللِ سابقہ اور ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی جامعیت1:21:39 ملتِ ابراہیمیہ کے تسلسل و توارث میں جماعتِ صحابہؓ کی اہمیت و عظمت و خصوصیات
01:26:46 جماعتِ صحابہ میں دو افضل ترین شخصیات؛ حضرات شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افضلیت پر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی پُرمغز اور سیر حاصل گفتگو
01:39:43 کتاب کا اختتامی خطبہ اور حُجّةُ اللّٰہِ البالِغة کے منہجِ فکر پر امام دہلویؒ کی مرتب کردہ دیگر کتب کا تعارف
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteFri, 12 Apr 2024 - 203 - حجۃ اللہ البالغہ | 203 | خلافت کو لاحق چار بڑے فتنے اورمناقبِ صحابہؓ| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 203
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تتمۂ کتاب: باب 03 (حصہ اول)
سیاست و خلافت کو لاحق چار بڑے فتنے اور مناقبِ صحابہؓ کا بیان
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 21 ؍ دسمبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔ حدیث میں مذکور سیاست و خلافت کو لاحق چار بڑے فتنے اور شاہ صاحبؒ کی دوسری تشریح
۔ ملوک اور خلفاء کی حقیقت اور خلافت و ملوکیت کے نام افتراق و انتشار پیدا کرنے والوں کا ردّ
۔ "فتنۂ اَحلاس" ، فتنۂ سرّاء اور انسانوں کو تھپڑا دینے والا فتنہ
۔ فتنوں سے متعلق ایک اور حدیث: اسلام کی چکّی زیادہ سے زیادہ ستر سال چلے گی، حدیث کی صحیح تشریح سمجھنا بہت ضروری
۱۔ اسلام کی چکّی کا درست مفہوم
ب۔ روایت میں سالوں کے تعیُّن میں شک کی بنیادی وجہ
ج۔ ہلاکت کا مفہوم
د۔ ستر سال کا آغاز بعثتِ نبویؐ اور تکمیل حضرت امیرِ معاویہؓ کی وفات تک
۔ ستر سال کے عدد سے معاملے کی سنگینی کی طرف اشارہ نیز حدیث کے بطن الباطن کی طرف شاہ صاحبؒ کی توجہ دلا رہے ہیں۔
۔ فتنۂ ملیّہ سے متعلق حدیث میں ترکوں کے عربوں پر تین حملوں کا ذکر ، جزیرة العرب پر قبضہ کرنے کا اشارہ اور شاہ صاحب کی تشریح: عباسیوں کی حکومت کا خاتمہ اور عثمانیوں کی حکومت کا قیام
۔ باب: 03 مناقبِ صحابہؓ سے متعلق تین امور کی نشان دہی
۱) ہیئتِ نفسانیہ کی اساس پر آپؐ کا صحابی کی منقبت بیان کرنا
۲) آپؐ کو خواب یا روحِ مبارک میں صحابی کے رسوخ کا مشاہدہ
۳) کسی صحابی سے آپؐ کو محبت پیدا ہونا اور اس کی تعریف کرنا
۔ علمی قاعدہ: "خیر القرون قرنی" والی حدیث کی تشریح: قرن کی حقیقت ، روایتِ حدیث اور خلافت و سیاست کے اعتبار سے قرن کے ادوار کا علیحدہ علیحدہ تعیّن میں ان قرون میں سے کونسا قرن افضل؟بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteFri, 12 Apr 2024 - 202 - حجۃ اللہ البالغہ | 202 | چھ فتنوں سے متعلق نبی اکرمؐ کی احادیث | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 202
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تتمۂ کتاب: باب 02 (حصہ دوم)
چھ فتنوں سے متعلق نبی اکرمؐ کی احادیث کا مطالعہ
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 14 ؍ دسمبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:17 سابقہ درس: چھ فنتوں کا خلاصہ
13:11 نبی اکرم ﷺ نے ان چھ فتنوں میں سے اکثر بیان کیے ہیں: احادیث کا مطالعہ
16:31 پہلی حدیث میں نفسانی و شیطانی محرکات و دواعی کے فتنے کا ذکر
19:24 دوسری حدیث میں مسلمانوں کی حکومت و خلافت کے چار ارتقائی مراحل: شاہ صاحب کا نکتۂ نظر
32:46 تیسری حدیث میں دلوں پر فتنوں کے آنے کا ذکر ، شیطانی و نفسانی خیالات پیدا ہونا اور فتنے میں مبتلا ہونے یا فتنے کے خلاف مزاحمت کرنے والے دو طرح کے قلوب: شاہ صاحبؒ کی وضاحت
44:36 چوتھی حدیث میں امانت کے نزول اور اس کے اٹھ جانے کا ذکر: شاہ صاحبؒ کی تشریح: اللہ کے دین کی نسبت اور لوگوں سے معاملات کے اعتبار سے امانت و دیانت کا ختم ہو جانا
53:00 پانچویں حدیث میں حضرت حذیفہؓ کے نبی اکرم ﷺ سے خیر کے بعد شر پیدا ہونے سے متعلق سوالات اور آپؐ کے جوابات: شاہ صاحبؒ کی توضیح
1:08:03 چھٹی حدیث میں فتنوں: "فتنۂ اَحلاس" ، "فتنۂ سرّاء" اور "فتنۂ دھیماء" کا ذکر اور شاہ صاحبؒ کی تشریح
1:22:18 ان فتنوں میں آخری فتنہ قیامت کی علامات کا ظہور
1:25:00 دو طرح کے حشر ہوں گے ؛ ایک حشر قیامت سے پہلے اور دوسرا بعث بعد الموتFri, 12 Apr 2024 - 201 - حجۃ اللہ البالغہ | 201 | فتنوں کی چھ اقسام اور اُن کی تفصیلات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 201
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تتمۂ کتاب: باب 02 فتن (حصہ اول)
فتنوں کی چھ اقسام اور اُن کی تفصیلات
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 07 ؍ دسمبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔ سابقہ باب کا خلاصہ اور اس باب سے ربط
۔ملکیت و بہیمیت میں توازن و اعتدال رکھنا بڑی آزمائش
۔ علم الفتن و الإِنذار و المعاد، ایک مستقل علم
۔ یہ علم نبی اکرم ﷺ کو خصوصی طور پر ودیعت کیا گیا
۔ انسانیت کو لاحق ہونے والے ممکنہ چھ فتنے اور آپ ﷺ کا ان فتنوں سے باخبر کرنا
۔ ۱۔ فتنۂ شخصیت اور اس پر جامع گفتگو
۔انسانی نفس کے تین شعبے: قلب ، عقل اور طبع (طبیعتِ انسانی) اور فتنے کے تناظر میں ان اَقسام کا تحلیل و تجزیہ (انسانی لطائف کی معرفت)
۱۔ قلب کی اقسام: قلبِ بہیمی، قلبِ شیطانی ،قلبِ انسانی اور قلبِ روحانی
ب۔ عقل کی اقسام: عقلِ بہیمی ، عقلِ شیطانی ، عقلِ سلیم، عقلِ سرّی و عقلِ خفی
ج۔ نفس کی اقسام: نفسِ امارہ ، نفس لوامہ اور نفسِ مطمئنه
۔ ۲۔ فتنۂ عائلی (خاندانی نظام میں فساد کا فتنہ )
۔ ۳۔ فتنۂ مملکت (دریا کی لہروں کی صورت میں ملکی نظام میں فساد پیدا کرنے والا فتنہ)
۔ ۴۔ فتنۂ ملت (نبی اکرم ﷺ کے تربیت یافتہ حواری و صحابہ کا دنیا سے چلے جانا اور دینی معاملات نا اہل لوگوں کے سپرد ہونا) اور مزاحمتی عمل
۔ ۵۔ انسانیت میں پھیلا ہوا فتنہ (انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے معیار میں تغیر و تبدل پیدا ہونا) نیز اس فتنے کے انسانوں کی کیفیتوں کے اعتبار سے مختلف اثرات
۔ ۶۔ فتنۂ حوادث و واقعات (انسانوں کی مکمل ہلاکت و تباہی کے عمومی اور پوری فضا میں پھیلے ہوئے قیامت کے وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حوادثات)پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteFri, 12 Apr 2024 - 200 - حجۃ اللہ البالغہ | 200 | خلیفة اللہ کی حیثیت سے نبیؐ کے مزید واقعات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 200
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تتمۂ کتاب: باب 01
نبی اکرم ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ (حصہ چہارم)
خلیفة اللہ فی الارض کی حیثیت سے نبی اکرم ﷺ کے مزید واقعات و معجزات
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 30 ؍ نومبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:26 فتحِ خیبر: پسِ منظر ، خلافتِ کبری کی ابتداء اور اس کی آیات و نشانیاں
20:18 فتحِ خیبر کے بعد کے واقعات: بین الاقوامی ظالمانہ نظام کے خاتمے کا الہام ، حکمرانوں کے نام خطوط اور غزوہ موتہ
28:20 فتحِ مکہ کی تقریب: قریش کا معاہدے کی خلاف ورزی کرنا
34:00 غزوہ حنین اور نبی اکرم ﷺ کی استقامت
41:57 حضور ﷺ پر جادو اور دنیوی امور میں جادو کا اثر انداز ہونا
47:50 مالِ غنیمت کی تقسیم اور آپؐ کا ذو الخویصرہ کے متعلق پیشن گوئی کرنا
52:59 حضرت ابو ہریرہؓ کی والدہ کے لیے دعا تو اسی دن ایمان لے آئیں
54:37 خلیفة اللہ فی الارض کی حیثیت سے نبی اکرم ﷺ کے مزید واقعات و معجزات
1:04:40 خلافتِ کبری کی تکمیل کے بعد اس کا عملی اظہار ، غزوہ تبوک اور پیش آمدہ واقعات
1:14:44 مشرکوں سے سابقہ معاہدات ختم اور چار ماہ کی مہلت: سورت براءت کا نزول
1:15:46 مباہلہ کرنے کے لیے نصاری نجران کا وفد
1:16:15 حجة الوداع ، دنیا سے رخصتی کا وقت قریب اور آمدِ جبرئیلؑ پر دین کا خلاصہ بیان کرنا
1:22:44 مرض الوفاة اور رفیقِ اعلی کا مسلسل تذکرہ
1:24:15 نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ملت کے معاملات کی کفالت کا انتظام اور غلبہ دین کی تکمیل
1:25:50 سیرتِ نبی اکرم ﷺ کا جامع خلاصہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteFri, 12 Apr 2024 - 199 - حجۃ اللہ البالغہ | 199 | ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے قومی اقدامات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 199
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تتمۂ کتاب: باب 01
نبی اکرم ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ (حصہ سوم)
ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے قومی اقدامات اور معجزات و برکات کا ظہور
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 23 ؍ نومبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:17 ہجرتِ مدینہ کا پسِ منظر ، بیعتِ عقبہ اولی و ثانیہ اور قریش کا رد عمل
8:29 ہجرتِ مدینہ میں پانچ معجزات کا ظہور
24:22ریاستِ مدینہ کے اساسی امور :
۱) یہود سے معاہدہ: میثاقِ مدینہ اور اس کی شقیں
۲) مرکز کی بنیاد: مسجدِ نبویؐ کی تعمیر
۳) جماعت ، جمعہ اور عبادات اور حدود کے امور
۴) دینِ اسلام کی اعلانیہ دعوت
۵) مؤاخات کے ذریعے ریاستِ مدینہ کی مضبوطی
35:52 جہاد کی فرضیت ، اس کا بنیادی راز اور ظلم کے خلاف پہلی جنگ: غزوہ بدر
53:58 یہود کی جلاوطنی اور باغیوں کے خلاف اِقدام
1:00:18 غزوہ اُحد اور پہلی مرتبہ ہزیمت سے تین نتائج کا سامنے آنا
1:07:51 حضرت عاصمؓ اور ستر قراء صحابہؓ کی شہادت کا واقعہ
1:12:43 غزوہ اَحزاب اور پانچ امور
1:22:36 آپؐ کاحضرت زینبؓ سے نکاح اور اس کا راز
1:23:59 نبی اکرمؐ کے معجزات و برکات کا ظہور
1:29:24 غزوہ بنی مصطلق اور واقعہ اِفک (طوفانِ بدتمیزی)
1:30:58 کسوفِ شمس (سورج گرہن)
1:34:01 نبی اکرمؐ کا خواب اور صلح حدیبیہ: قومی و بین الاقوامی انقلاب کی تقریب
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteSat, 06 Apr 2024 - 198 - حجۃ اللہ البالغہ | 198 | واقعۂ معراج کے بارہ امور کی حقیقت | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 198
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تتمۂ کتاب: باب 01
نبی اکرم ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ (حصہ دوم)
دینِ اسلام کی دعوت کا آغاز اور واقعۂ معراج کے بارہ امور کی حقیقت
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 16 ؍ نومبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:30 دینِ اسلام کی دعوت: خفیہ دعوت کا آغاز ، اعلانیہ و خاندان کو دعوت دینے کا حکم اور مشرکین کی طرف سے ایذا و تکلیف
12:40 مشرکین کا تعصب اور ہجرتِ حبشہ کا حکم
14:28 عام الحزن ، بنو ہاشم کی اجتماعیت کا بکھرنا اور ہجرت کرنے کا خیال
21:38 واقعہ طائف کے تناظر میں آیت نمبر 52 (سورۃ الحج) کا درست معنی و مفہوم
38:30 واقعۂ اِسراء (معراج): تفصیلات
39:43 سفرِ معراج جاگنے کی حالت میں جسم مبارک کے ساتھ ہوا
44:40 انبیاءؑ کو نورِ عرش کا مشاہدہ: واقعہ معراج کے دلائل
52:33 ۱) شقِ صدر کی حقیقت کے تین پہلو
57:49 ۲) براق پر سوار ہونے کا مطلب و مفہوم: نفسِ ناطقہ کے احکامات کا مکمل غلبہ
1:01:34 ۳) مسجدِ حرام سے مسجد اقصیٰ کا سفر
1:04:50 ۴) مسجدِ اقصیٰ سے آسمانوں کا سفر اور انبیاءؑ سے ملاقات کی تعبیر
1:09:10 ۵) درجہ بدرجہ ہر آسمان پر چڑھنے کا بنیادی راز
1:13:23 ۶) حضرت موسیٰؑ سے ملاقات اور ان کے رونے کی وجہ
1:17:37 ۷) سدرة المنتہیٰ کی حقیقت: پوری کائنات درخت کی مانند
1:24:23 سدرة المنتہیٰ (کائنات کا عالمگیر نظام) کی درخت سے مشابہت کا راز
1:31:32 ۸) سدرة المنتہیٰ کی جڑ سے ظاہری و باطنی نہریں جاری اور ان کا فیضان
1:40:00 ۹) سدرة المنتہیٰ کو ڈھانپنے والے انوار ات و تجلیات اور تدبیراتِ الہیہ
1:41:52 ۱۰) بیتِ معمور کی حقیقت
1:44:30 ۱۱) دودھ اور شراب کا پیالہ لایا گیا اور آپؐ کا دودھ کو پسند فرمانا
1:46:34 ۱۲) پانچ وقت کی نماز فرض اور حضرت موسیٰؑ کا نمازیں کم کراناپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteSat, 06 Apr 2024 - 197 - حجۃ اللہ البالغہ | 197 | آپ کی پانچ نسبی خصوصیات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 197
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تتمۂ کتاب: باب 01
نبی اکرمؐ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ (حصہ اول)
آپ کی پانچ نسبی خصوصیات جسمانی ساخت اور اخلاق و عادات
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 02 ؍ نومبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ کتاب کی مباحث کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ باب سے ربط: نبی اکرم ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ
۔۔ سیرت کا معنی
۔۔ نبی اکرم ﷺ کا نسب مبارک اور پانچ نسبی خصوصیات
۔۔ بعثتِ انبیاءؑ کے اساسی امور
۔۔ جسم مبارک کی ساخت میں اعتدال و توازن
۔۔ اخلاق و عادات اور کردار
۔۔ جبلی ملکوتی صفات
۔۔ دنیا میں آمد سے پہلے آپ سے متعلق بشارات
۔۔ قبل از نبوت علاماتِ نبوت کا اظہار
۔۔ نبوت کا آغاز: سچے خواب ، وحی کا نزول اور فترتِ وحی اور فرشتے کو دیکھنا: بنیادی راز
۔۔ نزولِ وحی کی کیفیت: دو صورتیں اور ان کا رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteWed, 03 Apr 2024 - 196 - حجۃ اللہ البالغہ | 196 | کفتگو کے آداب اور اَیمان و نذور کے احکام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 196
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ معیشت: باب 04 (حصہ دوم)
کفتگو اور مکالمے کے آداب اور اَیمان و نذور کے احکاممُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26 ؍ اکتوبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ احادیث کی روشنی میں بات چیت اور مکالمے کے آداب
۔۔ حضور اکرم کے نام اور کنیت کے مطابق اپنا نام محمد اور ابو القاسم رکھنا جائز نہیں ہے۔
۔۔ مبالغہ آرائی ، بغیر سوچے سمجھنے اور بے ادبی پر مشتمل بات چیت کی ممانعت
۔۔ گفتگو میں تصنّع اور بناوٹی انداز، فحش گوئی ، ہر وقت شعر و شاعری و مزاح کی حالت اور طویل قصہ گوئی کی ممانعت
۔۔ آفاتِ لسان کے اصول: غیبت اور جھوٹ کی ممانعت
۔۔ چھ قسم کی باتیں غیبت نہیں:
۱) ظالم کے ظلم کی نشان دہی کرنا
۲) گناہ گار کو راہِ راست پر لانے اور مُنکَرات (برائیوں) کو روکنے کی غرض سے دوسرے سے مدد لینا
۳) رہنمائی کے لیے کسی کے متعلق مسئلہ پوچھنا
۴) کسی شخص کے شرّ سے مسلمانوں کو خبردار کرنا
۵) اعلانیہ فسق و فجور کے مرتکب شخص سے دور رہنے کے لیے دوسروں کو متنبہ کرنا
۶) کسی شخص کا کوئی عیب معروف ہو تو اس کو اس نام سے پکارنا
۔۔ دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت
۔۔ باب: 05 اَیمان و نذور (قسمیں اٹھانا اور منت مانگنا)
۔۔ نذر ماننا اور قسم اٹھانا کوئی نیکی نہیں
۔۔ حَلف (قسم) کی چار قسمیں اور ان کا حکم
۔۔ غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت نیز بھلائی کے لیے قسم کا کفارہ ادا کرکے قسم توڑنے کا حکم
۔۔ نذر کی پانچ قسمیں (نذرِ مبهم ، نذرِ مباح ، نذرِ طاعت ، نذرِ معصیت اور نذرِمستحیل) احکامات
۔۔ تتمۂ کتاب: اَسرارِ شریعت میں سے جتنا مقصود و مراد تھا وہ مکمل ہوا
۔۔ کتاب کے آخر میں تین باب:
۱۔ نبی اکرمؐ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ
ب۔ امت کو ممکنہ درپیش اور لاحق ہونے والے فتنے
ج۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقبپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteWed, 03 Apr 2024 - 195 - حجۃ اللہ البالغہ | 195 | آدابِ ہم نشینی و معاشرت(انسانی میل جول) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 195
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ معیشت: باب 04 (حصہ اول)
آدابِ ہم نشینی و معاشرت(انسانی میل جول کا نظام) اور احادیث کی روشنی میں اس کے احکاماتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 12 ؍ اکتوبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ آدابِ ہم نشینی و معاشرت (انسانی میل جول کا نظام): علمی قاعدے سے توضیح
۔۔ ملاقات کا ادب: التحیة (ایک دوسرے کو سلام کہنا): راز اور مختلف مذاہب کے تحیہ کے الفاظ
۔۔ انبیاءؑ کا تحیه "السلام"
۔۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ اور آدمیت میں اجتہادی صلاحیت رکھ دی
۔۔ "سلام" سے متعلق آپؐ کے احکامات اور ان کے اسرار و رموز
۔۔ السلام علیکم کی روح: جان و مال کی حفاظت کی ضمانت
۔۔ چھوٹے بڑوں کو سلام کہیں نیز سلام میں پہل کرنے کی تاکید
۔۔ یہود و نصاری کو سلام کہنے سے متعلق حدیث اور اس کا راز
۔۔ سلام کے الفاظ: اجر و ثواب اور فضیلت کا راز
۔۔ جماعت میں سے ایک آدمی کا سلام کہنا اور جواب دینا کافی: بنیادی وجہ
۔۔ سلام الوداع کے فوائد
۔۔ مصافحہ کرنے کا راز
۔۔ آنے والے کے لیے کھڑا ہونا: بظاہر متضاد احادیث اور ان میں جمع و تطبیق
۔۔ بت بن کر کسی کے آگے کھڑا ہونے اور ملاقات کے وقت جھکنے کی ممانعت
۔۔ آدابِ معاشرت کا ایک اہم ادب: اجازت طلب کیے بغیر گھر میں داخل ہونے کی ممانعت نیز اجازت کے تین درجے
۔۔ احادیث کی روشنی میں بیٹھنے ، سونے اور سفر وغیرہ کے آدابپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteWed, 03 Apr 2024 - 194 - حجۃ اللہ البالغہ | 194 | طبِ نبویؐ ، رقیٰ و فال اور نجوم کی تاثیرات| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 194
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ معیشت: باب 03 (حصہ دوم)
طبِ نبویؐ ، رقیٰ و فال کی حقیقت ، نجوم کی تاثیرات اور خواب کی پانچ قسموں کا بیان
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 05 ؍ اکتوبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل عربوں کے اَمراض و مصائب دور کرنے کے امور اور آپؐ کی رہنمائی
۔۔ طبی ادویات سے علاج معالجے میں آپؐ کی رہنمائی: تین طرح کے علاج کی ممانعت
۔۔ طبِ نبویؐ کی بنیاد عرب معاشرے کے تجربات پر ہے۔
۔۔ "رقیٰ" کی حقیقت اور اس سے متعلق رہنمائی
۔۔ نظر لگنا (عین) برحق اور اس کی تعریف اور نیز رقی کی ممانعت کے تین اَسباب
۔۔ "فال" اور "طِیَرہ" کی حقیقت اور اس کی تین شکلیں نیز ان کی شرعی حیثیت
۔۔ حدیث میں "عدویٰ" (متعدی مرض) کی نفی اور اس کی قرار واقعی حقیقت
۔۔ "ھامہ" و "غول" کے نام پر توہم پرستی کا رد
۔۔ حدیث میں "فال" ، "طِیَرہ" ، "عدویٰ" و "ھامہ" کی حقیقت کی نفی نہیں: دلائل سے وضاحت
۔۔ شریعت میں نجوم کی تاثیر ات کی سرے سے نفی نہیں
۔۔نجوم کی تاثیرات کے علم کی دو قسمیں: ۱۔ بدیہیاتِ اولیہ ، ۲۔ حدس و تجربہ اور رصد گاہ
۔۔ ستاروں کی تاثیرات کے دو پہلوؤں کی وضاحت اور ذاتِ باری تعالی کے مؤثر حقیقی ہونے کا درست مفہوم
۔۔ رؤیا (خواب) کی پانچ اقسام: بشری من اللہ اور رؤیا مَلکیہ کی حقیقت نیز خوابات کی تعبیرپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteSun, 31 Mar 2024 - 193 - حجۃ اللہ البالغہ | 193 | تعیش پسندی کی دیگر ممنوع شکلیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 193
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ معیشت: باب 03 (حصہ اول)
تعیش پسندی کی دیگر ممنوع اور ناجائز شکلیں نیز زیب و زینت کے جائز امور کی نشان دہی
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28 ؍ ستمبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ: تعیش پسندی کی ممنوع اور ناجائز شکلیں
۔۔ ۲) تعیش پسندی کے لیے زیوارت پہننا عجم کی عادت ، شریعت میں عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز اور مردوں پر حرام: بنیادی راز
۔۔ چاندی کی انگوٹھی بطور مُہر کے لیے خاص طور پر حکمران کے لیے پہننا جائز
۔۔ سرمایہ پرستی کے خاتمے کے لیے شاہ صاحبؒ کے ہاں غیر مُقطَّع سونا (جس کا زیور نہ بنا ہو) پہننا عورتوں کے لیے بھی حرام
۔۔ ۳) بالوں کی زیبائش و آرائش اور تزیّن اختیار کرنا: حُبِّ جمال میں دو انتہا پسندانہ طبقے اور نبی اکرم ﷺ کا معتدل طریقہ
۔۔ فطرتِ انسانی کے پانچ امور
۔۔ بالوں سے متعلق نبی اکرم ﷺ سے منقول روایات اور ان کی تشریح
۔۔ خوبصورتی کے لیے بالوں لگوانے ، نوچنے اور دانتوں میں فاصلہ کرانے والوں پر اللہ کی لعنت: حدیث کا مفہوم
۔۔آپؐ نے زیب و زینت کےجائز اور ممنوع امور کی نشان دہی کر دی ہے۔
۔۔ ۴) کپڑوں اور دیواروں وغیرہ پر تصاویر بنانے کی ممانعت: دو وجوہات
۔۔ ۵) دنیا و آخرت کے امور سے غافل کرنے والے کام (مُسلِّیات) کی ممانعت
۔۔ شادی و بیاہ میں فرحت و سرور کی اجازت ، یہ مُسلِّیات میں سے نہیں
۔۔ ملاهی (کھیل کود) کی دوقسمیں اور ان کا حکم
۔۔ حدی خوانی مُسلِّیات میں سے نہیں
۔۔ جنگی تیاری کے لیےآلاتِ حرب کے کھیل کود کا حکم
۔۔ کبوتر بازی اور جانور لڑانے کی ممانعت
۔۔ ۶) بلا ضرورت سواریاں (گاڑیاں) اورفالتو ساز و سامان اکٹھا کرنے کی ممانعت
۔۔ شوقیہ کتے پالنے پر لعنت کا موجب اور تین قسم کے کتوں کا استثناء
۔۔۷) سرمایہ پرستی کے تناظر میں سونے اور چاندی کے برتنوں کااستعمال ممنوع
۔۔ ۸) بڑی بڑی شاندار عمارتین بنانا اور کمروں کو زیب و زینت سے آراستہ کرنے کی ممانعت: تعیش پسندی کی ہر شکل ناجائز
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteSun, 31 Mar 2024 - 192 - حجۃ اللہ البالغہ | 192 | شربِ خمر کی حرمت اور حلال مشروبات کے آداب| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 192
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ معیشت: باب 02 (حصہ چہارم)
شربِ خمر کی حرمت اور حلال مشروبات کے آداب نیز ممنوع لباس کی چند صورتیں
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 21 ؍ ستمبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ مشروبات کے آداب اور حلال و حرام کی تفصیل
۔۔ شربِ خمر (شراب نوشی) کی خرابیاں اور حرمت پر تمام ملتوں کا اتفاق
۔۔ حکمتِ عملی کے تقاضے سے شربِ خمر کے جواز کے خیال کی شاہ صاحبؒ کی طرف سے تردید
۔۔ قلیل مقدار (جو نشہ آور نہ ہو) شراب کے عدمِ جواز کا بنیادی راز
۔۔حرمتِ شراب پر کثرت سے منقول احادیث اور واقعات کی تفصیلات
۔۔ شراب کی حرمت سے متعلق روایات کی تشریح
۔۔ حلال مشروبات کے پینے کے آداب اور حکمتیں
۔۔ باب: 03 (لباس ، زیب و زینت اور برتن وغیرہ)
۔۔ عجمیوں کی عادات اور تعیشات میں انتہاء پسندی کی ممانعت
۔۔ ۱) لباسِ فاخرہ پہننا حرام اور ممنوع لباس کی چند صورتیں
۔۔ لباس سے متعلق احادیث میں بظاہر تعارض اور ان میں جمع و تطبیقپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteSun, 31 Mar 2024 - 191 - حجۃ اللہ البالغہ | 191 | آدابِ طعام اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 191
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ معیشت: باب 02 (حصہ سوم)
آدابِ طعام اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 14 ؍ ستمبر 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ
۔۔ طریقہ طعام اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات
۔۔ برکت کا مفہوم ، دو پهلو ، ظہورِ برکت کا سبب: تفصیلات
۔۔کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی حکمت
۔۔ بسم اللہ پڑھے بغیر اور دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے والے کے ساتھ شیطان کا شریک ہونا نیز انسانوں کے خیالات پر شیاطین و ملائکه کے اثرات اور نبی اکرم ﷺ کا مشاہدہ
۔۔ کھانے میں مکھی گر جائے تو اس کے دونوں پَر ڈبونے والی حدیث کے بنیادی راز کی علمی قاعدے سے توضیح
۔۔ نبی اکرم ﷺ کے کھانے کےمعمولات سے متعلق احادیث اور ان کی تشریحSun, 31 Mar 2024 - 190 - حجۃ اللہ البالغہ | 189 | حلال و حرام جانور اور حلت و حرمت کی حکمتیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 189
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ معیشت: باب 02 (حصہ اول)
کھانے پینے کے آداب و امور: حلال و حرام جانور اور حلت و حرمت کی حکمتیںمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 31 ؍ اگست 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔معاشی سرگرمیوں میں نبی اکرم ﷺ کے متعین کردہ پانچ بنیادی اصول (سابقہ درس کا خلاصہ)
۔۔ کھانے پینے کے آداب و امور کی علمی قاعدے سے وضاحت
۔۔ نفسِ انسانی کی صحت (اعلی اخلاق) یا مرض (بد اخلاقیوں) کے اسباب کی تحقیق و تفتیش کے دو پہلو
۔۔ انسانِ کامل (انبیاءؑ) سے زیادہ ان اسباب کی پڑتال کرنے والا کوئی نہیں
۔۔ اللہ کی مہربانی و رحمت کا لازمی تقاضا
۔۔ اخلاقِ اربعہ کی ضد پیدا کرنے والی غذاؤں میں ایک خنزیر؛ حرمت کے بنیادی اسباب
۔۔ فطرتِ سلیمہ کو ناپسند اور مزاجِ انسانی میں سماحت و عدالت کے لیے مُضر حیوانات کی مزید پانچ قسمیں
۔۔بتوں کے نام پر مذبوحہ جانور ، مردار اور غیر فطرتی طریقے سے ذبح کیے ہوئے جانور حرام: حرمت کی ضابطہ بندی و وجوہات نیز ذبح و نحر کی مصلحتیں
۔۔ شریعت میں چار قسم کے حلال و حرام جانور اور حلت و حرمت کی حکمتیںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteSun, 31 Mar 2024 - 189 - حجۃ اللہ البالغہ | 188 | دین اسلام کا نظامِ معیشت: پانچ بنیادی اصول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 188
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ معیشت: باب 01
دین اسلام کا نظامِ معیشت اور نبی اکرم ﷺ کے متعین کردہ پانچ بنیادی اصولمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 17 ؍ اگست 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ابوابِ سیاستِ مدن کے بعد معیشت کے ابواب کا مطالعہ
۔۔ وسائل و حاجات کے تناظر میں معیشت کے تین دائرے: جامع تعریف
۔۔ معیشت کا ہدف: ارتفاقِ ثانی میں انسانی احتیاجات کی تسکین کا بہترین نظام کا قیام
۔۔ معیشت پر حکومت کا کنٹرول ، مخصوص طبقے اور مافیاز کے مفادات کا تحفظ لیکن عام آدم کی احتیاجات سے روگرانی؛ سرمایہ پرست نظام کی خرابیاں
۔۔ شاہ صاحبؒ کے ہاں معیشت کا دائرہ کار اور اصل حقیقت کی نشان دہی
۔۔ مہذب اقوام کا معاشی احتیاجات پورا کرنے کے طور طریقوں پر اتفاق
۔۔ ہر قوم اور معاشرے کے نظام معیشت کے اپنے اپنے طور طریقے اور ملت کے مطابق عملی صورتیں
۔۔ دینِ اسلام کے نظامِ معیشت کی خصوصیات اور دیگر نظاموں کی خرابیاں
۔۔ نبی اکرم ﷺ کا نظامِ معیشت کے مصالح و مفاسد کی نشان دہی اور معاشی نظام میں پانچ بنیادی امور کا تعین
۔۔ ۱) ہر معاشی سرگرمی میں مشغولیت کے وقت یادِ باری تعالی کا استحضار ضروری
۔۔ ۲) شیاطین سے مناسبت رکھنے والے مکروه و حرام اَفعال اور ہیئتوں و شکلوں سے بچاؤ ضروری
۔۔ ۳) انسانی تجربات سے ثابت شدہ اذیت و نقصان پہنچانے والی اشیاء اور امور سے بچنا لازمی
۔۔ ۴) قیصر و کسری کی تعیش پسندی اور لذات کے تعمقات اختیار کرنے کی ممانعت
۔۔ ۵) تمام معاشی سرگرمیوں میں انسانی وقار کے منافی امور سے بچنے کی تاکیدپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 31 Mar 2024 - 188 - حجۃ اللہ البالغہ | 187 | مالِ غنیمت و مال فئی کے مصارف و تقسیم کار | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 187
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 06 (حصہ چہارم)
جہاد و انقلاب:
مالِ غنیمت و مال فئی کے مصارف و تقسیم کار: قوانین و مقاصدمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 27 ؍ جولائی 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔بین الاقوامی غلبے کے لیے وسائلِ جہاد اکٹھا کرنے کا نظام: مال غنیمت و مال فئی کے مصارف اور تقسیم کے قوانین
۔۔ ظالموں اور کافروں سے لیے ہوئے مال کی دو قسمیں: مالِ غنیمت اور مالِ فئی
۔۔ مالِ غنیمت کے مصارف اور تقسیم کے قوانین
۔۔ مالِ فئی کا مصرف ، خرچ کا اصول اور مصلحت کے مطابق تقسیم کار
۔۔ مفتوحہ زمین کے تین مصرف
۔۔ جزیہ (ٹیکس) کی مقدار: حالات و مصالح کے پیشِ نظر حکومت کو فیصلہ کرنے کا اختیار
۔۔ مالِ غنیمت اور مالِ فئی کے حلال ہونے کی دلیل اور حکمت
۔۔ مالِ غنیمت اور مالِ فئی کے مصارف کے پانچ مقاصد: انسانیت ، ریاست حکومت ، ملت اور منفعتِ مشترکہ
۔۔ بلاد و ممالک کی دو قسمیں اور ان کے اعتبار سے مصارف کا قانون
۔۔ بیت المال کا بجٹ ممالک کی نوعیت کے اعتبار سے طے ہوگا
۔۔ اہم قانون کی نشان دہی
۔۔ مالِ فئی میں خمس (پانچواں حصہ) متعین کرنے کا راز اور رسول اللہ ﷺ کے لیے اس میں حصہ مقرر کرنے کے حکمت
۔۔ قرابت داروں کو حصہ دینے کا راز
۔۔ محتاجوں، مؤلفةِ قلوب کا حصہ اور دیگر احکام
۔۔ جزیرة العرب سے دشمنان دین کو نکال باہر کرنے کی تین وجوہاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 31 Mar 2024 - 187 - حجۃ اللہ البالغہ | 186 | فوجی نظم و نسق؛ جنگی تیاری و حکمت عملی | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 186
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 06 (حصہ سوم)
احادیث کی روشنی میں فوجی نظم و نسق؛ جنگی تیاری و حکمت عملی ، اقدامات و مصالحت کےامورمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 20 ؍ جولائی 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔جہاد کے ذرائع بھی لازمی: سرحدوں کا دفاع، دشمن کے خلاف جدوجهد اور امراء کا تقرر
۔۔فریضہ جہاد سر انجام دینےوالوں کو نبی اکرم ﷺ کی چار ہدایات (غلول ، غدر ، مُثلہ اور بچے کو قتل کرنے کی ممانعت) اور شاہ صاحبؒ کی وضاحت
۔۔ دشمن سے جنگ لڑنے سے پہلے تین آپشنز کی دعوت اور ان کی تفصیلات
۔۔ شاہ صاحبؒ کی حدیث کی منفرد تشریح: تین خصلتوں کی ترتیب وار دعوت کا درست مفہوم
۔۔ سوال کا جواب: حدیثِ نبویؐ اور قولِ عمرؓ میں کوئی تعارض نہیں
۔۔ جہاد کا اصل مقصد نظامِ عالم کا قیام ، رفعِ تظالم اور تہذیبِ نفوس
۔۔ مملکت کے نظام اور حکمران کے لیے ہدایات و ذمہ داریاں
۔۔ احادیث کی روشنی میں فوجی نظم و نسق؛ جنگی تیاری و حکمت عملی ، اقدامات و مصالحت پر مشتمل ۲۲ امور
۔۔ غلول (مالِ غنیمت اور قوم کے اجتماعی (سرکاری) مال میں بد دیانتی) کی دنیا و آخرت میں سزا اور حدیث کا معنی و مفہوم اور رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteSun, 31 Mar 2024 - 186 - حجۃ اللہ البالغہ | 185 | جہاد و انقلاب کے مقدمات کی ترغیب: امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
حضرت مفتی سعید الرحمن: احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 185
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 06 (حصہ دوم)
جہاد و انقلاب کے مقدمات کی ترغیب: بنیادی اساسی امورمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22 ؍ جون 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔زیرِ مطالعه سبق: دین اسلام کی مقدماتِ جہاد کی ترغیب سے متعلق احکامات کا بیان
۔۔ مقدماتِ جہاد کی ترغیب: ضرورت ، اَسبابِ جہاد؛ رِباط و رمی کی وضاحت اور اللہ کا واضح حکم
۔۔۱) مقدماتِ جہاد کی ترغیب: احادیث میں عملِ رِباط کا اجر اور مرابط کے لیے پانچ فوائد کی بشارت
۔۔ حدیث میں مذکور پانچ فوائد کی تشریح اور اسرار و رموز کی نشان دہی
۔۔ ۲) مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ساز و سامان مہیا کرنے اور تعاون و خیر خواہی کرنا: ثواب اور حدیث کا راز
۔۔ ۳) اللہ کی راہ میں زخمی شخص کا قیامت کے دن اعزاز اور ولی اللهی فلسفے کی روشنی میں حدیث کی توضیح
۔۔ ۴) آیتِ قرانی (ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا الخ) کی نبی اکرم ﷺ کی وضاحت
۔۔ راہِ خدا میں جان قربان کرنے والے شخص کی دو خصلتیں(نسمہ ہر قسم کےامراض سے پاک اور روح پررحمتِ الہی کا نزول) شاہ صاحبؒ کی تشریح
۔۔ احادیث میں ان دو خصلتوں کے روح میں جمع ہونے کے عجیب و غریب امور کا ذکر: افراد کےاعتبار سے درجات
۔۔ شرعی جہاد کسے کہتے ہیں؟ شریعت کے دو تقاضے؛ نظامِ صالح کا قیام اور تہذیبِ نفس کی تکمیل کے لیے جدوجہد شرعی جہاد کہلاتا ہے۔
۔۔ مال اورجاہ ومقام کے لیے جنگ لڑنے والے شخص کے متعلق حدیث میں دو ٹوک حکم اور شاہ صاحبؒ کی تشریح نیزایک سوال کا جواب
۔۔ جہاد کے عمل کو چھوڑنا دنیا میں ذلت و رسوائی کا سبب
۔۔ نبی اکرم ﷺ کی خلافتِ عامہ (بین الاقوامی حکومت) اوراَدیانِ باطلہ پر دین حق کو غالب کرنے کے لیے بعثت اور یہ دونوں جہاد و انقلاب کے بغیر ممکن نہیں
۔۔ اسی غلبے کی سوچ سے گھوڑا پالنے والے اور تیر اندازی کرنے والے کا اجر و ثواب
۔۔ معذور افراد پر فریضہ جهاد عائد نہیں
۔۔ جنگی میدان سے ڈر کر بھاگنا حرام: بنیادی راز اور ضابطه بندیپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 31 Mar 2024 - 185 - حجۃ اللہ البالغہ | 184 | انقلابی جدوجہد کے ۳ و فضائلِ جہاد کے ۶ اصول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 184
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 06 (حصہ اول)
جہاد و انقلاب: انقلابی جدوجہد کے تین اصول اور فضائلِ جہاد کے چھ اصولمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 15 ؍ جون 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ دروس کا خلاصہ: داخلی نظم و نسق کے بیان کے بعد ملکی دفاع کے لیے جِہاد (جدوجہد) کی ضرورت و اہمیت
۔۔ کامل ترین شریعت اور مکمل دین میں جہاد کی مشروعیت کی بنیادی وجہ اور مثال سے وضاحت
۔۔ سوسائٹی کے درندہ صفت کینسر زدہ ظالم انسانوں کا خاتمہ: جِہاد کا بنیادی مقصد
۔۔ظالم پر قہر مسلط کرنا ضروری: حدیث کی توضیح
۔۔ انسانیت کا صفتِ احسان سے متصف ہونا ، ان سے ظلم دور کرنا ، گھریلو و ملکی و بین الاقوامی نظام کی درستگی ، اللہ کی کامل رحمت کا مقصد و منشا
۔۔ درندہ صفت اور دہشت گرد ریاستیں دیمک اور کینسر کی مانند اور ان کا علاج انقلابی جدوجہد
۔۔ اس اصول کی تاریخی مثال: قریش کے حالات اور نبی اکرم ﷺ کا غلبہ دین کے لیے انقلابی کردار
۔۔ جِہاد کے فرض ہونے کی ایک اور وجہ: عرب و عجم کے فسادی تمدن پر اللہ غضب ناک ہونا اور قیصر و کسری کی ظالمانہ حکومتوں کے خاتمے کا فیصلہ: جماعتِ صحابہ کی جدوجہد کا "ازالة الخفاء" میں تذکرہ
۔۔ احادیث کی روشنی میں جِہاد کے فضائل کے چھ اصول
۔۔ ۱) حق تبارک و تعالی کے اِلہام اور تدبیر سے جِہاد کی مطابقت و موافقت ضروری اور غیر انقلابی سوچ بہت بڑی کوتاہی
۔۔ ۲) اِنقلابی جدوجہد پُر مشقت عمل جس کی بنیاد خلوصِ نیت
۔۔ ۳) جہاد و اِنقلاب کا داعیہ و شوق فرشتوں سے مُشابہت نیز جِہاد کی شرط اِعلائے کلمة اللہ
۔۔ ۴) جِہاد کا بدلہ عمل کے مطابق دیا جائے گا
۔۔ ۵) جِہاد کے لیے ممکنہ وسائل اکٹھا کرنا بھی ضروری
۔۔ ۶) جِہاد کے عمل سے مقصود ملتِ حنیفیہ کے نظام کی تکمیل اور دین کی عظمت و شوکت قائم کرنا
۔۔ جہاد کے فضائل سے متعلق احادیث کا مطالعہ اور ان کے اسرار و رموزپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 31 Mar 2024 - 184 - حجۃ اللہ البالغہ | 183 | فیصلہ سازی میں نبی اکرمؐ کے قوانینِ کلیہ| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 183
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 05 (حصہ دوم)
قضاء (عدالتی نظام) کا بیان
ممکنہ طور پر حقائق پر مبنی فیصلہ جاری کرنے کے لیے نبی اکرمؐ کے متعین کردہ قوانینِ کلیہ اور فیصلہ جاتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 08 ؍ جون 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ: عدالتی نظام کا بیان
۔۔ دوسرا مقام: حقائق پر مبنی عادلانہ فیصلہ کرنا اور نبی اکرمؐ کی ضابطہ بندی
۔۔ ۱) مباح الاصل شے میں نزاع و جھگڑے کی نوعیت ، فیصلہ کے تین پہلو اور احادیث سے دلائل
۔۔ ۲) عرف کی اساس پر فیصلہ: حضرت براء بن عازبؓ کے قضیے سے وضاحت
۔۔ فیصلہ سازی میں نبی اکرم ﷺ کے متعین کردہ اصول و قوانینِ کلیہ
۔۔ (۱) الغنم بالغرم (تاوان کی ذمہ داری اٹھانے والا ہی فائدہ اٹھانے کا حقدار)
۔۔ (۲) شریعت کا نافذ کردہ قانون موثر بہ ماضی نہیں ہو گا۔
۔۔ (۳) بغیر دلیل کے قبضہ دار سے قبضہ چھڑانا معتبر نہیں
۔۔ (۴) معاملے کی تفتیش ناممکن ہو تو معاملہ نمٹانے کا طریقہ
۔۔ (۵) ہر عقد اور معاملہ میں فریقین کے حقوق کی حفاظت اور لوازمات کی پاسداری کرنا ضروری
۔۔ چند مقدمات اور نبی اکرم ﷺ کے فیصلہ جات
۔۔ آپؐ کے دو فیصلے اور ان کا راز
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 31 Mar 2024 - 183 - حجۃ اللہ البالغہ | 182 | قضاء کا بیان: اصولِ کلیہ ، جج کے امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 182
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 05 (حصہ اول)
قضاء (عدالتی نظام) کا بیان: اصولِ کلیہ ، جج کے مفوضہ امور نیز شاہد (گواه) کے معیارات ، اوصاف اور تعدادمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 01 ؍ جون 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سیاسات کی ایک اہم بحث: عدالتی نظام کا بیان
۔۔ عدالتی اختیارات کے دائرے اور احادیث کی روشنی میں قواعد و ضوابط
۔۔ عدالت: بطور ادارہ کیوں ضروری؟ بنیادی حاجات اور اسباب و عِلَل کی اساس پر ضرورت و اہمیت
۔۔ عدالت: بطور اتھارٹی ، اختیارات کے دو دائرے ، قاضیوں کی تقرری لازمی اور عدالتی نظام کے قیام کے لیے نبی اکرم ﷺ کی بھرپور توجہ
۔۔ پہلا علمی قاعدہ: قاضی بننے سے لے کر فیصلہ سنانے تک: عدالتی نظام کے کلی اصولوں کی چھ حدیثوں میں وضاحت
۔۔ (۱) منصبِ قضاء بہت بڑا بوجھ اور کانٹوں کی سیج نیز غلط عدالتی فیصلوں کا اجراء ہلاکت و تباہی
۔۔ (۲) نفسانی خواہشات سے عدالتی افسر بننے کی کوشش اور عہدے کا مطالبہ کرنے والے شخص کا معاملہ ، حدیث کی تشریح: جج بننے کی تین وجوہات
۔۔ اِخلاصِ نیت نزولِ برکات کا باعث
۔۔ (۳) تین طر ح کے جج: حق واضح ہونے کے باوجود ظالمانہ فیصلہ کرنے والا اور معاملے سے جاہل قاضی: جہنم کا حق دار
۔۔ شاہ صاحب کی حدیث کی تشریح اور اس کا راز
۔۔ (۴) حالتِ غیض و غضب میں ہر قسم کا فیصلہ کرنے کی ممانعت نیز درست فیصلہ کرنے کے معیارات
۔۔ (۵) درست فیصلہ کرنے کے لیے ممکن حد تک حقائق تک رسائی حاصل کرنے والے حاکم و قاضی کا اجر و ثواب
۔۔ (۶) صرف ایک فریق کے دلائل سن کر فیصلہ کرنا ، حدیثِ نبوی کی رو سے جائز نہیں
باب کی دوسری بحث: عدالت میں مقدمہ دائر ہونے کے بعد جج کے کرنے کے کام
۔۔ ۱۔ معاملے کی اصل نوعیت اور واقعے کی حقیقت تک رسائی حاصل کرنا
۔۔۲۔ معاملے کی اصل نوعیت کی اساس پر عادلانہ فیصلے کا جاری کرنا
۔۔ عدالتی قضیے میں قضاء جاری کرنے کے لیے دونوں مقامات (معرفة جلیة الحال اور حکم العدل) کی مثالوں سے وضاحت
۔۔ نبی اکرم ﷺ کا ان دونوں دائروں کی ضابطہ بندی اور قواعدِ کلیہ متعین کرنا
۔۔ پہلا مقام: معاملے کی اصل نوعیت کی معرفت کے لیے گواہیاں اور پختہ قسمیں ضروری
۔۔ مدعی (دعوی دائرے کرنے والا) اور مدعا علیہ (جس کے خلاف دعوی دائر کیا گیا) کی جامع تعریف ، ان کا تعین اور ذمہ داریاں
۔۔ شاہد (گواه) کے لیے قرآنی معیار اور سوسائٹی کے ارتقاء سے ثابت شدہ آٹھ اوصاف
۔۔ گواہی میں اہم ترین شرط واقعے کا مکمل ضبط اور مروجہ عدالتی نظام کی خرابیاں
۔۔ گواہی کی بقیہ شرائط: نطق ، اسلام ، عدالت ، عزت و مروءت اور عدمِ تہمت
۔۔ وہ لوگ جن کی گواہی معتبر نہیں نیز گواہ کے لیے کڑی شرائط مقرر کرنے کی بنیادی وجوہات
۔۔ مقدموں کی نوعیت کے اعتبار سے گواہوں کی تعداد کی تفصیلات
۔۔ حقوقِ مالیہ میں مرد و عورت دونوں کی گواہی معتبر ، قرآنی دلیل سے وضاحت
۔۔ نبی اکرم ﷺ کا ایک گواہ اور قسم کی اساس پر فیصلہ جو کہ آپؐ کی خصوصیت
۔۔ گواہی سے متعلق دیگر احکام
۔۔ جھوٹے مقدمات دائر کرنا ، جھوٹی گواہیاں دینا اور ظالمانه فیصلے کرنا ممنوع اور لعنت کا سبب: ترہیب و ممانعت کی تین وجوہات اور وعیدات
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 19 Mar 2024 - 182 - حجۃ اللہ البالغہ | 181 | حد ڈاکہ زنی ، حدِشربِ خمر ، مرتد کے احکام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 181
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 04 (حصہ سوم)
حدود میں ایک اہم ترین حد ڈاکہ زنی ، حدِشربِ خمر ، مرتد اور محارب کے احکامات اور تفصیلاتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 25 ؍ مئی 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ حدود میں ایک اہم ترین حد ڈاکہ زنی کی سزا ، قرآنی آیت کے تناظر میں اس کی چارسزائیں
۔۔ حرابہ (ڈاکہ زنی) کی تعریف ، چوری سے ڈاکہ زنی کی سزا سخت مقرر کرنے کا راز
۔۔ نبی اکرم ﷺ نے سرکاری چراگاه پر ڈاکہ زنی کرنے والوں پر حد جاری کی۔
۔۔ ڈاکہ زنی کی سزا قرآنی ترتیب کے مطابق ہونی چاہیے ، اکثر فقہاء کی رائے اور شاہ صاحبؒ کا موقف
۔۔ حدِ شُربِ خمر : قرآنی آیت سے استدلال اور اس کی تشریح
۔۔ شراب میں دو طرح کے فساد
۔۔ خمر (شراب) کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہونے کا راز
۔۔ خمر کی تعریف اور ہر نشہ آور چیز حرام
۔۔ حرمت میں صرف انگوری شراب کی تخصیص کیوں؟ شاہ صاحبؒ کے ہاں امام شافعیؒ کا موقف قابلِ ترجیح اور بنیادی سبب
۔۔ دنیا میں شراب کے نشے میں دھت ، آخرت (جنت کے مشروب) کی لذات سے محروم ، بهیمی لذت میں منہمک شخص مَلَکی لذت سے محروم اور غم میں مبتلا ہونے کا راز
۔۔ دنیا میں نشہ آور چیز پینے والے شخص کو اللہ جہنمیوں کا پسینہ ، خون اور پیپ پلائے گا، سخت وعید اور یہ سزا دینے کا راز
۔۔ حضرت سندھیؒ کا تصورِ جنت ، ہر جنتی کے ماحول و مزاج کے مطابق اس کو جنت دی جائے گی۔
۔۔ حدیث میں ایک دفعہ شراب پینے والے کی چالیس دن تک نماز قبول نہ ہونے کا راز
۔۔ حضور ﷺ نے ایک شرابی کی پٹائی کرائی اور اسے شرم دلائی ، حدیث کی حکمت؛ حدِ شرب میں فساد کا امکان کم ، اس لیے چالیس کوڑے سزا مقرر نیز حضرت عمرؓ کا ۸۰ کوڑے سزا مقرر کرنے کا راز
۔۔ حدودکے نفاذ میں مجرم پر رحم دلی اور سفارش قابلِ قبول نہیں ، حدیث میں دو ٹوک حکم اور شاہ صاحبؒ کی تشریح
۔۔ جس پر حد نافذ ہوئی ہو ، اس پر لعن طعن کرنے سے نبی اکرم ﷺ کی ممانعت
۔۔ ملتِ اسلامیہ کی بے حرمتی کرنے والا مرتد اور محارب (حکومت کا باغی جنگجو) کی سزا بھی حدود میں شامل ، اصولی دلائل
