Filtrer par genre
- 570 - عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت | 20-09-2026
عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 5؍ ربیع الثانی 1448ھ /18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (36) سورۃ بنی اسرائیل:17 (36) ترجمہ: اور جس بات کی تجھے خبر نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑ۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے بازپرس ہو گی۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز خطاب 0:49 دینِ اسلام بطور عظمتِ انسانی کا تکمیلی پیغام 4:18 معاشرتی تبدیلی کے لیے علم و شعور کی اہمیت اور پہلی وحی کا نزول 7:48 جاہلی معاشرے کی علامات اور دینِ اسلام کی حقیقت شناس تعلیمات 11:23 قرآنِ حکیم کا تدریجی نزول اور انسانی معاشرے پر اس کے عملی اثرات 14:31 قرآنِ حکیم میں مذکور علم کے تین ذرائع: سمع، بصر اور عقل 19:20 انسانی ذرائع علم کی ذمہ داریاں اور ان کے محاسبہ کا نظام 23:33 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں جھوٹ کی حقیقت اور موجودہ میڈیا کا کردار 27:32 خبر کی تحقیق میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری کا قرآنی حکم 32:43 قرآنِ حکیم کی راہ نمائی میں خبر کی تحقیق کا ذمہ دار: ملکی سیاسی نظام اور اس کے ادارے 35:54 عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ذرائع ابلاغ کا فریب زدہ نظام اور ہماری شعوری ذمہ داریاں 38:46 موجودہ مسلم معاشرے میں جذباتی رویے اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کا رجحان 40:11 حضرت اسامہ بن زیدؓ کا میدانِ جنگ میں مخالف کو قتل کرنے کے واقعہ سے راہ نمائی 44:36 عالمی استعمار نظام کا مسلمانوں کی جذباتی بے شعوری سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی 47:39 موجودہ سوشل میڈیائی دور کے منفی رجحانات کا تجزیہ اور ان کا تدارک کی قرآنی راہ نمائی 52:58 عالمِ عرب کی سیاسی قیادت کا موجودہ المیہ 55:18 مغربی پروپیگنڈہ کے ماحول میں قرآنی بصیرت سے راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت 57:58 علم و شعور کی قرآنی دعوت اور ہماری ذمہ داریاں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
Tue, 22 Sep 2026 - 569 - منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل | 20-09-2026
منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 05؍ ربیع الثانی 1448ھ / 18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ (48) قُلْ یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (49) (22 -الحج:48، 49) ترجمہ : ” اور کتنی بستیاں ہیں کہ میں نے ان کو ڈھیل دی اور وہ گناہ گار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑا اور میری طرف پھر کر آنا ہے۔ تو کہہ اے لوگوں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں تم کو کھول کر “ ۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:33 تاریخِ اقوام کا قرآنی مطالعہ: ماضی کا تجزیہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی 4:15 خطبہ کی مرکزی آیات کی تشریح: نبوی منصبِ نذیر مبینﷺ اور 'قریہ ظالمانہ' کے تناظر میں ظالم اقوام کے انجام کا تذکرہ 6:38 تصورِ قریہ نیز تشکیلِ معاشرہ میں عدل، امن اور معاشی استحکام بطور بنیادی ارکان 12:42 سیاسی انتظامِ معاشرہ اور تشکیلِ قریہ: عادلانہ نظام کے لیے صالح قیادت اور نمائندوں کا انتخاب 16:42 حکومت کے دو بنیادی فرائض؛ معاشرتی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ٹیکس اکٹھا کرنا اور قومی وسائل کو اجتماعی مفاد میں استعمال کرنا 19:29 قریہ ظالمانہ؛ معاشرے پر ظالم، جابر اور استعماری طبقات کا تسلط اور کنٹرول کی چند شکلیں 21:48 بستیوں کی آباد کاری اور بقا و فلاح کا دار و مدار‘ عدل و انصاف پر منحصر 24:07 بستیوں کی تعمیر و ترقی اور قوموں کی شناخت پیدا ہونے میں صدیاں گزر جاتی ہیں نیز ظالم طاقتوں کو ڈھیل اور مہلت دینے (استدراج) کی قرآنی حکمت 30:12 ماضی کی تاریخ اور مقاصدِ بعثتِ انبیاءؑ کی روشنی ظلم پر مبنی بستیوں اور جابر طبقات کی سرکشی اور مہلتِ الٰہی سے غفلت پر گرفت اور عبرت ناک انجام پر اہلِ مکہ کو اِنذار و تنبیہ 37:57 حضرت اسماعیلؑ کا حنیفی اصولِ عشرہ پر ام القریٰ‘ مکہ مکرمہ کی آباد کاری اور عمرو ابن لحی کے دور سے ظلم و کفر کی بنیاد پر بت پرستی کی ابتداءاور ارتقاء کا پسِ منظر 44:38 مکہ میں کسریٰ ایران و قیصرِ روم کی پراکسیز نیز ابراہیمی اصولوں کو چھوڑ کر کسریٰ و قیصر کے نظامِ حکومت کی عادات کو اپنانے والی یرغمال طفیلی ریاست (قریہ ظالمانہ) کا قرآنی نقشہ 50:16 مکہ کی ظالم پر مبنی حکومت کی گرفت اور ملتِ ابراہیمی کی اصل تعلیمات کے احیاء کے لیے نبی اکرمﷺ کی بطور نذیرِ مبین‘ بعثت 53:00 نبی اکرمؐ کے وصفِ نذیرِ مبین کے بنیادی اہداف و مقاصد 55:34 نبی اکرمؐ کی دعوت قبول کرکے ابراہیمی حنیفی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے اہلِ ایمان کے لیے ’مغفرت‘ اور ’رزقِ کریم‘ کا قرآنی وعدہ نیز رزق کا وسیع تر مفہوم 59:27 مقدس دھرتی‘ مکہ سے معززین؛ انحضرتؐ اور جماعتِ رسولؐ کی بے دخلی کا مکافاتِ عمل: جابر طبقات کی پکڑ اور عبرت ناک انجام نیز حرمتِ مکہ و مدینہ کی پاسداری 1:04:35 نبیِ رحمت ﷺ کی امن پسند، تحفظِ انسانیت اور مکہ کی قومی طاقت پیدا کرنے کی بصیرت افروز حکمت عملی اور ہزار سالہ عادلانہ نظام کا قیام 1:09:47 عربوں کے بعد عادل ترک (عثمانی و تیموری)حکمران اور کل انسانیت کے لیے پیغامِ نذیرِ مبینؐ کی عالمگیر پاسبانی اور رہنما کردار 1:11:38 ظالم برطانوی شہنشاہیت اور یورپین بھیڑیوں کی ظالمانہ تاریخ، مہلتِ الٰہی کا اِتمام اور برطانیہ و امریکہ کے ظلم و استبداد پر گرفت 1:15:25 مکہ کی مرکزیت کی تباہی اور خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے اور برطانوی تسلط قائم کرنے کے لیے شریفِ مکہ کی ہاشمی خلافت کی سازش، فتویٰ فروشی، حضرت شیخ الہندؒ کا انکار، عرب اقوام کی بغاوت اور آلِ سعود کا تسلط 1:25:29 آبِ زمزم کا جغرافیائی و ہائیڈرولوجیکل نیٹ ورک نیز تحفظِ حرمین شریفین اور عالمی استعمار کا سدِباب: جزیرہ عرب اور خلیجی ممالک کے اتحاد کی ناگزیریت 1:30:22 عرب سرزمین کے تقدس کی پامالی، اللہ کی مہلت اور عرب حکمرانوں کو انذار و تنبیہ 1:33:01 عالمی منظر نامے اور سیاسی حالات پر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مدنیؒ کے رہنما کردار کو اپنانے کی ضرورت و اہمیت 1:33:59 نبی اکرمﷺ کی وراثت؛ منصبِ نذیرِ مبینؐ اپنانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
Sun, 20 Sep 2026 - 568 - نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں| 04-09-2026
نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 21؍ ربیع الاول 1448ھ / 04؍ ستمبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، پشاور کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46)
ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔
حدیثِ نبویﷺ:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)
ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز خطاب
1:32 ربیع الاول‘ انسانوں کی روحانی ترقی اور دلوں میں نورِ محمدی کے ذریعے سے نورِ خداوندی کی پرورش کا مہینہ
5:49 کرۂ ارض پر ظلم و کفر اور روحانی مُردَنی کے خاتمے کے لیے ’ازکی خلقِ اللہ‘ روحِ محمدﷺ کا انتخاب اور بعثت
12:11 نبی اکرمؐ کا نور اور وجودِ گرامی‘ باعثِ تخلیقِ کائنات نیز جسمانی فضائل اور نورانی و روحانی تاثیرات
15:56 جسمانی اور عقلی نشو و ارتقاء اور کامل انسان بننے کا دورانیہ‘ مثالوں سے وضاحت
19:25 ماہِ ربیع الاول اور چالیس سال کی عمر مبارک میں سچے خوابات کی صورت میں انخصرتؐ کی نبوت و رسالت کے اظہارات
20:53 نبوت و رسالت کا تئیس سالہ تدریجی ارتقاء؛ وحی الہی، نزولِ قرآن اور تکمیلِ دین
24:06 ربیع الاول میں وصال؛ روضۂ رسول میں روحِ محمدیﷺ کی روحانیت و نورانیت کا برزخی نشو و ارتقاء اور فیوضات و برکات
27:53 ربیع الاول میں سیرتِ مقدسہ کا تذکرہ‘ دلوں کو منور کرنے اور محبتِ رسولؐ پیدا کرنے کا ذریعہ
29:02 نبی اکرمؐ کی نبوت کے فیضان سے کائنات اور آدمیت کی ابتدا اور خاتم النبیین کی وجہ سے تا قیامت کوئی نیا نبی نہیں آئے گا
30:56 حضرت عیسیٰؑ کے دنیا میں نزول اور آمد کا ہدف اور مقصد
32:46 دنیا میں حضورؐ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت سے میدانِ حشر تک آپؐ کی نبوت اور حکومت (اتھارٹی) برقرار اور قائم ہے
41:24 خلفاء اور اولیاء کی صورت میں فیضِ و برکاتِ نبوت تک قیامت جاری نیز حضرت مہدی کی آمد کا مقصد
44:33 محبتِ رسولؐ کے بغیر ایمان نامکمل
47:54 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر؛ غزوۂ احزاب کے موقع پر عرب کی تمام قوتوں کی مدینہ پر یلغار اور صحابہ کرامؓ کا امتحان
56:34 خطبے کی مرکزی آیت میں ریاست، اتھارٹی اور حکومت سے متعلق رسول اللہؐ کے پانچ اوصاف (شاہد، مبشر، منذر، داعی اور سراج منیر) کی توضیح و تشریح
1:07:27 ’دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ‘ کی روشنی میں منصبِ دعوت کے تقاضے، شیخ و مرشد کی تربیت اور اجازت کی ضرورت و اہمیت اور آج کا المیہ
1:12:46 منصبِ دعوت اور وعظ کا اختیار صرف بادشاہ وقت اور با رعب عالم کو حاصل ہے
1:14:15 مولانا الیاس دہلویؒ کی چھ نمبروں کی دینی دعوت و تبلیغ اور منصبِ دعوت کے حوالے سے بڑی غلطی فہمی کا ازالہ
1:17:47 پانچواں نبوی وصف؛ سراجِ منیر کے نتائج (دنیا کا ہر کونہ نورِ محمدیﷺ سے روشن اور مکمل دینی غلبہ)
1:23:24 حدیثِ نبوی میں حضورؐ کے پانچ صفاتی نام اور ان کے اثرات و نتائج
1:24:40 ورثة الانبیاء: علماء کا پانچ نبوی اوصاف اپنانے اور دور کے تقاضے کے مطابق کردار ادا کرنے کی ناگزیر ضرورت
1:31:00 پانچ نبوی اوصاف کی اساس پر برعظیم پاک و ہند میں حریت پسند علماء کے کردار و افکار اور ان کی اتباع کی ضرورت و اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 16 Sep 2026 - 567 - حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں| 11-09-2026
حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 28؍ ربیع الاوّل 1448ھ /11؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(24) سورۃ الانفال:8 (24) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور رسول کا حکم مانو جس وقت تمہیں اس کام کی طرف بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے، اور جان لو کہ اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے، اور بے شک تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز 0:53 حیاتِ انسانی کے دو دائرے: مادی حیات اور معنوی حیات 4:53 معنوی حیاتِ انسانی کی خصوصیات 7:16 معنوی حیاتِ انسانی کے ارتقاء میں نبوّت کا کلیدی کردار 8:59 اشیاء کے مقام و مرتبہ کے تعیّن میں ان کے مقاصدِ تخلیق کی اہمیت 13:52 خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت 17:50 ظالم اور مردہ معاشروں کے اِحیاء میں نبوّت کا کردار 22:31 اِحیائے معاشرہ کے لیے نبی اکرم ﷺ کا انسانی مساوات کو بنیاد بنانا 26:32 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں انسانی جِسم کی مثال کے ذریعے معاشرتی مساوات کی تفہیم 30:23 موجودہ بے حِس اور مردہ معاشرے کی سفاکیت کی حالیہ مثال 35:35 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: طبقاتی نظامِ تعلیم 38:51 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: دولت کی غیر مُنصفانہ تقسیم 42:04 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: جہالت اور بے شعوری کا پھیلاؤ 45:46 توحید کی اساس پر معاشرتی اِحیاء کی نبوی ﷺ جدوجہد کا تعارف 50:38 معاشرتی اِحیاء کے لیے صفاتِ باری تعالیٰ پر غوروفِکر کی قرآنی دعوت 52:48 دین کے حیات بخش اجتماعی نظام کو شعوری طور پر سمجھنے کی ضرورت و اہمیت 55:33 موجودہ معاشرتی بے حِسی کی بنیادی وجہ: نظامِ ظلم 59:52 معاشرتی اِحیاء کا اصل الاصول: ظالمانہ نظام کی بیخ کُنی اور دینی فِکر کی شعوری تفہیم بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
Wed, 16 Sep 2026 - 566 - فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے| 11-09-2026
فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 28؍ ربیع الاول 1448ھ / 11؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ-یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(56) اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا (57) (33 -الاحزاب: 56، 57) ترجمہ : ” اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں رسول پر اے ایمان والو رحمت بھیجو اس پر اور سلام بھیجو سلام کہہ کر۔ جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان کو پھٹکار اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب “ ۔ حدیثِ نبویﷺ: لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ، وَوَلَدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. (مشكوة المصابيح، كتاب الإيمان، حدیث: 7) ترجمہ: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات ✔️ نبی اکرمﷺ کی محبت،عظمت، ہیبت اور جلال سے روح کا سرشار ہونا‘ مسلمان کا بنیادی فریضہ اور ایمان کا لازمی جزو ✔️ نبی اکرم ﷺ سے محبت دل کی گہرائی سے ہونی چاہیے ✔️خطبہ میں تلاوت کی گئی سورۂ احزاب کی آیات قرانی کا پس منظر ، شانِ نزول اور توضیح و تشریح ✔️ سورۂ احزاب کا پہلا حصہ غزوۂ خندق اور دوسرا حصہ نبی اکرم ﷺ سے متعلق ہدایات اور آپ ﷺکی اطاعت و فرمانبردای پر مشتمل ✔️ انحضرت ﷺ کی رسالت سے قبل قومی انتشار اور زوال سے دوچار عرب معاشرہ اور آپ ﷺ کا صحابہ کرامؓ کی اجتماعیت اور نظم و نسق قائم کرنا ✔️ رسولِ انسانیت ﷺکی اتھارٹی کو ماننے، احکامات اور فیصلوں کی پاسداری میں کسی مؤمن و مؤمنہ کو کوئی اختیار حاصل نہیں ✔️ سورت کے نصفِ آخر میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق احکامات و واقعات نیز ازواج مطہراتؓ اور اہل بیت کی عظمت و احترام کا بیان ✔️ نبی اکرم ﷺ کی اتھارٹی کا ایک نمایاں پہلو‘ اللہ کی رحمت اور تمام فرشتے اور مقربین بارگاہ الہی آپﷺ کے لیے دعا گو ہیں ✔️ صلوة علی النبیﷺ کا مطلب‘ اللہ کی خاص رحمت، محبت اور انوارت ہر دم آپ ﷺکی ذاتِ گرامی پر جاری ہیں ✔️ حضرت حمد ﷺ کی وساطت سے انواراتِ الہیہ کا کون و مکاں پر فیضان اور ایمان سے سر شار روحیں آپﷺ کے احسانات نہیں اتار سکتیں ✔️ فرشتوں کی نسبت سے صلوة کا معنی و مفہوم‘ دعا مانگنا اور وجہ تخلیقِ کائنات کے احسان کا شکر یہ ادا کرناہے ✔️ نبی اکرم ﷺ کی سالہا سال جدوجہد سے اولو العزم افراد پر مشتمل جماعتِ صحابہؓ کی تیاری، سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر ریاست (عملاً اتھارٹی) کا قیام‘ آپﷺ کے اعلیٰ نظم و نسق اور منصبِ رسالت کا اظہار ✔️ غزوہ خندق کے بعد دشمن طاقت کے رعب کا خاتمہ، عملا آپﷺ کی اتھارٹی کا قیام اور سیاسی و معاشی طاقت کا اظہار ✔️ مسلمانوں کو درود و سلام پڑھنے کا حکم نیز صلوۃ پڑھنے کے لیے درودِ ابراھیمی کی تعلیم ✔️ آپﷺ پر صلوة (درودِ ابراہیمی) پڑھنے کی تعلیم میں پنہاں حکمتیں؛ نبی ﷺ کی محبت میں غلو اور تحریف سے بچنے کے لیے درود میں اللہ تعالیٰ سے نبی اکرم ﷺ کے لیے دعا ✔️ صدق دل سے دعا مانگنے کے اثرات و نتائج نیز دعا میں آلِ محمد (آپ ﷺ کے اہل بیت اور پوری جماعت) شامل ✔️ مولانا سندھیؒ کے نزدیک آل محمد ﷺ سے آپ ﷺ کی اتھارٹی کو دنیا میں نافذ کرنے والے خلفاء راشدینؓ اور پوری جماعت