۔۔ مرتد ہونا کب ثابت ہو گا؟ پانچ ضروریاتِ دین کا منکر مرتد اور اس کی سزا کے دلائل اور اس کے اسباب
۔۔ محارب (حکومت کا باغی جنگجو) کی سزا قرآنی آیت اور حدیث سے ثابت اور بنیادی سبب و حکمت
۔۔ حکومت و خلافت کے خلاف بغاوت کی دو بنیادیں اور نبردآزما ہونے کا طریقہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 19 Mar 2024 - 181 - حجۃ اللہ البالغہ | 180 | حدِ زنا ، حدِ قذف اور حدِ سرقہ کے احکامات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 180
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 04 (حصہ دوم)
حدود کا بیان؛ حدِ زنا ، حدِ قذف اور حدِ سرقہ کے احکامات
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 18؍ مئی 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
Tue, 19 Mar 2024 - 180 - حجۃ اللہ البالغہ | 179 | حدود اللہ کا بیان؛ چار اساسی امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 179
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 04 (حصہ اول)
حدود اللہ کا بیان؛ چار اساسی امور اور ہر حدِ شرعی کی توضیح و تشریح
ہرجرم کی نوعیت کے مطابق اللہ کا حدود مقرر کرنا
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 11 ؍ مئی 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سیاستِ مدن کے ابواب کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ باب (اللہ کی مقرر کردہ حدود ) سے ربط
۔۔ چند جرائم ایسے جن کی وسعت و تنوع کی اساس پر اللہ نے سزا مقرر کر دی؛ حدود اللہ سے متعلق چار اساسی امور اور ہر حدِ شرعی کی توضیح و تشریح
۔۔۱) "زنا" ایسا جرم جو تمام خرابیوں کا مجموعہ ، جس کے لئے شریعت کی سخت ترین سزا
۔۔۲) "چوری" کا پیشہ اختیار کرنا ، معاشرے میں صحیح پیشوں کے فروغ میں رکاوٹ کا باعث، اور شریعت کی کڑی سزا کا مستحق
۔۔۳) "ڈاکہ زنی" کی حد مقرر کرنے کا راز
۔۔۴) "شُربِ خمر" فساد فی الارض کا باعث
۔۔۵) "بہتان تراشی" انسان کو سخت اذیت پہنچانے کا عمل اور اس کے لئے شرعی حد مقرر
۔۔ ہرجرم کی نوعیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کی ہیں۔
۔۔ حدود کب مقرر ہوئیں؟ قصاص ، رجم اور قطعِ ید تمام شرائع سماویہ کی متفقہ سزائیں البتہ شریعتِ مصطفویہﷺ میں ہر جرم کی نوعیت کے مطابق سزا کا تقرر ، امتِ محمدیہؐ پر خاص رحمت
۔۔غلاموں کی سزا میں تخفیف اور سزا دینے کا حق مالکان کو حاصل (حر اور عبد کے تناظر میں توضیح و تشریح)
۔۔ مجرم پر حد جاری ہونا اس کے گناہ کا کفارہ ، دو وجہیں
۔۔ قرآن و حدیث کی رو سے کنوارے کی حدِ زنا سو کوڑے اور شادی شدہ کی سزا رجم ، فرق کی بنیادی وجہ
۔۔ سو کوڑے اور جلا وطنی کی سزا کے فرق و امتیاز کا راز
۔۔ غلاموں کی نصف سزا ، قرآن کی آیت کا راز اور حدیث کی تشریح
۔۔ تغریبِ عام (شہر بدری) کی سزا میں فقہاء کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کی تطبیق
۔۔ حدود بالخصوص حدِ زنا کے نفاذ میں حد درجہ احتیاط کی ضرورتTue, 19 Mar 2024 - 179 - حجۃ اللہ البالغہ | 178 | ظلم کا تیسرا پہلو مالی نقصان ، چار شکلیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 178
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاست) کا نظام: باب 03 (حصہ سوم)
ظلم کا تیسرا پہلو مالی نقصان ، چار شکلیں اور غصب اور اِتلاف کی تفصیلاتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 30 ؍ مارچ 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ باب کی سابقہ مباحث کا ما حصل اور زیر مطالعہ
۔۔ ظلم کے تیسرے پہلو کا تعلق انسانی مال سے اور اس کی چار قسمیں نیز آخری دو قسموں کی تفصیلات اگلے باب میں
۔۔ پہلی قسم: غصب ، اس کی تعریف اور غصب اور چوری میں بنیادی فرق
۔۔ دوسری قسم: اِتلاف (جان بوجھ کر کسی کے مال کو ضائع کرنا)
۔۔ ایک بالشت زمین غصب کرنے والے کی سزا (غصب اور اِتلاف کی احادیث کی روشنی میں توضیح و تشریح)
۔۔ غصب شدہ مال واپس کرنا ضروری ، حدیث کی تشریح
۔۔ حدیث سے اِتلاف سے متعلق بنیادی اصول ثابت ، اسی طرح حضرت عثمان کا فیصلہ بھی شاہد
۔۔ کسی دوسرے شخص کے قبضے میں سامان بعینہ موجود، اصل مالک ہی اس کا حق دار ، ممکنہ صورتیں اور حدیث کے تشریحی امور
۔۔ نبی اکرمؐ کی عدالت میں مقدمہ اور آپؐ کا دو ٹوک فیصلہ ، شاہ صاحب کی تشریح
۔۔ ضرورت مند کا بقدر حاجت باغ سے پھل کھانا جائز ، لیکن پھل توڑ کر محفوظ کرنا ناجائز ، حدیث کی وضاحت؛ دوسروں کو نقصان پہنچانے والے ہر ہاتھ کو روکنا ضروری
۔۔ باہر چرنے والی بکری کا دودھ دھونے والے کا حکم ، حضورؐ کے دو فیصلے اور جمع و تطبیق
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 19 Mar 2024 - 178 - حجۃ اللہ البالغہ | 177 | ظلم کی دوسری قسم، احکامات کی تفصیلات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 177
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 03 (حصہ دوم)
انسانی جان ضائع کرنے کا کفارہ اور اعضاء کو نقصان پہنچانا ، ظلم کی دوسری قسم، احکامات کی تفصیلات
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 23 ؍ مارچ 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سیاستِ مدن کے سابقہ درس کا خلاصہ
۔۔ کفارہ قتل کیوں ضروری ، قرآنی آیت سے استدلال اور تین دائرے نیز دیت اور کفارے کا فرق
۔۔ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا حرام ، البتہ ایک عادل ریاست تین جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کو سزائے موت دینے کی مجاز، حدیث کی توضیح و تشریح
۔۔ مصلحتِ کلیہ اور فتنہ و فساد کی روک تھام کے لیے فسادی و فتنہ پرور کا قتل عادل حکومت کے لیے جائز (تمام ملتوں کا متفقہ اصول)
۔۔ خلفائے بنو امیہ اور مغل حکمرانوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ، قرآن و حدیث کی تعلیمات سے عدم آگہی اور دین کے اصولِ کلیہ سے روگردانی
۔۔ نبی اکرم ﷺ کا مصلحتِ کلیہ کی اساس پر قتل کے جواز کی ضابطہ بندی کرنا ، تین دائروں کا تعین؛ قصاص ، شادی شدہ بدکار اور مرتد (اللہ اور اس کے نظام کا باغی اور مصلحتِ کلیہ کو توڑنے والا)
۔۔ امام مالکؒ کے ہاں حملہ آور اور محارب کو قتل کرنا بھی جائز
۔۔ بستی یا محلے میں نامعلوم قتل ، قسامه کے قانون کے مطابق جاہلیت کے زمانے میں فیصلہ اور نبی اکرم ﷺ کا اسی قانون کو برقرار رکھنا
۔۔ قسامہ کب ہو گا؟ اس کی علت میں فقہاء کا اختلاف
۔۔ کافر کی دیت میں تخفیف کا قانون، حدیث کی تشریح
۔۔ عورت پر تشدد کی صورت میں اس کا جنین (حمل) ضائع ہونا اور اس کا تاوان، بنیادی راز
۔۔ دوسرا اہم ترین ظلم انسانی اعضاء کو نقصان پہنچانا اور تین اصولوں کی اساس پر احکامات لاگو
۔۔ پہلا اصول: جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی صورت میں قصاص
۔۔ دوسرا اصول: انسان کی کسی نفع بخش قوت کو ضائع کرنا ، مکمل دیت کا حکم
۔۔ انسان کی پوری قوت مستقل طور پر ضائع کرنا بہت بڑا ظلم اور حدیث سے مکمل دیت کا ثبوت
۔۔ کسی قوت کی آدھی منفعت ختم کرنا ، آدھی دیت واجب و دیگر صورتیں
۔۔ اعضاء پر ظلم کرنے کا تیسرا اصول اور اس کی مختلف صورتیں
۔۔۔ موضحه (ایسا زخم جس میں ہڈی نظر آئے) کی دیت
۔۔ منقلہ میں پندرہ اونٹ دیت ، جائفہ و آمّہ کی تعریف اور ان کی دیت
۔۔ انگلی اور انگوٹھے اور ثنایا و ضراس کی حیثیت برابر
۔۔ بعض قتل اور زخم کا ھدر ہونا ، تین حدیثوں سے استدلال (ایک پہلو)
۔۔ دوسرا پہلو: اتفاقا نقصان ہو جانا بھی ہدر ، حدیث سے توضیح
۔۔ نبی اکرمﷺ کا ممکن حد تک نقصان پہنچانے والی اشیاء میں نہایت احتیاط برتنے کا حکمپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 19 Mar 2024 - 177 - حجۃ اللہ البالغہ | 176 | حکومت و سیاست کا پہلا کام؛ ظلم کی روک تھام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 176
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 03
حکومت و سیاست کا پہلا کام؛ ظلم کی روک تھام کا نظام، سب سے بڑا جرم قتلِ انسانیت نیز قتل کی اقسام اور احکاماتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 09 ؍ مارچ 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ باب کے عنوان کی وضاحت ، حکومت و سیاست کا پہلا کام؛ ظلم کی روک تھام
۔۔ بعثتِ انبیاء علیھم السلام کے عظیم ترین مقاصد میں سے ایک ، ظلم و ستم کے نظام کا خاتمہ ، ظلم کی خرابیاں اور آج کا رجعت پسند مذہبی طبقہ
۔۔ مظالم کی تین قسمیں اور ہر نوع کی سزا مقرر کرنا ، اللہ کی حکمت کا تقاضا نیز سزاؤں کی درجہ بندی اور ظلم پر ابھارنے والے دواعی کے مراتب
۔۔ سب سے بڑا جرم اور گناہ ، قتلِ انسانیت؛ اس کی وجوہات
۔۔ قتل کی تین اَنواع اور ہر قسم کی تعریف
۔۔ تین قسمیں مقرر کرنے ، الگ الگ سزا متعین کرنے کا راز نیز قتل کی قسم شبہِ عمد ، نبی اکرم ﷺ کا اجتہاد
۔۔ پہلی قسم: قتلِ عمد (جان بوجھ کر کسی جان کو قتل کرنے) کی سزا
۔۔ قاتل سے قصاص لینے کا قرآنی حکم ، آیت کا شانِ نزول اور معنی و مفہوم
۔۔ قصاص کی سنت سے ثابت شدہ تفصیلات؛ ائمہ کا اختلاف اور حدیث کا درست مفہوم
۔۔ مقتول عورت کے بدلے میں قاتل مرد کو قصاصاً قتل کرنے کا راز
۔۔ حدیث میں مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کرنے کا راز
۔۔ اولاد کے بدلے والد کو قتل نہ کرنے کی بنیادی حکمت
۔۔ دوسری قسم: قتلِ شبہِ عمد کی سزا دیت نیز دیت کی اقسام اور فقہاء کا اختلاف
۔۔ تیسری قسم: قتلِ خطا میں دیتِ مخففه نیز شبهِ عمد اور قتل خطا کی دیت کا فریضہ "عاقلہ" (برادری وغیرہ) پر عائد
۔۔ دیتِ مغلظه و دیتِ مخففه میں فرق کے اسباب
۔۔ قتلِ عمد میں دیت قاتل کے ذمہ اور شبہِ عمد و خطا میں عاقله سے دیت کی وصولی کے فرق کے دو بنیادی پہلو
۔۔ دیت کا بنیادی اصول ، نبی اکرم ﷺ کا عرب و عجم کے لیے ہر مال سے دیت ادا کرنے کی مقدار مقرر کرنا اور اس کا سبب و رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 19 Mar 2024 - 176 - حجۃ اللہ البالغہ | 175 | ملتِ مصطفویہ کی اساس پر خلافتِ نبوت | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 175
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 02
ملتِ مصطفویہ کی اساس پر خلافتِ نبوت کی تفصیلات
خلافت کی شرائط اور باب کی روایات کی تشریحمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28 ؍ فروری 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ مباحث سے ربط
۔۔ ملتِ مصطفویہ کی اساس پر خلافتِ نبوت کی تفصیلات
۔۔ شاہ صاحبؒ کی دوسری تصنیف "ازالة الخفاء" میں حکومت کے دو دائروں پر تفصیلی گفتگو
۔۔ خلافت کی شرائط: اسلام ، علومِ نبوت اور ملکۂ عدالت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق نیز ان کے شرعی دلائل اور مقرر کرنے کا راز
۔۔ حکمران کا قریش سے ہونا ، خلافتِ نبوت کی ایک شرط ، اس کی وضاحت اور عقلی وجوہات
۔۔ قریش کی قومی عصبیت اور حضرت سندھیؒ کی شاہ صاحبؒ کے موقف کی لاجواب تشریح
۔۔ حکمران کے ہاشمی ہونے کی عدمِ اشتراط کی دو وجہیں
۔۔ خلافتِ عامہ کے لیے صرف تین ہی شرطیں قریش کی شرط اس وقت کے حالات کے تناظر میں تھی
۔۔ خلافت و حکومت کے انعقاد کے مختلف طریقہ کار
۔۔ ایسا حکمران جس میں خلافتِ عامہ کی تمام شرائط نہ پائی جاتی ہوں
۔۔ خلاصہ
۔۔ باب کی روایات کی تشریح اور اسرار و رموز
۔۔ حکمران کے معاونین کا نظام اور ان کے اخراجات بیت المال کے ذمے
۔۔ حکومتی اہل کاروں اور رعایا کے لیے ہدایات
۔۔انتظامی عملہ کی تنخواہ مقرر کرنے کی ضرورت اور اس کا معیارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 19 Mar 2024 - 175 - حجۃ اللہ البالغہ | 174 | حکومت کا قیام دینی فریضہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 174
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاست) کا نظام : باب 01 ، 02
حکومت کا قیام دینی فریضہ ، قومی ، دینی و ملی مصالح اور عقل کی اساس پر حکمران کی ضرورت اور اوصاف و شرائط
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 23 ؍ فروری 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ اَبوابِ سیاستِ مُدَن کی وضاحت
۔۔ باب 01: دینِ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں سیاستِ مُدَن کا بنیادی خاکہ؛ خلافت و حکومت کا قیام دینی فریضه
۔۔ ۱) سیاستِ مدینہ کے تناظر میں حکومت کے قیام کے بنیادی امور
۔۔ ۲) ملتِ حنیفیہ کے نظم و نسق کے تناظر میں بین الاقوامی حکومت کا قیام اور اساسی امور
۔۔ دین اسلام کی عظمتِ شان اور باقی اَدیان پر غلبہ حاصل کرنے کا تصور بھی نظام (اتھارٹی) کے بغیر ممکن نہیں ، محض وعظ سے غلبہ دین نہیں ہوتا
۔۔ خلیفہ و حکمران کی ذمہ داریاں (ملتِ حنیفیہ کے نظم و نسق کے تناظر میں)
۔۔ خلیفہ کی دوسری ذمہ داری ، دین اسلام کے علاوہ اَدیان کے ظالمانہ سیاسی نظام کو توڑنا نیز ذلت کے متعلق فرسودہ مذہبی تصورات کا رد
۔۔ حالت جنگ میں مخالفین کی معاشی طاقت توڑنے کے لیے جزیہ وصول کرنا، جزیے کی حقیقت اور آیت کے الفاظ (وھم ضاغرون) کی وضاحت
۔۔ بین الاقوامی نظام قائم کرنے کی ضرورت و اہمیت اور ان اقدامات کو ترک کرنے کے نتائج
۔۔ انسانی حاجات کے تناظر میں دین کے سیاست و خلافت کے امور ، حضور ﷺ کا چار ابواب متعین کرنا اور شاہ صاحبؒ کا ہر باب کی تفصیلات بیان کرنا
۔۔ حضور ﷺ نے ہر باب کی کلیات بیان کیں اور جزئیات کا اطلاق حکمرانوں اور تعلیم و تربیت کے ذمہ داراں کے سپرد
۔۔ کلیات متعین کرنے کے چار اسباب اور ان کے بنیادی راز
۔۔ کلیات متعین کرنے کا پہلا سبب: ظالم و جابر ، خواہش پرست اور ذاتی و طبقاتی مفادات کا اسیر حکمران کے فساد مچانے سے بچاؤ کے پیش نظر
۔۔ سیاسی معاہدات کی پاسداری ایسے ہی لازمی ہے جیسا کہ نماز و روزہ کی پابندی
۔۔ کلیات متعین کرنے کا دوسرا سبب: ظالم کے ظلم کے مطابق سزا نہ دینا ، دو ٹوک عدالتی فیصلے نہ کرنا ، انارکی اور دلوں میں حسد و کینہ کے پیدا ہونے کی وجہ
۔۔تیسرا سبب: سیاستِ مدینہ کے ادراک کا صحیح فہم نہ ہونا اور راہِ اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے کلیات کا تعین ضروری نیز راہِ اعتدال سے انحراف کا بنیادی راز
۔۔ چوتھا سبب: سیاست کے شرعی قوانین کا مقام و مرتبہ نماز و روزے کی طرح (شاہ ولی اللہؒ کا سیاسات کے انقلابی اصول متعین کرنا)
۔۔ خلاصہ بحث: درندہ صفت اور نفسانی شہوات والوں کو سیاسی امور سپرد کرنا دینِ اسلام کی تعلیمات کے صریح منافی
۔۔ باب 02: خلافت و حکومت ، خلیفہ کے عقلی اوصاف اور مسلمان حکمران کے دینی اوصاف
۔۔ عقل مند ، بالغ ، آزاد اور مرد ہونا ، مکمل با اختیار حکمران کے اوصاف ہیں
۔۔ آج بھی دنیا کے کسی مہذب ملک میں مکمل با اختیار حکمران، عورت نہیں
۔۔ عقل کی اساس پر بقیہ اوصاف و شرائط
۔۔ حکمرانوں کی ان صفات پر دنیا بھر کے انسانوں کا اجتماع اور تاریخی شواہد سے ان پر مہر تصدیق ثبت
۔۔حدیث "وہ قوم فلاح و بقاء سے محروم ،جہاں عورت حکمرانی ہو" کا درست مفہومپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 19 Mar 2024 - 174 - حجۃ اللہ البالغہ | 172 | عدت کا قانون اور اولاد کے نسب کی حفاظت| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 172
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 10، 11
عدت کا قانون ، تدبیرِ منزل کے ایک اور اہم شعبے اولاد اور ماتحتوں کی تربیت کا نظام اور احادیث کی روشنی میں اولاد کے نسب کی حفاظت کے اصول
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 09 ؍ فروری 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:14 نکاح کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میاں بیوی کے تعلق کو ختم کرنے کےلیے عدت کا نظام (باب 10کے عنوان کی وضاحت)
1:56 اہلِ جاہلیت میں عدت کا قانون تسلیم شدہ، تین مصلحتیں
12:08 مطلقہ کی عدت تین طہر یا تین حیض ، فقهاء کا ذیلی اختلاف ، دلائل اور اس کا راز
19:49 آئسہ کی عدت تین ماہ ، حاملہ عورت کی وضع حمل اور بیوہ کی عدت چاہ ماہ دس اور ہر ایک کی عدت مقرر کرنے کی چند وجوہات اور فرق و امتیاز کا راز
38:00 استبراءِ رحم کا قانون اور اس کا راز
50:09 تدبیرِ منزل کے ایک اور اہم شعبے اولاد اور ماتحتوں کی تربیت کا نظام (باب 11)
51:43 اولاد کی تربیت میں اہم چیز نسب کی حفاظت ، اولاد کو اپنا قائم مقام بنانا فطری امر اور شرعی قانون سازی سے مقصود بھی نسب کی حفاظت
58:04 نبی اکرمؐ کے فرمان کی روشنی میں نسب کی حفاظت کا قانون اور اس کا راز
1:09:13 نسب کی حفاظت کا دوسرا پہلو ،اپنے باب کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نسبت جوڑنے والے کے خلاف سخت وعید اور اس کا راز
1:14:27 نئی برادری کے طرف اپنی اولاد کی نسبت کرنے والی عورت اور مرد کا اپنی اولاد کا انکار کرنا، سخت سزا (نسب کی حفاظت سے متعلق تیسری حدیث) کی تشریحFri, 15 Mar 2024 - 173 - حجۃ اللہ البالغہ | 173 | اولاد اور ماتحتوں کی تربیت؛ بقیہ امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 173
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 11 (آخری باب)
اولاد اور ماتحتوں کی تربیت کا نظام؛ بقیہ امور کی نشان دہی
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 16 ؍ فروری 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:14 تدبیرِ منزل کے ایک اور اہم شعبے اولاد اور ماتحتوں کی تربیت کا نظام؛ بقیہ امور کا بیان
1:15 اہل عرب کے ہاں عقیقہ کرنا سنتِ لازمہ ، تین دائروں کے تناظر میں اصول اور مصلحتیں نیز نبی اکرم ﷺ نے ان مصالح کی اساس پر اس عمل کو جاری رکھنے کا حکم دیا۔
17:25 احادیث کی روشنی میں ساتویں دن نو مولود کا عقیقہ ، حلق اور نام رکھنا ، اسرار و رموز
23:12 بچے کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا راز (حضورؐ نے حضرت حسنؓ کا عقیقہ کیا اور حضرت فاطمہؓ کو احکامات)
27:56 نو مولود کے کانوں میں آذان کہنے کا راز
30:00 لڑکے کی طرف سے دو بکرے ذبح کرنا مستحب عمل اور اس کی حکمت
31:19 بچے کا عبدللہ اور عبدالرحمن نام رکھنا اللہ کو بہت محبوب، بنیادی اسرار
35:20 محمد اور احمد نام رکھنا بھی باعث برکت ، بنیادی حکمت
37:40 بچے کا نام مَلِک الاَملاک یا تعظیم کے اعلی درجے کا کوئی نام رکھنا بہت بڑی خرابی
38:55 تدبیرِ منزل میں بچوں کی پرورش کا نظام؛ رضاعت و حضانت عورت کی ذمہ داری اور عورت کے اخراجات مرد کے سپرد (قرآنی آیت کی توضیح و تشریح)
51:41 شیر خوار بچے کو دو سال دودھ پلانے کا راز
55:08 والدین اپنی اولاد کو نقصان نہ پہنچائیں ، تعاون باہمی ضروری
56:05 استرضاع (ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلانا) نیز حدیث کی رو سے رضاعی ماں کا احترام و احسان
1:01:53عورت اپنی ضرورت اور معروف کے مطابق مرد کی اجازت کے بغیر خرچ کر سکتی ہے، خرچ کا تعین عورت کے سپرد ، بنیادی راز
1:04:05 بچے کی دینی تربیت کے امور ، سات سال کی عمر میں نماز کا حکم
1:04:41 میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت میں بچے کی پرورش کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو فیصلے
1:09:28 گھریلو نظام میں اہم چیز ماتحتوں کی تربیت کا نظام: تعاونِ باہمی کی بنیاد اور اس کے مراتب
1:10:39 (۱) ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ/ چھ حقوق (تعاون باہمی کا کم از کم درجہ) بنیادی راز ، تعلق و الفت
1:13:01 (۲) محلے ، پڑوس اور خونی رشتے داروں کے حقوق اور اجتماعیت کے چند ضروری امور
1:15:21 (۳) خاندان؛ بیوی ، بچے ، والدین اور ماتحتوں کے حقوق اور خادموں کے دو لازمی حق
1:17:33 ماتحتوں سے زیادتی حرام ، البتہ تربیت کے لیے علامت سزا دی جا سکتی ہے۔
1:20:57 احادیث کی روشنی میں خادم کے استحبابی حقوق
1:26:47 خادمین کی ذمہ داریاں
1:27:55 والدین کے چند لازمی حقوق اور آداب و احترامپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Fri, 15 Mar 2024 - 172 - حجۃ اللہ البالغہ | 171 | خُلع ، ظِہار ، لِعان اور اِیلاء کا بیان | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 171
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 09
خُلع ، ظِہار ، لِعان اور اِیلاء کا بیانمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 02؍ فروری 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 14 Mar 2024 - 171 - حجۃ اللہ البالغہ | 170 | حقوقِ زوجیت ، بقیہ اصول اور طلاق کا قانون | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 170
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 07 ، 08
حقوقِ زوجیت پر مشتمل بقیہ اصول و ضوابط اور ازدواجی تعلق میں رخنہ کی صورت میں طلاق کا قانونمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26؍ جنوری 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
Thu, 14 Mar 2024 - 170 - حجۃ اللہ البالغہ | 169 | آدابِ زوجیت اور حقوقِ زوجیت | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 169
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 06 ، 07
آدابِ زوجیت اور حقوقِ زوجیت
(نئے خاندان کی تشکیل کے تناظر میں مرد و عورت کا تعلق اور اس کے بنیادی امور )مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19 ؍ جنوری 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
Thu, 14 Mar 2024 - 169 - حجۃ اللہ البالغہ | 168 | تحریمِ مُحرَّمات کی نو قسموں کا بیان | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 168
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 05
تحریمِ مُحرَّمات (وہ رشتے دار جن سے نکاح کرنا حرام) کی نو قسموں کا بیانمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 12 ؍ جنوری 2022ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ مُحرَّمات (وہ رشتے دار جن سے نکاح کی حرمت ہے) ؛ دلائل شرعیہ
۔۔ تحریمِ مُحرَّمات سے متعلق علمی قاعدہ ، اہلِ جاہلیت کے ہاں ان کی حرمت شائع اور مسلم لیکن بعض جزوی واقعات اور قضائے خداوندی
۔۔ تحریمِ مُحرَّمات کی نو قسمیں ۱۔ قرابتِ قریبہ مثلاً ماں بیٹا ، باب بیٹی اور بہن بھائی وغیرہ
۔۔۲۔ رضاعی رشتے اور ان کی حرمت کا راز
۔۔ رضاعت کی حرمت میں مقدار اور مدت کا لحاظ ضروری؛ احادیث کی روشنی میں ان کی وضاحت
۔۔ ۳۔ رشتوں میں قطع رحمی بھی تحریمِ مُحرَّمات کا ایک سبب
۔۔ نبی اکرم ﷺ کا فنِ اعتبار کی اساس پر نبی اور نبی کے دشمن کی بیٹی کو جمع کرنے کو حرام قرار دینا
۔۔ ۴۔ مصاہرت (سسرالی رشتہ) کی حرمت کی حکمتیں
۔۔ ۵۔ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح کی حرمت اور نبی اکرم ﷺ کی امتیازی خصوصیت کا راز
۔۔ ۶۔ اختلافِ دین (مشرک عورتوں سے) نکاح کی حرمت البتہ کتابیہ سے نکاح کی رخصت
۔۔ ۷۔ دوسرے کی مملوکہ (باندی) سے نکاح کی ممانعت ، آپ ﷺ نے اعتبار (قیاس) کی بنیاد پر یہ اصول بیان کیا۔
۔۔ ۸۔ دوسرے کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت ، بنیادی حکمت
۔۔ ۹۔ طوائف سے نکاح کی ممانعت، جب تک وہ سچی توبہ نہ کر لے ، حرمت کا راز
۔۔ نبی اکرم ﷺ نے تحریمِ مُحرَّمات کی نو قسموں کا باقاعدہ نظام بنایاپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 14 Mar 2024 - 168 - حجۃ اللہ البالغہ | 167 | نکاح سے متعلق تیرہ امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 167
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 04
قرآن و حدیث کی روشنی میں نکاح سے متعلق تیرہ امورمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22 ؍ دسمبر 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ نکاح سے متعلق تیرہ امور
۔۔ (۱) معاہدہ نکاح میں فیصلہ کن اختیارات کا مالک کون؟ انتہا پسندانہ تصورات اور نبی اکرم ﷺ کی متوازن قانون سازی ، حدیث (لَا نِكَاح إِلَّا بولِي) کی تشریح
۔۔ نکاح کے لیے ولی الامر ہونا لازمی اور یہ حق صرف مرد کو حاصل ، بنیادی راز
۔۔ ممانعت کا دوسرا پہلو؛ چند وجوہات کی بناء پر جبلی ضرورت کہ مرد سربراہ ہو (دنیا بھر کی مسلمہ حقیقت)
۔۔ نکاح میں ولی کا ہونا عزت و احترام کا باعث
۔۔ نکاح کو سفاح (زنا کاری) سے الگ کرنا اور اولیا کی طرف سے تشہیر کرنا ضروری
۔۔ بیوہ اور کنواری کا نکاح کرنے کے لیے ان کی اجازت ضروری نیز استیمار و استیذان کا مفہوم اور نابالغ لڑکی کو بلوغت کے بعد نکاح ختم کرنے کا اختیار
۔۔ (۲) حدیث (إيما عبد تزوج بِغَيْر إِذن سَيّده فَهُوَ عاهر) کی تشریح
۔۔ (۳) نکاح سے پہلے مسنون خطبہ پڑھنا ، اس کی حکمت، نکاح کی تشہیر ، خطبہ اہم امور کے ساتھ مختص ، جاہلیت کے امور اور نبی اکرم ﷺ کی قانون سازی
۔۔ (۴) نکاح میں ایجاب و قبول بلند آواز سے کرنا اور دُف بجانے کا حکم ، دور جاہلیت کے نکاح کے فرسودہ طریقوں کی تنسیخ اور دُف بجانے کی مصلحت
۔۔ (۵) متعہ کی وقتی رخصت اور پھر ممانعت ، اجازت کی بنیادی وجہ اور حرمت کا راز؛ نسب کا اختلاط ، نکاحِ صحیح کا نظام درہم برہم اور زنا و نکاح کا فرق ختم
۔۔ (۶) نکاح میں چند مصالح کی وجہ سے مہر کا مقرر کرنا ضروری لیکن نبی اکرم ﷺ نے مہر کی حد مقرر نہیں کی، بنیادی وجوہات نیز آپؐ نے اپنی ازواج اور بیٹیوں کا ۲۰۰ اوقیہ چاندی مہر مقرر کیا ، بنیادی راز
۔۔ دور جاہلیت میں مہر کی ادائیگی میں ظلم و زیادتی اور مہر ادا کرنے کا حکم نصِ قطعی سے ثابت نیز حقیقی رضامندی اور بغیر جبر کے مہر معاف کرنے کا اختیار۔
۔۔ (۷) قرآنی آیت (لَا جنَاح عَلَيْكُم إِن طلّقْتُم النِّسَاء مَا لم تمَسُّوهُنَّ الخ) کے ضمن میں طلاق سے متعلق تین قوانین اور جاہلیت میں مہر میں مناقشات اور عدل کی اساس پر قضائے خداوندی؛ ممکنہ پانچ پہلو
۔۔ (۸) نبی اکرم ﷺ کا ایک مرتبہ قرآن حکیم کی سورتوں کو مہر مقرر کرنا ، وجوہات
۔۔ (۹) ولیمہ اور اس کی چار مصلحتیں نیز جاہلیت میں رخصتی سے پہلے ولیمے کا غلط رواج
۔۔ مولانا سندھیؒ کی ولیمے کی چار مصالح کی عمدہ تعبیر
۔۔ ان مصالح کے پیشِ نظر نبی اکرم ﷺ نے ولیمے کی ترغیب دلائی لیکن کوئی حد مقرر نہیں کی ، اپنی استطاعت کے مطابق کرنا مسنون عمل
۔۔ (۱۰) ولیمے کی دعوت قبول کرنا اور اجتماعیت میں شریک ہونا ضروری ، چند حکمتیں
۔۔ (۱۱) شادی بیاہ ، دعوت اور تقریبات میں تعیشات اور سرمایہ پرستی کی حوصلہ شکنی ، حدیث کے وضاحتی امور
۔۔ (۱۲) دعوتوں میں فخر و ریاکاری اور مقابلے بازی ، ایسا کھانا کھانے کی ممانعت اور اس کا بنیادی راز
۔۔ (۱۳) کھانے کی دو دعوتیں اکٹھی آنے کی صورت میں قبولِ دعوت میں ترجیح کا معیارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 14 Mar 2024 - 167 - حجۃ اللہ البالغہ | 166 | تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 166
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام: باب 03
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ستر اور پردے کا نظام ، پانچ وجوہ و درجات اور بنیادی احکامات
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 15 ؍ دسمبر 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ اور اس باب سے ربط
۔۔ عورت کا لفظی معنی ، باب کی دو بنیادی بحثیں
۔۔ پردہ کرنا کیوں ضروری؟ غیر محرم پر نظرِ بد کے برے اثرات و نتائج اور حکمت کی اساس پر روک تھام کا عملی نظام؛ پردہ کرنا ضروری
۔۔ حاجت و ضرورت کی نوعیت کے مطابق گنجائش
۔۔ دونوں پہلؤوں کے پیشِ نظر نبی اکرمؐ نے ستر کے پانچ وجوہ و درجات بیان کیے۔
۔۔ (۱) غیر ضروری حاجت کے علاوہ عورت گھر سے باہر نہ نکلے۔
۔۔ استشرافِ شیطان کی دو پہلؤوں سے تشریح
۔۔ عورتیں گھروں میں رہیں ، جاہلیت کی زیب و زینت اختیار نہ کریں ( اللہ کا واضح حکم)
۔۔ حضرت عمرؓ کو علم اسرار دین کا وافر حصہ عطا ، آیتِ حجاب کا نزول اور حضرت عمرؓ اور حضرت سودہؓ کا واقعہ ، نبی اکرم ﷺ کا گھروں میں رہنے کو مستحب قرار دینا
۔۔ (۲) گھر سے نکلتے وقت جلباب (بڑی چادر) سے پورے جسم کو ڈھانپنا ، قرآنی آیت سے مکمل وضاحت اور چند رخصتیں
۔۔ (۳) دو نامحرم اسی صورت میں ایک جگہ موجود ہوسکتے ہیں جب رعب و دبدبے والا تیسرا شخص موجود ہو
۔۔ (۴) ایک صنف کے افراد کا ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھنے کی حرمت ، تمام مذاہب کا متفقہ اصول
۔۔ (۵) ایک صنف کے افراد کا ایک کپڑے میں لیٹنا اور چمٹنا بھی ممنوع ، بنیادی راز
۔۔ ستر کے احکامات: ستر چھپانا اصول ارتفاقات اور شریعت کی رو سے انتہائی ضروری
۔۔ تین احادیث کی روشنی میں مرد و عورت کے ستر کا تعین نیز ران ستر کا حصہ ،امام ابوحنیفہؒ کا قول راجح
۔۔ ان مسائل کے احادیث سے مستدلات؛ ۱۔ ستر کھلا رکھنے کی عادت بنا لینا قبیح عمل، اوٹ میں قضائے حاجت کی تاکید ، حدیث (إيَّاكُمْ والتعري الخ) کی تشریح
۔۔۲۔ عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے تو مردوں کو نگاہیں نیچے رکھنے کی تاکید ، تہذیب کا لازمی تقاضا
۔۔ ۳۔ مسلسل نگاہ ڈالنا جائز نہیں ،
۔۔ ۴۔ نابینا صحابی کا واقعہ اور ازواج مطہرات کو تاکید
۔۔ ۵۔ عرب معاشرے کے ماحول میں غلام (خدمت گار) سے مکمل پردہ کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا ، حضرت فاطمہؓ کا واقعہ اور بنیادی حکمت
۔۔ ۶ ۔ غیرم محرم لوگوں کی بنسبت محرم رشتے داروں سے پردے میں تخفیف ، وجوہات
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 14 Mar 2024 - 166 - حجۃ اللہ البالغہ | 165 | تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 165
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 01، 02
تیرہ احادیث کی روشنی میں نکاح کے اصول اور عملی نظام کی تفصیلاتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 08؍ دسمبر 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ اصولِ برّ کی اساس پرنبی اکرم ﷺ کا تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کے عملی نظام کی وضاحت (پہلا باب)
۔۔ گھریلو نظم و نسق قائم کرنے کے اصول عرب و عجم کے ہاں تسلیم شدہ ، البتہ عملی اشباح و صورتوں میں ہر قوم کے اختلاف کی بنیادی وجہ
۔۔ نبی اکرم ﷺ کی عربوں میں بعثت ، غلبہ دین کے لیے حکمت کی اساس پر عربوں کی اطوار و عادات ، حکومت و ریاست کا دیگر اقوامِ عالم کی عادات اور ریاست پر غلبہ ضروری
۔۔ بعثتِ نبویؐ کے وقت عربوں کا غلبہ دنیا کی اقوام اور ان کے تہذیب و ثقافت پر کیوں ضروری؟
۔۔ دنیا بھر کی اقوام کے تہذیب و ثقافت اور گھریلو امور کا مسخ ہونا اور عربوں کی عادات کے مطابق نبی اکرم ﷺ کا متعین کردہ نظام لازمی و ضروری
۔۔ شارع ﷺ کے متعین کردہ ارتفاقات کے عملی نظام پر آج کل کے نہاد نام متجددین کے بے جا اعتراضات اور عملی نظام تسلیم کرنے سے انکار
۔۔ دوسرا باب: احادیث کی روشنی میں شادی و نکاح کے اصول اور عملی نظام کی تفصیلات
۔۔ پیغامِ نکاح (منگنی) اور شادی کے امور کی تیرہ احادیث سے وضاحت
۔۔حدیث ۰۱ (يَا معشر الشَّبَاب من اسْتَطَاعَ مِنْكُم الْبَاءَة الخ) میں شادی کی استطاعت ، شرائط اور اس کے فوائد ، عدمِ استطاعت کی صورت میں روزے رکھنا لازمی اور اس کی حکمت
۔۔ علمی قاعدہ: توانا مرد میں منی کی کثرت ، شہوات کا غلبہ ، یہ حجابِ طبع کا موجب ، چار خرابیاں اور انہیں دور کرنے طریقہ
۔۔ حکمت کی اساس پر ہم پلہ عورت سے نکاح کی ترغیب (مولانا سندھیؒ کی تشریح)
۔۔ حدیث کے دوسرے حصے کی توضیح
۔۔حدیث ۰۲ ( أما وَالله إِنِّي لأخشاكم لله الخ) میں تبتّل (تنہائی پسندی) کی حوصلہ شکنی ، مشہور واقعہ ، حضورﷺ کا انتہاء پسندی (شادی کے عمل سے دور بھاگنے) سے روکنا
۔۔ حدیث میں زرتشت مذہب (مانویہ) اور عیسائی راہبوں کا طریقہ کار کا رد اور انبیاء ؑ کے فطرتی طریقہ کار کا بیان
۔۔حدیث ۰۳ (الدُّنْيَا مَتَاع، وَخير مَتَاع الدُّنْيَا الْمَرْأَة الصَّالِحَة) کی وضاحت؛ نکاح کرنے کے دو بڑے مقاصد
۔۔ غیر مہذب عورت میں تین بڑی خرابیاں (منفی ذہنیت، بد اخلاق اور فحش گوئی) تدبیرِ منزل میں فساد کا باعث
۔۔ نیک بیوی دنیا کا بہترین متاع
۔۔حدیث ۰۴ (تنْكح الْمَرْأَة لأَرْبَع الخ) میں دنیا بھر میں نکاح کرنے کے معیارات کی ممکنہ چار شکلیں اور دین داری کو ترجیح
۔۔ شاہ صاحبؒ کی اس حدیث کی تشریح اور دین داری کے لیے تین چیزیں لازمی
۔۔ مال و جاہ کے طالب پر حجابِ رسم کا تسلط اور خوبصورتی کا دلدادہ حجابِ طبع کے زیرِاثر جبکہ دین داری سے مقصود فطرت کی تہذیب اور اعلی اخلاق میں بیوی معاون بنے
۔۔حدیث ۰۵ (خير نسَاء ركبن الْإِبِل نسَاء قُرَيْش الخ) میں قریش کی عورتیں بہترین قرار اور صالحیت کے دو معیار
۔۔ شاہ صاحبؒ کی تشریح: اپنے خاندان کی اچھی خاتون سے نکاح پسندیدہ ، قریش کی عورتوں کی خصوصیات ہی نکاح کے مقاصد اور گھریلو نظم و نسق کی اساس
۔۔ شاہ صاحبؒ کے دور میں بھی قریش کی خواتین میں مذکور خصوصیات برقرار
۔۔حدیث ۰۶ (تزوجوا الْوَلُود الْوَدُود، فَإِنِّي مُكَاثِر بكم الْأُمَم) میں زیادہ بچے جننے والی اولاد سےمحبت کرنے والی خاتون سے شادی کرنے کی ترغیب اور اس کی بنیادی حکمت؛ مدنی و ملّی ضرورت
۔۔ عورت کی خاوند سے محبت کرنے کی چند وجوہات
۔۔حدیث ۰۷ (إِذا خطب إِلَيْكُم من ترْضونَ دينه الخ) میں دین اور اخلاق کے حامل مرد سے نکاح کرنے کا حکم ، ورنہ بڑا فتنہ فساد پیدا ہونے کا خطرہ
۔۔ اس حدیث سے فقہ مالکی میں کفو لازمی شرط قرار نہ دینا ، اجتہادی غلطی ، غیر کفو میں نکاح اشد من القتل ، شاہ صاحبؒ کی تصریح
۔۔حدیث ۰۸ (الشؤم فِي الْمَرْأَة وَالدَّار وَالْفرس) میں ممکنہ طور پر بد بختی عورت ، گھر اور گھوڑے (سواری) ہو سکتی ہے، حدیث کا پسِ منظر اور شانِ ورودسمجھنا ضروری اور توضیح
۔۔ ۰۹۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ کنواری عقل مند اور بالغ لڑکی سے شادی کی جائے۔ حکمتیں اور حضرت جابر بن عبداللہؓ کا واقعہ
۔۔حدیث ۱۰ ( إِذا خطب أحدكُم الْمَرْأَة الخ) میں پیغامِ نکاح سے پہلے موقع ہو تو لڑکی دیکھنا مستحب ، دو مزید روایات اور ان کا بنیادی راز
۔۔ حکیم اور سمجھ دار آدمی کام شروع کرنے سے پہلے اس کا نفع و نقصان پر خوب غور و فکر کرتا ہے۔
۔۔حدیث ۱۱ (إِن الْمَرْأَة تقبل فِي صُورَة شَيْطَان الخ) میں شادی شدہ مردوں کو تنبیہ
۔۔ علمی قاعدہ: شرمگاہ کی شہوت سب سے زیادہ فتنہ انگیز ، ہلاکت کا باعث اور شیطانی چال
۔۔حدیث ۱۲ (لَا يخْطب الرجل على خطْبَة أَخِيه حَتَّى ينْكح، أَو يتْرك) میں کسی دوسرے مرد کے پیغامِ نکاح پر اپنا نکاح کا پیغام دینے کی ممانعت ، بنیادی وجہ
۔حدیث ۱۳ (لَا تسْأَل الْمَرْأَة طَلَاق أُخْتهَا لتستفرغ صحفتها الخ) میں پہلی خاتون کو طلاق کا مطالبہ ناجائز ، اس کا راز
۔۔ نکاح سے متعلق تیرہ امور عالم گیر اصول ایک مکمل نظام اور حضرت سندھیؒ کی اہم بات
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 14 Mar 2024 - 165 - حجۃ اللہ البالغہ | 164 | اسلام کا نظامِ وراثت (حصہ سوم) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 164
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقہائے کار : باب05 (حصہ سوم)
تبادلۂ مال کی ایک اور اہم قسم؛ اسلام کا نظامِ وراثت
( بقیہ مسائلِ میراث کی تفہیم)مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 01؍ دسمبر2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ گذشتہ درس کا ما حصل
۔۔ ۳۔ آیت (ولكم نصف ما ترك أزواجكم الخ) میں بیوی کے فوت ہونے کی صورت میں شوہر کا حقِ وراثت اور شوہر کے مرنے کے بعد بیوی کا ترکہ میں سے حصے کا قانون
۔۔ شاہ صاحبؒ کی تشریح؛ دو وجوہات کی بناء پر بیوی وراثت میں حق دار
۔۔ ۴۔ آیت (وإن كان رجل يورث كلالة) میں کلالة کی وراثت کی تقسیم کا قانون
۔۔ آیت میں اخیافی (ماں شریک) بہن بھائی مراد ، حقِ وراثت کے دو بنیادی اسباب اور تقسیم ترکہ کی مثال سے وضاحت
۔۔ ۵۔ آیت ( يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة الخ) میں کلالہ کا دوسرا مسئلہ ، کلالہ کی تعریف اور وراثت میں حصہ کی توضیح
۔۔ آیت میں بنی الاعیان اور بنی العلات مراد اور خلاصہ بحث
۔۔ احادیث سے ماخوذ مسائلِ میراث
۔۔ ۶۔ حدیث ( ألحقوا الفرائض بأهلها الخ) میں سب سے پہلے ذوی الفروض کا حق ادا کرنے کا حکم ، اور باقی ماندہ وراثت کے حق دار ، مرد (عصبہ)
۔۔ شاہ صاحبؒ کی تشریح : وراثت کی بنیاد دو معنویتیں ( مودت و رفاقت) نیز قرابتِ بعیدہ میں مرد وراثت کا حق دار
۔۔ ۷۔ حدیث (لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم) میں مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا، مواسات کا انقطاع سیاسی نظام کی بنیادی ضرورت نیز مشرک عورت سے نکاح بھی اسی حکم میں ، بنیادی وجہ
۔۔ ۸۔ حدیث (القاتل لا يرث) میں مورث کا قاتل وراثت سے محروم ، بنیادی وجہ
۔۔ ۹۔ سنت جاریہ ، غلام وارث نہیں ہوتا
۔۔ ۱۰۔ حدیث (إن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات) میں حقیقی بھائی وراثت کا حق دار اور علاتی (باپ شریک) بھائی محروم
۔۔ ۱۱۔ اجماعِ صحابہ سے ایک مسئلے کی نشان دہی
۔۔ ۱۲۔ بیٹی ، پوتی اور حقیقی بہن میں وراثت کی تقسیم سے متعلق نبی اکرم ﷺ کا فیصلہ ، شاہ صاحبؒ کی وضاحت
۔۔ حجة اللہ البالغہ کے تمام قلمی نسخوں میں ایک عبارت میں کاتبوں کا سہو اور حضرت سندھیؒ کی تصحیح
۔۔ ۱۳۔ حضرت عمرؓ کا فیصلہ اور اس کی تفصیلات "المسویٰ" میں
۔۔ ۱۴۔ دادی کے لیے چھٹا حصہ
۔۔ ۱۵۔ باپ کی عدم موجودگی میں اس کی وراثت دادا کو ملے گی
۔۔ ۱۶۔ ولاء کا مالک کون؟ اس کا راز: خاندان کی سیاسی طاقت اور حمایت کی حفاظت ، حضرت بریرہؓ کا مشہور قصہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 11 Mar 2024 - 164 - حجۃ اللہ البالغہ | 162 | اسلام کا نظامِ وراثت (حصہ اول) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 162
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقہ کار : باب05 (حصہ اول)
تبادلۂ مال کی ایک اور اہم قسم؛ اسلام کا نظامِ وراثت
(دین اسلام میں وراثت کی تقسیم کا طریقۂ کار ، بتدریج قانون سازی اور ورثاء کے حصص کا تعین)مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 17؍ نومبر 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ فرائض: مرنے کے بعد انسان کے وسائل کی تقسیم و استعمال کا بیان ( سوسائٹی کے اہم ترین مسئلے پر نبی اکرم ﷺ کی قانون سازی)
۔۔ نظامِ وراثت کا پہلا علمی قاعدہ: وراثت کی تقسیم کی روح اور بنیاد خونی رشتے داروں سے صلہ رحمی اور تعاونِ باہمی
۔۔ بلا تفریق مسلم و غیر مسلم اہلِ محلہ کی مدد و تعاون ، مواسات و خیر خواہی اور ان کے نفع و نقصان کو اپنا نفع و نقصان سمجھنا، حکمت کے تین لازمی تقاضے
۔۔ ان امور کا قیام جبلّی تعلق یا مدد و مواسات کے عارضی اَسباب یا اس کے باقاعده تحریری قانون کے بغیر ممکن نہیں
۔۔ جبلی تعلق (خونی رشتے) کی وضاحت
۔۔ الفت و محبت ، مواسات کے عارضی مواقع پیدا ہونا
۔۔ نسبی رشتے داروں سے صلہ رحمی دنیا بھر کے شرائع (سنتِ متوارثہ) سے ثابت شدہ
۔۔ منفی ذہنیت کے حامل طبقہ کا رشتوں کے احترام اور صلہ رحمی سے روگردانی کرکے انہیں غیر ضروری سمجھنا
۔۔صلہ رحمی کی لازمی صورتیں اور وراثت کا مال صلہ رحمی کی شکلوں میں سب سے زیادہ قابل توجہ
۔۔ تبادلۂ مال کی ایک اور اہم قسم؛ اسلام کا نظامِ وراثت
۔۔ نظامِ وراثت کا دوسرا علمی قاعدہ: دین اسلام میں وراثت کی تقسیم کا طریقۂ کار اور بتدریج قانون سازی
۔۔ عرب و عجم کے مذاہب میں وراثت کی تقسیم کے اتفاقی و اختلافی امور
۔۔ زمانۂ جاہلیت میں خاص طور پر عرب قریش کے ہاں وراثت کے حق دار صرف مرد اور قرآن حکیم کا اہم قانون؛ خونی رشتے داروں کے لیے وصیت کرنا ضروری اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت وعید
۔۔ آیتِ قرآنیہ میں معروف کے مطابق وصیت کرنے کا حکم ،وصیت میں متعین حد بندی اور وقت کی پابندی نہیں تھی، بنیادی وجہ
۔۔ وصیت کے قانون میں ظلم و زیادتی اور قضاة کو اِصلاح کرنے کا اختیار
۔۔ نبی اکرم ﷺ کی بین الاقوامی خلافت کے آغاز کے بعد مصلحت کا تقاضا ، اللہ کا وراثت کے دستوری قانون کا نفاذ
۔۔ وراثت کے ان قوانین کی قرآن و احادیث سے تخریج
۔۔ پہلا اصول: مورث کا سب سے قریبی خونی رشتے دار ، وراثت کا پہلا حق دار ،
۔۔ چار وجوہات کی بناء پر میاں بیوی بھی ذوی الارحام میں شامل اور ایک دوسرے کی وراثت کے حق دار
۔۔ دوسرا اصول: قرابت کی دو قسمیں اور ان کے اَحکامات
۔۔ قوم پروری کی سوچ اور قومی شناخت ہر قوم کی فطرتی و جبلی آواز
۔۔ شاہ صاحبؒ کے زمانے میں رشتوں اور انساب میں فساد برپا اور قومی شناخت اور غیرت و حمیت ختم
۔۔ قرابت کی نوعِ اول (مردوں) کو فضیلت لیکن نوعِ ثانی (عورتوں) کو حق سے محروم کرنا جائز نہیں
۔۔ ماں شریک اولاد (اخیافی بھائی) کا وراثت میں حصہ
۔۔ زوجہ (بیوی) ذوی الفروض کے حصوں میں سے سب سے کم حصے کی حق دار ، بنیادی وجہ
۔۔ وراثت میں تمام حصص تین دائروں میں منحصر نیز وراثت میں سب سے قریب ترین حق دار بیٹا اور مورث کا قائم مقام؛ حق داروں کی تفصیلات
۔۔ تین بنیادی فوائدپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 11 Mar 2024 - 163 - حجۃ اللہ البالغہ | 163 | اسلام کا نظامِ وراثت (حصہ دوم) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 163
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقہائے کار: باب 05 (حصہ دوم)
تبادلۂ مال کی ایک اور اہم قسم؛ اسلام کا نظامِ وراثت
(وراثت کی تقسیم کے بقیہ بنیادی اصول اور قرآنِ حکیم کی روشنی میں مسائلِ میراث کی تفہیم)
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 24؍ نومبر 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ
۔۔ وراثت کی تقسیم کا تیسرا اصول: مرد ورثاء کو خواتین پر ایک شرط اور دو وجوہات کی بناء پر وراثتی تقسیم میں ترجیح اور متعلقہ دلائل
۔۔ پہلی دلیل، آیت ( الرجال قوامون على النساء الخ) سے مردوں کو عورت پر فضیلت حاصل اور آیت کا درست مفہوم؛ مرد فعالی قوت کی بناء پر قیِّم (سسٹم چلانے) اور مال خرچ کرنے کا ذمہ دار
۔۔ دوسری دلیل، حضرت ابن مسعودؓ کے قول سے بھی مرد کی ترجیحی حیثیت واضح
۔۔ دد استثنائی صورتوں میں مرد و عورت کا حصہ برابر
۔۔ چوتھا اصول: وراثت سے محروم ہونا ، حجب کی دو قسمیں؛ حجبِ حرمان و نقصان نیز محرومی کی بنیادی وجوہات
۔۔ سوال کا جواب
۔۔ پانچواں اصول: ذوی الفروض کے حصے مقرر کرنے کا بنیادی راز؛ دو بنیادی امور