شامل ہے ✔️ امرِ نبوت کا پہلا حصہ‘ وحی الہی کا سلسلہ مکمل اور منقطع ہو گیا لیکن غلبہ دین کی اساس پر جدوجہد تک قیامت جاری ہے ✔️ غلبہ دین کے دو پہلو؛ خلافتِ ظاہرہ (دین کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا غلبہ ) اور خلافتِ باطنہ (علومِ نبوت) کی تعلیم و ترویج ✔️ آلِ محمد ﷺ کا مصداق‘ علوم نبوت کو منتقل کرنے اور انہیں غالب کرنے والی جماعت‘ خواہ نسبی تعلق ہو یا روحانی ✔️خلافتِ ظاہرہ قائم کرنے میں سب سے اعلی کردار ادا کرنے والے حضرات خلفاء راشدینؓ (ابوبکرؓ، عمرؓ ، عثمانؓ اور علیؓ) سب آل محمد ﷺ میں شامل ہیں ✔️ آلِ محمد میں شامل ہونے کے لیے صرف رسول اللہ ﷺ کی نسبی اولاد ہونا کافی نہیں بلکہ وہ علومِ نبوت کا وارث اور ان کے غلبہ کے لیے سراپا جدوجہد ہو ✔️ ماضی کی تاریخ کی یاددہانی اور صلوة کا واضح مطلب؛ امامِ انسانیت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیمؑ (بنی اسرائیل و اسماعیل) اور تحریکِ حنیفیت کے پیروکاروں پر رحمت و برکت کی دعا ✔️ صلوة کے معنی و مفہوم میں رحمت کے ساتھ ساتھ برکت بھی شامل نیز برکت کی تعریف و توضیح ✔️ اللہ سے حضرت محمدﷺ اور آلِ محمدﷺ پر برکت نازل کرنے کی التجاء کے اثرات و نتائج ✔️ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیمؑ پر برکات کے اثرات و نتائج ✔️ خلفاء راشدینؓ اور خلفائے بنو امیہ، بنو عباس اور بنو عثمان کے سیاسی غلبے کی صورت میں درود و سلام اور برکاتِ نبوت کے اثرات و نتائج ✔️ ہر مسلمان کو انحضرتﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم اور رسول اللہﷺ کو ایذاء پہنچانے والے آپ ﷺ کی اتھارٹی کو تسلیم نہ کرنے والے دنیا و آخرت میں لعنت اور ذلت آمیز عذاب کے مستحق ✔️ آپ ﷺ کے تذکرہ پر درود پاک پڑھنا‘ اظہارِ محبت، دنیوی و اخروی لعنت (ذلت) سے نجات، رحمت کا حصول اور آپ ﷺ کی اتھارٹی کو تسلیم کرنا ہے ✔️ حضورﷺ کا خوشی کا اظہار اور آپﷺ کا پروٹوکول؛ ہر درود پڑھنے والے کا درود‘ فرشتے بارگاہ رسالت میں پیش کرتے ہیں ✔️ مقامِ نبوت؛ نور محمدی ﷺ نور الہی سے جڑنے کا ذریعہ و واسطہ ✔️ دوردِ پاک پڑھنا رسم نہیں نیز طریقت، شریعت اور سیاستِ محمدی ﷺ کے غلبے کے لیے کردار ادا کرنا‘ اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے منجانب: رحیمیہ میڈیا
Tue, 15 Sep 2026 - 565 - معاشرے کی تعمیر نو کے لیے سماجی شعور اور جدوجھد کی اہمیت: قبل از بعثت، نبوی ﷺ سماجی سرگرمیوں کا مطالعہ| 28-08-2026
خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 14؍ ربیع الاوّل 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (128) سورۃ التوبہ: 9 (128) ترجمہ: البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے، اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے، تمہاری بھلائی پر وہ حریص ہے، مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ بعثتِ نبویﷺ سے قبل عالمِ انسانیت کے فکری، سماجی اور اخلاقی حالات ✔ انبیائے کرامؑ کو اپنی قوم میں مبعوث کرنے کی سنّت اللہ ✔ اجنبی زبان کو معاشرے میں پروان چڑھانے کی ظالمانہ روِش کا مقصد ✔ قومی زبان میں تعلیم و تربیت کے اہتمام کا نبوی طریقہ کار ✔ مکہ میں بعثتِ نبویﷺ کے وقت تین اقسام کے معاشرتی طبقات ✔ مکّہ میں قبائلی چپقلش کی وجہ سے بدامنی کا فروغ ✔ نبی اکرمﷺ کی سماجی بصیرت اور کردار ✔ کُل قومی تعمیر و ترقی میں انبیائے کرامؑ کا اساسی کردار ✔ سماجی اور اجتماعی اُمور میں بھرپور شمولیت کا نبوی اُسوہ حسنہ ✔ رسول اکرمﷺ کی قبل از بعثت معاہدہ حِلف الفضول میں شرکت ✔ سیرتِ طیّبہ ﷺ میں معاہدہ حِلف الفضول کی اہمیت ✔ موجودہ سماج میں ظالم طبقات کی بابت بے حِسی و بے شعوری کا جاہلانہ رویّہ ✔ موجودہ ظالمانہ نظام کی سفّاکیت کے شعوری اِدراک کی ضرورت ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قبل از بعثت بھرپور سماجی کردار بطور دلیلِ نبوّت اور مدعیّانِ نبوّت کے ردّ کی کسوٹی ✔ حضرت ابوبکر صدّیق کا سفرِ معراج کی تصدیق کرنا اور مقامِ صدّیقیت کا حُصُول ✔ حضرت خُزیمہؓ کا رسولِ اکرمﷺ کے معاملے کی تصدیق، گواہی دینے کا واقعہ اور اُن کا اِعزاز ✔ رسولِ اکرمﷺ کا اعلیٰ سماجی کردار اور نبوّت کے فرضِ منصبی کا لازم و ملزوم تعلق ✔ حضرتِ خدیجہؓ کی زبانی رسولِ اکرمﷺ کی قبل از بعثت زندگی کا خُلاصہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا بعثت کے ذریعے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کا اجتماعی سماجی نظم و ضبط قائم کرنے کا اُسوہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قوم کی ہدایت و راہ نمائی کے لیے انتہائی فکرمندی اور اہلِ ایمان کے لیے حدّ درجہ شفقت کا رویّہ ✔ محبّت رسولﷺ کا بنیادی تقاضا: نبی اکرمﷺ اور جماعتِ صحابہؓ کی اتباع
Mon, 31 Aug 2026 - 564 - مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت | 28-08-2026
مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 14؍ ربیع الاول 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: جامع مسجد قباء، مانسہرہ خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: 1- وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَؕ-وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا (17 –بنى اسرائيل:105) ترجمہ : ”اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے قرآن اور سچ کے ساتھ اترا اور تجھ کو جو بھیجا ہم نے سو خوشی اور ڈر سنانے کو“ ۔ 2۔ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔ ترجمہ: ”اس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا “ ۔ (48–الفتح:28) حدیثِ نبویﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169) ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 2:01 ماہِ ربیع الاول کو سیرتِ رسول اکرمﷺ سے خصوصی نسبت حاصل 3:23 اقوامِ عالم کا دستور؛ قومی رہنماؤں کی سیرت و کردار کی یاد کے لیے دن مختص کرنا 5:00 اطاعتِ رسولؐ ہی دنیا و آخرت میں بھلائی اور کامیابی کی ضامن! 6:33 سیرتِ نبی اکرمﷺ پر گفتگو کے آداب، مقاصد و اہداف اور عملی تقاضے 8:42 منصبِ رسالت کے فہم کے تناظر میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے شہنشاہ مطلق اور مالک الملک ہونے پر تفصیلی گفتگو 10:00 ’رسول‘ کا حقیقی مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؐ کی عالمگیر حکمرانی کا اعلان 11:38 کائنات کا حقیقی بادشاہ اور شہنشاہِ مطلق‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے 26:09 دنیا میں احکاماتِ الٰہیہ کے نفاذ کی اتھارٹی کے طور پر شہنشاہِ مطلق کی جانب سے انبیاءؑ کی بعثت 27:59 حضورؐ سے پہلے تمام انبیاء ایک مخصوص قوم، جغرافیے اور زمانے کے لیے مبعوث ہوئے 32:04 رسول محض ڈاکیا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کے نفاذ کے لیے قوت نافذہ بھی لے کر آتا ہے 33:04 قرآنِ حکیم؛ انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے برحق پیغام 33:53 قرآن حکیم میں انسانی سماج اور اجتماعیت کی بنیادی اقدار کی دستوری ہدایات 34:47 نبی اکرمؐ کی اتھارٹی (قوتِ نافذہ) کے دو اہم لوازمات‘ بشیر اور نذیر ہونے کا حقیقی مفہوم 39:20 نبی کی اتھارٹی کا پہلا تقاضا‘ حکومت و بادشاہت 42:46 دورِ غلامی کے تصورِ رسالت میں اتھارٹی کا انکار اور دین کی حکومت کا تصور مفقود ہو گیا 54:31 حضرت محمدؐ کے معلمِ انسانیت ہونے کا حقیقی مفہوم، ریاستِ مدینہ کی تشکیل کی اساسیات اور نظامِ عبادات کی روشنی میں حکومت، اتھارٹی اور نظام کے قیام کی اہمیت 59:17 نبی اکرمؐ کی کتابِ ہدایت قرآنِ حکیم کے ساتھ بعثت نیز کتابِ ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اتھارٹی اور نظام کی ضرورت 1:02:13 دینِ حق؛ رسول اللہ کی ہدایات پر مشتمل سسٹم کی توضیح و تشریح؛ انسانیت کو ہدایت یافتہ بنانے کے لیے حکومتی اتھارٹی قائم کرنے، ماحول بنانے اور مواقع بنانے کی ضرورت ہے 1:06:36 حضورؐ کی جانب سے راستوں کو روکنے کی ممانعت نیز ’السلام علیکم‘ کا حقیقی تقاضا‘ لوگوں کو امن، مالی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی ہے 1:12:54 دینِ اسلام کے معاشی نظام میں دھوکہ دہی کی ممانعت نیز حضرت امام ابو حنیفہؒ کا معاشی لین دین میں دیانت و سچائی کا مشہور واقعہ 1:17:31 سیرتِ نبویؐ کا لازمی تقاضا‘ دینِ اسلام کے اجتماعی نظام کا قیام ہے 1:21:34 خلفائے راشدین کا دینِ اسلام کے استحکام، حکومتی رٹ قائم کرنے، ظالمانہ نظام کے خاتمے اور عادلانہ نظام کے قیام کےلیے بے لاگ کردار 1:26:19 خلافتِ بنو امیہ کے دور میں بلوچستان سے اٹک تک اور بنو عباس کے دورِ خلافت میں لاہور تک فتوحات 1:28:43 اولیاء اللہ کے نزدیک ظلم کی سیاست کی نفی اور دینِ اسلام کی سیاست کی ضرورت اور اہمیت 1:30:15 مولانا الیاس دہلویؒ کا شریعت، طریقت اور سیاست کی جامعیت پر مبنی تصورِ دین 1:32:19 یہودی اور عیسائی اپنے دین میں سود کی ممانعت کے باوجود سود خوری کرتے ہیں کیونکہ وہ انبیاء کو اتھارٹی نہیں مانتے 1:33:03 رسول اللہﷺ کے حکمران (اتھارٹی) ہونے کی حیثیت سے عادلانہ حکومت کے قیام کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
Wed, 02 Sep 2026 - 563 - دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا | 21-08-2026
دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 7؍ ربیع الاوّل 1448ھ /21؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیات
وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُؕ -رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(127) رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(128) رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ (129)
سورۃ البقرۃ: 2 (127-129)
ترجمہ: اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے: اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول کر۔ بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرماں بردار بنا، اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! اور ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج جو اِن پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے، اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ سلسلہ نبوّت کا تاریخی تسلسل اور نبی آخر الزّماںﷺ
✔ انسانی معاشرے کی ترقی میں حضرت ابراہیمؑ کا کردار
✔ تعمیرِ کعبہ کے موقع پر حضرت ابراہیمؑ کا دعاؤں کے ذریعے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا
✔ استقامت کا مفہوم اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت
✔ نئی اجتماعیت کی تشکیل کی بابت حضرت ابراہیمؑ کا ذہنی خاکہ اور اس کے قیام کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا
✔ نبوّت اور دین کے لیے اجتماعیت کی اہمیت اور حضرت ابراہیمؑ کا قیامِ اجتماعیت کے لیے دعا کرنا
✔ حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی قبولیت: مکّہ میں انسانی آبادی کا آغاز اور تمدّن کا قیام
✔ ابراہیمی دعا کے نتیجے میں دارالندوہ کی اجتماعیت کے ذریعے مکّہ کے شہری نظام کا قیام
✔ نبی اکرمﷺ کا فرائضِ منصبی کی تکمیل کے لیے اجتماعی جدوجہد کو اختیار کرنا اور قیامِ اجتماعیت کو بنیاد بنانے کا اُسوہ
✔ موجودہ دور کا المیہ: سیرتِ نبویﷺ کا انفرادی مطالعہ
✔ رسولِ اکرمﷺ کا شعوری بنیادوں پر عام انسان کی سطح پر زندگی گزارنے کا اُسوہ
✔ رسولِ اکرمﷺ کا جدوجہد سے بھرپور اور سادہ طرزِ زندگی گزارنے کا لائحہ عمل
✔ حقیقی محبّتِ رسولﷺ کی تشریح و توضیح: حضرت شیخ الہندؒ کا شعوری تجزیہ
✔ موجودہ دور میں بے شعوری پر مبنی محبّتِ رسولﷺ کے خود ساختہ تصوّرات کا جائزہ
✔ سیرتِ نبویﷺ سے عملی راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت
✔ معاشرے میں رائج بے شعوری پر مبنی میلاد منانے کے غلط طریقوں کا تجزیہ
✔ رسول اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں
✔ نبی اکرمﷺ کے چار مناصبِ نبوّت اور مسلمان کا مطلوبہ کرداربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاMon, 24 Aug 2026 - 562 - رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ | 21-08-2026
رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 07؍ ربیع الاول ۱۴۴۸ھ / 21؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبویہﷺ:
آیتِ قرآنی:
وَ مَا اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21 –الانبیاء:107)
ترجمہ : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر“ ۔
احادیثِ نبویہﷺ:
1۔ ”إنما أنا رحمة مهداة“. (تفسير ابن كثير :5/ 388)
ترجمہ: ” بے شک میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے لیے) سراپا رحمت اور انہیں سیدھا راستہ دیکھنے ولا ہوں“۔
2۔ ”قال: والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون، إني رحمة بعثني الله ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه، لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب“. (كنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال :11/ 464)
ترجمہ: ”نبی اکرمﷺنے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کو ضرور قتل کروں گا، اور انہیں ضرور سولی پر لٹکاؤں گا، اور میں انہیں ضرور ہدایت دوں گا خواہ وہ اسے ناپسند ہی کریں۔ بیشک میں سراپا رحمت ہوں، اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا جب تک اللہ اپنے دین کو غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، اور احمد ہوں، اور میں 'ماحی' (مٹانے والا) ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹا دے گا، اور میں 'حاشر' (اکٹھا کرنے والا) ہوں میرے قدموں میں لوگوں کو (قیامت کے دن) اکٹھا کیا جائے گا، اور میں 'عاقب' (سب کے آخر میں آنے والا) ہوں۔"
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ماہِ ربیع الاول کی اہمیت
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے پانچ موطن (نشأتیں)
✔️ آپؐ‘ وجہِ تخلیقِ کائنات، رحمتِ عالم اور نورِ ہدایت
✔️ نبی اکرمؐ کی ذاتِ قدسی‘ نورِ عرش سے ارضی فرش تک تمام مخلوقات کے لیے سراپا رحمت
✔️ آپؐ کا انسانیت کو ظالموں اور طاغوتی قوتوں سے نجات دلانا‘ ’’رحمة للعالمین‘‘ ہونے کے منافی نہیں!
✔️ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر کی روشنی میں ’’رحمة للعالمین‘‘ کا درست معنی و مفہوم
✔️ رحمت کے تین دائروں؛ رحمتِ عقلی، قلبی اور طبعی کی وضاحت اور احادیث سے استدلال
✔️ رسول اللہؐ کی تین عالمگیر حیثیتیں؛ بادشاہِ عالَم، متبحّر عالم (قانون ساز) اور مرشدِ عالم
✔️ نبی اکرمؐ کی رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے جامع حکمتِ عملی کا مطالعہ
✔️ آپؐ کی ریاستِ مدینہ اور حکمرانی کی حکمتِ عملی کی صدائے بازگشت‘ دار الندوہ میں ابوجہل کی زبانی
✔️ ابوجہل کی خوفزدگی کی حالت میں پلاننگ کی اطلاع کے موقع پر آپؐ کا سیاسی غلبے کے اظہار اور رحمت و شفقت پر مبنی ارشادات
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور سیرتِ مقدسہ کا بنیادی ہدف و مقصد
✔️ ’رحمة للعالمین‘ کے عامیانہ و انتہاء پسندانہ تصورات اور منفی اثرات‘ دورِ غلامی کا شاخسانہ
✔️ سیرتِ النبیؐ کا سب سے اہم تقاضا؛ انسانی سماج کی حالتِ مرض اور حالتِ صحت کا جائزہ لے کر رحمت کے نظام کا قیام
✔️ دورِ غلامی کا المیہ؛ آپؐ کی سیرت کے اہم پہلو‘ بادشاہِ عالم، رحمتِ سیاست اور طاغوت کے خلاف جدوجہد کا مطالعہ مفقود و عنقاء
✔️ آپؐ کی جانوروں پر رحمت و شفقت سے ظالموں اور انسانیت دشمنوں کے لیے رحم دل ہونے کا استدلال درست نہیں!