۔۔ ریاضی و جغرافیہ میں مولانا سندھیؒ کی گہری دلچسپی اور حاشیہ میں حصوں کی تقسیم کے حساب و کتاب کے اصول کا تعین
۔۔ وراثت کی تقسیم میں پانچواں اور ساتواں حصہ معتبر نہ ہونے کی بنیادی وجہ
۔۔ مسائلِ میراث قرآنِ حکیم کی روشنی میں
۔۔ ۱۔ آیت (يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين الخ) میں مرد کا دوگنا حصہ اور دوسری آیت سے دلیل ، اکیلی بیٹی نصف مال کی حق دار ، دو بیٹیاں یا اس سے زیادہ ان کے لیے دو تہائی حصہ
۔۔ بیٹیوں کو عصبات پر فضیلت اور اس کی بنیادی حکمت
۔۔ ۲۔ آیت (ولأبويه لكل واحد منهما السدس الخ) میں میت کے والدین کے حصے کی تفصیلات اور ہر صورت کی بنیادی حکمتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 11 Mar 2024 - 162 - حجۃ اللہ البالغہ | 161 | تبرُّعات کی چار ، مُعاوَنات کی گیارہ قسمیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 161
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقہ کار : باب 04
تبادلۂ دولت کی دیگر شکلیں
(تبرُّعات کی چار اور مُعاوَنات کی گیارہ قسموں کا بیان)مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ نومبر 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ ابتغائے رزق کے سابقہ ابواب کی مباحث کا خلاصہ اور اس باب میں تبادلۂ دولت کی دیگر شکلیں (تبرُّعات کی چار اور تعاون باہمی کی گیارہ قسموں) کا بیان
۔۔ تبرُّع (رضاکارانہ معاملہ) کی پہلی قسم: صدقہ کی وضاحت
۔۔ تبرُّع کی دوسری قسم "ہدیہ" (گفٹ) کی تعریف اور ہدیہ سے متعلق چھ احادیث
۔۔ہدیہ کا بنیادی مقصد ، انسانوں کی باہمی الفت و محبت کا اظہار ، ہدیہ کا عمل دو طرفہ ہونا چاہیے ، شکرانِ نعمت کا زبان سے مناسب اظہار جبکہ بغیر ہدیہ کے تعریف کے پل باندھنا اور خوشامد کرنا ، کذب بیانی
۔۔ ایک شخص کا دوسرے کے لیے بھلائی و معروف کا کام کرنا، جواب میں اس کا دعائیہ کلمات "جزاك الله خيرا" کہنا، مکمل تعریف ، جامع نصاب اور معاملہ کو اللہ کے سپرد کرنا
۔۔ "جزاك الله خيرا" سے زیادہ تعریفی کلمات کہنا وقار و الفت کے منافی
۔۔ ہدیہ دینے والے کی حد سے زیادہ تعریف کرنے والے شخص کو حضرت سندھیؒ کی تنبیہ (مولانا منظور نعمانیؒ سے منقول واقعہ )
۔۔ ہدیہ کے تبادلے کا عمل ، دلی نفرتیں و کدورتیں دور کرنے کا سبب اور شاہ صاحبؒ کی مزید تشریح
۔۔ خوشبو دار پھول (نیاز بو) بطور ہدیہ دینا اور حدیث کی روسے قبول کرنے کا حکم ، کم قیمت چیز کا ہدیہ قبول نہ کرنا سرمایہ پرستانہ سوچ
۔۔ ہدیہ دے کر واپس لینا قے کرکے واپس لینے کے مترادف، اس کی وجوہات: بخل ، تنگی اور دوسرے کو نقصان پہنچانا
۔۔ نبی اکرم ﷺ کا ہدیہ دے کر واپس لینے والےکی بلیغ انداز میں مذمت البتہ ایک صورت میں ہدیہ واپس لینے میں کوئی حرج نہیں
۔۔ اولاد میں سے بعض کو ہدیہ دینا اور باقیوں کو محروم رکھنا ، حضرت نعمان بن بشیرؓ کو گھوڑا ہدیہ کرنے کا قصہ اور حضور ﷺ کا ناپسند سمجھنا ، ایسا عمل اولاد میں حسد و کینہ اور والدین سے نفرت پیدا ہونے کا باعث
۔۔ تبرُّع کی تیسری قسم "وصیت" (جس کا تعلق مرنے کے بعد کے امور سے)
۔۔ وصیت سے متعلق پہلی حدیث (أوص بالثلث والثلث كثير) کل مال میں سے ایک تہائی سے زیادہ وصیت کی ممانعت ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا واقعہ
۔۔ میت کے مال کے ورثاء کے زیادہ حق دار ہونے پر عرب و عجم کا اتفاق نیز کل مال کی وصیت ان کے حق میں ظلم و زیادتی شمار
۔۔ حکمت کا تقاضا کہ وراثت کے زیادہ حق دار قریبی نسبی رشتے دار لیکن مواسات کی بنا پر تہائی مال میں وصیت کا جواز
۔۔ وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ، بنیادی قانون کی تشریح
۔۔ وصیت کا ارادہ رکھنے والے کے لیے لازمی ہے کہ وہ اسے تحریر کرنے میں جلدی کرے ، وجوہات اور حدیث کا درست مفہوم سمجھنا ضروری
۔۔ عمریٰ (عمر بھر کے لیے رہائش کے لیے کسی کو زمین ہدیہ کرنا) ، نزاع و جھگڑا ختم کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی قانون سازی
۔۔ تبرُّع کی چوتھی قسم "وقف" ، عرب میں وقف کا نبی اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے رواج نہیں تھا ، آپؐ نے وقف کے قانون کو آیتِ قرآنی سے اخذ کیا
۔۔ نبی اکرم ﷺ نے چند مصلحتوں کی بنیاد پر وقف کے قانون کو مستنبط کیا۔
۔۔ مُعاوَنات (تعاون باہمی) کی گیارہ قسمیں:
۔۔ ۱) مضاربت تعاون کی ایک شکل
۔۔ ۲) شرکتِ مفاوضه کی تفصیل
۔۔ ۳) شرکتِ عنان کی توضیح
۔۔ ۴) شرکتِ صنائع اور ۵) شركة الوجوہ کی وضاحت
۔۔ ۶) وکالت بھی تعاون کی ایک صورت
۔۔ ۷) مساقات کا تعلق باغات سے اور ۸) مزارعت کی تشریح
۔۔ ۹) مخابرہ کا مفہوم اور ١٠) دسویں قسم
۔۔ ۱۱) اجارہ میں بیع اور تعاون کی دو معنویتیں اور اجیر کی دو قسمیں
۔۔ ان عقود کا عرب میں تعامل اور نبی اکرم ﷺ کی قانون سازی
۔۔ مزارعت مختلف فیہ مسئلہ ، رواةِ حدیث میں تعارض ، صحابہ و تابعین کے عمل کی روشنی میں عقد مزارعت کا جائزہ ، حضرت رافع بن خدیجؓ کی حدیث میں ممانعت کے تین اطلاقاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 11 Mar 2024 - 161 - حجۃ اللہ البالغہ | 160 | احادیث کی روشنی میں تبادلۂ دولت کے احکامات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 160
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقہ کار : باب 03
احادیث کی روشنی میں معاملات اور تبادلۂ دولت (بیع و شراء) کے احکامات کا تذکرہمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 03؍ نومبر 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ باب سے ربط اور زیر مطالعہ باب کا خلاصہ
۔۔ حدیث ۰۱ (رحم الله رجلا سمحا إذا باع الخ) میں مالی معاملات میں سماحتِ نفس کے حامل شخص پراللہ کی رحمت کا نزول،تین باتیں
۔۔ سماحت کا تہذیبِ نفس اور سیاستِ مدینہ میں کردار نیز مالی معاملات میں بخل کا اندیشہ اور نبی اکرم ﷺ کی تعاونِ باہمی کی اساس سماحت کی بڑی تاکید
۔۔ حدیث ۰۲ (الحلف منفقة للسلعة ممحقة للبركة) میں کثرت سے قسم اٹھانا برکت اٹھنے کا سبب نیز دو وجوہات کی بنا پر بیع میں قسم اٹھانا مکروہ قرار
۔۔ حدیث ۰۳ ( يا معشر التجار إن البيع يحضره اللغو والحلف الخ) بازار میں لین دین کے وقت لغو ، جھوٹی قسموں کا رواج اور صدقہ دینے کا حکم، حدیث کا درست سمجھنا ضروری
۔۔ حدیث ۰۴ (لا بأس أن تأخذها بسعر يومها الخ) میں سونے اور چاندی کے تبادلے میں اس دن کا ریٹ اور نقد سودا کرنے کا حکم، مقصود جھگڑا و نزاع کا خاتمہ
۔۔ حدیث ۰۵ (من ابتاع نخلا بعد أن تؤبر الخ) کجھور کے درخت کی خرید و فروخت میں جھگڑا نمٹانے کے لیے آپؐ کا تابیرِ نخل کو معیار مقرر کرنا
۔۔ حدیث کی تشریح: تابیرِ نخل کا عمل درخت پر ایک اضافی محنت ، اس لیے پھل بائع کا حق (نظام بنانے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی واضح ہدایات)
۔۔ حدیث ۰۶ (ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل) میں کتاب اللہ کے خلاف ورزی پر مبنی ہر شرط معاملات میں ناجائز
۔۔ حدیث ۰۷ (نهى عليه السلام عن بيع الولاء وعن هبته) میں ولاء بیچنے اور ھبہ کرنے کی ممانعت ، وضاحت اور ممانعت کا راز
۔۔ حدیث ۰۸ ( الخراج بالضمان) میں تاوان بھرنے والا، فائدہ اٹھانے کا مستحق، مالی معاملات کا عالمگیر و آفاقی اصول اور شاہ صاحبؒ کی حدیث کی تفصیلات کی توضیح
۔۔ حدیث ۰۹ (البيعان إذا اختلفا والمبيع قائم ليس بينهما بينة الخ) میں بائع و مشتری میں اختلاف اور مبیع بعینہ موجود ہونے کی صورت میں نبویؐ فیصلہ اور اس کی بنیادی وجہ
۔۔ حدیث ۱۰ (۱۔الشفعة فيما لم يقسم فإذا وقعت الحدود الخ ، ۲۔الجار أحق بصقبہ) میں حقِ شفعہ کا بیان ، دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض اور شاہ صاحبؒ کی تطبیق (شفعہ کی بنیادی روح اور دو قسمیں)
۔۔ حدیث ۱۱ (من أقال أخاه المسلم صفقة كرهها الخ) میں چیز بیچنے کے بعد خرید دار سے واپس لینے والے کے لیے اجر و ثواب، حدیث کی تشریح
۔۔ حدیث ۱۲ (حديث جابر رضي الله عنه بعتُه، واستثنيت حملانه إلى أهلي) کی تفصیلات، بیع میں استثناء کی شرط لگانا ، فقہاء کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا موقف
۔۔ حدیث ۱۳ (من فرق بين والدة وولدها الخ) میں غلام عورت اور اس کے بچے کو الگ الگ بیچنے والے کے لیے آپ ﷺ کی وعید ، بنیادی راز
۔۔ ۱۴۔ آیت (إذا نودى للصلاة من يوم الجمعة الخ) میں آذان سے مراد امام کے خطبہ دینے سے پہلے والی آذان مراد، شاہ صاحبؒ کا موقف
۔۔ ۱۵۔ حدیث (إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق الخ) میں ظلم و زیادتی اور مستقل قانون سازی کے پیش نظر آپ ﷺ کا مارکیٹ ریٹ مقرر نہ کرنا
۔۔ تاجروں کے ظالمانہ ریٹ کا جواز حدیث سے ثابت نہیں ، ایسے موقع پر حکومت کا ریٹ متعین کرنا جائز
۔۔ حضور ﷺ کا مارکیٹ ریٹ مقرر نہ کرنا، شاہ صاحبؒ نے حدیث کی لا جواب تشریح بیان کی
۔۔ ۱۶۔ آیت (يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين الخ) میں ادھار مالی لین دین میں تحریری معاہدہ کرنے کا حکم
۔۔ معاملات میں جھگڑے اور فساد کا بڑا سبب قرض کا لین دین نیز ادھار معاملے کے لیے چار امور کی پابندی ضروری
۔۔ ۱۷۔ حدیث (من أسلف في شيء، فليسلف في كيل معلوم الخ) میں بیعِ سلم کے مروجہ طریقے میں لڑائی جھگڑے ، آپ ﷺ کا مناقشہ ختم کرنے کے لیے چند شرائط کا تعین اور فقہا کا مزید اضافہ
۔۔ ۱۸۔ قرض کی مشروعیت کی بنیاد تبرع و احسان ، نیز اس میں عاریت کا معنی بھی لیکن اضافے کا مطالبہ جائز نہیں
۔۔ ۱۹۔ رہن کی اساس اعتمادپر ہے۔
۔۔ ۲۰۔ رہن سے متعلق بظاہر دو متعارض حدیثیں اور ان میں جمع و تطبیق
۔۔ شے مرہونہ (گروی رکھی اشیا یا گھر) استعمال کرنے کی ممانعت
۔۔ ۲۱۔ حدیث (إنكم قد وليتم أمرين الخ) میں حضور ﷺ کا وزن اور کیل کرنے والوں سے خطاب اور دو امور کی تاکید ، ناپ تول کمی ، سابقہ امتوں کی ہلاکت کا باعث
۔۔ ۲۲۔ حدیث (أيما رجل أفلس الخ) میں مُفلس (دیوالیہ شخص) کی شے کسی قرض خواہ کے پاس بعینہ موجود ہونا، موجود شے سے قرض خواہوں کے قرض وصول کرنے سے متعلق فقہا کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا موقف
۔۔ ۲۳۔ حدیث (من سره أن ينجيه الله من كرب الخ) میں تنگ دست کا قرض معاف کرنے یا مہلت دینے کا اجر و ثواب؛ راز
۔۔ ۲۴۔ حدیث (مطل الغني ظلم الخ) میں مال دار کا ٹال مٹول کرنا بڑا ظلم اور مال دار کی طرف سے محتاج کا حوالہ و کفالہ قبول کر لینا مستحب عمل
۔۔ ۲۵۔ حدیث (لَىُّ الواجدِ يحل عرضه وعقوبته) ٹال مٹول کرنے والے کا شرعی حکم، حدیث کا درست مفہوم سمجھنا ضروری
۔۔ ۲۶۔ حدیث (الصلح جائز بين المسلمين الخ) مسلمانوں میں ہر صلح جائز لیکن حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینے والی صلح یا شرط ناجائز ، جیسا کہ ابو حدرد کا قصہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 11 Mar 2024 - 160 - حجۃ اللہ البالغہ | 159 | بقیہ ممنوع قسمیں اور مکروہ صورتوں کا بیان | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 159
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقہ کار : باب 02 (حصہ سوم)
جوے سے مشابہ تبادلۂ دولت کی بقیہ ممنوع قسمیں اور مکروہ صورتوں کا بیانمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 27؍ اکتوبر 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ چوتھا علمی قاعدہ (تبادلۂ اشیاء میں کراہت) کی پانچ وجوہات کا خلاصہ
۔۔ (6) شے کے ضائع ہونے کا خطرہ اور تنازعات پیدا ہونے کے واضح احتمال کی وجہ سے ممانعت
۔۔ (7) ملکی نظم و نسق میں فساد کا سبب بننے والے پانچ امور میں خرید وفروخت کی ممانعت ،
۔۔ ۱۔ تلقی رُکبان (تجارتی قافلے سے شہر یا ملک سے باہر ہی سستے داموں چیز خرید لینا اور اوپن مارکیٹ میں اس کی رسائی روک دینا) کی حقیقت اور چند خرابیوں کی وجہ سے ناجائز
۔۔ ۲۔ ایک آدمی سے سودا کرکے دوسرے آدمی سے سودا طے کرنا، حرام
۔۔ ۳۔ بائع و مشتری میں ایک شے کے نرخ پر بات چیت کے دوران تیسرے آدمی کا اس کی قیمیت اور ریٹ لگانا
۔۔ ۴۔ نجش (محض نرخ بڑھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر بولی لگانا) میں دھوکہ دہی اور واضح ضرر
۔۔ ۵۔ بیع الحاضر للبادی کی وضاحت اور ناجائز ہونے کا سبب نیز کم اور مناسب نفع پر مال بیچنا سوسائٹی کے لیے مفید اور با برکت عمل
۔۔ احتکار کی ممانعت کی وجوہات اور ممنوع شکلیں
۔۔ (8) خریدار سے بیع میں تدلیس و دھوکہ دہی ، حدیث تصریہ سے اس کی ممانعت
۔۔ تصریہ کا مفہوم ، احناف و شوافع میں اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا دو ٹوک موقف
۔۔ غیر محقق حنفیہ کا خود ساختہ قاعدہ اور شاہ صاحبؒ کی کڑی تنقید
۔۔ ملاوٹ کرنے والے کا حضور ﷺ سے تعلق کا خاتمہ ، حدیث کی وضاحت
۔۔ (9) سب کے لیے مساوی طور پر اصلاً مباح چیز کی خرید وفروخت کی ممانعت، احادیث سے وضاحت
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 11 Mar 2024 - 159 - حجۃ اللہ البالغہ | 158 | جوے سے مشابہ تبادلۂ دولت کی مکروہ قسمیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 158
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقہ کار: باب 02 (حصہ دوم)
جوے سے مشابہ تبادلۂ دولت کی ممنوع قسمیں اور مکروہ صورتیں نیز ان کے ناجائز ہونے کی وجوہاتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 13؍ اکتوبر2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا ما حصل اور باب کی اگلی مباحث سے ربط
۔۔ تیسرا علمی قاعدہ: تبادلۂ دولت کی ممنوع قسمیں جن میں جوا اور "میسر" کی معنویت اور مشابہت کا عمل دخل
۔۔ ۱) "مزابنہ" میں جوے کی شکل اور معنویت
۔۔ ۲) "محاقله" کا عربوں میں رواج اور نبی اکرم ﷺ کی ممانعت نیز "عرایا" میں فقہاء کے اختلاف کی نوعیت
۔۔ ۳) بيع الصبرة من التمر (کجھور کے ڈھیر کو اندازے سے بیچنا)
۔۔ ۴) "ملامسہ" کی تعریف اور ممانعت کی وجہ
۔۔ ۵) "منابذه" کی حرمت
۔۔ ۶) "بیع الحصاة" (کنکری پھینک کر خرید وفروخت) کی ممانعت
۔۔ آخری چار بیوعات کی ممانعت کا راز نیز مصنوعی حاجت کی اساس پر اشیاء کی خرید و فروخت اسی کے حکم میں
۔۔ ۷) "بیع العُربان" کی وضاحت اور حرمت کی وجہ
۔۔ ۸) تمر (خشک کجھور) کے بدلے رطب (تازہ کجھور) کی بیع ، نبی اکرم ﷺ کا منع کرنا اور اس کا راز
۔۔ ۹) غبن اور جوے پر مشتمل ایک اور ممنوع قسم
۔۔ چوتھا علمی قاعدہ: تبادلۂ اشیاء میں کراہت و ناپسندیدگی کی چند وجوہات:
۔۔ (1) تبادلۂ اشیاء کا عمل گناہ کا وسیلہ بن جائے، احادیث کی روشنی میں حرمت کی وضاحت
۔۔ پاکستان میں ان غیر شرعی بیوعات کو قانونی تحفظ حاصل
۔۔ حرام شے کی قیمت بھی ناجائز ، حدیث میں حرمت کی وجہ
۔۔ طوائف کی کمائی، کاہن کی مٹھائی اور "کسبِ زمارہ" کی ممانعت اور حرام کی دو وجوہات
۔۔ (2) نجاست و گندگی ملنے کی وجہ سے کراہت کا پیدا ہونا، وضاحت اور ناپسندیدگی کا راز
۔۔ (3) لڑائی جھگڑے کا احتمال پیدا ہونے کے چار اصول اور چھ مثالوں سے عدمِ جواز کی وضاحت
۔۔ (4) ایک معاملہ اس شرط پر کرنا کہ اس بنیاد پر دوسرا معاملہ کرنے کا ارادہ ہو، (صفقةٌ فی صفقةٍ)
۔۔ (5) غیرملکیتی شے آگے بیچنا، اس کی چند صورتیں اور حرمت کی وجوہاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 11 Mar 2024 - 158 - حجۃ اللہ البالغہ | 157 | تبادلۂ دولت (بیوع) کی ممنوع شکلیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 157
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقۂ کار : باب 02 (حصہ اول)
تبادلۂ دولت (بیوع) کی ممنوع شکلیں؛ جوا اور سود کی حرمت کی تفصیلات
(غبنِ فاحش کی شرعی حرمت جبکہ پاکستانی معیشت میں اس کا باقاعده نظام)
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 06؍ اکتوبر 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:13 سابقہ باب کا اس باب سے ربط و خلاصہ
2:59 جوے کے حرام ہونے کی بنیادی حکمتیں اور مقاصد (علمی قاعدہ)
10:58 قمار بازی میں تمدن اور تعاون باہمی کا سرے سے فقدان
12:07 غبنِ فاحش حرام جبکہ پاکستانی معیشت میں اس کا باقاعده نظام
15:03 جوے اور قمار کی تین بڑی خرابیاں اور شاہ صاحبؒ کا معاصر سماج کا معائنہ کرنے کی دعوت
19:36 سود کی تعریف اور اس کے نتائج : مناقشاتِ عظیمه ، خصوماتِ مستطیرہ اور زرعی و صنعتی نظام کی تباہی؛ سود کی حرمت کی مزید بنیادی خرابیاں
22:18 جوا اور سود کا پیشہ ، منشیات کی عادت کی مانند
24:30 عرب معاشرے میں جوے اور سود کا رواج اور شارع علیہ السلام کا دو ٹوک انسداد
28:28 ربا کی دو قسمیں ، حقیقی سود کا تعلق قرضوں سے اور اس کے حرام ہونے کا راز (دوسرا علمی قاعدہ)
31:01 دوسری قسم ربا الفضل؛ تعریف اور اس کی حرمت کی اساس حدیثِ مشہور
37:07 اس قسم کی ربا حقیقی سے مشابہت اور رفاہیتِ بالغہ کی ناپسندیدگی، اس کی حرمت کا راز
45:51 رفاہیت (سہولیات) اور آیت (نحن قسمنا بينهم معيشتهم في الحياة الدنيا الخ) کا درست مفہوم
1:01:11 ربا ان چھ اشیاء میں بند نہیں اور تینوں فقہاء کے ہاں الگ الگ علتوں کا تعین
1:04:15 امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے ہاں ربا الفضل کی علت
1:13:19 امام شافعیؒ کا مصالحہ جات کو نمک پر قیاس کرنا؛ تحلیل و تجزیہ
1:17:17 امام مالکؒ کی علت ربا کے حق میں شاہ صاحب کے بنیادی دلائل
1:18:41 نقد سودا کرنے کی پہلی وجہ
1:21:03 بیع قبل القبض (شے قبضہ کرنے سے پہلے آگے بیچنا) ناجائز
1:22:32 نقد سودا کرنے کی دوسری وجہ
1:23:57 حدیث میں طعام اور نقد کو خاص کرنے کا راز
1:25:42 جزوی ضرورت والی حدیث سے اسلامی بینک کاری کے جواز کے حیلہ کی حقیقت ، شاہ صاحبؒ کا دو ٹوک موقف
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 29 Feb 2024 - 157 - حجۃ اللہ البالغہ | 156 | تبادلۂ دولت کے قوانین اور ریاستی امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 156
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقۂ کار میں انسانی سماج کے معاشی نظام کا بیان : باب 01 (حصہ دوم)
احادیث کی روشنی میں تبادلۂ دولت کے بنیادی قوانین اور ریاستی امور کا تعینمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 29؍ ستمبر 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس پیدائش دولت اور ملکیت کے اصول کا بیان ، اب احادیث کی روشنی میں تبادلۂ دولت کے بنیادی قواعد کی نشان دہی
۔۔ تبادلۂ اشیاء میں چار چیزیں ضروری
۔۔ عاقدین و عوضین کے لیے چار چار شرطیں
۔۔ تبادلۂ اشیاء میں حقیقی رضامندی معلوم کرنے کا طریقہ
۔۔فریقین کا متعلقه عوض (مبیع و ثمن) دوسرے کے سپرد کرنا
۔۔ عقد پختہ کرنے اور جھگڑا نمٹانے پر حدیث (" المتبايعان كل واحد منهما بالخيار على صاحبه ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار ") سے استدلال
۔۔ خیارِ مجلس اور ائمہ اربعہ کے نقطہائے نظر
۔۔ حدیث کی تشریح کے تناظر میں تبادلۂ اشیاء میں چار ضروری چیزوں کی مزید توضیح
۔۔ خرید و فروخت کی مجلس برخاست ہونے سے عقد کی تکمیل ، عقلی دلائل
۔۔ بیع سے مقصود ایک دوسرے کو نفع پہنچانا ،نقصان پہنچانے کی نیت سے مجلسِ عقد ختم کرنے کی حرمت از روئے حدیث (ولا يحل له أن يفارق صاحبه خشية أن يستقيله)
۔۔ شاہ صاحبؒ کا اس باب میں کتبِ فقہ میں تبادلۂ اشیاء کی تمام تر تفصیلات کا جامع خلاصہ
۔۔ پیشوں کا تعین ، ملکیت کی تحدید اور تبادلۂ دولت کے لیے سیاسی حکومت کا قیام لازمی
۔۔ زرعی معیشت میں صنعت کاروں اور انتظامیہ کا حجم بڑھنا اور زراعت کے عمل کو چھوڑ دینا تباہی کا باعث
۔۔ مضر پیشوں کو روکنا اور سوسائٹی کے لیے مفید پیشوں کو رواج دینا ، ریاست کے ذمہ داری
۔۔ ریاست و مملکت کی خرابی و بربادی کا بڑاسبب: ضروری ارتفاقات ترک کرنا اور تعیش پسندی کے امور کو فروغ دینا ،
۔۔ عیش پرست حکمرانوں کے تسلط سے ریاست کے تباہ و برباد ہونے پر تمام عرب و عجم کے مدبرین کا اتفاق
۔۔ حکمرانوں کی شہوات و خواہشات پورا کرنے کے لیے پیشوں میں فساد کا منظر نامہ
۔۔حقیقی پیشوں (زراعت ، صنعت اور تجارت) کو مہمل چھوڑنا : سوسائٹی کے لیے بہت بڑا نقصان
۔۔ دیمک کی طرح پھیلے ہوئے اس مرض کے خاتمے کے لیے حضور ﷺ کے ریاستی اِقداماتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 29 Feb 2024 - 156 - حجۃ اللہ البالغہ | 155 | پیدائش دولت اور معاشیات کے چار بنیادی اصول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 155
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منہج کی تفصيلات
حصولِ رزق کے طریقۂ کار میں انسانی سماج کے معاشی نظام کا بیان: باب 01 (حصہ اول)
پیدائش دولت سے متعلق معاشیات کے چار بنیادی اصول اور چھ احادیث سے ان کا ثبوتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22؍ ستمبر2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔*
👇
0:00 آغاز درس
0:16 معاشی ضروریات کا بندوبست کیے بغیر ، احکامِ شریعت پر عمل اور صفتِ احسان پیدا کرنا ناممکن ، حجة اللہ البالغة کی سابقہ مباحث سے ربط و تعلق
1:36 قسمِ اول میں حکمتِ برّ و اِثم کی اساس پر ارتفاقات زیرِ بحث آئے ، جبکہ قسمِ ثانی میں نبی اکرمؐ کی تعلیمات کی روشنی میں معاشی اصول اور ان کے تشریعی نظام کا بیان
3:34 ابوابِ ابتغائے رزق میں احادیث کی روشنی میں انسانی سماج کے معاشی نظام پر گفتگو
4:37 معاشیات کے چار بنیادی اصول: زمین میں وسائلِ معاش کا بندوبست اور ان سے نفع اٹھانے کی اجازت عامہ (اباحت)
9:40 انسانی نفوس میں حسد و بغض کی وجہ سے وسائلِ معاش میں نزاعات و جھگڑے اور حکمِ الہی
10:55 پہلا اصول: مباح وسائل سے نفع اٹھانے کا حق ایک کے لیے مختص ہونے کے بعد دوسرے کی مزاحمت و مداخلت اور قبضہ کی ممانعت
12:59 کسی چیز کے مخصوص و مختص ہونے کی ممکنہ شکلیں نیز دھوکہ دہی اور فریب کی ممانعت
16:47 مِلکِیت کا مطلب؛ مالک کو دیگر افراد کی نسبت مملوکہ شے سے نفع اٹھانے کا استحقاق
18:02 دوسرا بنیادی اصول (۱) بنی نوع انسان کے اجتماعیت پسند ہونے کے سبب معاشی سرگرمیوں میں تعاونِ باہمی لازمی اور ناگزیر ، نظامِ معیشت کی درستگی کے لیے اللہ کی قضا جاری
20:52 (۲) مفید معاشی سرگرمی میں ہر شخص کا حصہ لینا ، تعاونِ باہمی اور سوسائٹی کے لیے مفید عمل
22:06 معاشی ضروریات میں دوسروں پر بوجھ بننا شریعت کا مقصود نہیں ، البتہ محتاج و مریض کے لیے رخصت
24:32 تیسرا بنیادی اصول ، سوسائٹی کے لیے ترقی یافتہ معیشت کا نظام: شے مخصوص میں ذرائع پیداوار (زراعت و صنعت و تجارت) کے ذریعے بڑھوتری کرنا ضروری ، نیز اشیا میں افادیت کی تین قسمیں
27:23 مال میں اضافے کی پہلی صورت: ۱۔ قدرتی وسائل اکٹھا کرنا ، ۲۔ اموالِ مباحه (قدرتی وسائل) کے ذریعے مال کی نشو و نما کی صورتیں
32:05 زراعت کے عمل سے مال میں اضافے کی بنیادی شرط؛ پیداواری عمل میں فساد پیدا کرنے والی تنگی کی ممانعت
35:05 دوسری صورت: تجارتی عمل کے ذریعے "قدر" پیداکرنا ، اس کی اساس پر تعاونِ باہمی کی چند شکلیں
38:54 مال میں بڑھوتری کی تیسری صورت: صنعت کاری و دستکاری کے ذریعے مال میں نئی افادیت پیدا کرنا
41:19 چوتھا بنیادی اصول: تعاونِ باہمی اور رضامندی کے بغیر مال کی بڑھوتری پر مبنی معاشی نظام کی ممانعت
43:27 شاہ صاحبؒ کا مشہورِ زمانہ اصول؛ مجبور کی رضا مندی حقیقت میں رضا نہیں ، سرمایہ داری نظام کے ظلم پر مبنی اصول (بارگینگ پاور) کا تحلیل و تجزیہ
45:25 سودی لین دین اور جوا ، پسندیدہ معاہدات اور رزق کمانے کے عمدہ اسباب میں سے نہیں، حکمتِ مدنیہ کی اساس پر باطل
46:59 معاشیات کے چار اصولوں کا چھ احادیث سے ثبوت
48:44 (1) حدیث ("من أحيا أرضا ميتة فهي له") سے غیر مملوکہ بنجر زمین آباد کرنا سے ملکیت مختص ہونے کا ثبوت
49:49 بنیادی قاعدہ؛ زمین اور وسائل کا حقیقی مالک اللہ ، انسان کو صرف حقِ انتفاع حاصل اور زمین کو آباد کرنا قبضے کی بنیادی شرط
54:08 شہر اور فنائے شہر (جیسے شاملات) بنجر زمین کے حکم میں نہیں
56:11 زمین کو آباد کرنے والے سے زبردستی زمین نہ چھینی جائے
56:58 ساری روئے زمین در حقیقت مسجد یا سرائے کی مانند
59:11 سوال کا جواب (ملکیت کا معنی و مفہوم)
1:00:34 (2) حدیث ("عاديُّ الأرض لله ورسوله، ثم هي لكم مني" بے آباد زمین اللہ اور اس کے رسول کی) کی تشریح
1:04:36 (3) اللہ اور اس کے رسول کی حمی (جاگیراور سیکورٹی زون) کے علاوہ کسی کو حمی بنانے کی اجازت نہیں، حدیث(لا حمى إلا لله ورسوله) کی وضاحت
1:07:25 اجازت نہ ہونے کی بنیادی وجہ؛ لوگوں کے لیے تنگی اور ظلم کی شکل پیدا ہونا ہے۔
1:10:27 رسول اللہﷺ کوحمی بنانے کی اجازت اور اس خصوصیت کا بنیادی راز
1:17:13 (4) حدیث میں مہزور کے سیلابی پانی کا قضیہ ، حضرت زبیرؓ کی ایک انصاری صحابی سے تنازعہ اور حضور ﷺ کا فیصلہ
1:22:41 حدیث کی اصل حقیقت نیز کالا باغ ڈیم کی بحث میں شرعی رہنمائی
1:29:11 (5) نمک والی زمین (معدن) قومی ملکیت قرار؛ متعلقہ حدیث کی تشریح
1:31:50 (6) حدیث میں لقطہ (راستہ میں گری پڑی شے) ، گم شدہ بکری اور اونٹ سے متعلق سوال اور ان کا حکم
1:35:12 حضرت جابرؓ کی روایت کی روشنی میں گرا پڑا کوڑا ، ڈنڈا اور رسی وغیرہ استعمال کرنے کی اجازت
1:36:24 دونوں حدیثوں کی روشنی میں لقطہ اٹھانے کا حکم نیز شاہ صاحبؒ کا متعلقہ معاشی اصول پر استدلالپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 29 Feb 2024 - 155 - حجۃ اللہ البالغہ | 154 |نفس کےچار مقامات اور دوحالتیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 154
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 (آخری حصہ)
نفس کےچار مقامات اور دوحالتیں ، نیز مقامات و اَحوال سے متعلق دو علمی قاعدےمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 15؍ ستمبر 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:19 عقل و قلب کے مقامات و اَحوال کے بعد نفس کے مقامات و اَحوال کا بیان
0:41 تین پہلوؤں سے نفس کو مقامات حاصل ہوتے ہیں۔ ( بنیادی بات)
3:10 (۱) نفس : خواہشات و مطالبات کا مرکز . پہلا مقام "توبہ" اور اس کی شرائط
5:24 مقامِ"توبہ" کی حقیقت؛ نورِ ایمانی سے بھرپور عقل ، قلب کی جبلت کا حصہ بن کر زجر، ندامت اور عزم کو نفس پر غالب کرنا، قرآنی آیت سے استدلال
12:27 آیت کی تشریح؛ اللہ کے خوف سے نورِ ایمانی کا عقل سے قلب میں آنا ، نیز خوف کی ابتدا کا محل ، عقل اور انتہا کا مرکز ، قلب ( من خاف) کا مفہوم
15:42 عقل سے نورِ ایمان کے قلب میں آنے کے بعد نفس کو روکنا اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا (ونھی النفس) کی تشریح
17:04 مقامِ توبہ نفس کی خواہشات کو مسلسل روکنے ، اِنابتِ الہی اور استغفار کرنے سے پیدا ہوتا ہے، نیز حدیثِ نبویؐ میں اس کی حقیقت و علاج کا ذکر
21:08 "نکتة سوداء" سے مراد بہیمیت کی ظلمت کا قلب پر ظاہر ہونا اور ملکیت کی نورانیت کا چھپ جانا
22:18 "صقالة" وہ روشنی جو نورِ ایمانی سے نفس پر پڑتی ہے، نیز بہیمیت کے غلبے کا نام "رَین"
23:46 جب بھی نفسانی خیال آئے تو نورِ ایمانی اس کو پاش پاش کردے نیز ایک اور حدیث سے توبہ کی حقیقت کی وضاحت
34:00 حدیث میں دو داعی کا ذکر ؛ ۱۔ قرآن و شریعت اور ۲۔ نورِ ایمانی
36:11 بسا اوقات اللہ کی خاص مہربانی سے معصیت و نافرمانی کے درمیان حائل ہونے کے لیے خاص لطیفہ نورانی کا خاص بندوں پر نزول ، جسے قرآن میں "برہانِ ربی" سے تعبیر کیا گیا ہے۔
38:13 مقامِ توبہ کا خلاصہ
39:04 (۲) توبہ کے بعد اس کے ثمرات میں سے نفس کا دوسرا مقام "حیاء" ، اس کا لغوی و شرعی معنی
42:50 سید الطائفه جنید بغدادیؒ اور ذوالنون مصریؒ کے قول سے حیاء کی تشریح
44:19 حدیث میں حیاء کو ایمان سے تعبیر کیا گیا نیز کامل حیاء کے چار معیارات
49:13 طبعی کمزوری حیاء نہیں ، شاه صاحبؒ کی حدیث کی لاجواب توضیح
54:57 (۳) حیاء کے نتیجے میں نفس کا تیسرا مقام "ورع" (پرہیز گاری) تین روایات سے استدلال
59:25 ان روایات کی حقیقت؛ شریعت کے معیارات اور مشتبہ امور چھوڑنا "ورع"
1:04:07 (۴) ورع (پرہیز گاری) کے بعد اگلا مقام "ترک ما لا یعنیه" (فضول اور لغویات کو چھوڑنا) حدیث سے استدلال اور شاہ صاحبؒ کی تشریح
1:08:20 "ترک ما لا یعنیه" کا دوسرا نام ، زہد نیز حدیث سے زہد کی قرار واقعی حقیقت
1:10:45 انسانیت کے دائرے سے ماورا تعمق اور انتہا پسندی زہد نہیں، چند صورتوں سے وضاحت
1:17:12 مجاہدہ کرکے ان مقامات کو حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ (علمی قاعدے سے تشریح)
1:20:45 نیکی و بدی کے خیالات میں ٹکراؤ کی صورت میں نبوی حکمتِ عملی
1:24:56 جبلی و کسبی طور پر نفسِ مطمئنہ والے شخص کا اپنے خیالات پر کنٹرول
1:25:45 نورِ ایمانی سے سرشار عقل کا نفس پرفیضان اور شیطانی خیالات کے خلاف کردار ، قرآنی آیت سے ثبوت
1:26:40 شیطان کا نفس کی شہوت کے سوراخ سے انسانی باطن میں داخل ہونا اور بصیرتِ نورِ ایمانی سے اس کا مقابلہ
1:29:00 آیات کے الفاظ کی وضاحت
1:30:11 نفس کے دو اَحوال میں پہلی حالت؛ نفسانی شہوات سے دور ہونا (الغیبة)
1:32:40 دوسری حالت؛ ایک لمبی مدت تک نفس کھانے پینے کی طرف متوجہ نہ ہو (المحق) جیسے نبی اکرم ﷺ کا صومِ وصال ، لیکن یہ ہر فرد کے لیے نہیں ہے۔
1:36:54 نفس کے مقامات اور اَحوال کے بیان کے بعد دو علمی قاعدے
1:37:34 پہلا علمی قاعدہ: قلب ، عقل اور نفس کے درمیان ہے، مقامات کے تعین میں بعض صوفیا کا تسامح
1:39:56 دوسرا علمی قاعدہ: نورِ ایمانی کے نفس اور قلب کے تقاضوں کے رد کرنے کے صوفیاء کے ہاں چند خاص ناموں کی فہرست
1:44:57 شاہ صاحبؒ کا حجة اللہ البالغہ میں علم الاَخلاق پر اَبواب قائم کرنے کا ارادہ جو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔
1:46:15 علم الاحسان اور علم الشرائع کی تکمیل کے بعد معاشیات کا بیان اگلے ابواب میںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 25 Feb 2024 - 154 - حجۃ اللہ البالغہ | 153 | قلب کے چار اَحوال کا بیان | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 153
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 (حصہ ششم)
قلب کے چار اَحوال کا بیان
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 08 ؍ ستمبر2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:18 سابقہ درس کا خلاصہ اور زیر مطالعہ سبق سے ربط
1:25 قلب کے چار اَحوال میں سے پہلا حال: "السُّکر" نورِ ایمان کا عقل سے قلب میں اترنا اور اسے سرشار کر دینا
7:55 پہلی مثال: حضرت ابو الدرداءؓ کی قلبی حالت "سُکر" کی تھی۔
12:12 سلوک و اِحسان طے کرنے والے کے لیے پہلا مرحلہ "سُکر" کی حالت
13:12 دوسری مثال: حضرت ابو ذر غفاریؓ کا طبعی طور پر مال و دولت کو ناپسند کرنا
17:54 بشری تقاضوں کی اساس پر "سُکر" کی کیفیت ، ظاہری نظام میں قابل قبول نہیں ہوتی۔
19:16 منصورؒ پر "سُکر" کی حالت کا غلبہ ، جبکہ جنیدِ بغدادیؒ "صَحو (جاگنا)" کی حالت میں ، نیز منصورؒ شرعی طور پر معذور
23:09 قلب کا دوسرا حال: "غلبہ" کا مفہوم نیز پہلی قسم کی حقیقت
26:50 غلبے کے داعیہ کی پیدائش قلب میں ہوتی ہے۔
28:24 مومن کے قلب میں ایسا داعیہ و جذبہ پیدا ہونا ممکن ہے ، جو مقاصدِ شریعت کے خلاف ہو ، اس کی چند وجوہات (اہم بات)
33:57 ایسا قلبی داعیہ جو مقاصدِ شریعت کے خلاف ہو ، وہ معتبر نہیں ، حضرت ابو لبابہ بن منذرؓ ، حضرت حاطب بن ابی بلتعهؓ ، حضرت عمرؓ فاروق اور ابو طیبہ کے واقعات سے استدلال
52:10 غلبے کی دوسری اور اعلی قسم (حظیرة القدس اور ملاءِ اعلی سے داعیہ الہیہ کا قلب پر آنا) اس غلبے کی حقیقت نیز فراست و اِلہام اور عزم و اِقبال کی تعریف اور دو مثالوں سے وضاحت:
57:45 پہلی مثال: غزوہ بدر میں حضورﷺ کا دعا مانگنا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے قلب میں داعیہ الہیہ پیدا ہونا
1:02:25 دوسری مثال: رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے نمازِ جنازہ پڑھانے پر عمر فاروقؓ کے قلب میں داعیہ الہیہ پیدا ہونا
1:06:30 حضرت عمر فاروقؓ کے عمل سے داعیے کی دونوں قسموں کی وضاحت ہو گئی ہے۔
1:08:47 قلب کا تیسرا حال: قلب کا ہر حال میں اطاعتِ الہی کو ترجیح دینا، حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کا باغ صدقہ کرنے کا واقعہ
1:12:43 قلب کا چوتھا حال: اللہ کے خوف کے غلبے سے رونا اور جسم پر لرزا طاری ہونا، احادیث سے استدلالپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 25 Feb 2024 - 153 - حجۃ اللہ البالغہ | 152 | مقاماتِ قلب کی حقیقت و دلائل نقلیہ سے وضاحت | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 152
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منہج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 (حصہ پنجم)
مقاماتِ قلب: جمعِ ہمت اور اس کے خواص و احوال ، شہید اور حواری کی حقیقت اور دلائل نقلیہ سے وضاحت
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 01 ؍ ستمبر2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:20 عقل کے مقامات و احوال کی تکمیل کے بعد قلب کے مقامات کی حقیقت اور ان سے متعلق احادیث کا بیان
1:45 قلب کا پہلا مقام، "الجمع" (خیالات کے مجموعے سے دل کا پختہ ارادہ باندھنا) اور ارادے کا مقصد، اللہ کی ملاقات اور اس کی خوشنودی
8:21 سالک کا بنیادی قصد و اراده آخرت ہو ، دنیا اس مقصد کے حصول کا وسیلہ و ذریعہ اور متاع ہے۔
13:58 جمعِ ہمت کے لیے صوفیاء کی اصطلاح "ارادہ" ، نیز خوشی و غمی عارضی کیفیت
18:14 انسان کا کسی چیز کے لیے اپنی تمام قوتوں کو ایک پیج پر لانا، ہمت کہلاتا ہے، اور یہی اس چیز کی دلی محبت کا باعث بنتا ہے۔
22:42 حدیث: اللہ کے ساتھ انسان کا "جمعِ ہمت" اس کی محبت پیدا کرنے کا ذریعہ نیز منتشر خیالات والے کی اللہ کو کوئی پراہ نہیں، (من جعل همه هما واحدا هم الآخرة كفاه الله همه الخ) سے ثبوت
26:08 حدیث کی تشریح: انسان کی ہمت کی خاصیت
27:23 ۱۔ جمعِ ہمت اور خیالات کنٹرول کرنے کے مقام کا حاصل ہونا ، سالک کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت پیدا کرنے کا ذریعہ
31:04 ۲۔ محبت سے مراد ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ایسی کشش کی حالت ، جیسا کہ کسی شدید پیاسے و بھوکے کو پانی اور روٹی کی تلاش کے لیے ہوتی ہے۔
34:19 ۳۔ محبت کا لازمی نتیجہ تین چیزیں پیدا ہونا
43:29 اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے حُبِّ خاص بھی قلب کا مقام ، چار احادیث سے استدلال
45:53 ان چار حدیثوں میں محبت کی حقیقت؛ یقین کی لذت کا پہلے عقل پر ، پھر قلب اور نفس پر غالب آنا
50:33 خاص محبت کی علامت، بندے کی اللہ سے محبت کی نوعیت
52:01 محبت کے خاص آثار ، حضرت ابو بکر صدیقؓ کا قول
59:06 اللہ کا اپنے بندے سے محبت کرنا، اس کی حقیقت نیز اس محبت کا صلہ و ثمرہ ، مقامِ ولایت کا حصول
59:32 مقامِ محبتِ خاصہ کے چار احوال:
59:55 ۱۔اس ولی کے لیے اللہ کی محبت کا اعلان، ملاءِ اعلی و ملاءِ سافل میں محبت کا ظہور اور پھر کرۂ ارض پر مقبولیت کی مثال سے وضاحت
1:05:18 ۲۔ اولیاء اللہ کے دشمنوں کا ذلیل و رسوا ہونا، حدیث سے ثبوت
1:06:40 حدیث کا مفہوم؛ دشمن کو سزا دینے کے لیے کائنات کا نظام متحرک
1:10:00 ۳۔ ایسا شخص مستجاب الدعوات بن جاتا ہے، اس کا راز
1:11:34 صحابہ کرامؓ کی دعاؤوں کی قبولیت کے چند واقعات؛ حضرت سعدؓ پر تین جھوٹے الزامات اور ان کی بددعا
1:18:16 حضرت سعید بن زیدؓ کی اروی بنت اویس کے خلاف بددعا
1:21:37 ۴۔ نفسانی تقاضے ختم ہونا اور اللہ کے ساتھ بقاء کا تعلق پیدا ہونا ، حدیثِ قدسی سے استدلال اور اس کی تشریح
1:25:19 ۵۔ اللہ کے جناب میں کوتاہی پر تنبیہ و خبردار کیا جانا، حضرت ابو بکرؓ اور ان کے مہمانوں کا واقعہ
1:31:38 قلب کے دو اور مقامات؛ "شہید اور حواری" یہ صرف اور صرف انبیاءؑ کے ساتھ مشابہت رکھنے والوں کے ساتھ خاص ہیں۔
1:34:22 "مقامِ شہید اور مقامِ حواری" میں فرق کی جامع توضیح
1:39:24 "شہید اور حواری" کی چند انواع و شعبے؛ امین ، رفیق ، نُجَباء و نُقَباء، نقلی دلائل سے استدلالپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Wed, 21 Feb 2024 - 152 - حجۃ اللہ البالغہ | 151 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 حصہ چہارم | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 151
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 ( حصہ چہارم)
عقل سے متعلق چھ اَحوال
پہلی قسم؛ تجلی کی حقیقت ، اس کی اقسام ، احادیث کی روشنی میں نیز عقل کے حالات کی دیگر پانچ اقسام کی توضیحمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 25؍اگست 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:12 سابقہ درس کا خلاصہ اور زیرِ نظر مباحث سے ربط؛ عقل کے چھ حالات
5:28 (۱) عقل کے احوال کی پہلی قسم: "تجلی" اور اس کی حقیقت؛ تجلی ایسی مخلوق ، جو خالق کے اَوصاف اور خالق و مخلوق کے رشتے کو واضح کرتی ہے۔
11:13 روحِ انسانی میں پوری کائنات (شخصِ اکبر) کا مکمل ڈیٹا موجود ، نیز نکتہ نورانی کی وضاحت اور درجات
15:35 انسان کے وصولُ الی اللہ کے لیے جو نورانی نظام متعین ہے ، اس کے بغیر معرفتِ الہی کا حُصول ممکن نہیں ، اولیاء اللہ کی مثالیں
19:31 تجلی کی عبقات سے مزید وضاحت؛ ذاتِ باری تعالی کے اسماء و صفات اور افعال جس مخلوق کے ساتھ جڑ گئے ، وہ خالق کے اعتبار سے تجلی اور مخلوق کے اعتبار سے شعائر کہلاتے ہیں۔
23:09تجلی کا تعلق عقل سے ہے ، نہ کہ قلب سے ، صاحب حاشیہ کا علمی مغالطه اور اشتباه
24:25 تجلی کی اصطلاح "فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا" {الأعراف:143} سے ماخوذ نیز تجلی کی مباحث پر لمحات، سطعات اور تفہیماتِ الہیہ میں شاہ صاحبؒ کی جامع گفتگو
25:29 مشہور صوفی بزرگ ، حضرت سہل تستریؒ کے قول سے تجلی کی وضاحت
26:09 تین اقسام: ۱۔ تجلیِ ذات الہٰی (ذاتِ باری تعالی کا مکاشفہ) ، ۲۔ تجلیِ صفاتِ الذات (مقاماتِ نور) ، ۳۔ تجلیِ حکم الذات (ذاتِ باری تعالی کا حکم و فیصلہ)
28:09 شاہ صاحبؒ کا حضرت سہل تستریؒ کے قول کی مزید وضاحت اور چار قسموں کا تعین
28:38 تجلیِ ذاتی (ذاتِ باری تعالی کا مکاشفه) کی مزید توضیح؛ حق الیقین کا غلبہ اور حدیث سے استدلال
31:42 مشاهدة العَیان (ذاتِ باری تعالی کا عیاناً مشاہدہ) آخرت میں ہوگا۔
34:20 تجلیِ صفاتِ الذات (مقاماتِ نور) کی شاہ صاحبؒ نے دو قسمیں بنائی ہیں۔
34:37 پہلی قسم: تجلی صفاتِ ذات میں اَفعال کا مراقبه و استحضار
ا۔ فعل و کمال سے اللہ کی اس صفت تک پہنچنا جس کا انسان مظہر ہے۔
ب۔ اللہ کی قدرت کا غلبہ اور اسباب کا نظروں سے اوجھل ہو جانا
ج۔ خوف و تسبُّب کا خاتمہ اورعلمِ الہی کا غلبہ
د۔ ایسے انسان پر خشوع و خضوع کے ساتھ رعب و دہشتِ الہی طاری
40:39 "أن تعبد الله كأنك تراه" تجلی ذاتی کا مکاشفہ اور " فإن لم تكن تراه فإنه يراك" تجلیِ صفاتی میں افعال اللہ کے مکاشفے پر حدیث سے ثبوت
41:17 ہر آدمی کا نکتۂ نورانی ، ذات کی تجلی تک رسائی نہیں رکھتا، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کء قول سے وضاحت
45:38 پہلی قسم کے مواضعِ نورِ الہی کی وضاحت اور مولانا سندھیؒ کی عمدہ تشریح
49:59 تجلیِ صفاتِ الذات کی دوسری قسم؛ بغیر اسباب پر صرفِ نظر کیے بغیر ، اللہ کی صفات سے افعال تک پہنچنے کا مراقبہ کرنا
51:16 اس قسم کے مواضعِ نور
52:01 پہلی قسم میں اَفعال کے مشاہدے سے صفات تک پہنچنا جبکہ دوسری قسم میں صفات کے مشاہدے سے افعال تک رسائی؛ حضرت سندھیؒ کی دونوں قسموں کے فرق کی وضاحت
52:52 تجلیِ آخرت کا معنی و مفہوم (تجلی حکم الذات)؛ دنیا میں اپنی بصیرت کی آنکھ سے سزا و جزا کا معائنہ کرنا
53:59 پہلی قسم (تجلیِ ذاتی) کی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے قول سے ثابت
56:46 تجلیِ ذاتی میں انہماک کی حالت غیبت اور فنا فی اللہ کی قسم اور اس کی دلیل
57:15 ہر لطیفہ (عقل و قلب و نفس) کی غیبت و فنا کی حالت
1:00:28 دوسری قسم (تجلیِ اَفعالی) کی حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے اقوال سے مثال
1:05:04 تیسری قسم (تجلی صفاتی) کی مثالیں؛ انصاری صحابیؓ کا مواضعِ نور کا مشاہدہ، اندھیری رات میں دو صحابیوں کے آگے آگے چراغ کی روشنی اور نجاشی کی قبر میں نور کا مشاہدہ
1:09:23 چوتھی قسم (آخرت کی تجلی کا دنیا میں مشاہدہ)؛ حضرت حنظلہؓ کے قول سے استدلال نیز احوال دائمی نہیں ہوتے
1:15:44 دوسری مثال؛ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا خواب میں جنت و جہنم کا مشاہدہ
1:18:46 (۲) عقل کے اَحوال کی دوسری قسم: "فراستِ صادقہ" کی تعریف اور حدیث سے ثبوت
1:21:09 (۳) عقل کے اَحوال کی تیسری قسم: "سچا خواب" اور نبی اکرم ﷺ کا سالکین کے خوابات کی تعبیر بیان کرنے پر خصوصی توجہ نیز سچے خوابوں کی نو قسمیں
1:28:39 (۴) عقل کے اَحوال کی چوتھی قسم: "مناجات کی مٹھاس کا پانا اور حدیثِ نفس (اپنے آپ سے باتیں کرنا) ختم ہو جائے" حدیث سے استدلال
1:29:47 (۵) عقل کے اَحوال کی پانچویں قسم: "اپنا مُحاسبہ کرنا" حدیث سے ثبوت
1:32:11 (۶) عقل کے اَحوال کی چھٹی قسم: "حیا" اور حضرت عثمان کے قول سے استدلالپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Wed, 21 Feb 2024 - 151 - حجۃ اللہ البالغہ | 150 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 حصہ سوم | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 150
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 ( حصہ سوم)
عقل سے متعلق تمام مقامات و اَحوال کی جڑ : یقین کی کیفیت ،
مقامِ یقین سے پھوٹنے والے ذیلی شعبے؛ مقام "شکر" تا مقام "صِدّیقیت و محدَّثیت" اور ان کی حقیقت
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 18؍اگست 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:19 باب کی سابقہ مباحث کا خلاصہ
4:54 عقل سے متعلق تمام احوال و مقامات کی جڑ یقین کی کیفیت (علم کا منتہائے مقصود )
8:17 مقامِ یقین سے پھوٹنے والے ذیلی شعبے
11:44 مقامِ یقین کا ثبوت " اليقين الإيمان كله" اور "واقسم لنا من اليقين ما تهون به علينا مصائب الدنيا "
15:17 یقین کا مفہوم؛ مسئلہ تقدیر و معاد پر ایمان و یقین رکھنا اور عقل کا ان کی فهم سے لبریز ہونا
19:44 "یقین ہی مکمل ایمان" کا مطلب اور بنیادی وجہ
32:29 کامل یقین پیدا ہونے کے بعد فقر و مالداری اور عزت و ذلت کے حالات اسے بدل نہیں سکتے!