✔️ انسانیت دشمن طاقت سے مقابلہ اور مزاحمتی شعور بھی رحم دلی ہے
✔️ عدم تشدد کے پہلے بنیادی نکتے کی سیرت النبیؐ کی روشنی میں وضاحت؛ ظالم کے خلاف نظریہ مزاحمت کی اساس پر مستقل و مستحکم جدوجہد
✔️ عدم تشدد کا دوسرا مرحلہ؛ نظریے کی اساس پر نظم و ضبط، جماعت سازی اور اجتماعیت کا قیام
✔️ رحمة للعالمین کا تقاضا‘ سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر دینِ اسلام کو باطل ادیان پر غالب کرنا
✔️ رحمة للعالمین کے مظاہر سے مسلمہ امت کی پہلو تہی
✔️ عصری تقاضا؛ رحمت للعالمین کا درست فہم اورانسانی سماج کی تعمیر نو کے لیے شعوری مزاحمت اور جدوجہد کی ناگزیریتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSat, 22 Aug 2026 - 561 - فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے | 14-08-2026
فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 30؍ صفر المظفّر 1448ھ /14؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ (15) اِذۡ نَادٰٮهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًىۚ(16) اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘(17) فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ(18) وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ(19)
سورۃ النازعات:79 (15-19)
ترجمہ: کیا آپ کو موسیٰ کا حال معلوم ہوا ہے؟ جب کہ مقدّس وادی طُویٰ میں اس کے ربّ نے اُسے پُکارا۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ پس کہو: کیا تیری خواہش ہے کہ تُو پاک ہو؟ اور میں تجھے تیرے ربّ کی طرف راہ بتاؤں کہ تُو ڈرے؟۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
00:00 آغاز
00:52 انسان کا مقام: خلیفۃ الارض
04:43 مقامِ عبدیت (عباد اللہ) اور اس کا حقیقی مفہوم
08:17 انبیائے کرامؑ کی دعوتِ توحید اور غیر اللہ سے آزادی کا تصوّر
11:19 رسولِ اکرمﷺ کی جدوجہد اور حضرت موسیٰؑ کی قرآنی تمثیل
12:56 حضرت موسیٰؑ کا پہلا مشن: بنی اسرائیل کی قومی آزادی
16:48 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا پہلا فرعونی وار: ذاتی احسانات کا بوجھ ڈالنا
18:52 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا دوسرا فرعونی وار: انفرادی لغزش کی بنیاد پر دھمکی اور دباؤ قائم کرنا
20:57 حضرت موسیٰؑ کا عظیم طرزِ عمل: اجتماعی اور قومی مفاد پر انفرادی فائدے کو قربان کرنا
25:01 انبیائے کرامؑ کا نمونہ اور موجودہ دور کے تعلیم یافتہ طبقے کا المیہ
28:31 انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی نکتہ: دور کے ظالمانہ نظام سے آزادی دلانا
30:41 برّعظیم پاک و ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے استحصالی کردار کا جائزہ
36:19 برّعظیم پاک و ہند پر برطانیہ کے ظالمانہ قبضے کا دور
39:46 برّ عظیم پاک و ہند کی آزادی کے لیے علمائے حقہ کے کردار کا اجمالی تعارف
43:03 جدوجہدِ آزادی کے سرخیلِ اوّل: امام شاہ عبدالعزیزؒ
44:24 برّعظیم پاک و ہند کے مسلم دورِ حکومت میں غیر مسلم رعایا کے ساتھ عادلانہ سلوک کے مثبت نتائج
48:00 برّعظیم پاک و ہند میں جدوجہد آزادی کا علمائے حقہ کے ذریعے انیسویں صدی عیسوی میں آغاز
50:52 جدوجہدِ آزادی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کا عظیم کردار اور موجودہ تعلیمی نظام کا مجاہدینِ آزادی کے تعارف سے چشم پوشی کا رویہ
54:00 79 سالہ آزادی کی تاریخ اور موجودہ نو آبادیاتی نظام کا سفّاکانہ رویّہ
58:16 یومِ آزادی کو بطور یومِ محاسبہ منانے کی ضرورت و اہمیت
01:03:01 ملکِ عزیز میں تعلیم، صحت اور معیشت کے میدان کی تشویش ناک صورتِ حال پر غور وفکر
01:07:04 ملکی وقار اور سلامتی میں قومی سوچ اور قومی خودمختاری کی اہمیت
01:08:49 تاریخِ جدوجہد آزادی کی بنیاد پر نوجوانوں کے سامنے قومی سوچ اور وقار پیدا کرنے کا تقاضابروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاThu, 20 Aug 2026 - 560 - عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے | 14-08-2026
عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 30؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 14؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
آیتِ قرآنی:
وَوَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ. (2 -البقرہ:170)
ترجمہ : ” اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ“ ۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ 14 اگست خطے کی آزادی و حریت کا دن اور حقیقی آزادی و قربِ الہی کے لیے انبیاؑ کا کردار
✔️ انسان کی عزت اور شرف‘ صرف اللہ کی بندگی اختیار کرنے میں ہے
✔️ امام شاہ عبدالعزیزؒ کے ہاں تخلیق انسانیت کے تناظر میں انسانی مساوات کا بنیادی اصول اور حکمران کا بنیادی فریضہ؛ طبقاتی نظام کا خاتمہ اور مساوات کا قیام
✔️ دائرہ تخلیق اور دائرہ تدبیر میں فرق کے تناظر میں حق معیشت میں مساوات اور درجات معیشت میں تفاوت کے قرآنی اصولوں کی وضاحت اور ریاست کی ذمہ داری
✔️ آزادی و حریت‘ انسان کا خمیر اور بنیادی فطرت اور حقِ معیشت میں مساوات ریاستی حق‘ اس پر عقیدہ کا کوئی جبر نہیں!
✔️ انبیاؑ‘ عقل و شعور کی تعلیم اور آزادی و حریت کی دعوت دینے کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے
✔️سب سے بڑی غلامی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور مراکز کو تسلیم کرنا نیز انبیاؑ کی فطری بنیادوں پر ایک مرکزِ ہدایت (توحید) کی دعوت
✔️ توحیدِ باری تعالی کے دوعقلی و منطقی تقاضے؛ حلال طیب زرق (وسائلِ معاش) کا حصول اور معاشی زندگی میں حلال اور طیب اشیاء کا استعمال
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں احکاماتِ الہی کی اتّباع اور مشرکین کی اپنے آباؤاجداد کی غلط روش پر قائم رہنے کی ہٹ دھرمی
✔️ ان آیات کے شانِ نزول میں قریش اور یہودیوں کا اپنے بے عقل اور بے علم رہنماؤں کی اتباع پر اصرار
✔️ قرآن کا غور و فکر پر مبنی سوال؛ عقل اور ہدایت سے محروم آباء و اجداد کی پیروی کی جائے گی؟
✔️ راہِ ہدایت کی دو صورتیں نیز عقل اور ہدایت سے محروم آباء و اجداد قابلِ اتّباع نہیں!
✔️ عقل سے عاری اور ہدایت سے خالی بے شعور افراد‘ جانوروں، گونگے، بہرے اور اندھوں کی مانند ہیں
✔️ حضرت شیخ الہند ؒکے نزدیک علم کے حصول کے لیے ذرائعِ علم کے آزاد ہونا لازم و ضروری
✔️ غلام قوموں کا مرض: صحیح رائے کے اظہار سے دوری، درست علم سے لاتعلقی اور آنکھوں پر خواہشات کی پٹی بندھ جانا
✔️ نوجوان نسل میں اپنے آباؤ و اجداد کو احمق سمجھتے ہوئے سچے رہنماؤں سے لاتعلقی اختیار کرنے کا بڑھتا مرض نیز آباء واجداد کی پیروی کا درست قرآنی فہم اور حضرت ابراہیمؑ کے اسوۂ حسنہ کا تعارف
✔️ اپنی دھرتی، سچے رہنماؤں اور آباؤاجداد سے رشتہ توڑنے کا نتیجہ‘ بدیسی طاقتوں کی غلامی اور نوجوان نسل کی گمراہی (مولانا سندھیؒ کا مکہ کی سیاسی حیثیت کا تجزیہ)
✔️ حضرت ابراہیمؑ اعلی درجے کے عقل مند اور ہدایت یافتہ امام انسانیت اور حضور اکرم ﷺشبیہ ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام
✔️ ہدایت یافتہ اور عقل مند سچے رہنماؤں کی اتباع کی روشنی میں برعظیم میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ اور محمدیہ کے تحت حکمرانوں، محدثین و فقہا اور اولیاءاللہ کے کردار کا جائزہ
✔️ پیروی کے لائق یہ سچے رہنما ہیں نہ کہ عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی غدّار، آلہ کار اور ملک دشمن لیڈر شپ!
✔️ غلامی کے دور میں حریت پسند علماء اور سچے رہنماؤں کا بے لاگ کردار
✔️ انگریز کا ہندوستان میں بیٹھ کر عرب پر قبضہ نیزآلہ کار تجارتی کمپنیوں کی تشکیل، سیاسی پارٹیوں کے ذریعے نظام پر تسلط اور بالآخر زمینی حقائق کے برعکس پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا جائزہ
✔️ معاہدات واتحاد کی قرآنی اساسیات نیز عقل اور ہدایت کے برخلاف عالمی سامراجی معاہدات و اتحاد میں شرکت کا تاریخی اور حالیہ مکہ معاہدے کا شعوری جائزہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 16 Aug 2026 - 559 - انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی | 07-08-2026
*انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی*
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 23؍ صفر المظفّر 1448ھ /7؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیت
لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ(11)
سورۃ الرعد:13 (11)
ترجمہ: ہر شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں، اس کے آگے اور پیچھے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انبیائے کرامؑ کا مقصدِ بعثت: فاسد تمدن کے بالمقابل صالح تمدن کا فروغ
✔ عقیدہ توحید بطور معاشرتی فساد کے اِزالہ کا ذریعہ
✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیتِ قرآنی کی وضاحت
✔ تمدن کے فروغ اور انسانی ضروریات کی تکمیل میں انسانی عقل کا کردار
✔ اجتماعیت کے فقدان کا لازمی نتیجہ: مایوسی اور لاقانونیت
✔ لاقانویت اور انتشار کا لازم و ملزوم تعلق
✔ انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی اُصول: صبر اور نظم و ضبط
✔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی نمایاں خرابی: معاشرے میں انتشار اور بدنظمی کو فروغ
✔ قانون کی پاسداری کا یورپین فریب اور عالمی انتشار میں مغربی طاقتوں کا کردار
✔ عالمی طاغوتی طاقتوں کی دنیا بھر کے آزاد اور خودمختار معاشروں میں انتشار کی سیاہ تاریخ
✔ صالح فکر اور تربیت کی بجائے ’ردّعمل‘ پر قائم جماعتوں اور تحریکات کے انسانی معاشروں پر منفی اثرات کا جائزہ
✔ سیرت رسول اکرمﷺ کی روشنی میں سماجی تبدیلی کا طریقہ کار: عدمِ تشدد
✔ عرب اور افریقہ میں ’افراتفری‘ اور ’ردّعمل‘ کی بنیاد پر پنپنے والی تحریکات کے نتائج کا مطالعہ
✔ ملکی سیاسی جماعتوں کی غلط احتجاجی حکمت عملی کے معاشرتی نقصانات
✔ سماجی تبدیلی کے لیے مسلمہ اصول: صالح فکر، جماعت سازی اور عدمِ تشدد
✔ عالمی استحصالی نظام کا افراتفری کو فروغ دینے کی حکمت عملی اور مسلمان ممالک کی بے شعوری
✔ عالمی خیراتی اداروں اور این جی اوز کا انسانی ہمدردی کا دوہرا معیار
✔ انقلاب کے عنوان سے افراتفری اور انتشار کی منفی حکمت عملی کا جائزہ
✔ فاسد نظام کی تبدیلی کا درست لائحہ عمل اور نوجوانوں کی ذمہ داریاںWed, 12 Aug 2026 - 558 - فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے | 07-08-2026
فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 23؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 07؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48)
ترجمہ:۔ ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ اجتماعیت‘ انسانی سماج کے لیے ناگزیر نیز قرآن حکیم کا انسانی سماج کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ایک مربوط نظامِ حیات
✔️ تعلق مع اللہ کی اساس پر انسانی سماج کے لیے صالح نظام کی ضرورت اور اہمیت
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دین اسلام کے دو بڑے مقاصد: تہذیبِ نفس اور انسانی سوسائٹی کی سیاست
✔️ تہذیبِ اخلاق اور نظام المدینہ کے تناظر میں انسانی معاملات اور تعلقات کو درست خطوط پر نظام استوار کرنا ضروری
✔️ نظام کی حقیقت و ماہیت نیز سیاست کا مفہوم دائرہ کار؛ ریاستی نظام کی صحت اور مرض کی حالت کا جائزہ
✔️ سیاسةُ الفرس، سیاسةُ الجسم، سیاسةُ النفس اور سیاسةُ المنزل کے تناظر میں سیاست کے بنیادی مقصد و ہدف کی وضاحت
✔️ سیاسةُ المدینہ؛ مملکت کے نظام اور سیاست سے بحث کرنا‘ قرآنِ حکیم کا اہم ترین موضوع
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود (اصحابِ حِجر) کے قومی نظام کے فساد اور اس کے نتیجے میں نازل ہونے والے عذاب کی وجوہات
✔️ قرآنی اصطلاح ’مدینہ‘ کی توضیح و تشریح؛ مستقل تہذیب وتمدن اور سیاسی و معاشی شناخت رکھنے والی ریاست
✔️ قومِ ثمود کی نو بڑی مؤثر شخصیات اور ان کا فسادی کردار
✔️ قرآنی اصطلاحات کی تشریح؛ ’رھط‘ کا مفہوم اور حضرت سندھیؒ کی تشریح کی روشنی میں ’الارض‘سے مراد‘ ریاست و مملکت
✔️ قومِ ثمود کی لیڈر شپ کے قائم کردہ معاشی و سیاسی نظام کی خرابیاں
✔️ سسٹم چلانے والی قوتوں کا مکر و فریب اور انسانیت دشمنی کے فسادی کردار کا اگلا شاخسانہ؛ (نعوذباللہ) حضرت صالحؑ کے قتل کا منصوبہ
✔️ حضورؐ کو درپیش قومی چیلنجز اور حضرت صالحؑ کو درپیش قومی چیلنجز میں مماثلت
✔️ تیسرا بڑا فساد؛ قومِ ثمود کا پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرنے کا مطالبہ
✔️ اونٹنی‘ دراصل ریاستی جرائم، مظالم اور قوم کے گناہوں کی تہہ در تہہ (compact) کی مجسم شکل میں قومِ ثمود پر اللہ کا عذاب بن کر ظاہر ہوئی
✔️ آج حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی طرح کرپٹو کرنسی اور آرٹیفیشل انٹیلجنس‘ قوم کے وسائل کھا رہی ہے
✔️ معجزے کا مطالبہ، اس کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کفر اور انکار پر قائم رہنا‘ معجزے کو فنا کرنے کے درپے اور عذابِ الہی میں گرفتار
✔️ اونٹنی کو قتل کرنے کے نتیجے میں پتھروں اور لینڈ سلائیڈنگ کا درد ناک عذاب
✔️ قران حکیم اور نبوی تعلیمات کا موضوع مملکت کا سیاسی نظام نیز دور کے سیاسی معاملات پر عقل و شعور کا حصول دینِ اسلام کا ایمانی تقاضا
✔️ قصص القرآن سے حاصل کردہ عبرت کے تناظر میں ’اصلاح فی الارض‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت سے مقصود موجود نظام پر بحث
✔️ نظام کی وضاحت نیز ہر نظام اپنے بنانے والی قوتوں کے فکر و نظریے کا عملی اظہار ہوتا ہے
✔️ مسلمان ایک فرد سے لے کر بین الاقوامی دائرے کا نظام‘ ملتِ مصطفویہ کے بیانیے کی اساس پر قائم کرتا ہے
✔️ بالائی نظام‘ ذیلی نظاموں پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے انسانی جسم کا مرکزی نظام اور اس کے ذیلی نظام
✔️ رسول اللہؐ نے مسلمانوں کو ایک جسم (ریاستی تمدّن کی شناخت) کی مانند قرار دیا ہے
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ نے مختلف ملتوں کی اساس پر چاروں ارتفاقات کے چاروں دائروں کے نظام پر گفتگو کی ہے
✔️ ملتِ حنیفیہ کی اساس پر رسول اللہؐ کے چاروں ارتفاقات سے متعلق جامع احکامات اور عملی کردار
✔️ دین اسلام کے غلبے کے دور میں ملت حنیفیہ (قرآن و سنت) کی اساس پر ایک ہزار سال تک خیر پر مبنی ارتفاقاتِ اربعہ کا نظام قائم رہا
✔️ اجتماعی معاملات میں غور و فکر اور تدبیر کے خیر ہونے کی تین اساسیات: انسانی معروفات، صدقات، اصلاح بین الناس نیز اس کے متضاد شرّ کی تین بنیادیں
✔️ گزشتہ تین سو سال سے خیر کے بجائے فساد اور شرّ کی بنیاد پر غلامی کا بیوروکریٹک اور عدالتی نظام مسلط
✔️ صالح معیاری نظام کے چار رہنما اصول؛ آزادی، عدل، امن اور معاشی خوشحالی
✔️ نظام کی خرابی لیکن آئین کے درست ہونے کے داخلی تضاد کا جائزہ
✔️ درست نظام کے چار خط و خال نیز اغیار کے غلامانہ تعلیمی نظام، غیر ملکی زبان اور توہم پرستی مقننہ و عدلیہ وانتظامیہ کے فرد اور نظام پر اثرات
✔️ نئے انتظامی یونٹس (ضلعوں اور صوبوں) کی تشکیل جغرافیائی، سماجی اور فطری اصولوں کی بنیاد پراختیارات و ذمہ داریوں کا واضح تعین ضروری ہے
✔️ نئے نظام کے قیام کے لیے اپنے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہے
✔️ حقیقت پسندی کی اساس پر collapse نظام کا شعوری جائزہ اور نئے نظام کے قیام کے لیے ملتِ مصطفویہ کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 09 Aug 2026 - 557 - قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت | 31-07-2026
قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 16؍ صفر المظفّر 1448ھ /31؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیات
اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُۚ-وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى(23) اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘(24) فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠(25)
سورۃ النجم:53 (23-25)
ترجمہ: یہ تو صِرف نام ہی نام ہیں جو تُم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں، جِن پر خُدا نے کوئی سَنَد بھی نہیں اُتاری، وہ محض وہم اور اپنی خواہش کی پَیروی کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس اُن کے ربّ کے ہاں سے ہدایت آ چکی ہے۔ پِھر کیا انسان کو وُہی مِل جاتا ہے جس کی تمنّا کرتا ہے؟ پس آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انبیائے کرامؑ کی تعلیمات بطور حقیقت شناسی کا پیغام
✔ حضرت آدمؑ کی مخلوقات پر برتری کی وجہ: کائناتی حقائق کا عِلم
✔ کائنات کی مرکزی حقیقت کا ادراک اور عقیدہ توحید کی اہمیت