33:53 یقین سے پھوٹنے والے شعبوں میں سے پہلا مقام "شکر"کی حقیقت ، حدیث سے استدلال اور معنی و مفہوم
47:25 مقامِ شکر کی تکمیل؛ عمر بھر کی تمام نعمتوں کا استحضار اور ان کا شکریہ ادا کرنا، حدیثِ عمر رضی اللّٰہ عنہ سے استدلال
55:08 یقین کا دوسرا مقام "توکل" کی تعریف، حدیثِ نبوی سے ثبوت، بغیر حساب کے جنت میں جانے کا مطلب
1:06:49 یقین کا تیسرا مقام "ہیبت و جلال" اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے قلب کی حالت سے استدلال
1:10:42 یقین کا چوتھا مقام "حسنِ ظن" کی حقیقت، حدیث سے استدلال
1:17:45 یقین کا پانچواں مقام "تفرید" کی تعریف، حدیث میں مفرِّدون کی وضاحت
1:26:19 یقین کا چھٹا مقام "اِخلاص" کا مفہوم اور اس کے مستدلات
1:29:40 یقین کا ساتواں مقام "توحید" اور اس کے تین مراتب
1:35:22 یقین کا آٹھواں مقام "صِدّیقیت و محدَّثیت" کی حقیقت ، عقل و عمل میں انبیاؑء سے مشابہت اور آیت قرآنی سے استدلال
1:40:18 "صِدّیق و محدَّث" کا فرق
1:51:28 "صِدّیق" کی علامات
1:54:30 "محدَّث" کی مزید وضاحت اور اس کی خصوصیت
2:01:28 مقام "صِدّیقیت" پر فائز، خلافت کاسب سے پہلے حقدار، اس کی توجیہ و دلائل
2:10:10 "صِدّیق" کے بعد خلیفہ بننے کا سب سے زیادہ اہل، "محدَّث"
2:12:39 "صِدّیقیت و محدَّثیت" کا مقام مشائخ کے سلاسل میں بھی پایا جاتا ہے۔پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Wed, 21 Feb 2024 - 150 - حجۃ اللہ البالغہ | 149 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 حصہ دوم | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 149
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 (حصہ دوم)
لطائف؛ قلب، نفس اور عقل کا تجربات سے ثبوت اور عقلاء کا اتفاق نیز مقامات اور اَحوال بننے کا عملمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 11؍ اگست 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:16 سابقہ درس کی مباحث کا ما حصل اور زیرِ مطالعه بحث سے ربط
3:12 لطائف (عقل، قلب اور نفس) کا انسانوں کے مختلف اَحوال و اُمور کے تجربات سے ثبوت
19:21 چار انسان؛ پہلا درندوں سے مشابہت رکھنے والا، دوسرا جانوروں کے مُشابہ، تیسرا فرشتوں کی صفات کا حامل اور چوتھا صاحبِ مروءت اور بلند ہمتوں والا
20:09 صاحبِ بصیرت شخص، انسانوں کے اَحوال و اُمور کی اساس پر لطائفِ ثلاثہ کو ثابت کرنے لیے مجبور و مضطر
22:05 لطائف (عقل، قلب اور نفس) کی تہذیب پر دنیا بھر کی ملتوں کے عقل مندوں کا اتفاق نیز فلاسفہ کے ہاں ان کے نام اور شاہ صاحبؒ کا تحلیل و تجزیہ
29:03 حقائقِ کائنات پر غور و فکر کرنے صوفیاء کے ہاں تین لطائف کے ساتھ ساتھ "روح" اور "سِرّ" کا بڑے اہتمام سے تذکرہ
30:09 صوفیا کے ہاں دو لطیفے؛ "روح" اور "سِرّ" کے اضافے پر شاہ صاحبؒ کا منفرد منطقی تبصرہ
33:44 قلب اور اس کی ترقی یافتہ شکل "روح" کے اوصاف: شوق ، وجدانی ادراک ، انس و محبت اور کشش
35:14 عقل اور اس کی ترقی یافتہ شکل "سِرّ" کی صفات: یقین و توحیدِ باری تعالی وغیرہ
38:25 شریعت کا کل نوعِ انسانیت کے پیمانے کے مطابق نزول، ان دو لطائف سے بحث اس کا دائرہ کار نہیں
41:24 تین لطائف کے ملنے سے حالات اور مقامات کیسے وجود میں آتے ہیں؟ دوسرے مقدمے میں اس سوال کا جواب
43:15 جسمانی و نوعی اعتبار سے معیاری و کامل انسان "رجلِ عتیک" معیار اور رہنما
50:13 جانور میں بھی یہ تین لطائف لیکن اس کی عقل پر قلب یا نفس کا غلبہ ، آیتِ قرآنی سے اس فرق کی وضاحت
53:37 "رجلِ عتیک" کی عقل کے مختلف درجات ، نبی کی بعثت کے اہداف اور تین لطائف کی تہذیب سے مقامات اور احوال بننے کا عمل
1:07:00 عقل کے پانچ مقامات؛ یقین ، توکل ، شکر ، رضا اور توحید
1:12:25 قلب کے تین مقامات؛ محبتِ الہی ، اس کے عذاب کا ڈر اور اِنعامات کی اُمید
1:14:06 نفس کے دو مقامات؛ توبہ اور زہد و اجتہاد (جدوجہد و کوشش)
1:14:49 علمِ احسان و سلوک میں یہی کل دس مقامات کی تہذیب مقصود
1:15:51 مقامات صرف دس نہیں ، مزید بے شمار ذیلی اقسام، لیکن اَحوال، نشے و خواب کی مانند
1:16:53 مقامات پر تمہیدی گفتگو کے بعد اصل بحث کی تفصیلات پر گفتگو اگلے اسباق میں ہو گی۔پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Wed, 21 Feb 2024 - 149 - حجۃ اللہ البالغہ | 148 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 حصہ اول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 148
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 ( حصہ اول)
سلوک الی اللہ کے راستے کے مقامات و اَحوال:
انسان کے تین لطائف (عقل، قلب اور نفس) کی حقیقت اور دلائل نقلی و عقلی سے ان کا ثبوتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 04؍ اگست 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:16 علم السلوک و الاحسان کی اہم بحث: سلوک الی اللہ کے راستے کے مقامات و اَحوال (باب کا خلاصہ)
1:08 صفتِ احسان کے ثمرات و لازمی نتائج: مقامات و اَحوال کی تعریف و تشریح
1:59 مقامات و اَحوال سے متعلق اَحادیث کی فہم، دو مقدمات پر موقوف؛ شاہ صاحبؒ کا اس باب میں منفرد علمی کارنامہ
14:42 پہلا مقدمہ: انسان کے تین لطائف (عقل، قلب اور نفس) اور نیز چار پہلؤوں (دلائل نقلی و عقلی، تجربہ اور عقلاء کا اتفاق) سے ثابت شدہ
17:51 نقل (قرآن و حدیث) سے تینوں لطائف کے ثبوت پر دلائل
26:43 عقل، قلب اور نفس کی تعریف
31:14 عقل سے بھی لطائفِ ثلاثہ کے ثابت شدہ؛ تین اعضائے رئیسه ، قوتوں کا نظام و افعال کی بنیاد پر امور سرانجام دینے کی تفصيلات
49:23 انسان کے اِدراکات و احساسات و افعال کی حالتیں اور مراکز
57:12 اعضائے رئیسہ ہی تین لطائف اور ایک دوسرے کے مُعاوِن اور مربوط نظام کا حصہ؛ مزید عقلی دلائل
1:06:44 حکمتِ عملی کی ایک مثال سے ہر لطیفے کی امتیازی حیثیت کا تعین
1:12:28 بحث کا خلاصہ؛ تینوں لطائف سے بحث کرنا ہی دراصل علم الاحسان کی بحث کا مدار
1:13:57 قلب کے تیرہ (۱۳) صفات و اَفعال
1:16:50 عقل کے اوصاف و اَفعال
1:19:03 نفس کے صفات و اَفعالپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 15 Feb 2024 - 148 - حجۃ اللہ البالغہ | 147 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 03 آخری حصہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 147
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 03 (آخری حصہ)
بقیہ مباحثِ احسان و سلوک؛ چار بنیادی اَخلاق حاصل کرنے کے طریقے
سماحت و عدالت کے اخلاق سے آراستگی سے متعلق بقیہ اقسام کی توضیح و تشریحمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28؍ جولائی2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:14 سابقہ درس کا خلاصہ (البدورِ البازغہ کی روشنی میں سماحت کی تعریف)
5:23 سماحت کے ذیلی اَخلاق میں تیسری قسم "جُود و سخاوت" کی حقیقت اور اس مضمون کی احادیث کا مطالعہ
20:53 چوتھی قسم "قصرُ الأمل (امیدوں کی کمی)" کی حدیثوں کی روشنی میں حقیقت اور لا محدود خواہشات ختم کرنے کا علاج نیز موت کی تمنا کرنے کی ممانعت
36:11 پانچویں قسم "تواضع و انکساری" کی حقیقت و ماہیت؛ احادیث کے تناظر میں تواضع و کِبر کی توضیح و تشریح
45:13 چھٹی قسم "حِلم و بُردباری، ٹھہراؤ اور رفاقت و نرمی" کا معنی و مفہوم اور ان کے متضاد بد اخلاقیوں کا نبویؐ ارشادات کی روشنی تحلیل و تجزیہ
50:15 ساتویں قسم "صبر" کی تعریف اور بے صبرے پن کی حقیقت نیز قرآن و حدیث میں صبر کرنے والوں کا اجر و ثواب
56:42 نبی اکرمﷺ کے فرامین میں "ملکۂ عدالت" کے پیدا کرنے اور اس کے بڑے بڑے ابواب پر تنبہ، نیز چھتیس (۳۶) احادیث کی روشنی میں اہم اقسام ( گھر، محلہ، شہر اور ملت والوں سے عدل و انصاف) کی وضاحت کے مظاہر
1:29:49 باب کی مباحث کا لُبِّ لباب اور حاصلِ کلامپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Wed, 14 Feb 2024 - 147 - حجۃ اللہ البالغہ | 146 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 03 حصہ دوم | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 146
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 03 (حصہ دوم)
بقیہ مباحثِ احسان و سلوک؛ چار بنیادی اَخلاق حاصل کرنے کے طریقے
سماحت و عدالت کے اخلاق سے آراستگی: اسباب ، موانع اور علاماتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 14؍ جولائی 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:19سابقہ درس کا خلاصہ
2:13 اِخبات الی اللہ کے حصول کے لیے، تفکر و تدبر کی حامل آٹھ (۸) احادیثِ قدسیہ کا مطالعہ
21:39 ہر انسانی عمل کی نیت ، اس کی روح اور عبادت کی ظاہری شکل و صورت اس کا جسم ہے (علمی قاعدہ)
27:39 نیت کی حقیقت؛ یہ ہے کہ وہ ایسا باطنی معنی ہے جو انسان کو عمل پر اکسائے۔
32:10 ریا کاری ، سُمعَہ ، جاہ پرستی اور غرور و تکبر کی حرمت کی وجہ : نیت کی خرابی (دو حدیثوں سے استدلال)
37:20 ریا کاری ، حدیث کی نوعیت کی روشنی میں شرکِ خفی
38:02 ریا کاری سے متعلق احادیث میں تطبیق
44:53 خُلقِ سماحت و عدالت کے اسباب ، موانع اور علامات
47:23 انبیاء کرام کے علوم کا دار و مدار ، سماحت و عدالت کے امور کو جمع کرنا
50:15 حُسنِ خُلق : عدالت و سماحت کے تمام امور کا جامع
53:56 خُلقِ اخبات ، سماحت و عدالت کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ، زبان کی آفت
58:11 زبان کی آفاتوں کی چھ اقسام
1:09:23 سماحت کے ذیلی اَخلاق میں پہلی قسم "زہد" کی حقیقت اور احادیث کی روشنی میں وضاحت
1:18:43 دوسری قسم "قناعت" کی تعریف اور روایات کے تناظر میں توضیح و تشریحپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Wed, 14 Feb 2024 - 146 - حجۃ اللہ البالغہ | 145 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 03 حصہ اول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 145
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 03 (حصہ اول)
بقیہ مباحثِ احسان و سلوک؛
اِخبات الی اللہ کے حصول کے لیے غور و فکر کی حالت پیدا کرنے میں تلاوتِ قرآنِ حکیم کا کردار
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 07؍ جولائی 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:16 پہلے دو اَبواب کا خلاصہ اور اس باب سے ربط
2:58 چار اَخلاق (طہارت، اِخبات، سماحت، عدالت) کے حصول کے اسباب ، رکاوٹیں ، علامتیں اور طریقوں سے متعلق اصولی و علمی قاعدہ
5:50 1۔ اِخبات الی اللہ کی حقیقت ، اس کے حصول کے اَسباب اور طریقۂ کار ( تفکر اور غور و فکر کی حالت)
18:09 غور و فکر اور تفکر کی پانچ قسمیں ، پہلی قسم: ذاتِ باری تعالی میں تفکر ممنوع
20:56 دوسری قسم: صفاتِ باری تعالی میں غور و فکر کرنا ، اس کے دلائل نیز اس کا طریقۂ کار ، مراقبه کرنا ہے۔
38:01 تیسری قسم: اللہ کے کائنات میں جاری واضح اور غالب افعال میں غور و فکر کرنا، دلائل اور طریقۂ کار
41:03 چوتھی قسم: قوموں کی عروج و زوال کی تاریخ اور واقعات میں تفکرو تدبر کے اسباب اور طریقۂ کار
44:10 پانچویں قسم: موت اور اس کے بعد پیش آمدہ حالات پر غور و فکر کرنا
46:36 انسان کے دل و دماغ کے نقوش و تصورات میں آخری دو قسموں کا بڑا کردار
48:25 عام لوگوں کے لیے تفکر و غور و فکر کی تمام انواع کی روح پر مشتمل اَشباح و اَشکال متعین کرنا ضروری
51:59 اِخبات الی اللہ کے لیے تفکر کی چاروں انواع کا جامع نظام، تلاوتِ قرآن حکیم اور صحیح ترین احادیث کا مطالعہ
55:51 حکمت کے تقاضے کے مطابق تلاوتِ قرآن حکیم کی ترغیب نیز مختلف سورتوں اور آیات کے فضائل کے نکاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Wed, 14 Feb 2024 - 145 - حجۃ اللہ البالغہ | 144 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 آخری حصہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 144
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 (آخری حصہ)
اَخلاق کی درستگی کے اَذکار کے اوقات کا تعین نیز حضور ﷺ سے مروی مسنون دعاؤوں کا بیانمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 30؍ جون 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:19 باب کی سابقہ مباحث کا اجمالی جائزہ اور اَذکار کے اوقات کا تعین ضروری
1:57 علمی قاعدہ: ذکر اذکار کے لیے اوقات کی اہمیت
7:37 خاص وقت کا تعین کرنے کے تین اہم پہلو؛ مخصوص اَوقات یا خاص اَسباب و حالات یا چاند کے طلوع ہونے کا وقت
19:58 مخصوص اَوقات میں ذکر اَذکار کے فضائل اور دنیا و آخرت میں اثرات و نتائج: چار عمدہ ترین امور
22:36 صبح ، شام اور سونے کے وقت کے اَذکار (صفتِ احسان حاصل کرنے والے کے لیے وظائف)
24:10 صبح و شام کے گیارہ اَذکار
34:46 رات سونے کے وقت کے گیارہ اَذکار
48:20 مختلف اَوقات اور پیش آمدہ حالات کی دعائیںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 12 Feb 2024 - 144 - حجۃ اللہ البالغہ | 143 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 حصہ چہارم | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 143
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 (حصہ چہارم)
اَخلاق کی درستگی کے بقیہ اذکار؛ اللہ پر توکل و اعتماد ، استغفار کرنا ، اللہ کے نام سے برکت حاصل کرنا اور نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنامُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 23 ؍ جون 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:13 سابقہ دروس کا خلاصہ
0:58 ساتواں ذکر، اللہ پر توکل و اعتماد؛ معنی و مفہوم ، بنیادی روح اور توکل کا اعلی مقام پیدا کرنے والی آیت (وهو القاهر فوق عباده ويرسل عليكم حفظة)
17:20 توکل کے حصول کے لیے نبی اکرم ﷺ کے مسنون اذکار اور دعائیں
28:01 آٹھواں ذکر، استغفار کرنا: روحِ استغفار کی حقیقت کے چند پہلو
33:54 گناہوں کے حصار کو توڑنے اور مٹانے کے تین ذرائع
42:11 استغفار کی دعائیں
44:57 جامع ترین دعاء استغفار (سید الاستغفار)
46:42 استغفار کے باب میں اہم ترین روایت؛ نبی معصومﷺ کے قلب مبارک پر "غین" کا آنا اور آپؐ کا اسے استغفار سے دور کرنا (إنه ليغان على قلبي، وإني لأستغفر الله تعالى في اليوم مائة مرة ) میں "غین" کی حقیقت (شاہ صاحبؒ کا منفرد نکتۂ نظر)
54:47 اندازے اور تخمین کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ذوق اور وجدان کی مدد سے ہونا چاہیے نیز ذوق اور وجدان کی تعریف
1:03:33 نوواں ذکر، اللہ کے نام سے برکت حاصل کرنا اور اس کا راز؛ ننانوے اسمائے الہی
1:08:28 حدیث (إن لله تسعة وتسعين اسما مائة إلا واحدا من أحصاها دخل الجنة ) ننانوے اسمائے الہی اور فضیلت کے اسباب
1:10:1 اسمِ اعظم کی تعریف اور حقیقت ( جامعیتِ تجلیات)
1:13:25 حدیث کی رو سے اسمِ اعظم کے مصداق اسمائے الہی
1:15:56 دسواں ذکر، نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنا اور اس کے اسرار و رموز؛ ارواحِ مقربین کی طرف متوجہ ہونا
1:21:41 نبی اکرم ﷺ کا ذکر عظمت کے ساتھ کرنا اور اللہ تعالیٰ سے اُن کے لیے خیر طلب کرنا‘ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا بڑا بہترین طریقہ
1:23:56 کاملین کی ارواح سے فیض حاصل کرنے کا طریقہ نیز نبی اکرمؐ کے روحانی انوارات کا فیضان
1:29:40 شاہ صاحبؒ کا سن ۱۱۴۴ھ میں مدینہ منورہ میں روضہ رسول اللہ ﷺ پر اس بات کا مشاہدہ
1:30:37 حدیث: میری قبر کی زیارت کو عید (میلہ) مت بنانا (لا تجعلوا زيارة قبري عيدا) میں تحریف روکنا مقصودپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 12 Feb 2024 - 143 - حجۃ اللہ البالغہ | 142 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 حصہ سوم | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 142
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 (حصہ سوم)
اَخلاق کی درستگی کا پانچواں اور چھٹا ذکر
(اللہ سے مانگنے اور اس کی پناہ میں آنے کی کیفیت کے ساتھ دعا کرنا اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے سامنے گڑگڑانا)مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 16؍ جون 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:17 سابقہ درس کا خلاصہ
3:44 پانچواں ذکر، الادعیة و الاستعاذة: گھریلو نظام ، مالی نظم و نسق اور عزت و مرتبت، تینوں دائروں میں نفع بخش چیز کی اللہ سے دعا کرنا اور ان کے نقصان دہ پہلؤوں سے اس کی پناہ مانگنا
10:58 اللہ سے مانگنے اور اس کی پناہ میں آنے کی کیفیت کے ساتھ دعا کرنا: بنیادی راز
15:43 اللہ سے سوال کرنے والی مسنون دعائیں
16:19 اخلاقِ اربعہ کے نفع و فائدے کے پہلؤوں سے متعلق نبی اکرم ﷺ سے مروی جامع ترین آٹھ (۸) دعائیں
37:10 اخلاقِ اربعہ کے متضاد بداخلاقیوں کے شر اور نقصان سے اِستعاذہ( پناہ مانگنے) کی چھ (۶) دعائیں
55:31 چھٹا ذکر، خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے گڑگڑانا
57:54 اظہارِ اِخبات پر مشتمل دعاؤوں سے متعلق علمی قاعدہ؛ دو قسم کی دعائیں اور ان کے مقاصد و اہداف
دعاؤں سے متعلق احادیث ِنبویہ ﷺ کی تشریح
1:05:27 (1) دعا مانگنا ہی اصل عبادت ہے (الدُّعاء ھو العبادۃ) کا راز: عبادت کی اصل بنیاد انسان کا اللہ تعالیٰ کے حضور پوری عظمت اور تعظیم کے ساتھ مستغرق ہو جانا
1:06:31 (2) اللہ سے اُس کا فضل مانگنا اور صبر کے ساتھ کشادگی کا انتظار کرنا ، سب سے بہترین عبادت (أفضل العبادة انتظار الفرج الخ) کی تشریح: اللہ کی رحمت کو اپنی طرف کھینچنے میں انسان کی زور دار ہمت‘ عبادت کی تاثیر سے بھی زیادہ مؤثر
1:08:14 (3) اللہ کا ہر مانگی گئی چیز عطا کرنا ، برائی دور کرنا البتہ گناہ اور قطع رحمی کی دعا قبول نہیں ہوتی (ما من أحد يدعو بدعاء إلا أتاه الله تعالى ما سأل الخ) کی وضاحت: عالم مثال سے زمین کی طرف کسی چیز کے ظاہر ہونے کے دو طریقے، طبیعی طریقہ اور غیر طبیعی طریقہ ، نیز غیر طبیعی طریقۂ کار کے مطابق اللہ کی رحمت کا کسی مصیبت کو دور کرنا
1:13:57 (4) دعا ، پختہ عزم ، قوی ہمت اور پوری توجہ سے مانگنی چاہیے۔ (إذا دعا أحدكم فلا يقل: اللهم اغفر لي إن شئت الخ) کی تشریح: دعا کی اصل روح اور اُس کا بنیادی راز
1:17:28 سوال کا جواب
1:19:32 (5) قضاء نہیں ٹلتی، مگر یہ کہ دعا مانگی جائے۔ (لا يرد القضاء إلا الدعاء) کی اہم توضیح: ’’قضا‘‘ میں محو و اثبات ممکن (تقدیرِ غیرمُبرم) لیکن بنیادی آئینی فریم (تقدیر مُبرم، لوح محفوظ) میں تبدیلی نہیں ہوتی تو دعا، قضا بدل سکتی ہے، لیکن تقدیر مبرم لوحِ محفوظ (اُم الکتاب) نہیں بدل سکتی۔
1:28:57 (6) بے شک دعا ہر صورت میں نفع دیتی ہے۔ (أن الدعاء ينفع بما نزل ومما لم ينزل) کی تشریح: مصیبت اترنے سے پہلے اور نازل ہونے کے بعد دعا کا اہم کردار
1:30:47 (7) آسانی اور خوش حالی میں بھی اللہ سے کثرت سے دُعا مانگنے کا حکم (من سره أن يستجيب الله له عند الشدائد فليكثر الدعاء في الرخاء) کا راز
1:31:55 (8) آپ ﷺ کا دعا مانگتے وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کرنا اور دُعا کے بعد دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرنے کا معمول ، بنیادی حکمت: رغبت و شوق اور بدن کی کیفیت و تنبیہ
1:33:17 (9) جس آدمی کے لیے دعا مانگنے کا دروازہ کھول دیا گیا تو اُس کے لیے رحمت کے دروازے بھی کھول دیے گئے، (من فتح له باب من الدعاء فتحت له أبواب الرحمة) کی توضیح
1:36:02 دعائیں قبول ہونے کے آٹھ مواقع اور مقامات کی نشان دہی: علمی قاعدہ
1:41:24 نبی اکرم ﷺ کی مخصوص دعاؤں سے متعلق احادیثِ نبویہؐ کی تشریح اور بنیادی راز
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 12 Feb 2024 - 142 - حجۃ اللہ البالغہ | 141 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 حصہ دوم | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس: 141
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 (حصہ دوم)
اَخلاق کی درستگی کے دس بنیادی اَذکار (شاہ صاحبؒ کا منفرد علمی کام)
نیز پہلے چار اَذکار کی حقیقت ، معنویت اور جامعیتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 09 ؍ جون 202۱ ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ درس کا ما حصل اور حضور ﷺ کی احادیث کی روشنی میں دس اَذکار کا تعین (شاہ صاحبؒ کا منفرد علمی کام)
۔۔ باب کا دوسرا علمی قاعدہ: امام الانبیاء ﷺ کا ذکر اللہ کے اعلی و جامع اور قابل تعریف الفاظ کا انضباط
۔۔ذاتِ باری تعالی کی شان میں ناقص عقل سے منتخب الفاظ کی خرابیاں نیز اعلی اخلاق کے حصول کے لیے جامع کلمات کے انتخاب کی حاجت
۔۔ نبی اکرم ﷺ کے دس مسنون اَذکار نیز ہر ہر ذکر کی منفرد خصوصیت
۔۔ دس اَذکار متعین کرنے کا بڑا گہرا راز
۔۔ پہلا ذکر، ’’سبحان اللہ‘‘ اور اس کی حقیقت؛ ذاتِ باری تعالی ہر قسم کے نقائص و عیوب سے پاک ذات
۔۔ دوسرا ذکر، ’’الحمد للہ‘‘ اور اس کی حقیقت؛ تمام ممکنه کمالات و اَوصاف کا ذاتِ خداوند کے لیے اِثبات
۔۔ ذکر اللہ میں ’’سبحان اللہ‘‘اور ’’الحمد للہ‘‘ کا اکٹھے ہونا، انسان کی معرفتِ رب کی فصیح اور جامع ترین تعبیر
۔۔ صحیفۂ عالم یا صحیفۂ نفس میں ذکر اللہ کی صورت کی پختگی، نفسِ انسانی میں اللہ کی کامل معرفت،کمالات کا سُبوغ اور اخلاق کا حُصول
۔۔ شاہ صاحبؒ کی گفتگو احادیث سے ماخوذ
۔۔ حدیث: تنگی و خوشی ہر حالت میں اللہ کی تعریف بجا لانے والوں کا انعام (أول من يدعى إلى الجنة الذين يحمدون الله في السراء والضراء) کا راز
۔۔ کلمۂ ’’الحمد للہ ‘‘ افضل دعا اور شکر کی بنیاد؛ اسرار و رموز
۔۔ تیسرا ذکر، کلمۂ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ اور اس کے بے شمار بطون (معنویتیں) نیز ہر آیت و حدیث کے ظاہر ی اور باطنی مفہوم کی مثال سے وضاحت
۔۔ کلمۂ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘کے بطون؛ شرکِ جلیّ (واضح) و خفیّ کی نفی اور وصول الی اللہ کے راستے کے حجابات کو توڑنا
۔۔ حضرت موسیٰؑ کا اللہ کے دیدار کا مطالبہ، تیسرے بطن کے تناظر میں اور ذاتِ باری تعالی کوہر شے پر ترجیحِ اول حاصل
۔۔ تھلیلہ (لا الہ الا اللہ ) میں نفی و اِثبات کی تمام تر تفصیلات کا اِحاطہ اور اس کا راز
۔۔ چوتھا ذکر،’’اللّٰہ أکبر‘‘ کی عظمت اور نیز ان چار کلمات کی فضیلت میں ارشاداتِ نبویؐ
۔۔ اسی ضمن میں حدیثِ حضرت جویریہؓ میں مذکور کلمات (سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضاء نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته) کا راز
۔۔ اَذکار کرنے والوں کے لیے ایک اہم اُصولی ضابطہ؛ نفوس کی حالت و کیفیت کے اعتبار سے ذکراللہ کا انتخاب نیز حدیثِ جویریہؓ والے کلمات افضل ہونے کا درست مطلب
۔۔ تیسرے کلمے میں یہی چار اذکار جمع اور حضور ﷺ کا انہیں مسنون عمل قرار دینے کا راز؛ مختلف رنگوں کا اجتماعپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 141 - حجۃ اللہ البالغہ | 140 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 حصہ اول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 140
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 02 (حصہ اول)
احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں چار اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار کی ضرورت و اہمیت
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 06 ؍ جون 2021 ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سلوک و احسان کے سابقہ دروس کا جامع خلاصہ
۔۔ چار اَخلاق کے لیے مسنون ذکر و اَذکار کی ضرورت و اہمیت
۔۔ زیرِ مطالعہ باب کے مضامین
۔۔ حدیث (۱) ذکر اللہ کرنے والی جماعت، (لا يقعد قوم يذكرون الله الخ) کی تشریح: یہ عمل چاروں اخلاق کے حصول کا ذریعہ
۔۔ حدیث (۲) ’’مُفرِّدون‘‘ اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں ، (سبق المفردون الخ) کی توضیح: ذکر اللہ سے حیوانیت کے تقاضوں اور گناہوں کے بوجھ کا ہلکا ہو جانا
۔۔ حدیث (3) ’’ بندوں کے ساتھ اللہ کا ان کے گھمان کے مطابق معاملہ، ذکر کے وقت اللہ کا بندے کا ساتھ موجود ہونا اور بہتر مجلس میں اسے یاد کرنا (قال تعالى أنا عند ظن عبدي بي الخ) کی لاجواب تشریح: انسان کی جبلت اُس کے اَخلاق و علوم اور مخصوص خلق کے حصول کی مُمد و معاون کیفیات پیدا کرنے کا ذریعہ نیز اللہ کی خاص رحمتوں کے نزول کے لیے بڑا کردار
۔۔شاہ صاحب کی حدیث کی لاجواب تشریح: سمیحُ الخُلق (وقار اور بلندی نفس کا حامل شخص) اور شَحِیحُ الخُلق (بخل پر مبنی تنگ نظری کے خُلق کا حامل شخص) کے دنیوی و دینی معاملات کا جائزہ ، اللہ کے بارے میں ان کا گھمان
۔۔ اس فرق کی بنیادی وجہ: جن امور میں حظیرة القدس سے تاکیدی حکم نہیں آیا وہ شحاحتِ نفس میں داخل نہیں
۔۔ ’’أنا معہٗ‘‘ (میں اُس ذکر کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہوں) سے مراد ، ذکر کی قبولیت، عزت کے ساتھ حظیرۃ القدس میں داخلہ ، حجابات کا خاتمہ اور ’’تجلیٔ الٰہی‘‘ کے قریب پہنچنا
۔۔ انسان کا کسی مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے مقصود غلبہ دین ہو تو بدلے میں اللہ کی طرف سے ملاءِ اعلیٰ کی محبت اور ان کی دعائیں، نزولِ برکات اور زمین میں قبولیتِ عامہ کا حصول
۔۔ شاہ صاحبؒ کا دونوں دائروں؛ تنہائی و اجتماع میں اللہ کا ذکر کرنے کا تجزیہ
۔۔ حدیث (4) نیکی و گناہ کا بدلہ و سزا اور اللہ کی قربت اختیار کرنے والوں کے درجات کے مطابق معاملہ (من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها الخ) کی وضاحت: مرنے کے بعد بہیمیت کا کمزور ہونا اور ملکیت کے انوار کا چمکنا نیز تدبیرِ الہی میں غضب پر رحمت اور شر پر خیر کا غلبہ
۔۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور ’’تطلُّع الی الجبروت‘‘ (عالمِ جبروت کی طرف جھانکنے) سے زیادہ کوئی چیز آخرت میں نفع بخش نہیں ، (من لقيني بقراب الأرض خطيئة الخ و أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويؤاخذ به الخ) کا یہی مفہوم لیکن مشرک کو معافی نہیں
۔۔ حدیث (5) اللہ کے ولی سے دُشمنی، اللہ سے اعلانِ جنگ اور قربت حاصل کرنے والے کی (من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب الخ) میں تفصیلات
شاہ صاحب کی تشریح:
۔۔ (الف) اللہ سے محبت کا پورا پروسیجر : ملاءِ اعلیٰ کا اس بندے سے محبت اور اس کے لیے بنائے گئے نظام کی مخالفت کرنے والوں پر لعنت و ناراضگی
۔۔ (ب) دین کو قائم کرنے کی ذمہ داری کی حامل جماعت کے تھوڑے سے عمل کی زیادہ جزا
۔۔ (ج) قرب الاعمال: فرائض کے ادا کرنے کے بعد کثرتِ نوافل کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرنے والا کا اجر و ثواب
۔۔ (د) بندے کی موت کے وقت اللہ کا تردّد اور ہچکچاہٹ ، متنوع عنایات کے تعارض و تصادم سے کنایہ ہے۔
۔۔ حدیث (6) سب سے بہتر عمل ’’اللہ کا ذکر کرنا‘‘ ( ألا أنبئكم بخير أعمالكم الخ) کی مزید توضیح؛ عالمِ جبروت کی طرف توجہ کرنے کے اعتبار سے ذکر اللہ سے بڑھ کر کوئی اَور عمل افضل نہیں
۔۔ ’’کسی مجلس میں اللہ کا ذکر نہ کرنا، بڑے نقصان اور باعثِ حسرت اور ندامت نیز اللہ کے ذکر کے بغیر کثرت سے گفتگو کرنے کے نقصانات(من قعد مقعدا لم يذكر الله فيه الخ، ما من قوم يقومون من مجلس الخ اور لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله الخ) تین احادیث کی تفصیلات
۔۔ ذکر کی مٹھاس پانے اور اطمینان حاصل کر لینا یعنی نظریہ سیکھنے کے بعد اس سے روگرانی کرنا اللہ سے دوری کا سبب
۔۔ نبی اکرمؐ نے اس غفلت کے زہر کا تریاق ذکر و اذکار بتائے ہیں۔پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 140 - حجۃ اللہ البالغہ | 139 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 01 (حصہ دوم) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 139
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 01 (حصہ دوم)
انسانیت کے بنیادی اَخلاق کا تیسرا اور چوتھا اصول
’’سماحتِ نفس‘‘ اور ’’ملکۂ عدالت‘‘ کی حقیقت اور معنویت ،مختلف اقسام اور حصول کا طریقہمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26؍ مئی 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
۔۔ سابقہ در س کا خلاصہ
۔۔ انسانیت کے بنیادی اَخلاق میں سے تیسرا اصول ’’سماحتِ نفس‘‘ کی حقیقت اور معنویت
۔۔ بهیمیت کے پانچ بنیادی تقاضے:
(۱) محض لذتوں کے حصول کی طلب اور خواہش
(۲) (کسی سے) انتقام لینے کی چاہت اور لذت نیز ضروری اور وقتی انتقام سماحت کے خلاف نہیں
(۳) حد سے زیادہ غضب ناک ہونے کی حالت
(۴) زیر ملکیت مال میں بخل اور کنجوسی سے محبت
(۵) بہت زیادہ مال اکٹھا کرنے کی حرص اور لالچ
(۶) دوسروں کو حقیر سمجھتے ہوئے جاہ و مرتبت حاصل کرنے کی چاہت
۔۔ بهیمیت سے مناسبت رکھنے والے اعمال سرانجام دینا؛ سمیح النفس اور غیر سمیح النفس انسان کی حالت اور انجام
۔۔ سماحتِ نفس کی اقسام ( مختلف اعتبار سے کئی نام)
۔۔ (1) شہوت البطن و الفرج کے بہیمی تقاضوں سے بچنا (عِفّت سے آراستہ ہونا)
۔۔ (2) عیش و عشرت اور آرام طلبی کے تقاضے کو چھوڑنا (مجاہدے کی زندگی بسر کرنا)
۔۔ (3) مصیبت کے وقت تنگ دلی اور رونے پیٹنے کی حالت سے بچنا (صبر و ضبط اپنانا)
۔۔ (4) انتقام کی چاہت کے تقاضے سے بچنا (عَفو و درگزر کرنا)
۔۔ (5) مال کی حد سے زیادہ محبت سے بچنا (سخاوت اور قَناعت اختیار کرنا)
۔۔ (6) شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی سے رکنا (تقویٰ کی صفت پیدا کرنا)
۔۔سماحت کے منافی جامع بات؛ نفس کا اپنے بهیمی تقاضوں اور خیالات کی فرماں برداری کرنے سے بچنا
۔۔ صوفیائے کرام کے ہاں سماحت
۔۔١. ’’قطع التّعلّقات الدّنیویّۃ‘‘ (دنیاوی (مفاداتی) تعلقات سے قطع تعلق رہنا)
۔۔ ۲۔ ’’فناء عن الخسائس البشریّۃ‘‘ (بشریت کی پست باتوں سے فنا ہوجانا)
۔۔ ۳۔ ’’حُرِّیَت‘‘ (دنیا کے جھمیلوں اور خواہشات سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا)
۔۔ سماحتِ نفس حاصل کرنے کا عمدہ ترین طریقہ؛ تین باتیں
(ا)بُری عادات و اطوار میں مبتلا کرنے والے ماحول سے گریز کرنا
(ب) ہر وقت اپنے دل کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذکرمیں مشغول رکھنا
(ج) نفس کو عالمِ بالا کی طرف متوجہ رکھنا، جیسا کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہٗ کا قول
۔۔انسانیت کے بنیادی اَخلاق میں سے چوتھا اصول ’’عدالت‘‘
۔۔ عدالت کی حقیقت اور معنویت
۔۔ عدالت ایک مَلَکہ (راسخ صلاحیت) کا نام اور اس کے ذیلی امور
۔۔ مَلَکۂ عدالت کی اصل بنیاد: انسانی نفس کی تربیت ’’افکارِ کُلّیہ‘‘ پر مشتمل ہو نہ کہ انفرادیت او رشخصی مفادات
۔۔ (اہم بات) سیاست عند اللہ کی وضاحت؛ کائنات میں اللہ کے جاری نظام کے بنیادی اُمور
۔۔ (1) انسانی معاملات کے درست نظام کا قیام
۔۔ (2) لوگ کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاونِ باہمی
۔۔ (3) افرادِ انسانی کا کسی پر ظلم و ستم نہ ڈھانا
۔۔ (4) لوگوں کا آپس میں اس طرح کا محبت و تعلق پیداہونا جیسے وہ باہم ایک جسم کی مانند ہوں۔
۔۔ (5) انسانوں کی نسل کی افزائش، (نسل کشی کا ماحول نہ ہو)
۔۔ (6) قانون شکن لوگوں کو سزا دہی، عدل و انصاف والوں کی عزت افزائی اور رائج فاسد رسومات اور غلط نظاموں کا خاتمہ
۔۔ (7) بھلائی پر مبنی سچے اور برحق قوانین کے نظام کا غلبہ
۔۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں اجمالی طور پر ’’قضا‘‘ (فیصلہ) جاری کرنا اور یہ امور مقرب فرشتوں کے سپرد
۔۔ اس فیصلے (عدل و انصاف کے امور) پر قرآنی آیات کی روشنی میں بنیادی دلائل
۔۔ کائنات میں عرشِ الہی سے لے کر کرۂ ارض تک ہر سطح کے فرشتوں کے نورانی اور صاف شفاف پردے اور اعمالِ صالحہ کرنے انسانوں پر نورانیت کے اثرات
۔۔ ظالمانہ اعمال کرنے والوں پر غضبِ الہی، فرشتوں کی لعنت اور ظلمت کے پردوں کا گھیراؤ
۔۔ خُلقِ عدالت کی اقسام اور ملکہ عدالت کا اظہار
۔۔۱. ذاتی شخصیت اور وضع قطع میں "ادب" کہلاتا ہے
۔۔ ۲۔ مالی حصول اور خرچ میں "کفایتِ شعاری" کہلاتا ہے
۔۔ ۳۔ گھریلو نظم و نسق میں اظہار"حریت و آزادی" کہلاتا ہے
۔۔ ۴۔ ملکی نظم و نسق میں اظہار "سیاست" کہا جاتا ہے
۔۔ ۵۔ بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ رہن سہن میں خیر خواہی "حسن المحاضرہ (اچھی معاشرت) کہلاتا ہے
۔۔ خُلقِ عدالت حاصل کرنے کا بہترین طریقہ
۔۔ سماحت و عدالت کا به ظاہر ٹکراؤ اور عام انسانوں کی انتہاء پسندی
۔۔ انبیاء علیهم السلام نے دونوں کا باہمی تعلق سمجھایا (سماحت کی تکمیل عدالت کے بغیر ممکن نہیں)
۔۔ چاروں اخلاق کی تمام شرائع میں اہمیت اور اعتبار
۔۔ فرشتوں کے مزاج کے موافق اچھے اعمال اور شیطانوں کے مزاج کے مطابق ان اخلاق کے متضاد افعال
۔۔ اصولِ اخلاق کے بعد صفتِ احسان پیدا کرنے کے لیے اَذکار کی تفصیلات کا ذکر اگلے ابواب میںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 139 - حجۃ اللہ البالغہ | 138 | اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 01 (حصہ اول) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 138
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ سلوک و اِحسان باب 01 (حصہ اول)
علمِ احسان و سلوک کی ضرورت و اہمیت اور دائرۂ کار ، طہارت اور اِخبات کی اصل روح نیز حضوری کی کیفیت برقرار رکھنے کا علاج
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19؍ مئی 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:33 قسمِ ثانی کی گزشتہ چار مباحث میں ’’عِلمُ الشَّرائع‘‘ کا بیان کے بعد ’’علمُ الإحسان و السُّلوک‘‘ کا آغاز
2:05 شاہ ولی اللہؒ کے ہاں علم الحقائق اور علم السلوک و الاحسان دو الگ الگ علم ہیں اور ان کا دائرہ کار اور ضرورت و اہمیت
7:24 علمی قاعدے سے باب کا آغاز؛ انسانی نفس میں اعلیٰ اَخلاق پیدا کرنے والے اعمال، دینِ اسلام میں مطلوب
12:43 ہیئاتِ نفسانیہ (اخلاق) کے حصول کے لیے اعمال مُمد و مُعاون
14:04 شریعت کے لازم کردہ اعمال پر دو پہلوؤں سے بحث ضروری:
14:35 (1) جمہور انسانوں پر جن اعمال کا کرنا لازمی اور اُن کی بہترین صورت
22:13 (2) تہذیب ِنفس پیدا کرنے اور مطلوب اَخلاق و اَقدارکے حصول کے لیے اعمال کا جائزہ لینا
23:18 دوسرے پہلو کی عمدہ ترین بات؛ اَخلاق کی پہچان اوراعمال سے اعلیٰ اَخلاق و اَقدار پیدا کرنے کی معرفت
24:41 دونوں باتوں کی بنیاد ’’وِجدان‘‘ پر رکھی گئی ہے۔
26:52 وِجدان کے ذریعے سے اعمال کے بنیادی اُمور کا تعین کرنے کی اتھارٹی (اللہ کے رسولؐ) کا کام
28:25 ہر سالک کے لیے صاحبِ وجدان ہونا لازمی و ضروری
31:59 اعمال کی ادائیگی کے حوالے سے پہلی بحث کا تعلق ’’عِلمُ الشَّرائع‘‘ سے
33:11 ’’علمُ الإحسان و السُّلوک‘‘ کا مقصود
45:15 دائرۂ کار ؛ صفتِ احسان حاصل کرنے والے کے لیے اعمال کی حالت اور خُلق تک رسائی کے طریقۂ کار پر غور و فکر کرنا ضروری
46:29 انسانیت کے چار اَخلاق کا حصول؛ امام شاہ ولی اللہؒ کا علم الاحسان کے ابواب میں منفرد نوعیت متعین کرنا
47:14 شاہ صاحبؒ نے اصولِ اَخلاقیات کا تعین کیا (ولی اللهی فکر کی جامعیت و خصوصیت)
47:58 صاحبِ ایمان کے لیے جیسے چار اعمال لازمی، ایسے ہی انسانیت کے اخلاقِ اربعہ سیکھنا بھی ضروری
49:30 (1) طہارت کا مقصد عالَمِ مَلَکُوت کے فرشتوں سے مشابہت اختیار کرنا
50:48 (2) اِخبات کا مقصد اللہ کے سامنے ایسی عجز و اِنکساری جس سے عالَمِ جَبَرُوت کی طرف متوجہ ہونا
53:44 ’’طہارت‘‘ کے حصول کے لیے وضو اور غسل جب کہ ’’اِخبات‘‘ کے حصول کے لیے نماز، اَذکار اور تلاوت بنیادی اہمیت کے حامل
54:48 مذکورہ دونوں اَخلاق کے جمع ہونے کا نام ’’سکینۃ‘‘ اور ’’وسیلہ‘‘ نیز اصطلاح حضرت ابن مسعودؓ کے قول سے ماخوذ
57:07 احادیث سے طهارت اور اِخبات کی دلیل
59:04 دونوں اَخلاق کے مجموعے پر مشتمل ’’سکینۃ‘‘، ’’وسیلہ‘‘ اور ’’ایمان‘‘ حاصل کرنے کا عمدہ ترین طریقہ
1:01:08 طہارت کی روح:
(1) باطنی نور حاصل ہونا
(2) محبتِ الٰہی اور شرح صدر کی حالت کا پیدا ہونا
(3) ذہن میں اضطراب پیدا کرنے والے افکار کا بجھنا
(4) ذہنی تشویشات اور دلی قلق ختم کرنا
(5) فکری انتشار ، تنگ دلی اور گھبراہٹ کی اشتعال انگیزی کا خاتمہ
1:05:53 نماز کی روح:
(1) اللہ تعالیٰ کی معیت میں حضوری کی حالت پیدا کرنا
(2) عالَمِ جَبَرُوت کی طرف جھانکنا
(3) اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت و جلال کا محبت اور اطمینان سے مشاہدہ کرنا
1:09:31 ان اخلاق کی اَرواح کو پیشِ نظر رکھ کر مشق کرنا ضروری اور عموماً ان میں غفلت و کوتاہی برتی جاتی ہے
1:10:19 آپ ﷺ کے فرمان میں نماز کی مشق کرنے کے کچھ امور کی نشان دہی
1:16:14 تلاوتِ قرآن حکیم کی روح:
(1) بڑی عظمت اور شوق کے ساتھ اپنی توجہ اللہ کی طرف رکھنا
(2) قرآن کی نصیحت اور مواعظ پر خوب غور و فکر کرنا
(3) اس میں بیان کردہ احکامات کے لیے فرماں برداری کے جذبات کا اظہار کرنا
(4) قرآن حکیم میں بیان کردہ مثالوں اور قِصوں سے اپنے گردوپیش حالات کے متعلق عبرت حاصل کرنا
(5) اللہ کی صفات اور نشانیوں والی آیت پر ’’سبحان اللہ‘‘ ، جنت اور رحمت سے متعلق آیت پر اللہ سے فضل و کرم کا سوال کرنا اور جہنم اور غضبِ الٰہی سے متعلق آیت کی تلاوت کے وقت اللہ کی پناہ مانگنا
1:19:17 ذکرُ اللہ کی روح:
(1) اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کی کیفیت پیدا کرنا