✔ حقائق اور ہدایت کی بنیاد پر انبیائے کرامؑ کی تعلیمات اور ان کے مقابل وساوس و توہّمات کا بے بنیاد نظام
✔ خطبے میں مذکور آیت کی روشنی میں ’ہوائے نفس‘ کی وضاحت
✔ ’ہدایت‘ کی حقیقت اور اس کا تاریخی تسلسل
✔ جاہلیت کے حامل معاشرے کا توہمات کے ساتھ لازم و ملزوم تعلق
✔ ملکی سیاسی مسائل کے حل کی بابت مقتدرہ کی سیاسی توہمات پر مبنی غیر شعوری تجویز کا تجزیہ
✔ ماہِ صفر المظفّر میں موجود معاشرتی توہمات کا تحلیل و تجزیہ
✔ سیاسی توہمات پر مبنی استحصالی کاروبار کے ظالمانہ نظام کا جال
✔ ملکی استحصالی نظام کی تباہ کاریاں اور اس کو تحفظ فراہم کرنے والی مقتدرہ کے غلط رویے
✔ پُر فریب نعروں کی جھنکار میں ظالمانہ نظام کی اسّی سالہ تاریخ کا تجزیہ
✔ حقیقت پسندی پر مبنی شعوری فکر اور جدوجہد کی ضرورت و اہمیتWed, 05 Aug 2026 - 556 - اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ | 31-07-2026
اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 16؍صفرالمصفر ۱۴۴۸ھ / 31؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ اِنَّمَا اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ (13 -رعد:7)
ترجمہ : ”تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا“ ۔
2۔ اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ (28 -قصص:76)
ترجمہ : ”قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر“۔
حدیثِ نبویﷺ:
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ:”خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ، فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ، وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ“. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”معاملے پر غور و فکر کر، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر “۔ (مشکوٰۃ المصابیح :5057)
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآن کے ذریعے کچھ اقوام کامیاب اور کچھ اس کی ہدایات کو پسِ پشت ڈال کر گمراہ
✔️ قرآنِ حکیم کا بنیادی موضوع‘ اقوامِ عالم نیز گزشتہ انبیاء کی تعلیمات فرد، خاندان اور قوم کی ترقی اور کامیابی کے لیے تھیں
✔️ تورات اور قرآن کی تعلیمات اور حضرت موسیٰؑ و حضورؐ کی جدوجہد کا دائرہ کار
✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی دو آیات کی روشنی میں قومی و بین الاقوامی نظام کے خط و خال اور تشکیل
✔️ آپؐ کا ہدف؛ قومی تعصبات سے بالاتر تعلیم و تربیت، جماعت کی تیاری اور قومی اساسیات
✔️ زوال کا سبب؛ قومی مفادات کے اجتماعی نظام سے بغاوت اور اغیار کی آلہ کاری
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں بنی اسرائیل کی قومی شناخت توڑنے والے قارون کا منفی اور باغیانہ کردار کا ذکر
✔️ باغی کی وضاحت کے تناظر میں قارون کی قومی بغاوت، حضرت موسیٰؑ کی توہین اور تعلیمات کے انکار کی سزا کا تفصیلی جائزہ
✔️ قارون کی طرح مکہ و طائف کے سرداروں کا حضورؐ سے حسد و بغض، قومی بغاوت کا ارتکاب، ابوطالب سے شکایت اور آپؐ کی بشارت
✔️ کلمۂ طیبہ؛ قومی و بین الاقوامی ترقی کا مکمل عنوان نیز آپؐ کے قومی ترقی اور انسانیت دوستی کے بین الاقوامی پروگرام پر قریش کا اظہارِ تشویش
✔️ عرب اور اقوامِ عالم کے مفادات کا شعور اور آپؐ کے سگے رشتے داروں کی قومی بغاوت، توہین پر مبنی رویے اور انسانیت دوست اور قومی و بین الاقوامی ترقی کی تعلیمات کا انکار
✔️ نبوی شعور اور قرآنی تعلیمات کی اساس پر عربوں و ترکوں کی ہزار سالہ حکومت میں ہر قوم کے مفادات کی حفاظت
✔️ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی حیدرآباد دکن کے غیر مسلم راجہ کی دلجوئی اور علاؤ الدین خلجی سے مال کی واپسی
✔️ تجارت کے نام پر یورپین بھیڑیوں کی وسائل کی لوٹ مار اور عرب مسلم تاجروں کا دیانت پر مبنی کاروبار
✔️ مغل حکمرانوں کا ایسٹ انڈیا کمپنی کو بلا تعصب تجارت کی اجازت لیکن ان کی بغاوت و غداری
✔️ پورپین بھیڑیوں کے مدد گار اور معاون غدّار اور قوم سے بغاوت کرنے والے قارون صفت عناصر
✔️ خطہ کشمیر جنت نظیر میں حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کی صحبت سے اسلام کی اشاعت، ریاستی شناخت اور قومی طاقت پیدا ہوئی
✔️ 1846ء میں معاہدہ امرتسر میں ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کا 16 لاکھ نانک شاہی کے عوض انگریز سے کشمیر کی خرید اری اور کشمیری عوام کا اذیت ناک و الم ناک دور کا آغاز
✔️ مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت اور الجھاؤ کی بنیادی وجہ
✔️ خطبے کی مرکزی حدیث کے تناظر میں امورِ حکمرانی میں مشاورت و تدبیر کی اہمیت نیز مسئلہ کشمیر کے تاریخی حقائق پرکھنے اور سمجھنے کے لیے تدبیر کی دعوتِ فکر
✔️ انگریز کا ڈیوائیڈ اور رول کی اساس پر ہندو مسلم سکھ دراڑ کا اوچھا ہتھکنڈا اور آزادی کے نام پر متحدہ ہندوستان کی ظالمانہ تقسیم
✔️ نیشنلزم اور مکمل آزادی (تدبیر) کے علی الرغم‘ ’’غَيًّا‘‘ (گہری کھائی) کی اساس پر تقسیمِ ہند اور عرب خطوں کی بندر بانٹ نیز غدار اور قارون صفت باغی قیادت کا تسلط
✔️ ’’غَيًّا‘‘ کی اساس پر ہندوستان کی ریاستوں کی تقسیم کا فارمولہ اور کشمیر کی تباہی و بربادی کا آغاز
✔️ خطہ کشمیر کا الجھاؤ؛ شملہ معاہدہ کی اساس پر کشمیر زیرِ تصفیہ علاقہ، استصوابِ رائے کے لیے بارہ سیٹوں کا الجھاؤ، ایکشن کمیٹی کا احتجاج اور حکومتی تشدد
✔️ ریاستی مشینری اور کشمیر کے اسٹیک ہولڈر کو عقل و شعور اور تدبیر کی دعوت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 04 Aug 2026 - 555 - اَکْل بِالبَاطِل‘ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر | 24-07-2026’
”اَکْل بِالبَاطِل“ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ : 9؍ صفر المظفّر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ- اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(29) وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا- وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30)
سورۃ النساء 4: (29-30)
ترجمہ : اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ آپس کی خوشی سے تجارت ہو، اور آپس میں کسی کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو شخص تعدّی (سرکشی) اور ظلم سے یہ کام کرے گا تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔
✔ انسانیت کے لیے تسخیرِ کائنات کا الٰہی نظام
✔ معیشت میں تعاونِ باہمی اور تبادلہ اشیاء کا نظام
✔ خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ کا مفہوم
✔ حدیثِ نبویﷺ کی روشنی میں ’’بِرّ‘‘ کی وضاحت
✔ ’’اِثم‘‘ کا مفہوم
✔ منصبِ قضا اور اِفتاء کا دائرہ کار اور بنیادی ذمہ داریاں
✔ رزقِ حلال اور دینِ اسلام میں نیکی کا نظام
✔ مالِ حرام سے صدقہ دینے کا حُکم
✔ موجودہ معاشرے میں ٹیکسز کا ’’لاقانونی“ ظالمانہ نظام
✔ ملکی عدمِ استحکام کی اہم وجہ: قومی معیشت سے محروم نظام
✔ موجودہ معاشرہ میں ’’اکل بالباطل‘‘ کے وسیع تر نظام کی سفاکیّت
✔ بالواسطہ ٹیکسز اور بِھیک کے فروغ پر مبنی قومی معاشی نظام کی زبوں حالی
✔ ’اکل بالباطل‘ پر مبنی منظم نظام کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ پر قائم موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کی تباہ کاریاں
✔ موجودہ فرسودہ معاشی نظام کے شعوری تجزیہ کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (�) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا
Tue, 28 Jul 2026 - 554 - شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ | 24-07-2026
شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 09؍صفر المظفر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَا اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖوَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ.
(2 -البقرہ:174)
ترجمہ : ”بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول، وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ، اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے ہے عذاب دردناک“۔
حدیثِ نبویﷺ:
”مَن كتمَ علمًا ألجمَهُ اللَّهُ يومَ القيامةِ بلجامٍ من نارٍ “.
(كنز العمال :10/ 217)
ترجمہ: ”جس نے علم چھپایا تو اللہ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا“.