(2) اللہ کی صفات (عالمِ جبروت) کی طرف متوجہ ہونے میں غرق ہوجانا
1:20:05 ذکرُ اللہ (اللہ سے سرگوشی کرنے) کی مشق کا طریقہ
1:23:18 دُعا مانگنے کی روح ، آپ ﷺ کا تہجد کی نماز میں دعا مانگنے کا طریقہ نیز دعا، تلاوت اور ذکر کرنے کی شرائط
1:27:39 حضوری کی حالت و کیفیت گم ہونے کے چار ممکنہ اسباب اور اسے برقرار رکھنے کا علاج:
1:28:19 (الف) اگر طبیعت کے جوش اور طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو اُس کے علاج کے لئے روزے رکھنا لازمی لیکن مسلسل روزے رکھنا جائز نہیں
1:29:50 (ب) کھانے پینے کی حاجت کی اصلاح، شادی سے منی کی خرابیوں اور برائیوں سے بچنا لیکن کھانے پینے اور ازدواجی تعلق میں زیادہ اِنہماک نہیں ہونا چاہیے۔
1:31:31 (ج) ارتفاقات اور لوگوں کے میل جول میں مشغولیت کے موقع پر اللہ کے ذکر اور احکامات کو یاد رکھنے سے حضوری کی کیفیت پیدا کرنا
1:33:22 (د) غور و فکر کے برتن (یعنی دماغ) میں تشویش انگیز خیالات کا بھر جانا یا افکار میں خرابی اور گڑبڑ پیدا ہونے کا علاج؛ لوگوں سے کچھ وقت کے لئے علاحدگی اختیار کرکے حضوری کی کیفیت حاصل کرناپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 138 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 137 /اَبوابِ حج، باب 04 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 137
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ حج باب 04
(آخری باب)
حج سے متعلق سے امور اور ان کی اسرار و رموزمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 04؍ اپریل 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس (حج سے متعلق سے امور اور ان کی حکمت و رموز )
0:53 ۱) حدیث: حجرِ اسود جنت سے اترا تو دودھ سے زیادہ سفید لیکن بنی آدمؑ کے گناہوں کی وجہ سے سیاہ ہو گیا۔ ( نزل الحجر الأسود من الجنة الخ) کی تفصیلات
3:53 شاہ صاحبؒ کی تشریح: ۱۔ مقامِ ابراہیمؑ اور حجرِ اسود کی روح جنتی اور جسم معدنی خواص کا حامل اور اصل جنت کی چیزوں کا نور ختم نہیں ہوسکتا؛ دلائل سے وضاحت
8:04 ۲۔ ان دونوں کی اصل ارضی (معدنیات) سے، لیکن مثالی قوتوں کے اثر سے مّلکی تاثیر (دو اقوال میں جمع و تطبیق)
13:49 شاہ صاحبؒ کا مشاہدہ: بیت اللہ الحرام ہر وقت قوتِ مَلکیہ سے بھرا رہتا ہے، عالمِ مثال کی مسلسل توجہ سے اشیا میں حیات پیدا ہونے کا سبب
16:46 حجرِ اسود، ایمان اور اللہ کی تعظیم کی پہچان کی کسوٹی، تو گواہی کے لیے اس کی آنکھیں اور زبان ہونا ضروری
20:28 حدیث ۲) بیت اللہ کے طواف کا اجر و ثواب(من طاف بهذا البيت أسبوعا يحصيه الخ) کی تفصیل؛ مکہ میں سب سے اہم ترین عمل طواف
24:22 طواف کی فضیلت کا راز؛ دو وجوہات
28:24 حدیث ۰۳) یومِ عرفہ ؛ سب سے زیادہ انسانوں کو جہنم سے نکالنے کا دن (ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا الخ) کی وضاحت اور بنیادی حکمت
30:48 حدیث ۰۴) عرفہ کے دن کی دعاء ، بہترین دعاء (خير الدعاء دعاء يوم عرفة، الخ) کا راز
33:10 ۰۵) حرم میں ھدی لے کر جانا سنت عمل اور اس کی حکمت
35:26 ۰۶) حلق کرانے والوں کے لیے تین مرتبہ اور قصر کرانے والوں کے ایک دفعہ دعا، اس کی وجہ
39:14 ۰۷) عورت کے لیے حلق کی ممانعت
40:24 ۰۸) حج میں رمی ، قربانی اور حلق یا قصر کے اعمال کی ترتیب ضروری ہے یا نہیں؟ ائمہ فقہا کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کی رائے
48:40 شاہ صاحب کی رائے پر صاحبِ حاشیہ کا لفظی اعتراض اور حضرت اقدس مدظلہ العالی کا جواب
49:30 ۰۹) قانون سازی میں پیچیدگی و مشکل سے نکلنے کا راستہ بتلانا ڈسپلن کو مکمل کرنے کے لیے ضروری
56:02 حج کے مکمل تشریعی نظام میں رخصتوں کے پہلؤوں کا ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری، رخصتوں کی انواع میں سے سب سے بہتر قسم کی تعیین، کفارہ اصل کی یاددہانی اور اس کے بدلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
۔۔ احرام کی حالت میں حج و عمرہ سے روک دیا جانا (احصار) کی حالت کا شرعی حکم
58:46 ۱۰) مکہ و مدینہ کے حرم (محترم) ہونے کا راز اور ان کے آداب
1:05:10 ۱۱) حالتِ احرام میں شکار و ازدواجی تعلق، نفسانی خواہشات میں غوطہ زنی کے مترادف، اس لیے کفارہ لازمی
1:08:47 ۱۲) حدیث: مدینہ منورہ کی تنگی و تکلیف پر اجر و ثواب (لا يصبر على لأواء المدينة أحد من أمتي الخ) کی تفصیل اور حج و عمرہ ٹور آپریٹرز کی طرف سے حدیث کا غلط استعمال
1:11:56 حدیث میں مدینے کی فضیلت کا راز
1:13:20 ۱۳) حدیث: انبیاء علیھم السلام جب پوری ہمت کے ساتھ اللہ سے دعا مانگتے ہیں تو ان کی دعا قانون سازی کے لئے بنیاد بن جاتی ہے، (إن إبراهيم حرم مكة فجعلها حراما وإني حرمت المدينة) کا گہرا رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 137 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 136 /اَبوابِ حج، باب 03 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 136
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ حج: باب 03
حضورﷺ کے حج کے مکمل امور اور بنیادی اسرار و رموز
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 31؍ مارچ 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:15 سابقہ ابوابِ حج کا ما حصل اور اس باب کا خلاصہ
1:27 تین صحابہ کرامؓ کی روایات ، حضور ﷺ کے امورِ حج میں اصل اور بنیاد اور ان کی روشنی میں امور کی تفصیلات
2:29 ۱) علمی قاعدہ: آپ ﷺ کا پہلا اور آخری حج
8:03 احرام باندھنے کی جگہ سے دو اختلافی مقامات
8:56 پہلا مقام: آپ کا حج مفرد تھا یا تمتع؟
13:25 دوسرا مقام: آپ نے احرام کہاں سے باندھا؟
17:00 احرام سے پہلے غسل اور دو رکعت نماز کی حکمت
18:43 احرام کی دو چادریں اور بدن پر خوشبو لگانے کی حکمت
23:37 حضورؐ کا تلبیہ کے ان صیغوں (الفاظ) کو پسند فرمانا
25:56 ۲) حضرت جبریلؑ نے نبی اکرم ﷺ کو احرام کے وقت بلند آواز سے تلبیہ پڑھنے کا اشارہ کیا نیز تلبیہ پڑھنے میں گردوپیش کی ہر چیز کا شامل ہونا (ما من مسلم يلبي الخ) کا راز
29:56 ۳) حضور ﷺ نے اپنی اونٹنی کا "اشعار" کیا، اشعار کا مفہوم، قلادہ اور ان اعمال کی حکمتیں
33:22 ۴) احرام سے پہلے یا بعد عورت کے خون جاری ہونے سے متلعق
35:32 ۵) حالتِ احرام میں حیض جاری ہونے کی صورت میں شرعی حکم (فافعلي ما يفعل الحاج الخ) کی حکمت
39:32 ۶) مکہ کے قریب ذو طوی وادی میں قیام اور اگلے دن مکہ میں داخل ہوئے، اسرار و رموز
46:46 ۷) نبی اکرم ﷺ نے بیت اللہ کا طواف اور حجرِ اسود اور رکن یمانی کا استلام کیا
48:17 دورانِ طواف آپ ﷺ نے حجرِ اسود اور رکن یمانی کے درمیان بلند آواز سے "ربنا آتنا الخ" دعا مانگی۔
49:03 مقامِ ابراہیمؑ پر آپ ﷺ نے "واتخذوا من مقام الآیۃ" آیت کی تلاوت اور دو رکعت نفل پڑھے
52:57 صرف حجرِ اسود اور رکن یمانی کا استلام؛ بنیادی وجہ نیز طواف کی شرائط اور دو رکعت نماز کی مشروعیت کی راز
54:22 مقامِ ابراہیمؑ کی تخصیص کا راز اور رکنین کے درمیان "ربنا آتنا" دعا پڑھنے کی وجہ
55:24 پھر آپ ﷺ صفا و مروہ کی سعی کے لیے تشریف لے گئے اور "إن الصفا الآیۃ" آیت کی تلاوت کی، نیز دیگر اعمال
1:02:35 سعی کا آغاز صفا سے کرنا، نبی اکرم ﷺ نے آیت سے سمجھا۔
1:03:04 اذکار میں توحید، وعدہ پورا ہونے اور دشمنوں کی شکست کا اعلان، نعمتوں کے شکرانے اور شرک کے خاتمے کے طور پر، بنیادی وجہ
1:04:00 ۹) سعی کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: (لو أنى استقبلت من أمري الخ) کی وضاحت
1:07:40 حدیث کے چند امور: ۱۔ مشرکین کا حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو "افجر الفجور" قرار دینے کا سدِ باب
1:09:44 ۲۔ "افجر الفجور" کہنے کی دوسری انتہا پسندانہ دلیل
1:11:09 ۳۔ حج کا احرام مکہ سے باندھنا، بیت اللہ کی بہت بڑی تعظیم
1:12:45 صاحبِ حاشیہ کا حجة اللہ کی عبارت نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض
1:15:05 ھدی کی وجہ سے احرام نہ کھولنے کا راز
1:16:16 ۱۰) یوم الترویه کو حضور ﷺ منی پہنچے، ظہر سے لیکر اگلے دن کی فجر کی نمازیں ادا کیں، اور طلوعِ شمس کے بعد مزدلفه تشریف لائے۔
1:17:32 مسجدِ نمرہ کی موجودہ اگلی چار پانچ صفیں مزدلفہ کا حصہ
1:18:21 یوم الترویه کو منی تشریف لانے کا راز
1:19:51 ۱۱) سورج ڈھلنے کے بعد نمرہ سے آپ ﷺ نے اونٹنی پر بیٹھ کر بطن الوادی میں خطبہ حجة الوداع اور ظہر و عصر کی اکٹھے نماز پڑھائی
1:21:02 انسانوں کے عالمگیر اجتماع کے موقع پر کل انسانیت کی فلاح و بہبود اور شان و شوکت کے احکامات کا بیان ضروری
1:22:05 ظہر و عصر عرفات میں اور مغرب و عشا مزدلفه میں اکٹھے پڑھنے کی حکمت
1:24:21 ۱۲) ظہر و عصر کی نماز پڑھ چکنے کے بعد آپ ﷺ موقف کی جگہ تشریف لائے
1:25:09 آپؐ نے وقوفِ عرفہ کی ضابطہ بندی اور ملتِ حنیفیہ کے طریقے میں تحریف کا خاتمہ کیا۔
1:26:12 ۱۳) پھر آپؐ نے مغرب و عشا مزدلفہ میں ادا کی اور طلوعِ فجر کے بعد خوب روشنی میں نمازِ فجر پڑھائی، پھر مشعرِ حرام تشریف لائے اور قبلہ رخ ہو کر طویل دعا
1:28:05 سورج طلوع ہونے سے پہلے آپ ﷺ مزدلفہ سے روانہ ہو گئے۔
1:28:24 مزدلفہ میں تہجد ادا نہ کرنے کا راز
1:29:25 وادی مُحسّر میں رفتار تیز کرنے کی وجہ
1:30:49 ۱۴) پھر آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہہ کر جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) کو سات کنکریاں ماریں
1:31:25 پہلے دن کی رمی صبح کے وقت، باقی تین دنوں میں زوال آفتاب کے بعد کنکریاں مارنےکی وجہ
1:34:30 رمی جمار اور سعی وتر (طاق) عدد میں ہونے کا سرّ
1:35:57 کنکری کا سائز گٹھلی کے برابر ہونے کی وجہ
1:36:26 ۱۵) رمی کے بعد حضورؐ نے ۶۳ اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر (ذبح) کیے، جبکہ بقیہ حضرت علیؓ نے
1:38:06 عمر مبارک کے ہر ہر سال کے شکرانے کے طور پر آپؐ نے ۶۳ اونٹ ذبح کیے
1:39:02 ۱۶) منی پورا منحر (قربانی کی جگہ) دیگر امور سے متلعق ، حضور ﷺ کی ضابطہ بندی
1:41:32 نبی اکرم ﷺ نے قانون سازی کے طور پر ہر جگہ یہ وضاحت کی تھی ، راوی حدیث نے اتفاقاً یہ امور ایک ہی روایت میں جمع کر دیے ہیں۔
1:42:15 ۱۷) پھر حضور ﷺ مکہ تشریف لے گئے، زمزم پیا اور طوافِ افاضہ (طوافِ زیارت) کیا، اسرار و رموز
1:43:22 ۱۸) ایامِ منی مکمل ہونے کے بعد آپ ﷺ وادیِ ابطح اترے ، طوافِ وداع کیا اور مکہ سے مدینہ روانہ ہو گئے۔
1:43:48 حضور ﷺ کے وادیِ ابطح میں قیام کی نوعیت، روایات کا اختلاف، حضرت عائشہؓ کی وضاحت اور بعض نے دوسری وجہ لیکن پہلی وجہ زیادہ صحیح ہے۔پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 136 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 135 /اَبوابِ حج، باب 02 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 135
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ حج باب 02
مناسکِ حج کے اسرار و رموز اورفوائد و مقاصد (حصہ دوم)مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 17؍ مارچ 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 (آغاز درس) اِحرام سے لیکر طوافِ وداع تک ہر منسک کی حکمت و راز اور فوائد و مقاصد (حصہ دوم)
0:20 6. مزدلفہ میں رات گزارنے کامقصد اور راز
7:27 مشعرِ حرام (مزدلفہ) میں وقوف کی بنیادی وجہ ، جاہلیت کی رسم کی مخالفت اور اللہ کا کثرت سے ذکر
10:49 7. فجر کے بعد منی روانگی اور رمی جمار (متعین مقامات پر کنکریاں مارنے) کی حکمت
13:34 ذکر اللہ کی دو قسمیں اور ان کی بنیادی حکمتیں؛ نفس کا تطلع للجبروت کے رنگ سے ساتھ رنگنا اور شیطان کا مقابلہ کرنے کی ٹریننگ کرنا
22:11 8. منی میں ہدی کی قربانی کے اَسرار نیز مُتمتِع و قارِن کے لیے یہ قربانی لازمی ہونے کی وجہ
25:58 9. قربانی کے بعد حلق (بال منڈوانے) کا بنیادی راز
28:29 10. طوافِ اِفاضہ سے پہلے امور سرانجام دینے کی اساسی وجہ
31:29 حج کے صرف دو رکن؛ وقوفِ عرفہ اور طوافِ اِفاضہ (طواف زیارۃ) نیز طواف کا طریقۂ کار و آداب
40:14 حجر اسود سے طواف کا آغاز کرنے کی حکمت
43:04 طوافِ قدوم کی حیثیت تحیۃ المسجد کے نوافل کی طرح، مشروعیت کی وجہ
44:37 خانہ کعبہ کا پہلی مرتبہ طواف کرنے والے کے لیے طواف میں رمل اور اضطباع کرنا اور صفا و مروہ کی سعی کرنا چند معانی و مفاہیم کی وجہ سے لازمی
54:58 11. عمرے میں وقوفِ عرفہ نہ ہونے کی بنیادی حکمت
56:56 12. صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنےکا راز، نعمتِ زمزم کی یاددہانی
1:01:55 13. طوافِ وداع کی حکمتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 135 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 134 /اَبوابِ حج، باب 02 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 134
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ حج باب 02
مناسکِ حج کی ادائیگی کا طریقۂ کار، ضابطہ بندی اور حکمتیں اور ترتیب (حصہ اول)مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10 ؍ مارچ 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:13 مناسکِ حج کی ادائیگی کا طریقۂ کار، ضابطہ بندی ، حکمتیں اور ترتیب کا بیان (باب کا خلاصہ)
0:51 مناسک کی چار قسمیں؛ حجِ مفرد، عمرہ مفردہ، حجِ تمتع اور حجِ قران
2:01 ۱) حج مفرد: احرام باندھنے کا میقات مقرر کرنے کی حکمت،حلّی و آفاقی کا میقات
4:27 اہل مکہ حج کا احرام مکہ سے ہی باندھیں گے۔
4:56 حالتِ احرام میں ممنوع امور نیز اس حالت میں نکاح و رخصتی کا اختلافی مسئلہ
7:15 میدانِ عرفات کا وقوف (ٹھہرنا)، مزدلفہ میں رات گزارنا پھر منیٰ میں رمی جمار اور قربانی کے بعد حلق یا قصر اور پھر طوافِ افاضه اور سعی کرنا
10:11 نوٹ: آفاقی (جیسے حجِ تمتع کرنے والا) ایامِ حج میں مکہ میں موجود ہو تو وہ احرام ، مکہ سے ہی باندھے گا،
11:02 وقوفِ عرفہ سے پہلے آفاقی مکہ میں داخل ہو گیا تو رمل کے ساتھ طوافِ قدوم، صفا و مروہ کی سعی کرئے گا۔
12:56 حجِ مفرد کی نیت سے حرم پہنچنے والا وقوفِ عرفہ سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا۔
13:38 طوافِ قدوم کے بعد سعی کرنے والا دوبارہ سعی نہیں کرئے گا۔
14:40 آفاقی ۸ ذوالحج کو مکہ جانے کے بجائے وقوف کے وقت عرفات پہنچ گیا تو طوافِ قدوم ساقط ہو جائےگا۔
15:21 ۲) عمرہ مفردہ؛ احرام باندھنے کا طریقہ، طواف اور سعی و حلق یا قصر
16:10 ۳) حجِ تمتع؛ یہ حج اہل مکہ کے لیے نہیں، صرف آفاقی کر سکتا ہے۔
16:54 حجِ تمتع میں عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھولنا اور ایامِ حج میں دوبارہ حج کا احرام باندھنا
17:17مُتمتّع پر قربانی کا دمِ شکر لازمی و ضروری اور مشرکین کی تحریف کا سدِ باب نیز حضورؐ کے سفرِ حج میں ہدی ساتھ اور اس کا قانون
22:40 حاجی کی حرم میں قربانی حجِ تمتع اور حج قِران کی ہوتی ہے، واجب سنتِ ابراہیمی والی قربانی نہیں
23:46 ۴) حجِ قران کی تعریف و احکامات اور طوافِ وداع
26:54 احرام سے لیکر طوافِ وداع تک ہر منسک کی حکمت و راز اور فوائد و مقاصد
27:05 1. حج و عمرہ کا احرام نماز کی تکبیرِ تحریمہ کی طرح (حج ایک عاشقانہ عبادت، بنیادی راز)
33:07 2. حالتِ احرام کی پابندیاں؛ قانونی ضابطه بندی اور حکمتیں
35:05 الف: شکار نہ کرنے کی حکمت
38:34 ب: جماع کی ممانعت کا راز
40:01 ج: ممنوع لباس اور سلےہوئے کپڑے نہ پہننے کی حکمت
43:05 د: نکاح کرنے یا نہ کرنے کی پابندی میں ائمہ فقہ کا اختلاف اور شاہ صاحب کا موقف
47:42 شکار کی ضابطه بندی ضروری، موذی جانوروں کو قتل کرنا جائز
51:59 3. نبی اکرم ﷺ کے مقرر کردہ میقات، ذاتِ عرق حضرت عمرؓ کا مقرر کرده ہے، نیز شاہ صاحبؒ کی مزید وضاحت؛ مشقت کے پیشِ نظر حرم کے قریب میقات مقرر ہوئے ۔
58:09 اہلِ مدینہ کے لئے ذوالحلیفه میقات مقرر کرنے کی بنیادی وجہ
1:03:35 4. وقوفِ عرفہ کا راز: ایک زمانے اور ایک جگہ میں ایک بڑا اجتماع نزولِ برکات کا سبب، جس کے لیے موزوں جگہ میدانِ عرفات
1:06:50 جگہ و دن کے خاص ہونے کی وجہ، یہ سلسلہ آدمؑ سے لے کر تمام انبیاؑ میں توارث و تواتر سے چلا آ رہا ہے۔
1:08:37 5. نزولِ منیٰ کا راز: یہ جاہلیت کے دور میں بازاروں ( سوقِ عکاظ وغیرہ) کی جگہ تھی تو دین کی شان و شوکت و ذکر اللہ کے لیے اسی جگہ کا انتخاب لیکن تفاخر و میلہ کرنے کی ممانعتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 134 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 133 /اَبوابِ حج باب 01 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 133
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ حج: باب 01
حج کے بنیادی امور کے تعین میں سات مصلحتیں (اصول) اور متعلقہ چھ احادیث کی تشریحمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 03؍ مارچ 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
1:09 باب کا خلاصہ؛ حج کے بنیادی امور کے تعین میں سات مصلحتیں (اصول)
3:09 ۱) بیت اللہ الحرام کی تعظیم
11:05 ۲) رعب و دبدبہ والا عظیم الشان اجتماع؛ سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی حکمتیں
17:04 ۳) حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیل علیھما الصلوۃ والسلام کے مقرر کرده ملتِ حنیفی کے امور کی موافقت اختیار کرنا اور ان اعمال و افکار کی حفاظت لازمی
19:47 ۴) دنیا بھر کے ہر خطے اور ہر زبان بولنے والے ایک حالت اور امور پر متفق ہوں، جیسے منیٰ میں قیام وغیرہ، بنیادی راز
22:46 ۵) سارا مجمع ، توحیدِ باری تعالی، حق کے اتباع ، ملتِ حنیفیہ کو ماننے اور اللہ کی نعمتوں کے شکریے کا علی الاعلان اقرار کرے۔
31:06 ۶) دورِ جاہلیت میں مشرکینِ مکہ کے گھڑے ہوئے فاسد افکار و اعمال کا خاتمہ نیز ردِ عمل میں انصار کا صفا و مروہ کی سعی کو گناہ سمجھنا اور اس کی تردید
45:10 ۷) دینی انتہا پسندی اور لوگوں کے لیے تنگی و حرج کا باعث بننے والے مشرکین کے فاسد قیاسات، چار خرابیوں کا رد؛ بنیادی راز
45:29 باب کی روایات کی تشریح
50:35 حدیث (۱) فریضہ حج کی ادائیگی کا حکم اور ایک شخص کا اظہارِ شوق کی بنا پر سوال ( يا أيها الناس قد فرض عليكم الحج فحجوا الخ) کا راز
۔۔ فنِ اعتبار کی نظیر؛ ہر شرعی قانون ، اس قوم کے ذوق و شوق کے بعد ان کی زبان میں نازل ہوا۔
53:57 حدیث (۲) کونسا عمل افضل؟ (أي الأعمال أفضل؟الخ) اور دوسری حدیث میں افضل عمل، اللہ کا ذکر، جمع و تطبیق اور ہر ہر حدیث کا محمل و مقصد
56:59حدیث (۳) بغیر نفسانی شہوات اور نظم وضبط کی پابندی کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے حج کرنے کا بدلہ (من حج لله فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه) ، مزید تین احادیث اور شاہ صاحبؒ کی تشریح
1:01:34 حدیث (۴) رمضان کا عمرہ حج کے برابر (إن عمرة في رمضان تعدل حجة) کا راز
1:03:00 حدیث (۵) حج کی استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والے کے لیے وعید (من ملك زادا وراحلة تبلغه إلى بيت الله الخ) کی وضاحت
1:05:58 حدیث (۶) حاجی کی تعریف، افضل حج کونسا اور حج کا راستہ کیا ہے؟ (ما الحاج؟ قال: الشعث التفل، قيل: أي الحج أفضل؟ الخ) کی تشریح
1:10:55 میت پر نمازِ جنازہ اور اس کی طرف سے روزے رکھنے کے قاعدے و ضابطے اور فضائل و ثواب، حجِ بدل میں بھی نافذ العمل ہوں گے۔پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Thu, 08 Feb 2024 - 133 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 132 /اَبوابِ صوم: باب 04 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 132
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ صوم: باب 04 (آخری باب)
روزوں سے متعلق دیگر امور
(روزے کا کمال درجہ، نفلی روزوں کی اَقسام، شبِ قدر کی تعیین، اعتکاف کے فوائد و نتائج اور بنیادی احکام)مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 24؍ فروری 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:14 (۱) روزے کا کمال؛ شہوانی و درندگی و شیطانی اقوال و افعال سے بچنا
3:08 (۲) روزہ توڑنے والے اعمال و افعال سے بچنا
3:52 روزے کے پہلے کمال کا مفہوم؛ "رفث" سے مراد افعالِ شہویہ اور "صخب" سے درندگی کے اعمال اور قتلِ انسانیت شیطانی فعل
6:11 روزے کی حالت میں جھوٹی بات اور کام سے اجتناب نہ کرنے سے متعلق حدیث کا درست مفہوم
8:05 روزے کے دوسرے کمال کی وضاحت؛ حجامہ کرنے والا اور کروانے والا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، حدیث کی توضیح
10:42 حالتِ صوم میں میاں بیوی کا باہم بوس وکنار سے بچنا چاہیے، جواز کی حکمت
17:06 نفلی روزں سے متعلق انبیاء کرام کی سنت اور ان کے طریقہ کار کا فرق
18:53 ہر نبی نے اپنی جسمانی صحت اور مناسب حال روزہ رکھا اور نبی اکرم ﷺ کا اسوہ
24:06 اولیاء اللہ کے ہاں سلوک اور وصول الی اللہ میں نفلی روزے کا معتبر معیار
24:48 نفلی روزوں کی اقسام؛ ۱۔ یومِ عاشورا اور اس کی مشروعیت کی حکمت
26:34 ۲۔ صومِ یومِ عرفہ (نویں ذی الحج) اور اس کی مشروعیت کا راز
27:42 ۳۔ ان دونوں میں عرفہ کے دن کی فضیلت زیادہ؛ اس کی وجہ
31:32 حاجیوں کے لیے نو ذی الحج کا روزہ ممنوع
32:37 ۳۔ شوال کے چھ روزے اور ان کی مشروعیت کی حکمت
35:25 ۴۔ ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور ان کا راز
36:18 ہر ماہ کی کن تاریخوں میں یہ روزے رکھے جائیں؟ روایات میں اختلاف
41:06 شبِ قدر کا پیچیدہ مسئلہ اور اس کا حل؛ لیلة القدر دو راتیں (رمضان سے متعلق اہم مسئلہ)
41:37 پہلی رات جو سال بھر میں ایک دن آتی ہے، رمضان المبارک کے ساتھ خاص نہیں
44:35 دوسری رات جس میں اللہ کی خاص روحانیت کرۂ ارض پر پھیلتی ہے، رمضان کے آخری دس راتوں کے ساتھ خاص
46:54 لیلة القدر کی روایات میں بظاہر تعارض ، صحابہ کا اختلاف اور جمع و تطبیق
51:31 صحابہ کے وجدان کے اختلاف کی وجہ سے شبِ قدر کی تعیین میں اختلاف ہوا۔
52:21 مسجد میں اعتکاف کے فوائد و نتائج (رمضان سے متعلق ایک اور اہم مسئلہ)
54:13 اعتکاف کے بنیادی اَحکاماتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 29 Jan 2024 - 132 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 131 /اَبوابِ صوم: باب 03 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 131
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ صوم: باب 03
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
روزوں سے متعلق اَحکامات اور ان کی حکمتیںمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ فروری 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:13 حدیث ۰۱۔ چاند دیکھ کر رمضان کا آغاز و اختتام کرنا (لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه الخ) کی وضاحت
2:09 حدیث کی تشریح؛ قمری مہینہ ۲۹ دن کا ہو گا یا ۳۰ دن (شرعی قانون)
4:47 شریعت کے قوانین میں عوامی مزاج اور ان کے علم کی رعایت
9:38 حدیث ۰۲۔ عید کے دو مہینے جن میں کمی نہیں ہوتی (شهرا عيد لا ينقصان رمضان وذو الحجة) میں مراد گنتی و تعداد نہیں بلکہ اجر و ثواب مراد ہے
11:52 شاہ صاحبؒ کی رائے
13:06 ۳۔ روزے کے دو دائروں سے متعلق احادیث کی علمی قاعدے سے تشریح؛ انتہا پسند حلقوں کی جانب سے کمیت و کیفیت میں تحریف اور نبی اکرمؐ کا سدِ باب
21:36 انتہا پسندی (تعمّق) کی بنیاد اور شک کے روزے کی ممانعت کی یہی وجہ
22:41 روزے کی کیفیت میں تشدد و تعمق کی روک تھام
26:21 ۴۔ دو حدیثوں ( إذا انتصف شعبان فلا تصوموه اور ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شهرين متتابعين إلا شعبان ورمضان) میں جمع و تطبیق اور ہر حدیث کا موقع و محل
33:26 ۵۔ ہلال (چاند) کے ثبوت کا قانونی طریقہ کار ؛ رمضان کے آغاز اور اختتام( عید) کے لیے ایک مسلمان کی گواہی کافی
36:37 ملت کی تنظیم اور نظم و نسق کے عمومی امور میں ایک آدمی کی گواہی بھی کافی
38:01 ۶۔ سحری تناول کرنے میں دو طرح کی برکتیں (تسحروا فإن في السحور بركة) کی توضیح
39:54 ۷۔ وقت ہوتے ہی روزہ افطار کرنا خیر کا باعث، مسلمانوں اور یہود کے روزوں میں بنیادی فرق سحری کھانا (لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر)، جلدی افطاری کرنے والا اللہ کے ہاں سب سے بہترین بندہ (أحب عبادي إلي أعجلهم فطرا) کی حکمت؛ اہلِ کتاب کی تحریف کا انسداد مقصود
42:17 ۸۔ صومِ وصال کی ممانعت (نهى صلى الله عليه وسلم عن الوصال) کی مکمل تشریح اور دو پہلوؤں کی وضاحت
44:33 ۹۔ بظاہر دو مختلف حدیثیں اور ان کا موقع و محل
46:54 ۱۰۔ سحری کھاتے ہوئے آذان شروع ہو جائے (إذا سمع النداء أحدكم الخ) کی وضاحت: ندا سے مراد سحری شروع ہونے کا وقت نہ کہ ختم ہونے کا وقت
49:29 ۱۱۔ کھجور سے روزہ افطار کرنا باعثِ برکت اور پانی باعثِ طہارت (إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمرة الخ) کی تشریح: بھوک کے بعد میٹھا شے کھانے کی طبعی حاجت
51:28 ۱۲۔ روزے دار کی افطاری کرانا اور مجاہد کے لیے سامانِ جنگ تیار کرنا روزہ رکھنے اور جہاد کے عمل میں شریک ہونے کی مانند (من فطر صائما أو جهز غازيا فله مثل أجره) میں اجر و ثواب کا راز
53:04 ۱۳۔ اِفطار کے اَذکار اور ان کی حکمتیں
54:39 ۱۴۔ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا ممنوع (لا يصوم أحدكم يوم الجمعة إلا أن يصوم قبله أو يصوم بعده) ، شبِ جمعہ کو عبادت کے لیے خاص کرنے کی ممانعت (لا تختصوا ليلة الجمعة الخ) کی وضاحت
55:41 حدیث کا پہلا راز: تعمق و انتہا پسندی کا دروازہ بند کرنا
56:55 حدیث کا دوسرا راز : جمعہ کا دن عید کا دن ہے۔
58:32 ۱۵۔ عید الفطر و عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں (لا صوم في يومين الفطر. والأضحى) اور ایامِ تشریق کھانے، پینے اور ذکراللہ کے ایام (أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر الله) کی توضیح
59:58 ۱۶۔خاوند کے منشا کے برعکس بیوی کے لیے نفلی روزہ جائز نہیں (لا يحل لمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه) کی حکمت
1:01:08 ۱۷۔ نفلی روزہ توڑنے کی قضا اور عدمِ قضا، دو حدیثوں میں تطبیق کی وجوہات
1:06:35 ۱۸۔ روزے میں بھول چوک کر کھانے کے باوجود روزہ قائم رہتا ہے (من نسي وهو صائم، فأكل وشرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه) کی تشریح
1:08:54 ۱۹۔ بلاعذر شرعی روزہ توڑنے کا کفارہ (قوله صلى الله عليه وسلم لمن وقع على امرأته في نهار رمضان " أعتق رقبة الخ")کا راز: شعائر اللہ کی توہین
1:10:16 ۲۰۔ بظاہر دو احادیث میں تعارض اور ان کا حل
1:11:42 ۲۱۔ سفر کی حالت میں روزہ رکھنا نیکی نہیں (ليس من البر الصيام في السفر ذهب المفطرون بالأجر) تاہم سفر میں سہولت کی صورت میں روزہ رکھنا جائز(من كانت له حمولة تأوى إلى شبع فليصم رمضان حيثما أدركه ) میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
1:15:29 ۲۲۔ میت کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے (من مات وعليه صوم صام عنه وليه) اور دوسری حدیث میں کھانا کھلائے (فليطعم عنه مكان كل يوم مسكينا إذا يجوز أن يكون كل من الأمرين مجزئا) دونوں حدیثوں میں بلا تعارض دو رازوں کی نشاندھی
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 29 Jan 2024 - 131 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 130 /اَبوابِ صوم: باب 01 تا.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 130
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ صوم: باب 01 تا 02
روزے کے مقاصد و اہداف کے بنیادی اصول و قواعد اور احادیث کی روشنی میں روزوں کی فضیلت کا بیان
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 03 ؍ فروری 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:15 نماز و زکوة کے بیان کے بعد روزے کے اَحکام و مسائل، قرآنی ترتیب کا لحاظ نیز باب کا خلاصہ
1:10 مَلَکیّت کے اَحکام کے ظہور میں رکاوٹ (بہیمیّتِ شدیدہ) کو مقهور و مغلوب کرنے کے لیے خصوصی توجہ کی ضرورت
2:27 بہیمیّت میں شدت، تہہ در تہہ طبقات اور فراوانی ، کھانے، پینے اور شهوانی لذّات میں انہماک کی وجہ سے ہے۔
4:38 مَلَکیّت کی مضبوطی کے لئے بہیمیّت کی شدت کے اَسباب میں کمی کرنا، (سب سے بہتر و متفقہ راستہ)
6:37 بہیمیّت کو مَلَکیّت کا پختہ یقین، اس کے اَحکامات کی اتباع اور رنگ میں رنگنا اصل مقصود
7:55 مَلَکیّت بھی بہیمیّت کی پست عادات اور رذیل قسم کے رنگ پورے طور پر نہ اپنائے،مثال سے وضاحت
9:23 مَلَکیّت سوار اور بہیمیّت اس کی سواری بنانے کے لئے مسلسل مشق کرنا ضروری
12:10 بہیمیّت کو کنٹرول کرنے اور مَلَکیّت کو غالب کرکا پہلا درجہ
13:45 تشبه بالملکوت اور تطلع الی الجبروت دونوں مَلَکیّت کی خاصیتیں
15:32 بہیمیّت کو روزے کے ذریعے کنٹرول کرنا اور خواہشات کو چھوڑنا
16:42 تمام انسانوں کے لیے مسلسل روزے رکھنا چونکہ ناممکن اور دشوار ہے اس لئے مَلَکیّت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے خاص مقدار اور زمانہ متعین کرنا ضروری
21:13 عمدہ نسل کے گھوڑے کو کھونٹے سے باندھنے کی مثال سے وضاحت
23:13 روزوں کی مقدار میں اِفراط و تفریط نہ ہو بلکہ بہیمیّت کو کمزور کرنے والی درمیانی مقدار ہو
25:09 روزہ نفسانی زہروں کے لیے تریاق ہے ،اور تریاق کا مسلسل استعمال نقصان دہ
27:56 کھانے اور پینے میں کمی کے دو طریقوں میں سے شرائع کی نظر میں دوسرے طریقے کے معتبر ہونے کی وجوہات
31:11 طویل وقفے کے بعد کھانا کھانے کی دوسری وجہ
32:32 پہلے طریقے کو کسی ضابطے و قاعدے کے تحت لانا بہت مشکل، تیسری وجہ
33:25 دنیا بھر کے صحیح مزاج رکھنے والے عرب و عجم کے ہاں صبح و شام کھانے کا معمول
35:07 بعض معاشروں میں دن بھر میں صرف ایک مرتبہ کھانے کا معمول
37:05 دو کھانوں کے درمیان وقفہ مقرر کرنے کا عمل ہر شخص کے سپرد کرنا، نظامِ تشریع کے خلاف، باقاعده ضابطه بندی ضروری
تین ملاحظات
40:26 (۱) دو کھانوں کا درمیانی وقفہ انسانی طاقت و استطاعت سے زیادہ نہ ہو، جیسے تین دن کھانے سے رکنا
41:42 (۲) کھانے پینے سے رکنے کا عمل بار بار ہونا چاہیے۔
43:13 (۳) کھانے پینے سے رکنے کی مقدار کا تکرار لوگوں کے ہاں مستعمل ہو، اور اس کی ضابطہ بندی ہر دیہاتی و شہری پر مخفی نہ ہو۔
45:18 روزے کی حقیقی تعریف: کھانے، پینے اور جماع سے دن بھر پورا مہینہ رکنا
48:54 دن اور مہینے کے آغاز و اختتام کا وقت اور اس کی ضابطہ بندی
52:13 قانون سازی میں جمہور انسانیت اور عام عوام کا لحاظ رکھنا ضروری
53:03 مہینہ مقرر کرنے کا معاملہ لوگوں پر نہیں چھوڑنا چاہیے،
54:34 مسلمانوں کا ایک زمانے میں اجتماعیت قائم کرنا نورانیت و ملکیت کے نزول کا باعث
56:53 بارہ مہینوں میں روزوں کے لیے مہینہ مقرر کرنے کی حکمت و راز
57:58 روزے کے دو درجے؛ فرض و نفل اور ان کی وضاحت
1:01:15 رمضان کے بنیادی مقدمات کے اصول مکمل اور ابواب کی احادیث کی تشریح
فضائلِ روزہ : باب 02
1:01:43 حدیث ۰۱۔ رمضان کے داخل ہوتے ہی جنت کے دروازوں کا کھلنا (إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة ) کی لاجواب تشریح
1:02:18 حدیث میں فضیلت کا تعلق مسلمانوں کے اجتماعی نظام سے ہے نہ کہ ہر فرد کی انفرادیت سے
1:09:04 حدیث ۰۲۔ رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھنے کا اجر و ثواب (من صام شهر رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه) کی تشریح
1:11:03 حدیث ۰۳۔ قیامِ لیالی رمضان (تراویح) کی فضیلت ( من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه) کی تشریح
1:11:56 حدیث ۰۴۔ ابنِ آدمؑ کے ہر عمل کا ثواب دوگنا تگنا لیکن اللہ نے روزے کا استثناء کیا (كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها الخ)
1:12:54 حدیث کی لاجواب تشریح: نیکیوں کے دوگنا ہونے کا راز، مرنے کے بعد ملکیت کے فیضان کا بڑھنا
1:17:23 نیکیوں کا کئی گنابڑھنا اور ان میں روزے کے استثنا کا راز؛ ہر آدمی کے اعمال جمع ہونے کا ایک موطن اور اولیاء اللہ کا مشاہدہ
1:22:39 امام شاہ ولی اللہؒ کا کتابتِ اعمال کا مشاہدہ
1:26:27 (الصوم فإنه لي وأنا أجزي به) کی یہ تشریح شاہ صاحبؒ کے علاوہ کسی نے نہیں کی۔
1:30:35 حدیث کا ایک اور بطن
1:33:16 حدیث ۰۵۔ روزے دار کی دو خوشیاں (للصائم فرحتان فرحة عند فطره وفرحة عند لقاء ربه) کی تشریح
1:35:03تجلی ثبوتی کی وضاحت
1:36:41حدیث ۰۶۔ روزے دار کے منہ کی خوشبو (لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك)کی تشریح
1:38:02 حدیث ۰۷۔ روزے ڈھال ہیں ( الصيام جنة)کی مکمل وضاحتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 29 Jan 2024 - 130 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 129 /اَبوابِ زکوة باب 05.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس: 129
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ زکوة باب 05
زکوة سے متعلق تین بنیادی امور کی احادیث کی روشنی میں تشریح (آخری باب)مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 27؍ جنوری 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:15 زکوة سے متعلق تین بنیادی امور کی احادیث کی روشنی میں تشریح (آخری باب کا خلاصہ)
1:42 (۱) سخاوتِ نفس کے ساتھ سرکاری اہل کار کو زکوة حوالہ کرنے کی وصیت ( إذا أتاكم المصدق فليصدر عنكم وهو عنكم راض) میں بنیادی حقیقت کی نشان دہی
6:54 دو احادیث میں بظاہر تعارض اور اس کا حل
11:33 (۲) مُصَدِّق (زکوة وصول کرنے والا) وصولی میں ظلم و زیادتی ، عمدہ مال وصول کرنے اور خیانت نہ کرے (فو الذي نفسي بيده لا يأخذ منه شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله على رقبته إن كان بعيرا له رغاء) کا راز
16:16 (۳) مال داروں کا حیلے و بہانے سے زکوة کی ادائیگی میں دھوکہ دہی، مکر و فریب کرنے کی ممانعت و سدِّ باب
ان تینوں امور سے متعلق احادیث کی تشریح
19:40 ۱۔موت کے وقت خرچ کرنے سے زیادہ بہتر صحت مند زندگی میں مال خرچ کرنا ہے۔ ( لأن يتصدق المرء في حياته بدرهم خير له من أن يتصدق بمائة عند موته) جیسے اس شخص کی مثال جس نے خود اپنا پیٹ بھر کر دوسرے کو کوئی چیز ہدیہ کی (مثله كمثل الذي يهدي إذا شبع)
21:36 حدیث کا راز
22:24 ۲۔ بخل کا خاتمہ ، تہذیبِ نفس اور اجتماعی الفت و محبت کے فروغ کے لیے نبی اکرم ﷺ نے مفید خصال اور عادات کو صدقہ قرار دیا۔
26:36 ۳۔ کسی مسلمان بھائی کو کپڑا پہنانے کا اجر و ثواب (أيما مسلم كسا مسلما ثوبا على عري الخ) کا راز؛ جنت کا عالمِ مثال سے بڑا گہرا تعلق ، مثالوں سے وضاحت (امام شاہ ولی اللہؒ کے فلسفے کا بنیادی اصول)
40:30 ٤۔ بیوی بچوں اور قریبی رشتے داروں کو چھوڑ کر نفلی صدقات میں مال خرچ کرنے کی حوصلہ شکنی (دینار أنفقتہ فی سبیل اللہ الخ) کی تشریح
42:06 ۵۔ نبی اکرم ﷺ کی دو حدیثوں (مالداری کی حالت میں صدقہ کرنا اور دوسری حدیث میں تنگی کی حالت میں مال خرچ کرنا) میں بظاهر تعارض اور ان کا حل
46:01 ۶۔ مسلمان و امانت دار ناظم مالیات (خزانچی و منشی) کا طیبِ نفس سے مال دینا بھی صدقہ کرنے کے عمل میں شریک ہونا ہے، حدیث کا راز
49:14 ۷۔ روایات میں بظاہر تعارض (خاوند کی کمائی سے صدقہ و خیرات کرنا آدھا اجر، دوسری روایت میں معمولی شے بھی خاوند کی کمائی سے خرچ نہ کرنے کی ممانعت اور تیسری روایت میں ضرورت کے بقدر استعمال کرنے کی اجازت) تطبیق و حل
56:32 ۸۔ صدقہ و خیرات واپس لینے والا ایسے ہے جیسے اپنے قئی چاٹنا (لا تعد في صدقتك فان العائد في صدقته كالعائد في قيئه) کا پسِ منظر اور رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 29 Jan 2024 - 129 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 128 /اَبوابِ زکوة باب 04.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 128
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ زکوة باب 04
جمع شدہ زکوة کے مصارف کے بنیادی قوانین و ضوابط کا بیان، آٹھ مصارف کی تین اقسام میں درجہ بندی
زکوة و صدقات کا حضرت محمد ﷺ اور آل محمدؐ کے لیے حرام ہونے کا بنیادی راز نیز مفت خوری اور بھیک مانگنے کی شدید ممانعتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 20؍ جنوری 2021 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس، باب کا دائرہ کار: جمع شدہ زکوة کے مصارف کے بنیادی قوانین و ضوابط کا بیان
0:45مصارفِ زکوة اور اجتماعی فنڈز اکٹھا کرنے کا پہلا بنیادی ضابطہ: دو طرح کے شہر اور مملکت ، سو فیصد مسلم آبادی کے علاقے
2:00 (۱)مسلم اکثریتی شہروں پر انتظامی اخراجات کم ہونے کی وجہ ٹیکس کی وصولی میں تخفیف؛ بنیادی وجہ
5:22 (۲) جن علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر ملتیں اور اقوام آباد ہیں، ان سے زکوة (ٹیکس) وصول کرنے میں سختی ضروری؛ قرآنی آیت {أشداء على الكفار رحماء بينهم} سے اس کا ثبوت نیز اس سختی کی چند وجوہات
7:51 نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ان دو قسم کی آبادیوں سے متعلق مصارف و اخراجات کے جداجدا طریقوں کی نشاندھی
9:01 خالص مسلمانوں علاقوں سے دو طرح کی وصولیاں؛ پہلی نوع: جن اَموال کا کوئی مالک نہیں، انہیں عوام کے منافعِ مشترکہ میں خرچ کیا جائے گا،
11:46 دوسری نوع: مسلمانوں کی زکوة و صدقات کا مال بیت المال میں جمع کیا جائےگا، ان کا مصرف انفرادی طور پر ایک فرد یا خاص نوع کو مالک بنانا
12:20 قرآنی آیت {إنما الصدقات للفقراء والمساكين} میں دوسری نوع کا ثبوت اور آٹھ مصارف کی تین اقسام میں درجہ بندی
13:11 اول، محتاج لوگ (فقیر، مسکین، یتیم، مسافر اور مقروض)
14:34 دوم، محافظین: مجاہدین (سیکورٹی فورسز) اور عاملین (انتظامی عملہ)
15:30 سوم، فتنہ و فساد کے خاتمے کے لیے یا ناگہانی و اچانک مصیبت دور کرنے کے لیے مال خرچ کرنا (تالیفِ قلب) مصرف کی وجہ اور راز
18:08 آٹھ مصارف میں سےکس مصرف پر کتنا خرچ کرنا ہے؟ یہ انتظامی اتھارٹی کے سپرد ہے۔
19:38 کیا آٹھ مصارف کے علاوہ زکوة کا مال خرچ کرنے کی گنجائش ہے؟ آئمہ کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا اپنے موقف پر احادیث سے استدلال
احادیث کی روشنی میں شاہ صاحبؒ کی مصارفِ زکوة سے متعلق تحقیقی گفتگو
25:18 آیتِ صدقات میں "إنما کا حصر" حقیقی نہیں اضافی، آیات کے سیاق و سباق سے وضاحت، شاہ صاحب نے اس کا راز بیان کیا ہے۔
29:52 ائمہ ثلاثہؒ اور احنافؒ دونوں کے موقف میں فرق پر حضرت مفتی عبدالخالق رائے پوری مدظلہ کی مزید توضیح
32:14 حضرت محمد ﷺ اور آل محمدؐ کے لیے اس مال کے حرام ہونے کا راز اور چند وجوہات (شاہ صاحبؒ کی حدیث کی لاجواب تشریح)
33:12 پہلی وجہ: ملأ اعلیٰ میں ہر عمل کا ایک وجود تشبیهی، زکوة و صدقہ کا تشبیهی وجود میل کچیل کا ہے، ، نبی اکرم ﷺ نے ملاءِ اعلی میں اس کا مشاہدہ کیا اور سماحتِ نفس کی بنیاد پر اسے اپنے لئےحرام قرار دیا۔
42:56 بسا اوقات اولیاء اللہؒ و اہل مکاشفہ بھی کسی عمل کی ظلمت کا مشاہدہ کر لیتے ہیں
46:33 الفاظ کی تاثیر ان کے وجودِ تشبیہی کی سبب سے ہے، سائنس کی شہادت و گواہی
48:19 دوسری وجہ: بغیر معاوضہ و تبادلہ اور نفع رسانی کے (محنت کے بغیر حاصل کیے ہوئے) مال میں احترام باقی نہیں رہتا
50:40 نفوسِ عالیہ کا ذلت و رسوائی سے مال وصول کرنے سے اِباء، حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کا واقعہ
52:11 (اليد العليا خير من اليد السفلى) میں مذکورہ بے توقیری کا ذکر ہے۔
52:49 مفت خوری کا کسب و پیشہ ، دنیا کے تمام پیشوں میں بدترین پیشہ، دلی خوشی سے مال دینا ، معززین کا شعار اور جبر فی التبرع کا عدم جواز
55:53 تیسری وجہ: حضرت محمد ﷺ اور اہلِ بیت کے لیے زکوة و صدقات کے حرام ہونے کا ایک اور اہم راز
59:31 بھیک مانگنا انتہائی ذلت و رسوئی اور مروتِ انسانی میں شگاف ڈالنے کے مترادف، اس لیے حضور ﷺ نے اس کی سخت ممانعت فرمائی۔
1:00:34 عزتِ نفس کے ساتھ کوئی معزز آدمی بِن مانگے دے رہا ہو تو ھدیہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں
1:02:00 اشد ضرورت (جان جانے کے اندیشہ) کے وقت سوال کرنے کی اجازت
1:05:47 حکمت کا تقاضا: رسول اللہؐ کا مختلف مثالوں (دو حدیثوں کا ذکر) کے ذریعے بھیک مانگنے سے منع کرنا
1:10:13 دونوں حدیثوں کا راز: سوال کرنے سے ذلت و رسوائی اور چہرے کی رونق ختم
1:12:28 مالدار ہونے کا معیار جس کی موجودگی میں سوال کرنے کی ممانعت ہے، احادیث میں تین مختلف اقوال، مختلف پیشوں کے اعتبار سے مالداری کی حد مقرر ہوئی ؛ شاہ صاحبؒ کی تطبیق اور جامع بات
1:20:16 پہلی حدیث: مانگنے میں اِلحاح و اصرار کی ممانعت، مال میں بے برکتی، حضورؐ کی بددعا (لا تلحفوا في المسألة، فوالله لا يسألني أحد منكم الخ) کا راز
1:24:10 دوسری حدیث: یہ مال بڑا میٹھا سرسبز، سخاوتِ نفس سے مال استعمال کرنے سے برکت اور اشرافِ نفس سے بے برکتی (إن المال خضر حلو فمن أخذه بسخاوة نفس بورك له فيه الخ) کی تشریح
1:27:36 برکت کی تعریف اور اس کی اقسام: ۱۔ مال پر اطمینانِ نفس اور دل میں ٹھنڈک ہو، ۲۔ چیز کا ایساصحیح استعمال کہ اس سے اس کا نفع و فائدہ بڑھ جائے۔
1:33:17 تیسری حدیث: مال میں عفت اختیار کرنے والے کو اللہ کی طرف سے پاکدامنی کا میسر آنا (من يستعفف يعفه الله الخ) کا پسِ منظر اور تشریحپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 29 Jan 2024 - 128 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 127 /اَبوابِ زکوة ، باب: 03.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 127
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ زکوة ، باب: 03
زکوة کی مقدار کے تعین کا مکمل نظام اور مقدار متعین کرنے کی بنیادی حکمتیںمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 13؍ جنوری 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:15 پچھلے باب کا خلاصہ: تہذیبِ نفس اور سیاستِ مدینہ کے لیے مال خرچ کرنے کی مقدار اور مدت متعین کرنا ضرورت و اہمیت
4:00 دین اسلام نے اس حوالے سے باقاعدہ نظام دیا ہے، اس باب میں مقدار سے متعلق احادیث کا بیان
4:35 (۱) پانچ وسق سے کم کجھوروں، پانچ اوقیہ سے کم چاندی اور پانچ سے کم اونٹوں میں زکوة نہیں، (ليس فيما دون خمسة أوسق من التمر صدقة الخ) کی تفصیل
7:16 حدیث کا مفہوم: دینِ اسلام میں زکوة کی مقدار سازی کا بنیادی راز اور وجوہات، ایک درمیانے گھرانے کے لیے پانچ وسق اناج اور کھجور وغیرہ سال بھر کے لیے کافی
12:15 پانچ اوقیہ چاندی سال بھر کے خرچے کے لیے کفایت کرنے والی
13:01 پانچ اونٹوں کی زکوة میں بکری مقرر کرنے کی حکمت: اونٹ کے فوائد اورایک اونٹ کی قیمت آٹھ، دس یا بارہ بکریوں کی قیمت کے برابر ہونے کی وجہ سے اونٹ کے نصاب کا تعین
17:01 نظام سے مقصود لوگوں کے لیے سہولت و آسانی پیدا کرنا، جیسا کہ اسوۂ رسول اللہؐ
17:32 (۲) مسلمان کے خدمت گاروں (غلام) اور گھوڑوں پر زکوة نہیں (ليس على المسلم صدقة في عبده ولا في فرسه) کی تشریح
19:29 (۳) اونٹ کی زکوة کی مقدار کی تعیین میں حدیثِ مستفیض
24:52 حدیث کی تشریح: زکوة میں عدل و انصاف کا لحاظ، ریوڑ (صرم) کے اعتبار سے زکوة، حِقّہ پسندیدہ اونٹ
27:34 (۴) بکریوں کی زکوة کا نصاب اور مقدار متعین کرنے کا راز
30:10 (۵) حدیثِ معاذؓ میں گائے (بھینس) کے نصاب کا بیان
31:48 (۶) چاندی کی زکوة ڈھائی فیصد مقرر، اس سے زیادہ مقرر کرنے میں عامة الناس کا ضرر
32:57 حدیث چاندی کے نصاب سے متعلق ہے جبکہ سونے کو چاندی پرمحمول کیا گیا ہے۔
34:49 (۷) بارش، چشموں کے پانی سے سیراب کھیتی یا عشری زمین کی پیداوار میں عشر (٪10) اور بقیہ کھیتوں پر نصف العشر (٪5)
36:26 (۸) کھجوروں کا اندازہ لگا کر مقدار متعین کرنا "خرص"، اندازے میں کل پیداوار میں سے ⅓ یا ¼ منہا کرنے کا حکم اور اندازے کی مشروعیت کا راز: زکوة کا بنیادی اصول تخفیف
42:06 رِکاز (کان یا دفینہ) میں خمس (٪20) نصاب
43:03 (۹) صدقۂ فطر کا نصاب کھجور، جو میں ایک صاع: اس مقدار کو مقرر کرنے کا راز
44:45 گندم کا نصف صاع مقرر کرنے کی حکمت
47:06 صدقۂ فطر کو عید کے ساتھ خاص کرنے کا راز
48:31 (۱۰) زیورات میں زکوة مقرر ہے یا نہیں؟ احادیث متعارض و مختلف ہیں لیکن احتیاط یہی ہے کہ زکوة ادا کر دی جائے۔پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 29 Jan 2024 - 127 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 126 /ابوابِ زکوة ، باب: 02.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 126
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
ابوابِ زکوة ، باب:02
انفاقِ مال کی فضیلت اور کراہیتِ اِمساک (مال کو روکنے کی ناپسندیدگی)، بخل کی ممانعت اور سخاوت کے اسرار و رموز نیز جنت کی حقیقت
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 06؍ جنوری 2021ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:17 پچھلے باب کا اس باب سے ربط و تعلق
1:49 (۱) مال خرچ کرنے کی فضیلت و ترغیب ، زکوة کی روح سخاوتِ نفس؛ بنیادی راز
4:45 (۲) مال کو روکنے کی برائیاں اور بخل تهذیبِ نفس کی راہ میں حائل رکاوٹ
6:34 اِنفاقِ مال کی فضیلت اور کراہیتِ اِمساک (مال کو روکنے کی ناپسندیدگی) کی وجوہات:
8:21 بخل انسانی نفس کے لیے ہلاکت اور بہت زیادہ نقصان کا باعث، احادیثِ مبارکہ سے تشریح و توضیح
13:53 بخل کی خرابی کا راز، دنیا میں نقصانات، شاہ صاحبؒ کی وضاحت
16:39 "معمولی سی چیز (جیسے کجھور کے برابر صدقہ) اللہ دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے" حدیث کے اس جزو کا معنی و مفہوم
18:49 شح (بخل) کا آخرت میں ضرر و نقصان
22:25 شاہ صاحبؒ کی احادیث کی تشریح، پہلا سبب: جن اموال کی زکوة ادانہیں کی، ان کامثالی صورتوں میں انسان کے لیے اذیت و تکلیف کا باعث بننا
36:03 دوسرا سبب؛ ملاء اعلی کی طرف سے سزا دینے کی وجہ
37:03 مطلقاً مال کی محبت کی سزاگنجے سانپ (سجاعا) کی صورت میں اور کسی خاص مال کی محبت (سونے و چاندی و کرنسی وغیرہ) سے محبت کی صورت میں اس کی پتریاں (صفائح) تپا کر اذیت و تکلیف
40:40 احادیثِ باب کی تشریح: ۱۔ سخی اللہ، جنت اور انسانوں کے قریب ،بخیل کا معاملہ اس کے برعکس اور جاہل سخی ،کنجوس عبادت گذار کے مقابلے میں اللہ کا زیادہ محبوب
42:09 حدیث میں تین فوائد کا ذکر، شاہ صاحبؒ کی تشریح: ( السخي قريب من الله ) اللہ کی پوری معرفت حاصل کرنے کی استعداد اوراس کی راہ میں حائل حجابات کو کھل جانا
42:54 (قريب من الجنة) مَلَکیت کے منافی پست قسم کی حالتوں کا دور ہونا،سخاوت بہیمیت کے رنگ کو ختم کرنے میں ممد و معاون
43:33 (قريب من الناس) سخی آدمی سے انسانوں کا محبت کرنا اور اس سے جھگڑا نہ کرنا، جھگڑے کی اصل وجہ بخل و کنجوسی
44:35 طبعی سماحت کے مقابلے میں جبری عبادت کی زیادہ فضیلت (ولجاهل سخي أحب إلى الله من عابد بخيل)
45:38 ۲۔ بخل اور صدقہ کرنے والے کی زرہ (سینہ بند) کی مثال سے تشبیہ، (مثل البخيل والمتصدق كمثل رجلين الخ) کی تشریح سے مزید احادیث کا معنی و مفہوم واضح ہو گیا۔
52:58 ۳۔ جنت کے بہت سے دروازے، ہر نیکی کرنے والے کو اسی کے مناسب دروازے سے بلایا جائے گا، حضورؐ کی حضرت ابو بکر صدیقؓ کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے پکارے جانی کی بشارت(للجنة أبواب ثمانية فمن كان من أهل الصلاة الخ) کی تشریح
55:06 جنت کی حقیقت و تعریف؛ انسانی نفس کے لیے راحت و اطمئنان اور رضائے و رحمتِ خداوندی کا مقام، دلائل
57:01 نفوسِ انسانی کا بہیمیت کی ظلمات سے نکل کر جنت کی طرف جانے کا طریقۂ کار
57:44 (۱) جبلی طور پر قوتِ ملکیت میں خلقِ خشوع و طہارت کا نتیجہ نماز سے بہت زیادہ محبت
58:40 (۲) خلقِ سماحت کی خاصیات: صدقہ و خیرات کا بہت بڑا حصہ میسرآنا ، ظلم و زیادتی معاف کرنا اور کِبرِ نفس کے باوجود مومنوں و کمزوروں کے لیے عجز و انکساری اور ظالموں و متکبروں کے خلاف اقدام
1:02:33 (۳) خلقِ شجاعت: انسانوں کی اصلاح کے لیے نظام و سسٹم بنانا، عدل و انصاف کے قیام کے لیے جہاد (جدوجهد) کا وافر حصہ
1:03:39 (۴) بهیمیت و ملکیت میں تخالف و تجاذب کی صورت میں بہیمیت کو توڑنے کے لیے روزے رکھنے کا الہام اور پورا پورا بدلہ
1:04:44 جنت کے مزید ابواب: رسوخ فی العلم، مصائب مشکلات سہنے والے اور عادل حکمران وغیرہ
1:07:26 عادل حکمران کی تعریف و نشانی
1:08:37 جنت کا ایک اور دروازه، توکلِ الہی اور فال نکالنے کو چھوڑنا
1:10:05 خلاصہ کلام: سابقین کو جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا، حدیث کے بعض الفاظ کی وضاحتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 29 Jan 2024 - 126 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 125 /ابوابِ زکوة ، باب: 01 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 125
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
ابوابِ زکوة ، باب: 01 (دوسرا حصہ)
زکوة کی مقدار اور سالانہ مدت مقرر کرنے کی حاجت، وجوہات و حکمتیں اور قابلِ زکوۃ اشیاء کے تعین کی حد بندی کا اصول اور عملی نظاممُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 30 ؍ دسمبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:20 سابقہ درس کا خلاصہ
5:56 زکوة کے نظام میں مقدار اور مدت مقرر کرنے کی حاجت و ضرورت اور ان کی مصالح و حکمتیں
12:12 زکوة کی سالانہ مدت مقرر کرنے میں تعاونِ باہمی کے اصول کی کار فرمائی
14:43 زکوة کی مقدار ڈھائی فیصد مقرر کرنے کا راز
16:27 کن کن لوگوں سے زکوة وصول کی جائے گی؟
17:13 دنیا بھر کی اقوام میں چار قابلِ ٹیکس اشیاء :۱۔ مالِ نامی (جس مال میں بڑھوتری کی صلاحیت ہو) اور اس کی شرائط
20:46 اموالِ نامیہ کی تین قسمیں: بلا معاوضہ چرنے والے جانور، کھیتیاں اور مالِ تجارت
23:33 ۲۔ خزانہ و کنز (ضرورت سے زائد مال) اور اس پر زکوة عائد ہونے کی وجہ
27:02 ۳۔ ایسے اموال جو بغیر محنت و مشقت کے حاصل ہوں، جیسے دفائنِ جاہلیت اور قومِ عاد کے جواہرات وغیرہ
29:25 ۴ ۔ پیشہ ور جماعتوں (کسان، تاجر اور صنعت کار وغیرہ) کی آمدن پر ٹیکس
31:48 آمدن و خرچ کا حساب لینا عوام کا حق، حضرت عمرؓ کا طے کردہ اصول اور عمل درآمد کا نظام
34:47 ٹیکس کی مدت سالانہ بنیادوں پر مقرر کرنے کا راز
36:55 زکوة مال کی جنس سے وصول کرنے کی حکمت
38:52 زکوة کی مقدار اور مدت کے لیے ہر قسم کے مال کی مثال، تقسیم اور استقرا و تتبع کے ذریعہ جامع و مانع تعریف
44:03 مویشی، زراعت، تجارت اور کنز پر زکوة کے وجوب کی حد بندی اور شرائط
48:37 سبزیوں پر زکوة واجب ہونے میں اختلاف رائے نیز گوشت کھانا عربوں کے مزاج کا حصہ، حضور ﷺ کو بھنا ہوا گوشت پسند اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا رسالہ؛ تحفۂ لحمیہ
51:01 تجارت کے عمل سے منافع پر زکوة، ہبہ، وراثت وغیرہ پر براہ راست زکوة نہیں
52:30 کنز کی تعریف اور زکوة ، نیز کنز کی تعریف سے خارج اشیا کا تعین
54:34 زکوة کے باب میں مسلمہ اصول اور نبی اکرم ﷺ کا مقرر کردہ نظامپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 23 Jan 2024 - 125 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 124 جنائز سے متعلق احادیث کا.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 124
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز ، آخری باب: 18
جنائز سے متعلق احادیث کا آخری حصہ
اَبوابِ زکاة ، باب: 01 (پہلا حصہ)
مال خرچ (زکوة) کے فریضہ عائد ہونے کی دو حکمتیں ؛ تہذیبِ نفس اور سیاستِ مدینہمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 23 ؍ دسمبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:17 (۲۸)میت کی تدفین کے بعد قبر سے متعلق حضور ﷺ کی ہدایات؛ چند احادیث ( لا قبرا مشرفا إلا سواه ، لعن الله اليهود والنصارى الخ) کی تشریح
6:30 (۲۹) میت پر رونے کا طبعی و فطری عمل (إنما يرحم الله الخ) کی تشریح
10:39 (۳۰) غم میں چہرہ پیٹنا، گلا پھاڑنا، جاہلیت کی طرح شور مچانا اور زنجیر زنی کی ممانعت
12:26 (ليس منا من ضرب الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية) حدیث کا راز: غم زدہ کے غم کو بھڑکانے، ہیجان و قلق و تکلیف کو ابھارنا، اللہ کے فیصلے کے خلاف عدم رضامندی کی علامت، رضا بالقضا کا عملی انکار اور خبیث عادت ہے
16:04 (۳۱) اجرت لیکر میت پر رونے والی عورت کے لیے دردناک عذاب (تقام يوم القيامة الخ) کی تشریح
18:03 (۳۲) امت میں جاہلیت کی چار چیزیں رہیں گی؛ نسلی تفاخر، پیشے کی بنا پر کسی کے نسب پر طعنہ زنی، علم نجوم کے ذریعے بارش کی پیشن گوئی اور میت پر سینہ پیٹنا ( أربع في أمتي من أمر الجاهلية الخ) کی تفصیل
23:01 حدیث کی تشریح: طبیعت کے افراط کی وجہ سے جاہلیت کے امور باقی رہنا
25:40 (۳۳) میت کے ساتھ جانے والی عورتوں کے لیے بد دعا (ارجعن مأزورات غير مأجورات الخ) کی تشریح
28:02 (۳۴) کسی شخص کے تین بچے اس کی زندگی میں فوت ہو جائیں تو جنت کی بشارت (لا يموت لمسلم ثلاثة من الولد الخ) کی وضاحت
29:24 (۳۵) مصیبت زدہ کی تعزیت کرنے والے کے لیے اجر و ثواب (من عزى مصابا الخ) میں اجر ملنے کی دو وجہیں
31:57 (۳۶) حضرت جعفرؓ کی شہادت کے موقع پر ان کے پسماندگان کے لیے کھانا تیار کرنے کا حکم (اصنعوا لآل جعفر طعاماالخ) کی تشریح
34:41 (۳۷)حضور ﷺ کا پہلے قبروں کی زیارت سے منع کرنا اور پھر اجازت (نهيتكم عن زيارة القبور الخ) میں پہلے زیارت کی ممانعت کی وجہ
37:28 جنائز سے متعلق آخری حدیث (۳۸) قبروں پر پڑھی جانے والی دو دعائیں (السلام عليكم يا أهل الديار من المؤمنين الخ، السلام عليكم يا أهل القبور الخ)
39:15 (ابوابِ زکوۃ) حجة اللہ البالغہ کی ابواب بندی میں امام بخاریؒ کی ترتیب کی رعایت
40:39 ابوابِ زکوۃ میں زکوة کے اساسی اصول، مختلف مراحل اور قوانین و ضابطوں کا بیان
41:31 علمی قاعدہ: مال خرچ (زکوة) کے فریضہ عائد ہونے کی دو مصلحتیں؛ تہذیبِ نفس اور سیاستِ مدینہ
43:52 پہلی مصلحت کی وضاحت: بخل دنیا و آخرت میں نقصان دہ و قبیح خُلق
48:20 آخرت میں اخبات الی اللہ کے بعد سب سے زیادہ فائدہ مند خُلق سخاوتِ نفس
50:45 مذہبی طبقے کے لیے سخاوتِ نفس انتہائی ضروری، اکابرین کا اسوہ
52:04 اِشرافِ نفس سے ہدیہ لینا جائز نہیں، حضرت تھانویؒ کا واقعہ
56:19 جیسے اِخبات انسانی نفس میں تطلع الی الجبروت پیدا کرتا ہے۔
58:28 سخاوتِ نفس کی بنیاد؛ روح ملکوتی کا روح بہیمی پر غلبہ
59:54 ۱۔ بہیمیت کو ڈانٹ پلانے کے لیے مال خرچ کرنا
1:00:09 مارگریٹ تھیچر ڈاکٹرین کا انسان دشمن فلسفه معیشت
1:01:00محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنا
1:01:25 ۲۔ بہیمیت کو متنبہ کرنے کے لیے انفرادی ظلم و زیادتی پر بدلہ نہ لینا، لیکن سیاستِ مدینہ کے تناظر میں ظالم کا ہاتھ روکنا ریاست کے لیے لازمی و ضروری
1:02:27 نظامِ مدینہ میں فساد پیدا کرنے والے کے خلاف انقلاب پیدا کرنا اور قرآن کی آیت کو درست تناظر میں سمجھنا ضروری
1:03:19 ۳۔ دنیوی مصائب کو برداشت کرنا
1:03:39 ۴۔ آخرت کی تکلیف سے بچنے کے لیے دنیا کی تکلیفوں کی پرواہ نہ کرنا
1:03:59 نبی اکرم ﷺ نے ان چار امور کا حکم دیا اور مال خرچ کرنے کا باقاعده نظام بنایا۔
1:05:21 قرآن میں جگہ جگہ نماز اور ایمان کے ساتھ زکوة کا ذکر نیز جہنمیوں کا مکالمہ
1:07:05 تہذیبِ نفس کے حوالے سے مال خرچ کرنے کا دوسرا پہلو
1:09:27 کائنات کے تدبیری نظام میں اِجمالی الہام کی وضاحت
1:10:51 اجمالی الہام کے بعد تفصیلی الہام کے فوائد
1:11:51 تہذیبِ نفس کے حوالے سے تیسری بات
1:12:54 انسانیت کی ہمدردی کے جذبے سے عاری شخص کی حالت
1:13:23 تہذیبِ نفس کے حوالے سے چوتھی بات
1:14:45 مال خرچ کرنے کی دوسری مصلحت سیاست مدینہ کی تشریح (۱) ریاست میں حاجت مند اور قدرتی آفت زدہ لوگوں کی معاونت
1:16:30 (۲) نظامِ مملکت کے مالی اخراجات کے لیے مال جمع کرنا
1:17:28 فوجی خدمات سرانجام دینے والی سیکورٹی فورسز کے لیے تنخواہوں کا بندوبست
1:19:46 نظم و نسق قائم کرنے والے مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ کے اخراجات کا بندوبست (ان لوگوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے زراعت، صنعت اور تجارت پیشہ لوگوں پر ٹیکس عائد کرنا)
1:21:38 (۳) مفادِ عامہ (پبلک انٹرسٹ وغیرہ) کے لیے مالی اخراجات کا بندوبست (ان تین وجوہات کی بنا پر رعایا پر ٹیکس کا نفاذ)
1:22:36 نظام زکوة میں دونوں مصلحتوں کی رعایت
1:24:36 دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں فوج، عدلیہ اور انتظامیہ اپنی ذاتی ضروریات کے لیے زراعت، صنعت اور تجارتی امور میں حصہ نہیں لیتے، نیز پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کی اصل وجہ اشرافِ نفس ہے۔پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 23 Jan 2024 - 124 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 123 /اَبوابِ نماز ، 18 حصہ دوم../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 123
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز ، آخری باب: 18 (حصہ دوم)
جنائز سے متعلق احادیث کا دوسرا حصہ
(مریض کو دم کرنا، موت کی تمنا اور بے جا خوفِ طاری کی ممانعت، اللہ سے ملاقات کا شوق اور اس سے خیر کی امید رکھنا، روح کا حظیرة القدس کی طرف متوجہ ہونا، موت کو یاد کرنا، میت کے متعلق خیر اور بھلائی کی گفتگو، کفن دینے کا بنیادی اصول، نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقۂ کار، جنازہ اور تدفین میں شرکت کا اجر و ثواب اور نمازِ جنازہ کی چند مسنون دعائیں اور دفنانے کے امور)
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 16 ؍ دسمبر 2020ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:25 حدیث ۷: اللہ کے پاک کلام سے مریض کی تکلیف و مصیبت دورکرنے کے لیے دم کرنا (أمر النبي صلى الله عليه وسلم برقى تامة كاملة)
2:53 احادیث میں مروی مریض کو دم اور پاکیزه رقی (جھاڑ پھونک) کرنے کی چند دعائیں
7:55 وہ دعائیں جو مریض خود پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلے۔
12:34 حدیث ۸: تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا کی ممانعت (لا يتمنين أحدكم الموت الخ) کی تشریح: کسی نعمت کو سلب کرنے کی دعا مانگنا درست نہیں
16:28 حدیث ۹: اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق رکھنے والے کا اعزاز (من أحب لقاءه الله أحب الله لقاءه) بظاہر دونوں حدیثوں میں اختلاف
21:31 شاہ صاحبؒ کی تشریح: اللہ سے ملاقات کا مطلب و مفهوم
24:16 ہر چیز کا اپنے حیِّز (مقام) اصلی کی طرف لوٹنا
26:59 عبدِ فاجر کا بہیمیت کی لذات میں انهماک
28:25 حضور ﷺ نے محبتِ الہی کے معنی بڑی وضاحت و صراحت سے بیان کیے
29:22 حدیث ۱۰: (لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن الخ) کا مفہوم
30:46 حدیث کی تشریح میں شاہ صاحبؒ کا علمی قاعدہ: حُسنِ ظن اور خیر کی امید کا درست مفہوم
33:51 اللہ تعالیٰ سے امید رکھنے کا مفہوم
35:18 خوف الہٰی کی تلوار سے اللہ کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا، نہ کہ اللہ سے ناامید ہونا
39:13 تہذیبِ نفس کی مہارت نہ ہونے کی وجہ سے خوفِ کی بےجا کیفیت
40:09 آج کل کے واعظین وپیروں کا بلا وجہ خوف مسلط کرنا، حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری نور اللہ مرقدہ کا ارشاد
41:26 خوف کا غلط اور بے محل استعمال
44:36 اللہ سے نا امیدی کی حالت میں مرنے والے انسان کے ظنون و اَوہام ، مثالی وجود میں عذاب کا باعث
47:35 مرض الموت میں شکوک و شبہات کا سلسلہ زیادہ خوف پیدا کرنے کا باعث
51:34 اللہ سے خوف سے امید زیادہ ہونی چاہیے۔
52:46 حدیث ۱۱: لذت کو توڑنے والی (موت) کو یاد کرو ( أكثروا ذكر هادم اللذات)، طبیعت کا حجاب توڑنے میں اس کا کردار
54:35 حدیث ۱۲: مرنے سے پہلے آخری کلمہ لا الہ الا اللہ جنت میں داخلے کا سبب (من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة)
55:50 حدیث ۱۳: حالتِ نزع میں مرنے والے کے سامنے اذکار کی تلقین بہت بڑا احسان ( لقنوا موتاكم لا إله إلا الله الخ) کا مفہوم
58:04 حدیث ۱۴: مصیبت کے وقت دعا مانگنا اللہ کا حکم (ما من مسلم تصيبه مصيبة الخ) ؛ راز
59:44 حدیث ۱۵: میت کے متعلق خیر اور بھلائی کی گفتگو (إذا حضرتم الميت، فقولوا خيرا)، حضور ﷺ کا مسنون عمل
1:02:49 حدیث ۱۶: حضرت زینتؓ کی وفات پر غسل اور کفن سے متعلق احکامات (قال النبي صلى الله عليه وسلم في ابنته الخ)
1:04:53 حدیث سے ماخوذ سات فوائد و نتائج: الف: میت کا غسل ، زندہ کے غسل کی طرح
1:05:4 ب: بیری کے پتوں اور ایک سے زیادہ مرتبہ غسل دینے کی حکمت
1:06:37 ج: کافور لگانے سے جسم میں تغیر و تبدل کے عمل کا رک جانا
1:07:38 د: دائیں جانب سے غسل دینا میت کے احترام کی وجہ سے
1:07:54 ر: شہید کے غسل اور کفن کا طریقہ
1:08:38 اہم بات: انسانی نفس کاجسم سے جدائی کے بعد معاملہ انتہائی حساس
1:10:38 س: مُحرِم کا غسل و کفن شہید جیسا
1:11:53 ص: کفن دینے کا بنیادی اصول
1:13:09 حدیث ۱۷: قیمتی کفن پہنانا رسمِ جاہلیت (لا تغالوا في الكفن الخ) میں ممانعت
1:14:27 حدیث ۱۸: جنازہ جلدی لے جانے کی تاکید (أسرعوا في بالجنازة الخ) اور حکمتیں
1:16:52 حدیث ۱۹: (فإن كانت صالحة الخ) کی وضاحت: بعض نفوس کے جسم بھی گفتگو کرتے ہیں۔
1:20:04 حدیث ۲۰: جنازے اور تدفین میں شرکت کا اجر و ثواب (من اتبع جنازة مسلم الخ)
1:22:50حدیث ۲۱: جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونے کا حکم لازمی سنت نہیں (إن الموت فزع الخ)
1:24:59 ۲۲: میت پر نمازِ جنازہ پڑھنے کے طریقۂ کار میں اختلاف اور حضرت عمرؓ کے دور میں چار تکبیرات پر اتفاق
1:27:45 نمازِ جنازہ میں سورتِ فاتحہ پڑھنا ابن عباسؓ کی روایت سے ثابت، لیکن اجماعِ صحابہ اس سے مختلف
1:28:47 نمازِجنازہ کی چند مسنون دعائیں
1:32:14 حدیث ۲۳: قبروں میں ظلمت و اندھیرا اور دعا مانگنے سے ان کا منور ہونا (إن هذه القبور مملوءة الخ) جنازے میں چالیس آدمیوں کی شرکت سے شفاعت (ما من مسلم يموت، فيقوم الخ) اور دوسری روایت میں سو آدمیوں کی تعداد(يصلي عليه أمة من المسلمين الخ)
1:33:38 حدیث کی تشریح: مقربین بارگاہِ الہی اشخاص کی دعا کی بہت تاثیر
1:34:52 حدیث ۲۴: جنازہ کی تعریف اور جنت و جہنم کا واجب ہونا، صحابہ (مسلمان جماعت) لوگوں پر گواہ ( هذا أثنيتم عليه خيرا الخ) کی تشریح
1:38:52 حدیث ۲۵: مُردوں کو برا بھلا کہنے کی ممانعت (لا تسبوا الأموات الخ ) کی تشریح نیز حدیث کا پسِ منظر
1:42:36 حدیث ۲۶: میت سے متعلق کے چند امور
1:44:05 حدیث ۲۷: لحد کھودنا مسلمانوں کی نشانی (اللحد لنا والشق لغيرنا ) کی وضاحت، نیز شقّ کھودنا بھی جائزپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 23 Jan 2024 - 123 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 122 /اَبوابِ نماز ، باب: 18 .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 122
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز ، آخری باب: 18 (حصہ اول)
جنائز کا بیان
(عرب و عجم کی مہذب اقوام کے ہاں مرض الوفاۃ سے لے کر موت (قبر) تک انسان کے ، اس کے اہل و عیال اور قوم سے متعلق امور )
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 09؍ دسمبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:13 باب کا خلاصہ اور پہلا علمی قاعدہ: نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے وقت عرب و عجم کی مہذب اقوام کے ہاں انسان کے مرض الوفاة سے لیکر موت (قبر) تک کے نو (۹) متفقہ اور فطری امور
5:02 آپؐ نے ان امور میں قابل اصلاح کو درست اور خراب چیزوں کا سقم دور کرکے تمام مراحل کا صحیح نظام استوار کیا۔
6:58 ان امور میں جن مصلحتوں کی رعایت ضروری ہے ان کا تعلق یا تو خود میت سے یا اس کے اہل و عیال سے یا قوم و ملت سے ہے۔
9:16 (۱) حالتِ مرض میں دنیا کے اعتبار سے انسان کو تسلی و رفاقت کی ضرورت
12:47 (۲) مرض کی وجہ سے جن کاموں سے وہ عاجز ہے ان میں معاونت و امداد کرنا، ان دو امور کی وجہ سے مریض کی عیادت لازمی و ضروری
14:03 عیادت سے مقصود مریض کی تکلیف کم کرنا ، مروجہ طریقۂ عیادت کی خرابیاں
15:02 انسان کو صبر و رضائے الہی کی تلقین اور آخرت کے اعتبار سے اس کے فوائد بتلانا
18:17 ۱۔ حالتِ نزع (مُحتَضَر) کے وقت انسان کو ترغیب دلانے اور اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس کے سامنے اللہ کا ذکر کرنا
20:46 ہر ملت کے سلیم الفطرت انسان دنیا میں اور مرنے کے بعد اپنی ناموری متمنی ہوتے ہیں ۔
27:17 ۲۔ مرنے کے بعد انسان کی اچھائیوں کو یاد کرنا، اس پر احسان کرنے کی مانند ہے۔
28:50 ۳ ۔ موت کے بعد بھی انسانی روح (نسمہ) کے حسِ مشترک میں عمر بھر کے علوم ، اوہام اور ظنون محفوظ اور سزا و جزا کا انحصار
35:55 انسان کو مرنے کے بعد ملاءِ اعلی کے علوم سے مطابقت کی صورت میں انعام اور مخالفت کی صورت میں عذاب
37:06 نیک بندوں کی ہمتوں کا حظیرة القدس میں داخل ہونے کے لیے پوری کوشش کرنا، اہل و عیال کا صدقہ و دعا کے ذریعہ میت کو نفع پہنچانے کے لیے تدبیرِ الہی کو متوجہ کرنا اور حظیرة القدس سے فیض کے نزول سے میت کو راحت و آسانی
41:16 مرنے کے بعد حظیرة القدس میں شامل ہونے والا انسان اپنے اہل و عیال کے لیے دعا کرتا ہے۔
43:31 میت کے اہل و عیال کے ساتھ دنیا و آخرت کے اعتبار سے تعاون کے امور
45:45 اہل خانہ کو صبر کی تلقین اور میت پر نوحہ کرنے اور جاہلیت کے رسم و رواج؛ رونے پیٹنے وغیرہ اجتماعیت کو توڑنے والے امور کی ممانعت
51:31 ان امور سے متعلق احادیث کی تشریح
52:07 حدیث ۱: بیماری یا دوسری کوئی مصیبت گنا ہ کے جھڑنے کا سبب (ما من مسلم يصيبه أذى من مرض الخ)
53:16 حدیث کی تشریح: مرض حجابِ نفس کو توڑنے، بهیمی نسمہ کو کمزور اور مَلَکی نسمے کو طاقت ور کرنے اور دنیوی زندگی پر اعتماد سے ایک گونہ اِعراض کرنے کا باعث
55:06 حدیث ۲: مرض اور بڑھاپا ، بہیمیت کی شدت میں کمی اور ملکیت میں اضافے کا سبب (مثل المؤمن كمثل الخامة الخ) کا راز
59:41 حدیث ۳: مرض اور سفر میں حالتِ صحت اور اقامت کے اعمال کا ثواب کا راز (إذا مرض العبد، أو سافر الخ) انسان کی ہمت، نیت اور دل کا عزم کا اعمال کی جزا میں کردار
1:04:17 حدیث ۴: شہداء کے پانچ یا سات قسم کے ہونے کا راز ( الشهداء خمسة، أو سبعة) بڑی غیر اختیاری مصیبت و تکلیف انسان کے گناہوں کو مٹانے اور شہادت کا مستحق بنانے کا باعث
1:07:40 حدیث ۵: مسلمان بھائی کی عیادت کا ثواب (إن المسلم إذا عاد أخاه المسلم الخ) کی تشریح: ریاست میں تعاون باہمی لازمی و ضروری اور عیادت تمدن کی ترقی کا ایک سبب
1:10:45 حدیث ۶: ابن آدم میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہیں کی، ایک تفصیلی روایت (يا ابن آدم مرضت فلم تعدني الخ)
1:13:23 شاہ صاحبؒ کا حدیث سے متعلق دو سوالوں کا اپنے فلسفے کی روشنی میں جواب
1:13:52 دو بنیادی سوال: اللہ کا اپنے بندوں سے مکالمے کی نوعیت کیا ہے؟
اور بندوں کی حاجات پوری نہ کرنے کے معاملے کو اپنی ذات کے ساتھ جوڑنے کا تعلق کیا ہے؟
1:15:17 شاہ صاحبؒ کا جواب: تمام انسانوں کی روحِ اعظم کو ذاتِ باری تعالی سے ایک خاص نسبت، مثال سے وضاحت
1:19:28 یہاں تجلی سے مراد تجلیِ کلی، انسان کا رب تبارک و تعالی سے فطری تعلق و اعتقاد کے ذریعہ تجلی کا اس پر ظہور، مثالوں سے وضاحت
1:25:37 روزِ محشر اللہ کی قیومیت کا ظہور، یہ مکالمہ اللہ کی تجلی اور روحِ اعظم کے مابین اور ہر انسان کی قیومیت اور مبلغِ کمال کی بنیاد پر مکالمہ
1:31:35 خلاصہ کلام: یہ تجلی اللہ کے احکامات اور حقوقِ انسانیت کے کشف و ظہور کا ذریعہ
1:32:49 حدیث کے تین لازمی تقاضے: انسانوں کے درمیان الفت و محبت، نوعِ انسانی کے کمالات کا حصول اور مفادِ عامہ پر مبنی پسندیدہ نظام کا قیام
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 23 Jan 2024 - 122 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 121 / باب: 17عید الفطر ... / مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 121
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب:17
عید الفطر والاضحی مقرر ہونے کا سبب ، مسنون طریقہ اور خاص اعمالمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 12؍ نومبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:16 عیدین سے متعلق بنیادی اصول و ضابطہ؛ ہر قوم کے تہوار کا ایک قومی دن،
0:50 جہالت کے دو دن نیروز اور مہرجان کے متبادل عید الفطر اور عیدالاضحی مقرر کرنے کا راز، تعظیمِ شعائر اللہ
10:52 عیدین کے موقع پر زیب و زینت اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی بڑائی اور دین کے غلبے کا اظہار بھی ضروری
13:25 عید الفطر میں فطرتِ طبعی و عقلی کا سامان
16:50 عید الاضحی شعائر اللہ کی عظمت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانی و مالی قربانی کے جذبے کی یادگار؛ چند وجوہات، مقاصد و اعمال
23:20 ملتِ ابراہیمیہؑ کی شان و شوکت اور دین کے غلبے کے لیے عید ین پر اجتماعِ عام کی تاکید
28:26 عید کے دن زیب و زینت اختیارکرنے کا حکم
31:04 عید ین کی نماز کا مسنون طریقہ، نماز میں تکبیرات کے دونوں طریقے سنت
34:51 عید الفطر کا مخصوص اور عید الاضحی کا منفرد حکم
38:23 قربانی کے جانور سے متعلق احکام و مسائل
46:09 قربانی کے وقت کے اَذکارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 23 Jan 2024 - 121 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 120 / باب: 16جمعہ کا بیان... / مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 120
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 16
جمعہ کا بیان
دینِ اسلام میں اجتماعیت کے فروغ میں نماز جمعہ کی اہمیت اور اس کی فرضیت کا اعلی علم اور چند ضروری امور
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 04؍ نومبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:15 گذشتہ باب کا خلاصہ اور اس باب سے ربط، اجتماعیت کے تین درجے
6:11 ہفتہ وار اجتماع اور نمازِ جمعہ کی فرضیت کی اصولی بات؛ ملتوں کے مابین ہفتہ وار سر گرمی پر اتفاق
8:38 ہر ملت کا اپنے اجتماع کے لیے دن مقرر کرنا اور ملتِ محمدیہؐ میں جمعہ کے انتخاب کی حکمت و راز
11:42 مدینہ منورہ میں جمعہ کی اجتماعیت حضور ﷺ کی آمد سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔
14:16 جمعہ کی فرضیت میں صحابہ کا شوق و ذوق اور حضور ﷺ پر اعلی علم کا نزول اور اس علم کے تین نکات:
۱۔ عبادات و طاعات کا صحیح ترین وقت وہ ہے جس میں اللہ کا قرب حاصل ہو اور دعائیں قبول ہوں۔
۲۔ یہ دن بڑے بڑے امور کی انجام دہی کا دن ہے جیسے جنتِ کثیف میں اللہ کی تجلیات کا ظہور
۳۔ جمعہ کا دن بڑے بڑے حوادث و واقعات کا دن ،جیسے تخلیقِ آدم ، جنت میں داخلہ اور قیامت کا وقوع وغیرہ
22:14 ہر جمعہ کے دن تمام جانور قیامت کے منتظر
23:54 حدیث میں اس اعلی علم کی طرف اشارہ؛ جمعہ کے دن کی انسانیت سے خاص نسبت
28:52 خلاصۂ کلام؛ اللہ نے امتِ محمدیہؐ کو جمعہ کی فضیلت سے مشرف کیا۔
32:15 جمعہ کے دن کی فضیلت ، خاص گھڑی کے تعین میں چند اقوال اور شاہ صاحبؒ کا موقف
38:46 ۱۔ جمعہ کے دن اجتماع کرنا واجب ، حدیث کا راز
43:40 ۲۔ غسل ، مسواک، خوشبو لگانا اور عمده کپڑے زیب تن کرنا مستحب، امام ابوحنیفہؒ کے ہاں غسل سنتِ مؤکدہ
52:23 ۳۔ جمعہ کا خطبہ خاموشی سے اور امام کے قریب ہو کر سننا ،لغو کاموں سے اعراض، مسجد میں جلدی آنا اور پیدل چلنے کی فضیلت
57:00 ۴۔ خطبہ جمعہ سے پہلے مسجد میں آنے والا شخص نوافل و سنن ادا کر لے، دورانِ خطبہ نماز پڑھنے کا اختلافی مسئلہ
1:00:44 ۵۔ لوگوں کی گردنیں اور کندھے پھلانگنے اور دو افراد کے درمیان تفریق کرکے جگہ بنانے کی ممانعت، اور آج کی صورتِ حال
1:05:20 ۶۔ کامل و مکمل آداب و مستحبات کی رعایت کے ساتھ جمعہ کے اجتماع میں شرکت اور اس کے تقاضوں کا لحاظ رکھنے والے کے لیے اجر و ثواب
1:06:32 نمازِ جمعہ کے لیے جلدی آنے والوں کے لیے ثواب کے مختلف درجات
1:08:24 علمی قاعدہ: ہر اجتماع جس میں دور دراز سے لوگوں شریک ہوں تو دو رکعتیں جہرا قراءت کے ساتھ اور وقفے کے ساتھ دو خطبے پڑھنا، جیسے جمعہ و عیدین
1:11:00 مسنون خطبہ جمعہ کا طریقہ اور اس کی حکمت
1:13:37 امت میں چودہ سو سال کے تسلسل سے جمعہ کے لیے نماز با جماعت اور ایک گونہ تمدن و شہریت کی شرط تلقی معنوی سے ثابت نیز کامل تمدن کے لیے سرکاری نمائندے کا اس اجتماع میں شریک ہونا ضروری
1:15:23 اجتماع کے لیے افراد کی تعداد اور جگہ (بستی و شہر) سے متعلق مختلف روایات نیز جمعہ ترک کرنے والا گناہ گار
1:20:54 حضرت علیؓ کا قول: قصاص لینا، جنگ لڑنا، حد جاری کرنا اور جمعہ پڑھنا حکمران کی ذمہ داری
1:21:49 شاہ صاحب کے نزدیک یہ لازمی شرط نہیںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 120 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 119 / باب: 15 نماز باجماعت ... / مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 119
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 15
نماز باجماعت کی اہمیت کے اساسی قاعدے، امامت صلوٰۃ کے قوانین، امامت کا زیادہ حق دار کون؟ نیز امام و مقتدی کے بنیادی امورمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 28؍ اکتوبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:13 سابقہ دروس سے اس باب کا ربط اور با جماعت نماز سے متعلق چار علمی قاعدوں کا بیان
0:50 پہلا علمی قاعدہ: عبادات (اچھی رسومات) کو عام کرنے کا نظام بنانا، بُرے رسم و رواج کے خاتمے کی بہتر حکمت عملی بنانا، ان کے فوائد
5:23 انسانی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے نماز کا بڑا اہم کردار ؛ اسے خوب پھیلانا اور لوگوں کا اکٹھے ہو اجتماع کرنا
7:33 دوسرا علمی قاعدہ: ملت میں اجتماعیت کے لیے سسٹم بنانے کی بنیادی ضرورت :
۱۔ ملت کے اعمال سیکھنے سکھانے کے لیے علماء اور ان کی اقتداء کرنا ضروری
۲۔ وہ لوگ جنہیں ملت کے اعمال پر کار بند رہنے کے لیے معمولی دعوت کی ضرورت
۳۔ سستی و غفلت کا شکار کمزور لوگ جن کے لیے باقاعدہ نظام بنانے کی ضرورت
11:24 تینوں طرح کے لوگ، مجمع عام میں اللہ کی عبادت کرنے کے حکم کے بنیادی اہداف و مقاصد
14:19 تیسرا علمی قاعدہ: اللہ کی طرف رغبت و شوق اور اس کے عذاب سے خوفزدگی کے استحضار کی حالت میں لوگوں کا اجتماع و اکٹھ برکات و رحمت و تجلیات کے نزول کا باعث
16:04 چوتھا علمی قاعدہ: امتِ محمدیہؐ کے لیے غلبۂ دین لازمی، جس کے لیے اجتماع ضروری
18:31 ان چار امور کے نتیجے میں جمعہ اور با جماعت ںماز کا حکم
19:40 عبادت کی اشاعت کے دو شعبے؛ محلے میں روزانہ اور شہر میں ہفتہ وار اجتماع کرنا ضروری ہے۔
22:14 اس باب کا دائرہ کار "اشاعت فی الحیّ" (محلے میں با جماعت نماز کا قیام)، اشاعت فی الحیّ کو ترجیح، ۲۷ درجے کی بشارت والی حدیث کا راز
27:34 بنیادی قواعد کے بعد احادیث کی تشریح، پہلی حدیث: (ما من ثلاثة في قرية أو بدو لا تقام فيهم الصلاة الخ) کا مفہوم اور اس کی حکمت
29:31 دوسری حدیث: (والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب الخ) میں جماعت میں شرکت نہ کرنے والوں کے خلاف ںسخت وعید کا راز نیز مریض اور حاجت مند کے لیے رخصت
33:08 جماعت میں عدم شرکت کے چار اَعذار کا بیان : ۱۔ سخت ٹھنڈی اور بارش والی رات، ۲۔ حاجت و ضرورت ۳۔ فتنے اور ۴۔ بیماری؛ مختلف روایات میں تطبیق
49:01 امامت کے قوانین و ضوابط، امامت کا زیادہ حق دار کون؟ اور امام و مقتدی سے متعلق بنیادی امور: احادیثِ رسول ﷺ کی روشنی میں وضاحت
50:22 حدیث ۰۱: (يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله فإن كانوا في القراءة سواء الخ) میں امامت کے لئے زیادہ موزوں شخصیت کی رہنمائی ، حدیث کی جامع تشریح
59:15 حدیث ۰۲: ( إذا صلى أحدكم للناس فليخفف الخ) میں امام کی ذمہ داری کا بیان
1:00:26 حدیث ۰۳: (إنما جعل الإمام ليؤتم به الخ) میں مقتدیوں کی ذمہ داریوں کا ذکر، حدیث کا پسِ منظر اور منسوخ حصے کی وضاحت نیز دونوں روایتوں میں جمع و تطبیق
1:10:27 حدیث ۰۴: (ليلني منكم أولو الأحلام والنهي الخ) میں نماز کی جماعت اور مجلس میں اہل عقل و دانش کو قریب کرنے کا حکم؛ اسرار و رموز
1:13:38 حدیث ۰۵: (ألا تصفون كما تصف الملائكة عند ربها) میں صف بندی کا تاکیدی حکم اور اہمیت،
1:15:17 حدیث ۰۶: (إني لأرى الشيطان يدخل من خلل الصف كأنها الحذف) احادیث کے اسرار پر شاہ صاحب کا تجزیہ
1:21:24 حدیث ۰۷: (لتسون صفوفكم، أو ليخالفن الله بين وجوهكم و أما يخشى الذي يرفع رأسه قبل الإمام أن يحول الله رأسه إلى رأس حمار) دونوں حدیثوں کی تشریح، ایک محدث کا واقعہ اور عمل کے مطابق سزا کی سخت وعید
1:27:58 حدیث ۰۸: (إذا جئتم إلى الصلاة ونحن سجود فاسجدوا الخ) حالتِ سجدہ میں نماز میں شریک ہونے کے لیے حکم
1:29:44 حدیث ۰۹: (إذا صليتما في رحالكما، الخ) گھر میں نماز پڑھ کر آنے والوں کو حضور ﷺ کا جماعت میں شریک ہونے کا حکم نیز حدیث کا راز اور دائرۂ کارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 119 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 118 / باب: 14 معذروں کی نماز... / مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 118
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 14
معذروں کی نماز، تین بنیادی عذر ، قصر نماز اور صلاةِ حاجت کا بیانمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 21؍ اکتوبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:19 باب صلاة المعذورين (معذوروں کی نماز)، نظامِ صلاة میں عذر کی بنیاد پر رخصتوں کا بیان
2:27 ہر فرد کو ذاتی صوابدید کے مطابق رخصت پر عمل کرنے کی اجازت نہیں
4:48 نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں نمازمیں رخصتوں کے اصول و ضوابط
9:07 نماز کے حوالہ سے تین بڑے عذر: سفر، مرض اور خوف
11:43۱۔ حالتِ سفر میں پہلی رخصت؛ نمازِ قصر کا حکم
13:29 تعداد کم کرنے کی رخصت حتمی و قطعی ہے، اس کی بنیادی حکمت
15:38 قصر کا حکم صرف حالتِ خوف کے ساتھ مختص نہیں، حدیث سے آیتِ قرآنی کی وضاحت و تشریح؛ نمازِ قصر ، اللہ کا عطا کردہ صدقہ نیز فقہا کے اختلاف کی نوعیت
20:26 حالتِ سفر میں دو رکعتیں ہی مکمل نماز؛ بنیادی دلائل
24:41 سفر کی مدت کیسے معلوم ہو گی؟ علمی قاعدہ؛ جامع مانع تعریف متعین کرنا ضروری، یہ اجتہادی عمل ہے۔
32:19 علمِ اصولِ فقہ کی اہم اور دقیق بحث؛ سفر کی القسمة و المثال سے اجتہادی عمل کا نمونہ اور اجتہاد کا طریقہ
48:28 شرعی سفر کی مدت و مقدار چار بُرد (اڑتالیس میل)
53:16 حالت سفر میں دوسری رخصت؛ ظهر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازوں کو جمع کرنا، بنیادی حکمت، جمع بین الصلاتین میں آئمہ کا اختلاف اور امام ابو حنیفہؒ کا موقف اور دلائل
1:03:17 حالت سفر میں تیسری رخصت؛ سنن و نوافل ترک کرنے کی اجازت
1:04:54 حالت سفر میں چوتھی رخصت؛ سواری پر نماز ادا کرنا
1:07:37 نماز قصر کرنے کا دوسرا عذر؛ خوف کی حالت اور نبی اکرم ﷺ سے مروی صلاة الخوف کے چار طریقے
1:15:51 نماز قصر کرنے کا تیسرا عذر؛ بیماری و مرض کی حالت اور اس سے متعلق احکامات
1:18:28 صلاةِ حاجت (کسی حاجت اور ضرورت کے وقت کی نماز)
1:18:57 بارش کے وقت گھر یا خیمے میں نماز پڑھنے کا جواز نیز عبادات سے متعلق جامع و واضح قانون
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 118 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 117 / باب: 12و 13 .. / مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 117
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 12 (آخری حصہ)
نوافل کی بقیہ اقسام؛ تحیة الوضوء، نمازِ تسبیح و کسوف و خسوف و استسقاء، سجدۂ شکر اور پانچ ممنوع اوقات کا بیان
و
باب: 13 عبادات و اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے پانچ امور
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 14؍ اکتوبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:15 نوافل کی آٹھویں قسم تحیة الوضوء، حدیث سے ثابت، حضرت بلالؓ کا عمل اور حدیث کا بنیادی راز؛ صفتِ احسان پیدا کرنے کے لیے یہ عمدہ نصاب
04:46 حضرت بلالؓ کا جنت میں حضور ﷺ کے آگے چلنے سے متعلق حدیث کی اصل حقیقت اور بنیادی راز: صفتِ احسان کے مختلف شعبے، منصبِ نبوت عام لوگوں کے مزاج کو سمجھنے سے متعلق نیز آپؐ کا بلالؓ پر تدلیِ ایمانی کے نزول کا مشاہدہ اور صفتِ احسان میں رسوخ کا بیان
23:29 نوافل کی نویں قسم نمازِ تسبیح، راز اور صفتِ احسان حاصل کرنے والوں کے لیے مسنون
25:49 نوافل کی دسویں قسم صلاةِ آیات (کسوف و خسوف اور اندھیرے طوفان کے وقت کی نماز): نماز کی مشروعیت کی وجوہات، یہ نماز دین کے شعائر میں سے ، نماز کے طریقے میں اختلاف کی نوعیت ، حضور ﷺ سے مروی طریقہ نیز حرم شریف میں اس کا معمول
41:01 نوافل کی گیارویں قسم نمازِ استسقاء (بارش مانگنے کے لیے نماز پڑھنا): طریقہ کار ، صرف دعا پر اکتفاء کرنا بھی کافی، دیہاتی کی درخواست پر خطبہ جمعہ کے دوراں آپ ﷺ کی دعا سے ہفتہ بھر بارش رہی، اس نماز کی مشروعیت کا راز اور دعا کے الفاظ
47:17 نوافل کی بارویں قسم نمازِ عیدین (فطر و اضحیٰ) کا بیان آگے مستقل باب میں آرہا ہے۔
48:01 نوافل کے باب میں سجدۂ شکر کو شامل کرنا بھی مناسب اور شکر کی حقیقت
49:32 یہ تمام مسنون نمازیں صفتِ احسان کی استعداد رکھنے والوں کے لیے مفید ، کمزور طبیعت والوں کے لیے نفع کم اور نقصان زیادہ
52:20 پانچ اوقات میں نماز کی ممانعت کا راز اور عصر کے بعد نماز پڑھنے میں اختلاف اور اصل بات
59:01 زوال کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت لیکن جمعہ کے دن حرمِ مکی میں اس کا استثناء، بعض کے ہاں تینوں ممنوع اوقات میں نماز پڑھنا جائز
1:03:41 باب: ۱۳ الاقتصاد في العمل ( عبادات و اعمال میں میانہ روی اختیار کرنا)
1:04:22 علمی قاعدہ: ۱۔ عبادات کے حوالہ سے سب سے بڑی منفی بات کسی عبادت سے انسان کا اکتا جانا
1:06:08 ملال النفس (نفسِ انسانی کی عبادت سے اکتاہٹ) صفتِ خشوع اور اخبات کی کیفیت ختم کر دیتی ہے۔
1:07:23 حدیث میں مذکور اہم قاعدہ: ہر چیز کی ایک شدید حرص ہوتی ہے اور ہر حرص والی چیز میں اکتاہٹ کا پیدا ہونا لازمی و ضروری ہے۔
1:09:51 نیکی کی سنت (طریقہ کار) مٹ چکی ہو تو اسے زندہ کرنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب؛ اس قاعدے کی روشنی میں اہم اصول نیز اکٹاہٹ دور کرنے کا طریقہ
1:12:45 ۲۔ ارتفاقاتِ لازمہ یا حقوقِ انسانیت ٹوٹنے کی صورت میں کثرت سے عبادت کی ممانعت؛ صفتِ احسان کے حصول کے لیے اقترابات و ارتفاقات میں اعتدال و توازن ضروری
1:20:50 ۳ ۔ تمام عبادات سے مقصود نفس کی استقامت اور اس کی کجی دور کرنا، نہ کہ ہر ہر عبادت کا احاطہ کرنا۔
1:22:55 استقامتِ نفس متعین مقدار سے حاصل ہوتی ہے، اور جس چیز کی نفس کو عادت ہو جائے تو لذت ختم ہو جاتی ہے۔
1:25:44 ۴۔ شریعت کے مقاصدِ جلیلہ میں سے ہے کہ انتہا پسندی اور تعمق کا دروازہ بند ہونا چاہیے، نیز تحریف پیدا ہونے کی وجہ
1:29:13 ۵۔ مشقت والی عبادات کو اللہ کی رضا کا ذریعہ سمجھنے کا عقیدہ بہت بڑی کوتاہی اور اللہ پر بہتان باندھنا ہے۔
1:34:19 دین بہت آسان، تشدد (اپنے اوپر سختی کرنا) دین داری کے راستے کی رکاوٹ
1:36:28 ان پانچ وجوہات کی وجہ سے اعمال میں میانہ روی اختیار کرنا کہ نفل عبادات میں کی کثرت کی وجہ اکٹاہت پیدا ہونے لگے، دین میں اشتباہ کا خطرہ ہو اور لازمی ارتفاقات و حقوقِ انسانیت چھوٹ جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی عبادات ممنوع
1:37:49 باب سے متعلق پانچ روایات کا معنی و مفہوم اور شاہ صاحبؒ کی تشریح
1:38:07 حدیث ۱: سب سے محبوب عمل جو ہمیشہ کیا جائے چاہے وہ چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، (أحب الأعمال إلى الله أدومها وإن قل) مسلسل عمل شوق کا باعث ، مزید فائدے
1:41:26 حدیث ۲: اپنی طاقت کے بقدر عبادت کرنا (خذوا من الأعمال ما تطيقون، فإن الله لا يمل حتى تملوا)
1:41:57 حدیث ۳: ایسی حالت میں عبادت کرنا کہ طاعت اور اکتاہٹ میں فرق و امتیاز ہو۔ (إن أحدكم إذا صلى وهو ناعس لا يدري لعله يستغفر، فيسب نفسه)
1:43:11 حدیث ۴: میں اعتدال کی حالت پیدا کرنے کی تاکید (فسددوا وقاربوا وأبشروا واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة)
1:45:22 حدیث ۵: رات کے نوافل، پارہ و ذکر وغیرہ کی قضا فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان کر لی جائے، (من نام عن حزبه، أو عن شيء منه فقرأه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل) حدیث میں آسانی اور میانہ روی کا معاملہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 117 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 116 /باب: 13 (حص).../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 116
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 12 (حصہ دوم)
نوافل کی بقیہ اقسام؛ نمازِ تہجد، نمازِ وتر، نمازِ تراویح، چاشت کی نماز، نمازِ استخاره اور نمازِ حاجت و توبہ کا بیان
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 07؍ اکتوبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:10 نوافل کی دوسری قسم تہجد کی نماز، اہمیت پر علمی قاعدہ: رات کا آخری پہر عبادت کے لیے مناسب و عمدہ اور رحمت کے نزول کا وقت نیز یہ وقت بہیمیت کو کمزور کرنے کے لیے بمنزلۂ تریاق کے ہے۔
7:58 تہجد کی نماز کے لیے اس وقت کی طرف عنایتِ الہیہ کی بہت زیادہ توجہ اور اس کا راز
8:56 حضرت سندھیؒ کے ہاں لیڈرشپ اور سیاسی قیادت کی تعلیم و تربیت کے لیے تہجد کاوقت انتہائی اہمیت کا حامل
9:31 تہجد کی نماز سے متعلق روایات کی تشریح، ۱۔ شیطان کا انسان کے سر پر تین گرہ لگانا، (يعقد الشيطان على قافية رأس أحدكم الخ) نیند کے غلبے کو دور کرنے کا علاج اور شاہ صاحبؒ کا مشاہدہ
16:26 ٢۔ رب كاسية في الدنيا الخ، طویل حدیث کا ایک حصہ، معنی و مفہوم
20:15 ۳ ۔ رات کے آخری وقت میں اللہ تبارک و تعالی کا آسمانِ دنیا پر نزولِ اِجلال (ينزل ربنا تبارك وتعالى إلى السماء الدنيا الخ) شارحینِ حدیث کی تشریح اور شاہ صاحب کی منفرد وضاحت؛ تجلی متجددہ کا وقت
26:02 ۴۔ رات کو حالتِ طہارت پر سونے والا شخص (من أوى إلى فراشه طاهرا يذكر الله الخ،) شاہ کی تشریح؛ تشبه بالملکوت اور تطلع الی الجبروت کی حالت کا جامع شخص کا معاملہ نیز تہجد ہر ایک کے لیے لازمی و ضروری نہیں
29:49 تہجد کی نماز سے متعلق نبی اکرم ﷺ سے مروی سنتیں؛ نیند سے بیداری کے بعد کی چار دعائیں، مسواک ، وضوء اور وتر سمیت گیارہ یا تیرہ رکعتیں پڑھنا
39:04 نمازِ تہجد کے کچھ آداب
41:50 رات کی اصل نماز، وتر کی نماز ، شروع رات میں پڑھنے کی اجازت، لیکن آخر رات میں پڑھنے کی ترغیب، نیز وتر کی حیثیت
46:42 وتر کے فضائل سے متعلق روایت اور اس کی تشریح
48:43 وتر کے اذکار و دعائیں
51:42 نوافل کی تیسری قسم ماہِ رمضان کا قیام ( تراویح) اور اس کی مشروعیت کا راز، فرشتوں سے مشابہت اختیار کرنے کے دو درجے، محسنین کے چار کام
54:17 تراویح تمام لوگوں کے لیے لازمی و ضروری نہیں، سنتِ مؤکدہ و کفایہ ؛روایات
55:03 پہلی حدیث: ،حضور ﷺ کا تین دن سے زائد نماز تراویح نہ پڑھانا، حدیث (ما زال بكم الذي رأيت من صنیعكم الخ) کی تفصیل و تشریح
1:01:05 دوسری حدیث: من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه، حدیث کا بنیادی راز
1:02:09 نمازِ تراویح سے متعلق صحابہ کا تین امور پر اجماع؛ مساجد میں جماعت کے ساتھ شروع رات میں بیس رکعات کی ادائیگی
1:03:59 تراویح بدعتِ حضرت عمر ؓ نہیں،احادیث اور اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے۔
1:05:23 بیس رکعات بھی اجماعِ صحابہ سے ثابت،حرمین میں بیس رکعات نمازِ تراویح کا معمول
1:06:52 تراویح کی بیس رکعات کی مشروعیت کی وجہ
1:08:46 نوافل کی چوتھی قسم چاشت کی نماز اور اس کا راز
1:12:00ضحی (چاشت) کی رکعات کے اعتبار سے تین درجے؛ کم از کم درجه دو رکعتیں
1:15:40 نمازِ چاشت کا ادائیگی کا کامل ترین وقت نیز یہ نماز بدعت نہیں
1:18:29 نوافل کی پانچویں قسم نمازِ استخارہ، زمانہ جاہلیت میں مشرکین کا فال نکالنے کا معمول تواس کی جگہ حضور ﷺ نے استخارہ کی دعا سکھلائی، حکمتیں اور فوائد
1:20:59 شاہ صاحب کے ہاں تمام امور میں کثرت سے استخارہ کا عمل فرشتوں سے مشابہت کے حصول میں تجربہ شدہ تریاق
1:21:34 نبی اکرمؐ سے مروی نمازِاستخارہ کے آداب، دعا اور طریقۂ کار
1:26:39 محققین اساتذہ کے ہاں دعائے استخارہ کا عمل، مروجہ استخارہ میں خرابیاں و خرافات جو خلافِ سنت ہیں۔
1:29:31 نوافل کی چھٹی قسم صلاةِ حاجت اور اس کی بنیاد؛ توحید الاستعانة ، دو رکعت نماز، جامع دعائے حاجت
1:35:31 نوافل کی ساتویں قسم صلاةِ توبہ اور اس کی اصل، دو رکعتیں اور مشائخ کے مختلف طریقےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 116 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 115 /باب: 11 و 12 (حصہ اول).../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 115
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 11 و 12 (حصہ اول)
نماز میں ممنوع امور ، مختلف درجات ، سجدۂ سہو و سجدۂ تلاوت اور نوافل کی پہلی قسم: سنتِ مؤکدہ کا بیان
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 30؍ ستمبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:17 باب ۱۱: نماز میں ممنوع امور اور سجدۂ سهو و سجدۂ تلاوت
0:37 علمی قاعدہ: نماز کا بنیادی مقصد اللّٰہ تعالیٰ کے حضور خشوع و خضوع ہے لہذا اس کے منافی تمام امور ممنوع ہیں۔
2:10 نماز میں خشوع کے منافی امور کے مختلف درجات کی پہچان شارع ﷺ کے ارشاد سے ہو گی۔
4:04 اس سلسلہ میں فقہا کا اختلاف
5:03 تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ عملِ کثیر جس سے نماز کی اصل ہیئت اور شکل بدل جائے ، سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
6:07 اس باب سے متعلق احادیث و روایات کی تشریح: ۱۔ إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس إنما هي التسبيح والتكبير وقراءة القرآن، نماز کے بنیادی امور کی تعیین اور کلامِ ناس کی ممانعت
7:36 ۲۔ إن في الصلاة لشغلاً، روایت کا پسِ منظر اور اس کی وضاحت
9:02 ۳۔ ، نماز میں سجدے کی مٹی کو ہموار کرنے والے صحابی کو حضور ؐ کی تنبیہ اور حدیث (إن كنت فاعلا فواحدة) کا پسِ منظر
11:25 ۴۔ حالتِ نماز میں خصر کی ممانعت (فإنه راحة أهل النار)
12:54 ۵۔ نماز میں ادھر ادھر متوجہ ہونا خشوع و خضوع کے منافی عمل (فإنه اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد)
13:38 ۶۔ نماز میں جمائی کو پوری طاقت سے روکنے کی تاکید (إذا تثاءب أحدكم في الصلاة فليكظم ما استطاع فإن الشيطان يدخل في فيه) اور شاہ صاحبؒ کی تشریح
15:25 ۷۔ نماز میں کنکر وغیرہ سے کھیلنا رحمتِ الہی کے حصول میں رکاوٹ (إذا قام أحدكم إلى الصلاة فلا يمسح الحصى، فإن الرحمة تواجهه)
16:19 ۸۔ نماز میں بندہ کی توجہ برقرار رکھنے سے اللہ بھی بندے کی طرف متوجہ، (لا يزال الله تعالى مقبلا على العبد وهو في صلاته ما لم يلتفت، فإذا ألتفت أعرض عنه) متعلقہ احادیث کی وضاحت
18:37 ۹۔ نماز میں چھینکنا، اونگھنا، جمائی، حیض، قے اور نکسیر بہنے کی شیطان کی جانب نسبت کا مفہوم ، حدیث (العطاس والنعاس والتثاؤب في الصلاة والحيض والقيء والرعاف من الشيطان) کی روشنی میں
19:36 نماز میں قولِ یسیر، بطشِ یسیر ، مشی یسیر، خوف سے رونا، اشارہ کرنا، سانپ بچھو مارنا، گردن موڑے بغیر دائیں بائیں دیکھنا اور جسم یا کپڑے پر لگی گندگی ختم کرنا؛ وغیرہ امور ، احادیث کی روشنی میں، پسِ منظر اور وضاحت
40:27 باب کی دوسری بحث سجدۂ سہو سے متعلق ہے، نیز احادیث کی روشنی میں سجدۂ سہو کے چار اصولوں کا بیان
41:28 نمبر 1- : إذا شك أحدكم في صلاته، ولم يدر كم صلى ثلاثا أو أربعا، الخ، حدیث کا پسِ منظر اور معنی
45:22 نمبر 2-: نماز میں رکن زائد ادا کرنے سے سجدۂ سہو لازم (أنه صلى الله عليه وسلم صلى الظهر خمسا فسجد سجدتين بعدما سلم الخ)
45:47 نمبر 3-: چار رکعات والی نماز میں آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، ذوالیدین کا مکالمہ، حدیث (أنه صلى الله عليه وسلم سلم في ركعتين، فقيل له الخ) کی تشریح
48:13 نمبر 4-: نماز میں تشہد کے لیے بیٹھنا بھول گیا تو سجدۂ سہو ضروری (أنه صلى الله عليه وسلم قام في الركعتين لم يجلس الخ)
49:11 سجدۂ سہو سے متعلق ایک اور روایت: إذا قام الإمام في الركعتين فإن ذكر قبل أن يستوي قائما فليجلس الخ، حدیث کا معنی و مفہوم
51:24 باب کی تیسری بحث سجدۂ تلاوت سے متعلق، سجدۂ تلاوت نبی کی سنت
53:02 جس آیت میں فرشتوں کا حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنا وارد ہوا ہے ، اس کو سجدۂ تلاوت میں شامل نہ ہونے کی وجہ
53:25 آیات سجدہ چودہ (۱۴)، حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کے ہاں سجدۂ تلاوت مستحب اور یہی امام شاہ ولی اللہؒ کا موقف
55:46 حدیث میں سورة النجم کی آیت پر حضورؐ کے ساتھ تمام جن و انس کا سجدہ کرنا، ایک بوڑھے کا اس عمل سے انکار اور اس کی سزا، نیز اس حدیث سے سجدۂ تلاوت کے وجوب پر استدلال اور شاہ صاحبؒ کی وضاحت
1:00:25 سجدۂ تلاوت کے اذکار
1:02:58 باب ۱۲: نوافل کا بیان
1:03:50 عنایتِ تشریعیہ میں قانون کے نفاذ کا بنیادی ضابطہ، فرائض کے ساتھ ساتھ طاعت کو کامل و مکمل کرنے والے نوافل بھی شامل
1:08:26 نوافل کی پہلی قسم: رواتب الفرائض (سنتِ مؤکدہ) کا اصل بنیادی قانون
1:13:30 سننِ مؤکدہ کی رکعات دس یا بارہ ، نماز کی اصل رکعات گیارہ، نفل میں دس یا بارہ کا اضافہ کرنے سے مقصود مجموعی طور پر رکعات کو وتر بنانا
1:16:02 نوافل کی پہلی قسم سے متعلق روایات کی وضاحت،۱۔ جنت میں گھر بننے کا مطلب رحمت کے خاص حصے کا میسر آنا (بنى له بيت في الجنة)
1:17:56 ۲۔ فجر کی دو رکعتوں کے دنیا و ما فیہا سے بہتر ہونے راز (ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها)
1:19:51 ۳۔ فجر کے بعد اعتکاف کی حالت اور اشراق کے نوافل (من صلى الفجر في جماعة، ثم قعد يذكر الله الخ)
1:20:49 ۴۔ ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھنے کا راز؛ زوال کے فوراً اللہ کی خاص رحمت کا نزول (تفتح لهن أبواب السماء)
1:23:32 حدیث میں جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعات مسجد میں اور دو رکعات گھر میں پڑھنے کے فرق کی بنیادی حکمت
1:27:46 عصر سے پہلے سنتِ غیر مؤکدہ اور مغرب کے بعد دو سنتِ مؤکدہ اور چھ رکعات سنتِ غیر مؤکدہ (اوابین) ہیں، اور فجر کے بعد کوئی رکعت پڑھنا مسنون نہیں، البتہ طلوعِ آفتاب اشراق کے نفل ثابت ہیں۔
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 115 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 114 /باب: 10 کامل و مکمل نماز.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 114
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 10
کامل و اکمل ترین نماز کا طریقہ کار، ارکان، اَذکار، آداب و مستحبات اور ان کے بنیادی رازمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 23؍ ستمبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:17 سابقہ درس میں نماز کی دو حدوں کا ذکر
1:46 اس باب میں نماز کی کامل ترین حد؛ مقدار اور کیفیت (آداب و مستحبات) کا بیان
02:18 نماز کی کیفیت سے مراد: اذکارِ ماثوره، نماز کی مختلف ہیئات و شکلیں اور انسان کا نماز کی حالت میں اپنا مواخذه و محاسبہ کرنا
3:08 مواخذه کرنے کی تین شکلیں: ۱۔ نماز میں ایسی کیفیت و حالت ہو کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے (اللہ کی حضوری کی کیفیت) ۲۔ اپنے آپ سے باتیں نہ کرے (یعنی حدیثِ نفس کی ممانعت)، ۳۔ ناپسندیده ہیئات و حرکات سے باز رہے۔
5:23 نماز کی کیفیت میں اذکار و ہیئات؛ نماز کی شکلوں سے متعلق صحابہ سے مروی احادیث
7:55 نماز میں مستحب ہیئات کے چند پہلو: ۱۔ اخبات الی اللہ (خشوع و خضوع پیدا ہونا): اعضا و اطراف کو سمیٹ کر کھڑا ہونا ، اللہ کے ڈر اور خوف کا استحضار اور خضوع سے منافی امور کی ممانعت
10:46 ۲۔ قلب و زبان ذکرِ الہی سے لذت اندوز ہو اور باقی تمام چیزون پر اسے ترجیح دے۔
13:39 ۳۔ نماز میں وقار کی کیفیت ، محاسن و عادات اور عمدہ خصائل کی ہیئت و صورت پیدا کرنا
18:14 ۴۔ اطمینان و سکون اور ٹھہراؤ کے ساتھ نماز ادا کرنا
20:26 اذکار کے چند اصول: 1. نماز میں بیداری کی حالت 2. اللہ کا ذکر جہراً 3. نماز کی ہر حالت و ہیئت میں ذکر کی پابندی جیسے تکبیراتِ انتقال
23:26 نماز کے مکمل و کامل طریقہ کار کی تفصیلات اور اسرار و رموز: رفع یدین کی حکمت، ثنائے الہی سے متعلق حضور ﷺ سے چار طرح کے مروی الفاظ اور ان کی وضاحت
33:54 تعوذ (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) کا راز اور مختلف الفاظ
38:32 بسملہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) آہستہ پڑھنا، حضور ﷺ کا شروع نماز میں پڑھنے کا معمول، بنیادی راز اور فائدہ
43:24 سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ سورت ملانے کا راز؛ فاتحہ کی ہر آیت میں آخری حرف پر مد پڑھنا اور ٹھہرنا مسنون، ظہر و عصر میں آہستہ قراءت اور فجر و مغرب و عشا میں جہری قراءت
45:23 مقتدی امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کے اختلافی مسئلے کی حقیقت اور قراءت کرنے اور نہ کرنے کی روایات میں تطبیق اور بنیادی راز
51:28 ظہر و عصر کی نماز میں آہستہ قراءت کا راز
52:30 حدیث میں فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہنے کا حکم اور اس کا بنیادی راز
54:21 نبی اکرم ﷺ سے نماز میں دو معمولی وقفے مروی اور ان کی حکمت، لیکن یہ مستقل سنت نہیں
58:12 کامل ترین نماز میں قراءت کی مقدار اور اس کا راز؛ آپ ﷺ کا فجر میں طویل قراءت ۶۰ سے ۱۰۰ آیات کی تلاوت کا معمول؛ بنیادی راز
59:34 عشاء کی نماز میں سبح اسم ربک الاعلی یا اس کی مثل دوسری سورتیں پڑھنے کا معمول، حضرت معاذؓ کو عشاء میں سورتِ بقرہ پڑھنے پر حضورؐ کی تنبیہ
1:02:09 ظہر میں فجر والی قراءت اور عصر میں عشاء والی قراءت کا معمول وارد نیز بعض روایات میں مغرب میں بھی عصر والی سورتیں اور بعض روایات میں قصارِ مفصل سے تلاوت کا حکم
1:02:43حضور اقدس ﷺ سے نماز میں طویل اور مختصر دونوں طرح قراءت کا ثبوت ملتا ہے نیز امام کو مختصر قراءت کرنی چاہیے۔
1:04:00 بعض مخصوص نمازوں میں مخصوص سورتیں پڑھنے کا معمول لیکن یہ پڑھنا لازمی و ضروری نہیں
1:07:53 حالتِ نماز میں بعض آیات کا جواب دینے کا اختلافی مسئلہ، اولیاء اللہ کا نوافل میں معمول، چند آیات کا ذکر
1:10:44 رکوع میں جاتے ہوئےاور اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا، شاہ صاحبؒ کے ہاں امام شافعیؒ کے مذہب کو ترجیح، البتہ سجدے میں جاتے ہوئے رفع یدین نہ کرے۔
1:11:32 رکوع میں جاتے ہوئےاور اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنے کا راز؛ تعظیمی فعل، لیکن رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں مسنون
1:12:39 رفع یدین میں صحابہ کا شدید اختلاف ،امام شاہ ولی اللہؒ کو رفع یدین پسند البتہ عوام کو فتنہ و فساد میں مبتلا کرنا درست نہیں، انہدامِ کعبہ سے متعلق حدیثِ عائشہ سے استدلال
1:17:30 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اپنے ذوق کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ترک رفع یدین کے قول پر تاویل
1:21:21 سجود میں عدم رفع یدین کا راز
1:22:13 رکوع کا طریقہ کار اور مسنون ذکر و اذکار
1:25:16 قومہ کا طریقہ کار اور چار مسنون دعائیں
1:28:36 نماز فجر میں قنوت پڑھنے کااختلافی مسئلہ، قنوت پڑھنا یا نہ پڑھنا دونوں سنت
1:33:08 سجدے کا طریقہ کار اور چھ ماثور دعائیں
1:38:15 ۱۔ حدیث: فأعني على نفسك بكثرة السجود، سجدے کے فضائل: سجدہ انتہائی تعظیم والا عمل، مومن کی معراج
1:39:17 ۲۔ " أمتي يوم القيامة غر من السجود الخ " ان احادیث کی تشریح
1:40:54 دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ کا طریقہ اور اذکار
1:42:29سجدوں کے بعد قعده کا طریقہ اور ترپن (۵۳) کا عدد بنانا
1:44:38 شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا راز
1:45:08 امام ابو حنیفہؒ کے ہاں انگلی سے اشارہ نہ کرنے کی روایت غلط
1:46:32 تشہد کے صیغوں میں اختلاف و تطبیق نیز درود و سلام اور دعا کے الفاظ کا بیان
1:49:30 نماز مکمل کرنے کے بعد کی دعائیں
1:52:40 یہ اذکار سنتیں اور نوافل ادا کرنے سے پہلے پڑھنا مستحب اور اولی
1:53:35 نماز کے بعد اللهم انت السلام الخ کی مقدار بیٹھا رہنا، حضرت عائشہؒ کے اس قول کے احتمالی وجوہات
1:55:15 سنتیں گھر میں سونے والے کمرے میں ادا کرنا پسندیدہ عمل؛ رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 114 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 113 /باب: 09 نماز کے لازمی و.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 113
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 09
نماز کے لازمی و ضروری امور (طریقہ، ارکان و اجزاء اور رکعتوں کی تعداد) کے اسرار و رموز
مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 16؍ ستمبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:17 نماز کی بنیاد تین چیزیں، تمام امتوں کا اجماع و اتفاق اور تین امور کے علاوہ عذر کے وقت رخصت
3:53 نبی اکرم ﷺ نے نماز کے عملی نظام کی شرعی حد کے دو دائرے مقرر فرمائے۔
4:47 پہلی حد میں تین چیزیں ضروری اور احادیث کی روشنی میں اساسی امور کی وضاحت
7:03 حدیث۰۱: ارْجع فصل فَإنَّك لم تصل، حضور ﷺ نے کامل و مکمل وضو اور اطمینان کے ساتھ ارکان کی صحیح ادائیگی کے ساتھ نماز کا طریقہ بتایا۔
12:04 حدیث ۰۲: ۱۔ لَا صَلَاة إِلَّا بِفَاتِحَة الْكتاب ۲۔ لَا تجزى صَلَاة الرجل حَتَّى يُقيم ظَهره فِي الرُّكُوع وَالسُّجُود میں ان امور کا ذکر جو بطور حدِ اول نماز کے ارکان ہیں۔
13:38 ۳۔ وہ امور بھی پہلی حد میں شامل جنہیں شارع ﷺ نے نماز سے تعبیر کیا۔
15:21 ۴۔ وہ امور جن کا ہونا اور نماز میں ان کی ادائیگی بے حد ضروری
16:50 ۵۔ نماز کی وہ لازمی و ضروری چیزیں جن پر تمام مسلمانوں کا اتفاق، حدِ اول میں شامل
17:24 نبی اکرم ﷺ و صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ و ائمۂ مسلمین کی نماز کا مکمل طریقۂ کار ، اسی طریقہ نماز میں تواتر و توارث، فقہاء کرام میں کچھ جزوی اختلاف ہے ۔
25:06 نماز کی حالت میں دل کے خشوع و خضوع کے مخفی و پوشیدہ معاملہ کا نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دو پہلوؤں (قبلہ رخ اور نیت) کے ذریعہ انضباط
28:20 اللہ تبارک و تعالی ہر قسم کی جہت سے پاک و منزه و بالاتر ذات، بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کی حکمت
35:14 تکبیرِ تحریمہ کے لیے موزوں ترین لفظ "الله اکبر "، نماز میں خشوع و خضوع کے قائم مقام ؛استقبال قبلہ اور تکبیرِ تحریمہ کی چند وجوہات اور جسم کے اعضا میں تعظیم کے تین پہلو : قیام، رکوع اور سجدہ
35:14 رکوع؛ دینِ اسلام کی خصوصیت، اصل مقصود سجدہ، قیام و رکوع اس کے ذرائع اور سجدے میں تکرار کی حکمت
39:28 نماز (فرائض و سنن و نوافل) میں اللہ کے ذکر کے لئے وقت متعین کرنے کا راز
41:01فرض نماز میں ذکر اللہ (دعاؤں)کے الفاظ اور مقدار شارع کی طرف سے متعین جبکہ نفل میں لوگوں کو اختیار
42:24 نماز میں سورتِ فاتحہ(جامع ترین دعا) کی تعیین کا راز اور فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کی حکمت؛ سورت مکمل کلام
45:28 نماز میں کلامِ تام کی تلاوت، حضرت شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کا معمول اور اس کی پابندی
46:30 ہر سورت کی ابتداء و انتہاء خاص معنویت اور عمدہ اسلوب رکھتی ہے۔
48:23 شارع ﷺ نے قیام ، رکوع اور سجدہ کے لیے الگ الگ اُمور منضبط فرمائے۔
52:06 نماز کی حالت میں " قومہ" اور دو سجدوں کے درمیان میں "جلسہ" کی مشروعیت کا راز ،نیز رکوع و سجدہ میں اطمینان لازمی و ضروری
54:59تسلیم (السلام علیکم و رحمةالله و برکاته) کی مشروعیت کی حکمت نماز مکمل کرنے کو تعظیم سے مکمل کرنا ہے۔
57:07 التحیات کا طریقہ، حضور ﷺ پر درود و سلام، اپنے لئے اور تمام صالحین کے لیے سلامتی کی دعا کا راز
1:00:12 نماز میں منقول و ماثور اَدعِیہ پڑھنا ضروری نیز دعا مانگنے کے آداب
1:02:25 خلاصہ کلام؛ نماز اس کیفیت سے پڑھنا بہت بڑی غنیمت اور انسانی عقل میں اس سے عمدہ اور بہتر طریقے کا تصور موجود نہیں
1:04:14 نماز کی ایک رکعت کی بجائے کم از کم دو رکعتوں کی حکمت ۔
1:06:40 دائرۂ خَلق میں ہر چیز کا جوڑا جوڑا، تو اس کے تابع دائرۂ تشریع میں بھی دو رکعات کی رعایت
1:08:27 مغرب میں تین رکعتوں کا راز، کل ۱۱ رکعتیں، اللّٰہ کو وتر (طاق) پسند ہے ، حضر میں چھ رکعتوں کا مزید اضافہ اور ۱۱ کا عدد وتر حقیقی کے زیادہ مشابہ
1:13:39 نمازوں میں تعدادِ رکعات کی تقسیمِ کارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 113 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 112 /باب: 06 تا 08 نمازی کا.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 112
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 06 تا 08
نمازی کا لباس، قبلہ اور سترہ سے متعلق احکاماتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 09؍ ستمبر2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
باب: ثِيَاب الْمُصَلِّي (نمازی کے کپڑے)
0:00 آغاز درس
0:25 عملی قاعدہ: لباس کے فوائد:
۱۔ لباس انسانوں کو جانوروں سے ممتاز کرتا ہے
۲۔ انسان کی سب سے عمدہ حالت کا اظہار
۳۔ پاکی کی معنویت کا حصول
۴۔ نماز پڑھنے میں تعظیم و حرمت کا لحاظ
۵۔ رب العالمین سے مناجات و دعا کے وقت ادب کا لحاظ
۶۔ لباس واجبِ اصلی
۷۔ نماز پڑھنے کی لازمی شرط
2:44 شارع ﷺ نے نماز کی حالت میں مرد و عورت کے اعتبار سے لباس کی دو حدیں مقرر فرمائیں، اس کی بنیادی حکمت
لباس سے متعلق روایاتِ باب کی تشریح
8:08 حدیث ۰۱: وَسُئِلَ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الصَّلَاة فِي ثوب وَاحِد الخ،دو حدیثوں میں تعارض اور ان کا حل: حضور ﷺ سے لباس کی پہلی حد کا سوال اور حضرت عمر فاروقؓ نے لباس کی دوسری حد بیان کی۔
12:12 حدیث ۰۲: إِنَّمَا مثل هَذَا مثل الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مكتوف، کی حکمت : بال باندھ کر رکھنا مرد کی خوبصورتی کے منافی، صورت و لباس میں بگاڑ اور موجبِ کراهت
15:13 حدیث ۰۳: قَوْله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خميصة لَهَا أَعْلَام، پھول دار ، تصویر والے کپڑوں اور ریشمی جبہ، تینوں روایات کی تشریح: نمازی کو ہر ایسی چیز جس سے نماز میں غفلت پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا تکمیلِ نماز میں رکاوٹ پیدا کرئے، اسے ہٹانا
20:08 ۰۴:وَكَانَ الْيَهُود يكْرهُونَ الصَّلَاة فِي نعَالهمْ وخفافهم، یہود کے ہاں جوتے، موزے اور جرابیں پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ، یہود کی مخالفت کی وجہ اور صحیح بات یہ ہےکہ جوتے پہن کر یا ننگے پاؤں دونوں طرح نماز پڑھنا برابر ہے۔
25:29 حدیث ۰۵: نهى النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن السدل فِي الصَّلَاة، نماز میں سدل (کپڑا لٹکانے کی ممانعت)، اس کی تشریح کے دو پهلو، اشتمال الصما قبیح، عُرف کے اعتبار سے با وقار لباس میں نماز پڑھنامستحسن جیسےحضور ﷺ نے شلوار کو پسند فرمایا
35:05 باب القبلة (قبلے کے حوالےسے بنیادی امور)
36:31 خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا راز
40:24 بنی اسرائیل کا کعبہ و قبلہ بیت المقدس تھا۔
41:30تحویلِ قبلہ کی حکمت
44:02 قدیم زمانے سے مُضر (اَوس و خَزرج) اور عدنان (اہل مکہ) کی آپس میں عداوت اور حضور ﷺ کا اہل مدینہ کے مزاج کی رعایت
47:52 اَوس و خَزرج کے ہاں یہود کی علمی برتری تسلیم شدہ اور ان کی علوم کی اتباع ، حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے وضاحت
50:11 بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے حکم کی ایک اور حکمت
52:08 بیت اللہ الحرام کی طرف دوبارہ رخ کرنے کا حکم اور اس کی بنیادی وجوہات
58:33 سوال کا جواب
1:01:22 باب الستْرَة (سترہ سے متعلق احکامات) حدیث۰۱: لَو يعلم الْمَار بَين يَدي الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ الخ، نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کا راز، اہم اصول کی نشان دہی اور نمازی کے آگے سے گزرنا اس کے لیے تشویش پیدا کرنے کا ذریعہ
1:10:41 حدیث ۰۲: تقطع الصَّلَاة الْمَرْأَة وَالْحمار. وَالْكَلب الْأسود، کا مفہوم اور بنیادی حکمت: عورتوں کی طرف التفات سے مناجات الہی میں رکاوٹ پیدا ہونے کا باعث، کتااور گدھا بھی شیطان کی طرح
1:15:51 حضرت عائشہؓ کے پاس جب یہ روایت پہنچی تو انہوں کا ردعمل اور ان کا موقف، حفّاظِ صحابہ ، فقہاء کے ہاں یہ حدیث معمول بہ نہیں بلکہ منسوخ ہے۔
1:18:39 شاہ صاحبؒ کی دونوں روایتوں میں تطبیق: حضرت عائشہؓ کی روایت سے نسخ ثابت نہیں، دونوں روایتوں میں تلقی کے الگ الگ طریقوں کی نشان دہی ہو رہی ہے۔
1:21:55 حدیث ۰۳: إِذا وضع أحدكُم بَين يَدَيْهِ مثل مؤخرة الرحل فَليصل الخ، نماز کی حالت میں امام کے آگے سترہ لگانے کا حکم اور حکمتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 112 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 111 /باب: 04 تا 05 اذان کی.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 111
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 04 تا 05
اذان کی اہمیت، طریقہ کار اور فضیلت اور مساجد کے فضائل و آدابمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 02؍ ستمبر 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:13 باب: اذان سے متعلق اصول و ضابطے
0:57 نماز کی جماعت کے لیے لوگوں کو اطلاع دینے کے طریقوں پر حضور کی صحابہ سے مشاورت
5:31 اذان کے واقعے سے ماخوذ پانچ قوانین
10:22 اذان محض نماز کا اعلان نہیں بلکہ شعائر اللہ اور فکر و نظریے کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کا عمل
12:21 علی رؤوس الاَشهاد قوم کا اس اعلان پر لبیک کہنا دینِ اسلام کو دل و جان سے تسلیم کرنے کی واضح دلیل
13:28 حکمتِ الہیہ کے تحت اذان میں اللہ کی بڑائی کا اعلان اور دو گواہیوں کے بعد نماز و فلاح کی دعوت
14:33 اذان و اقامت کے دو طریقے ،صحیح ترین اور عہدِ نبیؐ میں معمول بہا طریقہ
19:24 اذان کے الفاظ میں اختلاف کی نوعیت
19:55 حدیث 01: الصَّلَاة خير من النّوم الصَّلَاة خير من النّوم، صبح نیند کے غلبے کی وجہ سے فجر کی اذان میں ان الفاظ کا اضافہ کیا گیا۔
20:49 حدیث 02: من أذن فَهُوَ يُقيم، مؤذن کو اقامت کہنے کا ترجیحی حق، خِطبہ نکاح سے وضاحت
22:25 اذان کے فضائل: ۱۔ شعائرِ اسلام میں سے ہے۔
23:09 ۲۔ نبوت کے شعبوں میں سے ایک شعبہ
اذان کی فضیلتوں سے متعلق احادیث کی تشریح
25:03 حدیث : ۱۔ المؤذنون أطول النَاس الخ، ۲۔ الْمُؤَذّن يغْفر لَهُ الخ، مؤذنین کی قیامت کے دن گردنیں لمبا ہونے کا راز،
27:40 حدیث : من أذن سبع سِنِين الخ، سات سال تک خالصتاً اللہ کی رضا کی غرض سے مسلسل اذان دینے والے کی فضیلت کا راز
29:47 حدیث قدسی: قَول الله فِي رَاعى غنم فِي رَأس شظية الخ، پہاڑ کی چوٹیوں پر اذان کے ذریعے اللہ کا نام بلند کرنے والا، اعمال کا اعتبار ان کے دواعی سے جڑا ہے۔
31:48 اذان کا جواب دینے کا راز (چوتھی بات)
35:32 حدیث: لَا يرد الدُّعَاء بَين الْأَذَان وَالْإِقَامَة، اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں دعا رد نہ ہونے کا راز
36:55 حدیث: وَإِن بِلَالًا يُنَادي بلَيْل الخ، رمضان میں حضرت بلالؓ اور حضرت ابن ام مکتومؓ دونوں کی اذان کا فرق اور حدیث کی تشریح
41:00 حدیث: إِذا أُقِيمَت الصَّلَاة فَلَا تأتوها تسعون، وأتوها تمشون، اقامت کے وقت نماز کے لیے ڈورنے کی ممانعت کی حکمت
42:57 باب: مساجد سے متعلق امور
43:18 مسجد بنانے، اسے لازم پکھڑنے اور نماز کے انتظار کے لیے اس میں بیٹھنے کے فضائل سے متعلق احادیث:
43:38 (۱) مسجد شعائرِ اسلام میں سے، حدیث (إِذا رَأَيْتُمْ مَسْجِدا، أَو سَمِعْتُمْ مُؤذنًا الخ)
44:18 (۲) نماز پڑھنے ، عبادت گزاروں کے اعتکاف کی جگہ، رحمت کے نزول کا مکان، خانہ کعبہ کے مشابہے، حدیث: ۱۔ من خرج من بَيته متطھرا الخ، چاشت کے نوافل کی فضیلت ۲۔ إِذا مررتم الخ، ساری مسجدیں ریاض الجنة ہیں،مسجدِ نبوی میں شور شرابہ ، گالم گلوچ، بے ادبی اور بے حرمتی کرنے کا عام رویہ اور اس کی سخت ممانعت
50:45 (۳) مسجد میں جانے کا بنیادی مقصد
53:06 (۴) مسجد بنانے میں شرکت اور معاونت کا اجر و ثواب
مساجد کے باب سے متعلق روایات کی تشریح
53:37 ۱۔ حدیث: من غَدا إِلَى الْمَسْجِد الخ، صبح و شام مسجد جانے سے ملکیت مضبوط اور بہیمیت کمزور
54:12 ۲۔حدیث: من بنى لله مَسْجِدا الخ، عمل (مسجد کی تعمیر) کے مشابه جزا (جنت میں گھر)
54:49 ۳۔ وضو کی حالت برقرار رہنے تک ثواب کی شرط
55:30 ۴۔ دو اہم ترین مسجدوں (مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی) کی فضیلتیں: ا۔ حرمین شریفین میں آنے والوں کے لیے موکل فرشتوں کا دعا مانگنا
56:37 ب۔ حرمین شریفین کی تعمیر، تعظیمِ شعائر اور اعلائے کلمة اللہ
56:58 ج۔ انبیاء کی تاریخ سے واقفیت کی جگہ
57:33 ۵۔ حدیث: لَا تشد الرّحال الخ، تین مساجد کے علاوہ عبادت کے قصد و ارادے سے جانے کی ممانعت کا راز
1:02:30اہم بات: کسی قبر یا ولی کی عبادت کی جگہ پر عبادت کے قصد و ارادے سے جانے کی ممانعت
1:04:33 مسجد کے آداب کی احادیث سے وضاحت
مسجد کے آداب سے متعلق روایات کی تشریح
1:09:09 حدیث 01: ۱۔ من سمع رجلا ينشد ضَالَّة الخ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے والے کے لیے حضورؐ کی بدعا ۲۔ إِذا رَأَيْتُمْ من يَبِيع أَو يبْتَاع فِي الْمَسْجِد الخ مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت ۳۔ وَنهى عَن تناشد الْأَشْعَار الخ، شعر و شاعری، قصاص اور حدور جاری کرنے کی ممانعت
1:11:23 ان روایات کی تشریح:
1:15:32 حدیث 02: إِنِّي لَا أحل الْمَسْجِد لحائض وَلَا جنب، حائضہ و جنبی کے لیے مسجد میں داخلے کی ممانعت
1:16:23 حدیث 03: من أكل هَذِه الشَّجَرَة المنتنة الخ، لہسن اور پیاز کھا کر مسجد میں نہ جانے کی وجہ
1:19:04 حدیث 04: إِذا دخل أحدكُم الْمَسْجِد فَلْيقل الخ، رحمت (روحانی و اخروی نعمتیں) اور فضل (دنیاوی نعمتیں) میں لاجواب فرق
1:22:13 حدیث 05: إِذا دخل أحدكُم الْمَسْجِد فليركع الخ، تحیة المسجد کے دو نفلوں کی مشروعیت کا راز
1:23:39 حدیث 06: ۱۔ الأَرْض كلهَا مَسْجِد الخ، ۲۔ وَنهى أَن يُصَلِّي الخ سات مقامات پر نماز پڑھنے کی ممانعت کی تشریح
1:26:09 المزبلة والمجزرة (پیشاب و پاخانے و روڑی والی جگہ) اور مقبرے میں نماز کی ممانعت کا راز
1:28:42 حمام اور معاطن الإبل (اونٹوں کے باڑے) میں ممانعت کا راز
1:29:46 قارعة الطریق (بڑی شاہراہ) پر نماز نہ پڑھنے کی وجہ
1:30:22 بیت اللہ کی چھت پر نماز کی ممانعت
1:31:07 ارضِ ملعونہ میں نماز پڑھنا منعپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Tue, 16 Jan 2024 - 111 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 110 /باب: 03 (بقیہ حصہ) نماز .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 110
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز باب: 03 (بقیہ حصہ)
نماز کے لیے پانچ اوقات متعین کرنے کی بنیادی حکمت، اوقات کی چار اقسام اور روایاتِ باب کی تشریحمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26؍ اگست2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
1:19 سابقہ درس کا ماحصل
2:09 نماز کے لیے پانچ کے اوقات متعین کرنے کا بنیادی راز:
4:35 دن رات میں چار اوقات (طلوعِ آفتاب، زوال، غروب اور نصفِ لیل) عبادات کے لیے زیادہ موزون و مستحق
6:02 چار اوقات کی چند خصوصیات: اللہ کی روحانیت کا ظہور و پھیلاؤ، فرشتوں کے نزول کا وقت ، انسانی اعمال کی بارگاہِ الہی میں حضوری اور دعاؤوں کی قبولیت کا وقت
7:21 جمہور انسان __جن پر ملاءِ اعلی سے علوم و معارف کا نزول ہوتا رہا ہے__ کے ہاں یہ چار اوقات تسلیم شدہ ہیں۔
9:18 آدھی رات کے وقت لوگوں کے لیے نماز پڑھنا عملاً مشکل اور تکلیف دہ، تو اصل تین اوقات مقرر ہوئے: فجر، عشی (زوال) اور غسقِ لیل (غروبِ شمس) کا ذکر قرآن کی آیت میں
11:43 پہلا اساسی اصول: عشا کی نماز کا وقت فجر تک ہے، غیر معمولی حالت میں ظهر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازوں کو جمع کرنا جائز،جیسے کہ حج کے موقع پر ہوا۔
13:03 دو نمازوں میں فاصلہ نہ تو بہت زیادہ ہواور نہ ہی کم؛ وجوہات
15:59 اوقاتِ نماز کے لیے ظاہری حدمقرر لازمی و ضروری اور موزون حد دن کا چوتھائی حصہ (کم و بیش تین گھنٹے) ہے۔
17:37 فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان وقفہ زیادہ رکھنے کی حکمت اور عام انسانوں پر چاشت کی نماز فرض نہ ہونے کا راز
20:36 زراعت، صنعت و تجارت کرنے والوں کا ہمیشہ سے فجر سے ظہر تک اپنے مشاغل و کاروبار کے ذریعے طلبِ معاش اور حصول رزق کی محنت کا معمول رہا ہے، چاشت کی نماز کے ساقط ہونے کی حکمت
دوسرا بنیادی اصول: بلا ضرورت ظہر و عصر کو جمع کرنے کی شریعت میں سخت ممانعت، البتہ سفر وغیرہ میں جمع صوری کی گنجائش ہے۔25:15 دنیا کے تمام مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں مزاج معتدل لوگ شرائع کے مخاطب و مکلف، ان کے لیے عبادات کے بہترین اور موزوں ترین اوقات:
26:35 فجر کا وقت: انسانی نفس کا مشاغلِ دنیا کی زیبائش و آرائش سے فارغ ہونا اور اس وقت میں نماز ادائیگی دل میں قوی تاثیر پیدا کرنے کا باعث
28:03 عشا نیند کے آغاز کا وقت، اس وقت نماز پڑھنا دن بھر کی مصروفیات سے سرزد گناہوں کے کفارے کا ذریعہ اور قلب کے زنگ کو صیقل کرنے اور غفلت دور کرنے کا باعث، حدیث سے استدلال
29:07 چاشت کے وقت میں دنیوی مشاغل میں پورا انهماک، اس وقت میں نماز پڑھنا بطور تریاق انہماکِ دنیوی کو کم کرتا ہے، لیکن یہ نماز سب پر فرض نہیں ( تیسرا اصول)
30:34 تعیینِ اوقات کے باب میں ایک اور بہترین طریقہ ، انبیا و مقربین کی سنت کی اتباع بھی ہے۔
32:19 چوتھا اصول: حدیثِ معاذؓ کی وجہ سے وارد سوال کا جواب
36:30 خلاصہ کلام: متعین کردہ پانچ اوقات میں بہت گہرے راز پوشیدہ ہیں۔
37:05 اوقاتِ نماز سے جڑے چند فوائد
39:53 نمازوں کے لیے اوقات کی چار اقسام: ۱۔ وقت الاختیار (پسندیدہ ترین وقت) ۲۔ وقت الاستحباب (مستحب وقت) ۳۔ وقت الضرورة (عذر کی وجہ سےضرورت کا وقت) ۴ ۔ وقت القضا ( قضا نماز کا وقت)
40:32 ۱۔ وقت الاختیار (پسندیدہ ترین وقت) سے متعلق دو بنیادی احادیث
41:06 حدیث مبہم کی وضاحت حدیث مفسر سے کی جائے گی۔
42:37 مغرب کا آخری وقت کونسا ہے؟، دو روایتوں میں اختلاف کی نوعیت
44:50 عصر کا آخری وقت، مثلِ ثانی عصر کے پسندیدہ وقت کا آخری حصہ ہے، حکمتیں
49:34 ۲۔ وقت الاستحباب (مستحب وقت) کی تعریف، عشا میں مستحب وقت کے بجائے جلدی باجماعت ادا کرنےکے فوائد ،لوگوں کے لیے آسانیاں اور حضرت معاذؓ کا واقعہ
55:36 گرمیوں میں ظہر کی نماز میں تاخیر مستحب
56:30 حدیث میں وارد الفاظ "فیح جہنم" کے پس منظر میں وضاحت: دنیا میں اچھی کیفیات (باغات وغیرہ) کا سر چشمہ و معدن جنت اور آگ کا معدن کا جہنم ہے۔
59:05 فجر میں تاخیر،بہت بڑا اجر ہے، اس حدیث کی تشریح اور غَلس اور اِسفار میں تطبیق
1:03:40 ۳۔ وقت الضرورة (عذر کی وجہ سےضرورت کا وقت) بغیر عذر کے اس کی عادت مناسب نہیں ہے۔
1:05:27 ۴ ۔ وقت القضا ( قضا نماز کا وقت) حدیث کی تشریح
1:07:01 حدیث 01: صل الصَّلَاة لوَقْتهَا الخ، حدیث میں حضور ﷺ کی حضرت ابو ذرؓ کونصیحت، تشریح: نماز میں دو اعتبار کی رعایت
1:09:17 حدیث 02: لَا تزَال أمتِي بِخَير مَا لم يؤخروا الْمغرب إِلَى أَن تشتبك النُّجُوم، حدودِ شرعیہ میں کسل مندی ملت میں تحریف کا سبب
1:10:09 آیتِ قرآنی: حَافظُوا على الصَّلَوَات وَالصَّلَاة الْوُسْطَى (البقرة: ۲۳۸)، میں وسطی سے مراد نمازِ عصر
1:10:24 حدیث 03: ۱۔ من صلى البردين دخل الْجنَّة ۲۔ من ترك صَلَاة الْعَصْر حَبط عمله ۳۔ الَّذِي تفوته صَلَاة الْعَصْر فَكَأَنَّمَا وتر أَهله وَمَاله ۴۔ لَيْسَ صَلَاة أثقل على الْمُنَافِقين من الْفجْر وَالْعشَا، ۔۔ نماز سے متعلق مزید احادیث
1:12:18 ان احادیث کی تشریح: فجر ،عصر اور عشاء پڑھنے کے لیے حضور ﷺ کی خاص تاکید ، ترغیب و ترہیب
1:14:10 حدیث 04: ۱۔ لَا يغلبنكم الْأَعْرَاب على اسْم صَلَاتكُمْ الْمغرب ۲۔ على اسْم صَلَاة الْعشَاء، میں دیہاتی باشندوں نے عشا کا نیا نام لینا شروع کیا تو حضور ﷺ کی اصل نام برقرار رکھنے کی خاص تاکید، شاہ صاحب کی تشریحپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Fri, 05 Jan 2024 - 110 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی):109 /اَبوابِ نماز باب 01 تا 03.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 109
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ نماز (باب 01 تا 03)
حضور ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں نماز کی اہمیت و جامعیت، فضیلت اور نمازوں کی تعداد متعین کرنے کی حکمتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19 ؍ اگست 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:16 نماز کے ابواب سے متعلق پہلا علمی قاعدہ: تمام عبادات میں عظیم الشان، شرعی دلائل میں واضح و روشن، انسانیت میں مشہور ترین عبادت اور انسانی روح کے لیے زیادہ موثر و نفع مند نماز ہے۔
2:01 ان اسباب کی وجہ سے شارع ﷺ نے نماز کی بڑی فضیلت، اہمیت، اوقات، ارکان، شرائط اور عملی طریقہ کار بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔
4:45 نماز دین و ملت کا اہم ترین اور عظیم الشان شعار ، اور تمام شعائر اس میں جمع ہوتے ہیں۔
6:22 نماز یہود ، نصاری، مجوس اور دیگر ملتِ اسماعیلیہؑ کے ہاں مسلمہ عبادت
7:08 نبی اکرم ﷺ نے نماز کے اوقات ، عملی نظام اور دیگر متعلقات متعین کرنے میں کل انسانیت یا جمہور انسانوں کے متفقہ امور کی رعایت رکھی ہے۔
8:37 حجة الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے عقلی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ کل انسانیت اِخبات اِلی اللہ (عجز و انکساری) کے خلق کی قائل ہے، نیز اِخبات کی تعریف
15:12 یہود و نصاری و مجوس وغیرہ کی نماز کے طریقۂ کار میں تحریفات اور حضور ﷺ کاان کے سدِ باب کے لیے قانونی حکم جاری کرنا اور مسلمانوں کے لیے طریقہ کار متعین کرنا، نیز یہود کی تحریف کی مثال : موزوں اور جوتوں میں نماز پڑھنے کو بلا وجہ مکروہ سمجھنا ۔
17:10 مجوس کی تحریف کی مثال: اللہ کی عبادت بجا لانے کے بجائے سورج کی پرستش شروع کر دی، اس لیے طلوعِ شمس کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت
18:53 ابوابِ نماز سے متعلق تمام اصولوں کو شروع باب میں اکٹھے ذکر نہ کرنے کی وجہ۔
21:02 کتاب الصلاة کی فاتحہ میں حضور ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں نماز کی اہمیت و جامعیت کے بعد احادیث کی تشریح
21:24 حدیث 01: مروا أَوْلَادكُم بِالصَّلَاةِ وهم أَبنَاء سبع سِنِين الخ، اولاد کو بچپن میں نماز کے عادی بنانے کا حکم اور بلوغت کی اقسام
25:29 بلوغت کی پہلی قسم: سات سال کی عمر میں عقل و فہم کے ظہور
27:14صحیح و سالم مزاج والا بچہ دس سال کی عمر میں پورا عقل مند ہو جاتا ہے، نفع و نقصان کی پہچان اور زراعت و تجارت وغیرہ کی مہارت پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔
29:10 دوسری قسم: پندرہ سال کی عمر میں جدو جہد اور مشقت برداشت کرنے، سوسائٹی کا مفید شہری بننے کے لیے حد بندی میں رہ کر ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، ان پر مواخذہ اور ملکی و قومی سیاست میں حقِ رائے دہی کی اہلیت
32:09 پندرہ سال کی عمر میں عام طور پر بچوں کی عقل کامل اور جسم مکمل ہو چکا ہوتاہے، اس لیے ان پر احکاماتِ شرعیہ کی پابندی لازمی و ضروری ہے۔
32:24 بلوغ کی ظاہری علامتیں؛ احتلام اور زیرِ ناف بالوں کا اگنا
34:10 بلوغ کی دونوں قسموں کی جہت سے، نماز کے بھی دو اعتبارات ہیں۔
35:30 حدیث میں دس سال کی عمر شرط: بلوغ کی دونوں قسموں کے درمیان درمیانی برزخ اور نماز کے دونوں اعتبار کی جامع ہے (شاہ صاحبؒ کی جامع تشریح)
36:50 دس سال کی عمر میں بچوں کے بستر الگ کرنے کا راز اور حکمتیں
40:00 باب فضل الصَّلَاة (نماز کی فضیلت) پر آیتِ قرآنی: إِن الْحَسَنَات يذْهبن السَّيِّئَات (ھود: ۱۱۴) اور تین احادیث: ۱۔ فَإِن الله قد غفر لَك ذَنْبك، ۲۔ لَو أَن نَهرا بِبَاب أحدكُم يغْتَسل فِيهِ كل يَوْم خمْسا الخ، ۳۔ الصَّلَوَات الْخمس وَالْجُمُعَة إِلَى الْجُمُعَة الخ کی وضاحت
40:46 شاہ صاحبؒ کی تشریح: ان تین احادیث کی رو سے نماز میں تین اخلاق؛ طہارت و نظافت، اخبات اور سماحت پیدا ہونے کا ذکر
43:33 انسانی نفس کی خصوصیات و خاصیات اور خشوع و خضوع سےنماز پڑھنے کے نفس پر اثرات و نتائج
44:19 حدیث 02: بَين العَبْد وَبَين الْكفْر ترك الصَّلَاة، کفر کی نشانی نماز چھوڑنا ہے۔
45:01 تشریح: نماز اسلام کا عظیم ترین شعار، اس کا مفقود و گم ہونا دراصل اسلام کا مفقود ہونا ہے، اس لیے کہ اسلام اور نماز میں انتہائی ملابست و مناسبت پائی جاتی ہے۔
45:59 دوسرا پہلو: نماز میں اسلام کے حقیقی معنی (اللہ کی طرف متوجہ ہونا) کی نمائندگی اور اس پہلو سے محرومی کا نتیجہ
47:25 باب أَوْقَات الصَّلَاة ( اوقاتِ نماز) کا پچھلے ابواب سے ربط، ۱۔ نمازوں کی تعداد پانچ ہی کیوں؟
48:18 نماز کا فائدہ؛ ذاتِ باری تعالی کی حضوری کے نوری تالاب میں غوطہ زن ہونا اور فرشتوں کی لڑی کے ساتھ منسلک ہونے اور جڑنے کا باعث
49:19 نماز کے مذکورہ فوائد حاصل کرنے لیے تین امور کا اہتمام لازمی وضروری: ۱۔ مداومت و ہمیشگی، ۲۔ پوری طرح التزام، ۳۔ بکثرت پڑھنا
50:31 ہمہ وقت نماز کی مصروفیت سے ضروری ارتفاقات (معاشی ضروریات) چھوڑنے، فطرتی و طبعی تقاضوں کو سرے سے ختم کرنا لازم آتا ہے۔
52:43 ان دونوں پہلؤوں کے اعتبار سے نماز کی محافظت و پابندی اور متعین اوقات میں بار بار پڑھنے کا حکم: قرآن و حدیث کی روشنی میں چند حکمتیںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Fri, 05 Jan 2024 - 109 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 108 /اَبوابِ طہارت (آخری حصہ)../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 108
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ طہارت (آخری حصہ) باب 13 تا 14
پانی کے احکام کے چھ اصول، شاہ صاحب کی حدیث "قلتین" کی پرحکمت تشریح ، نجاستوں کی چھ اقسام اور پاک کرنے کا طریقےمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 12 ؍ اگست 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:13 باب: أَحْكَام الْمِيَاه (پانی کے احکام سے متعلق بنیادی اصول )
0:33 پہلا اصول، حدیث 01: لَا يبولن أحدكُم فِي المَاء الدَّائِم الخ، کھڑے پانی میں پیشاب کرنا منع اور پھر اسی پانی میں غسل کرنے کی سخت ممانعت اور اس کی حکمت
4:38 دوسرا اصول: وضوء وغیرہ میں استعمال شدہ پانی بذات خود پاک (طاہر) ہے، لیکن کسی چیز کو پاک کرنے والا (مُطھِّر) نہیں
6:00 تیسرا اصول، حدیث 02: إِذا بلغ المَاء قلتين لم يحمل خبثا، پانی کی خاص مقدار (قُلتین) شرعی طور پر پاک، حدیث کا پسِ منظر
8:49 پانی کے قلیل و کثیر میں آئمہ فقہا کا اختلاف ، امام ابو حنیفہؒ کا بنیادی موقف، امام محمد کے قول پر تخريجات کی قرار واقعی حیثیت
15:21 شاہ صاحب کی حدیث "قُلتین" کی پرحکمت تشریح:
16:04 حضور ﷺ نےطے شدہ نظام کے تحت، لازمی و ضروری طور پر"قُلتین" کو کثیر و قلیل پانی کے لیے حدِ فاصل کے طور پر مقرر کیا ۔
17:48 مقادیرِ شرعیہ محض اندازے سے مقرر نہیں ہوئی۔
19:26کثیر مقدار میں "قُلتین" کی حد کیوں ضروری ہے؟ اس کا بنیادی راز شاہ صاحبؒ نے واضح کیاہے۔
23:27 پانی کے حصول کے دو مقام: ۱۔ معدن (چشمہ) ۲۔ اوانی (برتن) اور ان کی اقسام
25:18 برتنوں میں سب سے بڑا برتن "قلہ" (مٹکہ) اور" قلتین" کا کثیر پانی ہونا عملی اور عرفی طور پرواضح ہے
29:24 معدن اور برتن میں تین بنیادی فرق ہونے کی وجہ سے ان کا شرعی حکم بھی الگ الگ ہے۔
34:53 معدن اور بر تنوں میں فرق اور پانی کے کثیر و قلیل کی حد مقررکرنے والے کے حوالے سے شاہ صاحبؒ کی لاجواب تشریح
37:02 جن اہل علم نے پانی کے کثیر و قلیل کی حد کسی اندازے سے مقرر کی، انہیں شاہ صاحبؒ کی طرف سے حضور ﷺ کی مقرر کردہ حدودِ شرعیہ پر غور و فکر کرنے پر زور دعوت
38:35 چوتھا اصول، حدیث 03: ۱۔ المَاء طهُور لَا يُنجسهُ شَيْء ۲۔ المَاء لَا يجنب ۳۔ الْمُؤمن لَا ينجس ۴۔ أَن الْبدن لَا ينجس وَالْأَرْض لَا تنجس،احادیث کا پسِ منظر، وفدِ ثقیف کا مسجدِ نبوی میں قیام، احادیث کے اسرار و رموز
44:39 بئر بضاعة کا خاص پس منظر میں حضورؐ نے شرعی حکم بیان کیا، شاه صاحبؒ کی توضیح اور حدیث کی تاویل پر کلام عرب کے نظائر سے استدلال
52:50 پانی کے احکام سے متعلق پانچواں اصول: پانی مُقیَّد (عرقِ گلاب وغیرہ) سے وضو کرنے کا حکم
54:03 چھٹا اصول: تین فروعی مسائل میں حنفیہ اور مالکیہ کی تخریجات پر شاه صاحبؒ کا نقد
59:35 باب کا خلاصہ
1:01:27 باب: تَطْهِير النَّجَاسَات ( نجاستیں دور کرنے اور گندگیوں کو پاک کرنے کا طریقہ)
1:01:44 نجاست کی تعریف ، چھ قسم کی گندگیاں: ۱۔ بول ۲۔ براز ۳۔ خون سے طبائع انسانی کی نفرت اور انہیں دور کرنے کا عام دستور رہا ہے۔
1:03:33 ۴۔ گوبر (حضرت ابن عباسؓ کی روایت کے مطابق ناپاک ہے)
1:04:20 ۵۔ حلال جانوروں کا پیشاب بھی ناپاک ہے۔
1:05:01 بطور دوا کے، شفایابی کی غرض سےان جانوروں کا پیشاب پینے میں شرعی رخصت
1:05:53 ۶۔ شراب کو بھی شارع ﷺ نے نجاستوں میں شمار کیا ہے۔
1:06:42 نجاستیں دور کرنے سے متعلق احادیثِ نبویہ سے رہنمائی
1:06:57 حدیث 01: ۱۔ إِذا شرب الْكَلْب فِي إِنَاء أحدكُم الخ، ۲۔ أولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ، کتے کے کسی برتن میں منہ ڈالنے پر سات مرتبہ دھونے کا راز
1:08:11 کتا ملعون جانور، گھر میں رحمت کے فرشتوں کا نہ آنا، کتا اپنی جبلت میں شیطان سے مشابہ، اس کا گندگیوں میں گھسنا، انسانوں کو ایذا رسانی کا باعث اور شیطانی الہامات کو قبول کرتا ہے۔
1:13:15 زراعت، باغبانی اور چوکیداری کے لیے کتے کے فائدے بھی ہیں۔
1:14:33 کتے کے جوٹھے کو سات مرتبہ دھونے کے حکم کی وجہ: کامل طہارت اور شیطانی اثرات زائل کرنا
1:15:45 کتے کے جوٹھے سے متعلق فقہ کے ائمہ کی مختلف آراء
1:17:10 حدیث 02: هريقوا على بَوْله سجلا من مَاء، ایک دیہاتی کا مسجدِ نبوی میں پیشاب کرنے کا واقعہ، زیادہ پانی بہانے (جیسے بارش) سے زمین پاک ہونے کا راز
1:18:52 حدیث 03: إِذا أصَاب ثوب إحداكن الدَّم من الْحَيْضَة الخ، عورت کے کپڑے پر لگے حیض کے خون کو پاک کرنے کا طریقہ
1:19:23 اصل بات نجاست دور کرنا ہے، اس کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کر لیا جائے، ناخن سے کھرچنا لازمی و ضروری نہیں۔
1:20:31 حدیث 04: آپ ﷺ کی روایت کے تناظر میں منی کی نجاست دور کرنے کا طریقہ
1:22:31 حدیث 05: يغسل من بَوْل الْجَارِيَة ويرش من بَوْل الْغُلَام، دودھ پیتی بچی اور بچے کے پیشاب کو پاک کرنے کا حکم
1:24:21 جاہلیت کے زمانے میں لڑکے اور لڑکی کے پیشاب کو پاک کرنے کے فرق کی چند وجوہات اور فقہاء کا معمول
1:27:25 حدیث 06: إِذا أدبغ الأهاب، فقد طهر، جانوروں کے چمڑے رنگنے سے پاک ہونے کا عام دستور
1:28:05 حدیث 07: إِذا وطئ أحدكُم بنعله الْأَذَى فَإِن التُّرَاب لَهُ طهُور، جوتے زمین پر رگڑنے سے پاک ہو جاتے ہیں، جیسے وسطی ایشیائی ریاستوں میں لوگوں کا معمول
1:29:52 حدیث 08: إِنَّهَا من الطوافين والطوافات، بلی کے جوٹھے کے مکروہ ہونے کا مسئلہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Fri, 05 Jan 2024 - 108 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 107 /اَبوابِ طہارت (حصہ چہارم)../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 107
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ طہارت (حصہ چہارم) باب 10 تا 12
تیمم ، بیت الخلا کے سات آداب اور فطرتِ انسانی کی دس عادتیںمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 05 ؍ اگست 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
باب: التَّيَمُّ
0:13 تمام شرائع میں سہولت و آسانی ، بطور سنت اللہ پیش نظر ہے۔
3:36 امتِ محمدیؐ کے لیے ملاءِ اعلی کا فیصلہ و قضا، تیمم وضو کا متبادل اور قائم مقام
5:21 زمین کو نماز پڑھنے اور مٹی کو طہارت کے لیے پاک بنانے کی تین حکمتیں:
۱۔ مٹی ہر جگہ دستیاب ہے۔
۲۔ مٹی بہت ساری اشیا کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔
۳۔ مٹی ، تذلل اور عجز و انکساری کی پہچان ہے۔
10:17 غسل اور وضو کے متبادل کے طور پر تیمم کے طریقے میں کوئی فرق نہیں
12:21 شدید ٹھنڈا پانی جس کے استعمال سے نقصان یا ہلاکت کا اندیشہ ہو اس صورت میں بھی تیمم کرناجائز ہے، تیمم کے لیے شرط پانی کے استعمال کے لیے عدم دستیابی ہے۔
15:14 تیمم میں پاؤں پر مٹی کا مسح نہ کرنے کی حکمت
16:13 تیمم کا طریقہ کار اور اس میں اختلاف کی نوعیت
18:57 تیمم کرنے میں حضرت عمرؓ اور حضرت عمارؓ کا نقطہ نظر اور تیمم کی ضربوں میں حدیثِ عمارؓ اور ابن عمرؓ کی حدیثوں میں اختلاف کی تطبیق
25:14 حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ غسلِ جنابت میں تیمم کے قائل نہیں، مگر امت نے ان حضرات کے موقف کی تائید نہیں کی۔
27:25 ہر ہر عبادت کے لیے الگ الگ تیمم کرنا لازمی و ضروری نہیں ہے۔
29:38 حدیث 01: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَن يتَيَمَّم الخ میں جس شخص کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے،اس کے لیے تیمم کی تفصیل
31:28 حدیث 02: إِن الصَّعِيد الطّيب وضوء الْمُسلم الخ میں پاک مٹی مسلمان کا ذریعہ طہارت ہے، اس حدیث سے مقصود تعمق و انتہا پسندی کو روکنا ہے۔33:14 باب: آدَاب الْخَلَاء (بیت الخلا کے سات آداب)
33:44 ۱۔ بیت الخلا میں قبلے کی تعظیم کو ملحوظ رکھنا اور اس کا طریقہ کار
41:01 ۲۔ نظافت اور صفائی ستھرائی کے لیے استنجا کرنا
43:43 ۳۔ قضائے حاجت میں لوگوں کو نقصان پہنچانےاور اپنے آپ کو نقصان سے بچانا، مثلا راستے میں پیشاب پاخانہ کرنا وغیرہ
47:08 ۴۔ استنجا کرتے وقت اچھی عادات اختیار کرنا
48:08 ۵۔ ستر کی رعایت رکھنا،اس کی حکمتیں
51:07 ۶۔ جسم یا کپڑے پر نجاست لگنے سے پرہیز کرنا
51:41 ۷۔ وسواس اور شیطانی خیالات کو زائل کرنا ۔ آج کل وسوسوں کے پیدا ہونے کا بڑا بنیادی سبب
53:41 حدیث 01:لَا تبل قَائِما الخ۔ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت کا راز اور حکمتیں
55:41 حدیث 02: إِن الحشوش محتضرة الخ جھاڑیوں میں خبث و خبائث سے پناہ مانگنے کی دعا پڑھنے کا راز
57:15 حدیث 03: أما أَحدهمَا فَكَانَ لَا يستبرئ من الْبَوْل الخ کی تفصیل: پیشاب کے قطروں کی وجہ سے عذاب، قطروں کو خشک کرنا ضروری اور حدیث کا بنیادی راز
1:01:22 حضورؐ کا قبروں پرسبز ٹہنی گاڑھنا، شفاعتِ مقیدہ ہے نہ کہ ضابطہ و قانون1:04:19باب: خِصَال الْفطْرَة ومأ يتَّصل بهَا ( فطرت کی عادات اور اس سے متعلقہ امور)
1:04:30 دس چیزیں فطرتِ انسانی ہیں: مونچھیں پست کرنا،ڈارھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، ہاتھوں اور پاؤں کے جوڑوں کی میل کچیل صاف کرنا، زیرِ بغل اور زیرِ ناف بال صاف کرنا، پانی کے ساتھ استنجا کرنا اور کلی کرنا
1:06:30 یہ دس عادتیں ملتِ حنیفیت؛ دین ابراہیمی کے شعائر ہیں۔
1:08:24 شعائر کی ظاہری علامت
1:08:44 دس فطرتی اصولوں کے فوائد: (۱)بے ہنگم بالوں سے امراضِ جلد پیدا ہوتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے۔
1:11:02 (۲) چھوٹے بڑے میں فرق کرنے والی ، مردوں کے لیے حسن و جمال اور خوبصورتی ،شکل و شباہت اور شان مردمی کی تکمیل کرنے والی ڈارھی ہے، نیز داڑھی مونڈنا مجوسیوں اور رذیلوں کا طریقہ اور تغییرِخلق اللہ ہے۔
1:13:04 (۳) مونچھیں بڑھانے کے نقصانات،سنتِ مجوس ہے۔
1:14:27 (۴) کلی اور ناک میں پانی ڈالنے اور مسواک کے فائدے
1:14:45 (۵) ختنے کی حکمت؛ یہ ملتِ ابراہیمی کے لیے اللہ کا میسم( نقش اور علامت) ہے، اس کا راز
1:18:25 حدیث 01: أَرْبَعَة من سنَن الْمُرْسلين الْحيَاء - ويروى الْخِتَان - والتعطر والسواك وَالنِّكَاح ، انبیاعلیہم السلام کی چار سنتیں: حیا یا ختنہ ، خوشبو ، مسواک اور نکاح کے اسرار و رموز
1:20:05 حدیث 02: لَوْلَا أَن اشق على أمتِي لأمرتهم بِالسِّوَاكِ عِنْد كل صَلَاة ، مسواک کرنے کا راز اور حضور ﷺ کے اجتہاد کا شریعت اور قانون سازی میں بڑا دخل ہے۔
1:21:27 حدیث 03:صفة تسوكه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: أع أع - كَأَنَّهُ يتهوع ،مسنون طریقے سے مسواک کرنے میں انسانی صحت کا راز
1:24:03 حدیث 04:حق على كل مُسلم أَن يغْتَسل فِي كل سَبْعَة أَيَّام يَوْمًا، يغسل فِيهِ جسده وَرَأسه ، کم از کم ساتویں دن جمعہ کو غسل کرنے کا اہتمام ہوناچاہئے۔
1:25:54 حدیث 05:كَانَ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يغْتَسل من أَربع من الْجَنَابَة وَيَوْم الْجُمُعَة وَمن الْحجامَة وَمن غسل الْمَيِّت ، چار کاموں کے بعد غسل کرنے کا حکم ،اس کی حکمت اور شاہ صاحب کا مشاہدہ
1:29:09 حدیث 06: أَمر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من أسلم بِأَن يغْتَسل بِمَاء وَسدر میں ایک نو مسلم کو بیری کے پانی سے غسل کرنے اور ألق عَنْك شعر الْكفْر میں دوسرے کو کفر کی حالت والے بال کاٹنے کے حکم کا رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Fri, 05 Jan 2024 - 107 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 106 /اَبوابِ طہارت (حصہ سوم) .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 106
قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ طہارت (حصہ سوم) باب 07 تا 09
غُسل کا طریقہ، غسل کے تین موجبات اور حالتِ جنابت و حدث میں مباح اور ناجائز امور اور ان کی حکمتمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 29 ؍ جولائی 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:16 باب: صفة الْغسْل (غُسل کا طریقہ) اور غسل میں پاؤں پہلے یا آخر میں دھونے کی حقیقت
4:37 حدیث 01: ۱۔ إِن الله حييّ ستير ۲۔ يحب الْحيَاء والستر میں غسل کے وقت ستر ڈھاپنے کی تاکید
5:41 حدیث 02: خذي فرْصَة من مسك فتطهري بهَامیں حیض کا خون بند ہونے پر مشک دار کپڑا لگانے کی تین حکمتیں
7:45 غسل کے لیے پانی کی مسنون مقدار
8:53 حدیث 03: تَحت كل شَعْرَة جَنَابَة فَاغْسِلُوا الشّعْر الخ میں غسلِ جنابت میں بالوں کو اچھی طرح دھونے کا حکم اور بنیادی راز
10:37 باب: مُوجبَات الْغسْل (غسل کے تین موجبات: جماع، احتلام اور حیض)
11:14 حدیث 01: إِذا جلس بَين شعبها الْأَرْبَع الخ میں غسل کے وجوب کا پہلا سبب؛ بیوی سے تعلق قائم کرنا
12:43 بغیر انزال کے بھی غسل واجب ہے، حدیث: إِنَّمَا كَانَ المَاء من المَاء میں حضرت ابن عباسؓ کی تاویل اور شاہ صاحبؒ کا موقف
16:30 حدیث 02:وَسُئِلَ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الرجل يجد البلل وَلَا يذكر الِاحْتِلَام قَالَ " يغْتَسل " وَعَن الرجل الَّذِي يرى أَنه قد احْتَلَمَ وَلَا يجد بللا قَالَ. " لَا غسل عَلَيْهِ " میں غسل کے وجوب کا دوسرا سبب ، غسل کا مدار رطوبت کے خارج ہونے پر ہے نہ کہ خواب کی کیفیت پر
18:09 غسل کے وجوب کا تیسرا سبب ، حیض و استحاضہ میں طہارت کا فرق اور دو بنیادی وجہیں
25:44 باب: مَا يُبَاح للْجنب والمحدث وَمَا لَا يُبَاح لَهما (حالتِ جنابت و حدث میں کونسی چیزیں جائز ہیں اور کونسی جائز نہیں) شعائر اللہ کی تعظیم کے لیے طہارت ضروری ہے۔
31:16 حدیث 01: لَا تدخل الْمَلَائِكَة بَيْتا فِيهِ صُورَة وَلَا كلب وَلَا جنب کی تشریح اور حکمت
32:49 حدیث 02: فِيمَن تصيبه الْجَنَابَة من اللَّيْل: " تَوَضَّأ الخ میں رات کو جنابت کی حالت پیش آنے کی صورت میں طہارت کا حکم اور بنیادی رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Fri, 05 Jan 2024 - 106 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 105 /اَبوابِ طہارت (حصہ دوم) .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 105
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ طہارت (حصہ دوم) باب 04 تا 06
آدابِ وضو سے متعلق چار بنیادی امور، موجباتِ وضو اور موزوں پر مسح کرنے کی تین شرائطمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22 ؍ جولائی 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
باب 04: آدابِ وضو سے متعلق چار بنیادی امور
0:15 آدابِ وضو سے متعلق چار بنیادی امور: ۱۔ تمام اعضا تک پانی پہنچانا، ۲۔ مکمل پاکیزگی، ۳۔ اہم ترین امور میں اپنی قوم کی عادات کی موافقت اختیار کرنا اور ۴۔ وضو میں قلب کو ذکرِ لسانی کے ساتھ متوجہ کرنا، جس کو نیت کہتے ہیں۔
7:33 حدیث 01: لَا وضوء لمن لم يذكر الله میں بسم اللہ کے وضو کے رکن ہونے کی وضاحت
15:27 حدیث 02: فَإِنَّهُ لَا يدْرِي أَيْن باتت يَده کی تشریح:
18:30 حدیث 03: فان الشَّيْطَان يبيت على خيشومه کا معنی اور راز: ناک میں رطوبت اور مودا کا جمع ہونا، ذہن و فکر میں فساد اور شیطان کے وسوسہ ڈالنے کا سبب ہے۔
21:30 حدیث 04: ۱۔ مَا مِنْكُم من أحد يتَوَضَّأ، فَيبلغ الْوضُوء، ثمَّ يَقُول: أشهد الخ، ۲۔ اللَّهُمَّ اجْعَلنِي من التوابين الخ میں روحِ طہارت؛ عالمِ غیب کی طرف متوجہ ہونا اور داخلی طہارت کا فائدہ بیان کیا ہے۔
24:30 حدیث 05: ويل لِلْأَعْقَابِ من النَّار کا بنیادی سرّ اور حقیقی راز
28:05 حجت اللہ البالغہ کی جلد بندی کرنے والے حضرات کا سہو
29:02 حدیث 06: ۱۔ لَا تقبل صَلَاة من أحدث حَتَّى يتَوَضَّأ ۲۔ لَا تقبل صَلَاة بِغَيْر طهُور ۳۔ مِفْتَاح الصَّلَاة الطّهُور احادیث کی تشریح: طہارت، نماز کے لیے شرط، مستقل عبادت اور دونوں ایک دوسرے پر موقوف ہیں۔
31:00 باب 05: موجباتِ وضو
31:19 موجباتِ وضو کا پہلا درجہ: بول و براز، ریح، مذی اور گہری نیند وغیرہ
32:34 حدیث 01: ۱۔ وكاء السه العينان ۲۔ فانه إِذا اضْطجع استرخت مفاصله میں گہری نیند، ریح کے خارج ہونے کا مظنہ اور نیند کے موجبِ وضو ہونے کا راز
36:06 حدیث 02: قَوْله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَذْي: " يغسل ذكره، وَيتَوَضَّأ": مذی کی حقیقت، اس میں ایک قسم کی شہوت ہونے کی وجہ سے وضو ضروری ہے۔
37:53 حدیث 03: لَا يخْرجن من الْمَسْجِد حَتَّى يسمع صَوتا أَو يجد ريحًا میں وضو کے لازم ہونے میں اشتباہ اور تعمق و انتہا پسندی سے پچنا ضروری ہے۔
40:43 دوسرے درجے کے پانچ موجباتِ وضو: روایات و احادیث کے باہم متعارض ہونے کی وجہ سے سلفِ صالحین؛ فقہائے صحابہ و تابعین میں اختلاف رائے
41:37 پہلا موجبِ وضو؛ مسِ ذَکر اور فقہا کا اختلاف
44:17 دوسرا موجبِ وضو؛ مسّ امرأۃ میں فقہا صحابہ و تابعین کا اختلاف، شاہ صاحبؒ کا موقف اور خلاصہ کلام
49:03 دیگر موجباتِ وضو؛ ۳۔ بہنے والا خون، ۴۔ زیادہ قے آنا اور ۵۔ نماز میں قہقہہ لگانا، ان میں اختلاف اور احتیاط کرنا اولی ہے۔ نیز ان موجباتِ وضو کا راز
52:50 تیسرے درجے کے موجباتِ وضو: دو مسئلے جن میں حدیث کے الفاظ کی وجہ سے شبہ پیدا ہوا، پہلا مسئلہ آگ پر پکی ہوئی شے کھانے کے بعد وضو کرنے کا راز؛ بھنا ہوا گوشت کھانا ارتفاقِ کامل ہونے اور آگ پر پکانا، جہنم کی آگ سے مشابہت ہے۔
57:25 دوسرا مسئلہ: اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کرنے کا بنیادی راز
1:00:55 باب 06: موزوں پر مسح کرنا اور اس کی مشروعیت کا راز
1:03:49 موزوں پر مسح کرنے کی تین شرائط
1:07:32 مسح غسل (دھونے) کی کی تیسری شرط سے متعلق حضرت علیؓ کے قول پر وارد سوال کا جوابپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 31 Dec 2023 - 105 - حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 104 /اَبوابِ طہارت (حصہ اول) .../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس
درس : 104
قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات
اَبوابِ طہارت (حصہ اول)
باب 01 تا 03
خلقِ طهارت کی وضاحت: طہارت کی تین قسمیں، وضو کی فضیلیت و آداب اور آنحضرت ﷺ سے تواتر سے مروی وضو کا طریقۂ کارمُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 15 ؍ جولائی 2020 ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
باب (01)
0:00 آغاز درس
0:18 ایمانیات، اعتصامِ کتاب و سنت کے بعد اصولِ برّ میں پہلا خلق؛ طہارت کا بیان
1:48 تمام مذاہب میں خلقِ طہارت کا خاص طریقہ کار اور دینِ اسلام کا جامع و مکمل نظامِ طہارت
5:27 طہارت کی تین قسمیں:
8:02 پہلی قسم: طہارتِ حدث کی حقیقت: حدث اور روحِ طہارت کی معرفت کا طریقہ؛ نفوسِ عالیه کےاحساسات اور وجدانی کیفیت معیار
16:25 حدث اور طہارت کی تعیین کے لیے نظام کی ضرورت و اہمیت
17:31 طہارت کا عمدہ عملی طریقہ کار کی تعیین: مِلَلِ سابقہ میں طہارت کے مشہور اور رائج طریقوں کو اختیار کرنا
19:28 نبی اکرم ﷺ نے حدثِ اکبر کے لیے طہارتِ کبریٰ (غسل) اور حدثِ اصغر کے لیےطہارتِ صغریٰ (وضوء) متعین کیا۔
22:55 طہارتِ حدث کی ضابطه بندی کے لیے معیار: امورِ محسوسہ اور نفس کی مشغولیت اور خلجان کا زائل ہونا، حدیث: لَا يصل أحدكُم وَهُوَ يدافع الأخبثين سے استدلال
28:04 طہارت اور پاکیزگی کے متنوع پہلو؛ خوشبو کے استعمال، اذکار اور متبرک مقامات سے طهارت کی کیفیت کا حصول لیکن تمام انسانوں کے لیے اس کے تعین کی اساس امورِ محسوسہ ؛ وضوء و غسل ہیں۔
35:42 وضو یعنی جسم کے اطراف و جوانب دھونے کا حکم، ان کی ضابطه بندی اور بنیادی حکمتیں
39:32غسل کی بنیاد، پورا جسم دھونا اور اس کا موجب ، جماع اور حیض ہے،جو عربوں میں بھی معمول رہا ہے۔
41:18 طہارت کی دوسری قسم یعنی بدن، کپڑے اور جگہ سے متعلق نجاست سے طهارت، اور تیسری قسم یعنی جسم سے پیدا ہونے والے اَوساخ (میل کچیل سے طہارت کا تعلق ارتفاقات اور انسانی طبیعت کے اصل تقاضے سے ہے۔
43:06 نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں قسموں میں عربوں کے متوسط طبقے کی اساس پر آداب اور امور متعین کیے ہیں۔49:03 باب (02) فضلُ الْوضُوء: وضو کی فضیلیت و آداب
50:01 حدیث 01: الطّهُور شطر الْإِيمَان : حدیث میں ایمان سے نورِ طہارت اور نورِ اِخبات و احسان مراد ہے۔
51:37 حدیث 02: من تَوَضَّأ فَأحْسن الْوضُوء الخ: کامل و مکمل وضو کرنے والے شخص کے ہر ہر عضو سے گناہوں کے جھڑنے کا راز اور فرشتوں کی حالت سے مشابہت
55:14 حدیث 03: ۱۔ إِن أمتِي يدعونَ يَوْم الْقِيَامَة غرا محجلين من آثَار الْوضُوء الخ میں وضو کرنے والے کے ہاتھ اور پاوں کی چمک کا بیان، ۲۔تبلغ الْحِلْية من الْمُؤمن حَيْثُ يبلغ الْوضُو حدیث میں مومن کو جنت میں زیور پہنانے کا ذکر
58:02 دونوں حدیثیوں کا راز
59:36 حدیث 04: لَا يحافظ على الْوضُوء إِلَّا مُؤمن کی تشریح: وضو پر محافظت (ہمہ وقت وضو کا اہتمام) کے منافع و فوائد، اور یہ عمل ایمان کی علامت ہے۔1:01:05 باب (03) صفة الْوضُوء: آنحضرتؐ سے تواتر سے مروی وضو کا طریقۂ کار
1:02:35 وضو میں پاؤں دھونے کے مُنکرین پر شاہ صاحبؒ کی کڑی تنقید، تاہم پاؤں دھونے کے ساتھ مسح کرنا زیادہ احتیاط والا عمل ہے۔
1:05:35 وضو کے فرض چار ہیں لیکن کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنتِ موکدہ اور فطرتی عمل اور وضو میں ترتیب کی تاکیدپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/Sun, 31 Dec 2023
Podcasts similar to دروس حُجّةُ اللہ البالِغة
El Partidazo de COPE COPE
Herrera en COPE COPE
La Linterna COPE
Es la Mañana de Federico esRadio
La noche de Cuesta esRadio
Hondelatte Raconte Europe 1
Au Coeur du Crime Europe1
Affaires sensibles France Inter
LEGEND Guillaume Pley
El colegio invisible OndaCero
La Rosa de los Vientos OndaCero
Les grands dossiers de l'Histoire par Franck Ferrand Radio Classique
Espacio en blanco Radio Nacional
Enquêtes criminelles RTL
Entrez dans l'Histoire RTL
Le grand récit RTL
Les Grosses Têtes RTL
L'Heure Du Crime RTL
Parlons-nous RTL
El Larguero SER Podcast
SER Historia SER Podcast
Todo Concostrina SER Podcast
Un Libro Una Hora SER Podcast
HISTORIAS DE LA HISTORIA VIVA RADIO