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ کتاب مقدس‘ انسانیت کی ہدایت اور ترقی کا ذریعہ
✔️ انبیائے کرامؑ کا ہدف‘ انسانوں کو تعلیم یافتہ بنانا
✔️ حقیقی علم کی تعریف نیز علمِ الٰہیات کی عظمت و جامعیت
✔️ حصولِ علم کے تین ذرائع؛ عقل، نقل اور کشف
✔️ علمی ذرائع سے ملّتیں اور شرائع و مناہج بننے کا عمل
✔️ قرآن حکیم‘ وحی الہی کے علوم کا جامع ترین ایڈیشن
✔️ حقیقی اور قابلِ عمل علم جو انسانی زندگی کے تمام مراحل میں فائدہ مند ہو
✔️ علمِ نبوت؛ اقترابات و ارتفاقات کا جامع ترین علم
✔️ انبیاءؑ تعلیم و تربیت پر اجر کا مطالبہ نہیں کرتے
✔️ حصولِ علم‘ ہر انسان کا بنیادی حق و فریضہ نیز اس کی ادائیگی ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری
✔️ مسلم دورِ عروج کے ہزار سال میں تعلیم اور صحت‘ ریاست کی ذمہ داری
✔️ زوال پذیر اقوام کا بنیادی مرض‘ کتمانِ علم اور تعلیم کا معاوضہ طلب کرنا
✔️ وسائل پر قبضے کی ہوس، لالچ اور بھوک کے مرض میں مبتلا اقوام و ممالک
✔️ یورپی اقوام کا مسلمانوں کے علوم اور ریسرچ کو دنیا سے چھپانا
✔️ گزشتہ تین سو سال سے علومِ انبیاءؑ اور کتبِ الہیہ کے احکامات کے کتمان کی روش
✔️ قرآن و حدیث کی روشنی میں کتمانِ علم کی سخت وعید اور سزائیں
✔️ سرمایہ و محنت کی اساس پر سرمایہ داری اور سوشلزم کو شرعی دلائل سے ثابت کرنے کا غلط فہمی پر مبنی بیانیے کا جائزہ
✔️ حقیقی علم کے کتمان اور انسانیت دشمن علم کے فروغ کا عصری جائزہ
✔️ 1857ء کے بعد علماءِ حق کا خطے کے حقیقی علوم کو محفوظ کرنا
✔️ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری، علم بیچنے کا کاروبار اور عوام کی عطیہ کردہ زمینوں پر قائم اسکول و کالجز کو ٹھیکے پر دینے کے علم دشمن عمل کا جائزہ
✔️ پرائیویٹ اسکولوں کے نام پر اساتذہ اور والدین کا استحصال اور کتمانِ علم
✔️ مدارس کا رسمی نصاب‘ سماجیات، سیاسیات اور معاشیات سے خالی
✔️ کتمان علم کی بڑی بھیانک مثال‘ سرمایہ داری کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا
✔️ آزاد ممالک میں مقامی طریقہ ہائے علاج کا فروغ اور سرمایہ دار ممالک میں جبری پابندی
✔️ ادویات پر ریسرچ کے حقیقی نتائج کو چھپانے کا عمل
✔️ حقیقی علم کے کتمان کی مجرمانہ روش اور تعلیم و صحت کے قومی نظام کی عصری ناگزیریتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاMon, 27 Jul 2026 - 553 - تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی | 17-07-2026
تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 2؍ صفر المظفّر 1448ھ /17؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیت
فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(116)
سورۃ ھود 11: (116)
ترجمہ: سو ان جماعتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو تم سے پہلے تھیں؟ جو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے، جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا، اور جن لوگوں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہی لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں، اور وہ مجرم تھے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ معاشرے میں خیر کے غلبہ اور شر کے خاتمہ کی اہمیت
✔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اساسی فہم و شعور
✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
✔ منکر کے خلاف مزاحمتی شعور کا اجتماعی فائدہ
✔ معاشرے میں فساد فی الارض کے تعین اور اس کے خلاف شعور کی قرآنی منشا
✔ اُخروی کامیابی کے لیے پاکیزہ کردار کی بنیادی شرط
✔ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کی اہمیت
✔ مُلکِ عزیز میں فساد فی الارض کے حقیقی اسباب کا جائزہ
✔ ملکی فرسودہ سیاسی و معاشی نظام کے بھیانک اثرات
✔ فساد فی الارض پر مبنی ظلم پیشہ طبقات کے ہتھکنڈے
✔ معاشرے کے حقیقی مجرمین (ملاء و مترف) کی شناخت اور ان کے خلاف شعور کا نبوی طریقہ کار
✔ تفقّہ (سیاسی شعور) کے بغیر نیکی کا اثر
✔ فساد فی الارض کا اصل سبب: عالمی سرمایہ دارانہ نظام
✔ منکرات اور فساد فی الارض کی موجودگی میں نیکی کے تصوّر کا جائزہ
✔ ملکِ عزیز میں انسانی حقوق کے تحفّظ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی ناگفتہ بہ صورتِ حال
✔ سماجی جدوجہد میں عدمِ تشدّد کی حکمتِ عملی کی اہمیت
✔ سرمایہ پرست ذہنیت سے شعوری مزاحمت کی حکمت عملی کی افادیت
✔ صبر و استقلال کے ساتھ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کا نبوی اسوہ
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSat, 25 Jul 2026 - 552 - ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہ | 17-07-2026
ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 02؍صفر المظفر 1448ھ / 17؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (1) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ ۖ (2) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَﭤ(3) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ (4) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ (5) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَﭤ(6)
(83 –مطففین:1تا6)
ترجمہ : ”خرابی ہے گھٹانے والوں کی، وہ لوگ کہ جب ناپ کرلیں لوگوں سے تو پورا بھر لیں، اور جب ناپ کردیں ان کو یا تول کر تو گھٹا کردیں، کیا خیال نہیں رکھتے وہ لوگ کہ ان کو اٹھنا ہے، اس بڑے دن کے واسطے، جس دن کھڑے رہیں لوگ راہ دیکھتے جہان کے مالک کی“۔
حدیثِ نبویﷺ
”قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ «خَمْسٌ بِخَمْسٍ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا خَمْسٌ بِخَمْسٍ؟ قَالَ «مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا سُلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ وَمَا حَكَمُوا بِغَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللهُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الْفَقْرُ وَلَا ظَهَرَتْ فِيهِمُ الْفَاحِشَةُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الْمَوْتُ وَلَا طفَّفُوا الْمِكْيَالَ إِلَّا مُنِعُوا النَّبَاتَ وَأُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَلَا مَنَعُوا الزَّكَاةَ إِلَّا حُبِسَ عَنْهُمُ الْقَطْرُ»“.
(ابن ماجہ)
ترجمہ : ”نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پانچ چیزوں کے بدلے پانچ سزائیں ہیں۔“صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! وہ پانچ کے بدلے پانچ کیا ہیں؟“آپ ﷺ نے فرمایا: جب بھی کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے۔ جب بھی وہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے علاوہ (دوسرے قوانین کے ذریعے) فیصلے کرتے ہیں، تو ان میں غربت پھیل جاتی ہے۔ جب بھی کسی قوم میں کھلم کھلا بدکاری (فحاشی) عام ہوتی ہے، تو ان میں طاعون اور ناگہانی اموات (وبائیں) پھیل جاتی ہیں۔ جب بھی لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، تو ان کی پیداوار (سبزہ و نباتات) روک لی جاتی ہے اور انہیں قحط سالی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ز اور جب بھی لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی روکتے ہیں، تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ دینِ اسلام کے تین مقاصد و اہداف؛ انسانی جان و مال و عزت کی حفاظت کے نظام کا قیام
✔️ ان تین دائروں میں غیر محفوظ انسانیت‘ تعلق مع اللہ سے محروم
✔️ مالی لین دَین کی خرابی کے سدِ باب میں حضرات انبیاءؑ کا کردار
✔️ قومِ شعیبؑ کے خراب تجارتی معاملات اور حضرت شعیب علیہ السلام کی جدوجہد
✔️ نبوت کا ہدف؛ عبادتِ الٰہی کے ساتھ انسانی معاملات کو عدل پر استوار کرنا
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا شانِ نزول اور پسِ منظر
✔️ یمن اور شام کی تجارتی منڈیوں کا مدینے کی تجارتی گزرگاہ سے تعلق
✔️ لین دَین کے پیمانے؛ کیل، صاع اور مُدّ
✔️ نبی اکرمﷺ کی آمد سے قبل اہلِ مدینہ کی ماپ تول میں کمی اور تطفیف کی روش
✔️ تطفیف کی تعریف اور مستعملات نیز اہلِ مدینہ کی روش پر قرآنی انذار و تنبیہ
✔️ ریاست مدینہ کے قیام کے بعد اہلِ مدینہ کا مالی معاملات میں مثالی و روشن کردار
✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں قومی ترقی کی راہ میں حائل پانچ رکاوٹیں؛
۱۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر عہد شکنی سے دشمنوں کا تسلط اور غلامی
۲۔ غیر اللہ کے حکم کے مطابق نظام بنانے سے غربت و فقر کی حالت
۳۔ کھلے عام گناہوں اور جرائم سے عذابِ الہی کا تسلط
۴۔ ناپ تول میں کمی سے خسارہ، غربت و افلاس اور قحط سالی
۵۔ بُرے اعمال اور انسانی حقوق توڑنے سے رحمتوں کی بارش سے محرومی اور معاشی بدحالی
✔️ ریاست مدینہ، خلافت راشدہ اور خلافت بنو امیہ کے زمانے کے معاشی لین دین میں تطفیف (تخفیف) کا خاتمہ
✔️ عبدالملک بن مروانؒ کے دور میں معیاری سکے ڈھالنے کا آغاز
✔️ عرب کے مسلمان تاجروں کی دیانتداری نے ہندوستان کی اقوام کو متاثر کیا
✔️ مسلمان حکومتوں کا عالمی منڈیوں میں انسانی حقوق کی حفاظت کا نظام
✔️ دنیا میں زرّ کی اساس پر تطفیف پر مبنی سرمایہ داری نظام کا آغاز
✔️ پورپین اقوام کا منڈیوں اور وسائل پر دھوکہ دہی اور لوٹ مار سے قبضہ
✔️ تطفیفی نظام کی اگلی بھیانک شکل؛ زرِّ اعتباری (کرنسی) کا بطور آلۂ مبادلہ آغاز
✔️ تطفیف کا اگلا عمل؛ ڈالر (کرنسی) سے اثاثوں سے علیحدگی اور خسارے اور قرضوں کی معیشت کا استحصالی نظام
✔️ قومی ریاستوں کے دور میں زرِّ اعتباری کو حقیقی زرّ قرار دینے کا عمل
✔️ عالمی مافیا کا تطفیف کا اگلا عمل؛ اصل تجارت کو چھوڑ کر کرنسی کی تجارت اور لین دَین
✔️ تطفیف کا جدید مرحلہ؛ قومی حکومتوں کی خود مختاری کے علی الرغم کرپٹو کرنسی کے خفیہ و پیچیدہ کوڈز پر مبنی نظام
✔️ کرۂ ارض میں کسی نئی چیز کی پیدائش کے پیچھے ارضیاتی اور فلکیاتی قوتوں کے اثرات کارفرماں
✔️ کرپٹو کرنسی کی تخلیق کی قرار واقعی حیثیت
✔️ حکمت نظری کی بنیاد پر وجود میں آنے والی چیز ‘ تہذیبِ اخلاق، تدبیرِ منزل اورسیاستِ مدینہ پر اثرات کا جائزہ
✔️ ایجادات کا انسانی نفع کے لیے استعمال ضروری
✔️ جنت اور جہنم کا دارومدار اور بنیاد؛ انسانیت کے لیے نفع بخش اور ضرر رسانی
✔️ کرپٹو کرنسی کا انسانیت دشمنی، جرائم اور ڈارک ویب کے لیے استعمال کا جائزہ
✔️ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی چھتری میں مخص جزوی تخریخات کی اساس پر قانون سازی کا جائزہ
✔️ سرمایہ داری نظام میں اسلام کی بنیاد پر جائز ناجائز کی جزوی اور بے معنی مباحث کا جائزہ
✔️ قرآنی آیات کی روشنی میں عصری حالات اور قومی نظام کا شعوری جائزہمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Sat, 18 Jul 2026 - 551 - نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہ | 10-07-2026
نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہ
صداقت کی اساس پر منہج کے تعین کی قرآنی رہنمائیخطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 24؍ محرم الحرام 1448ھ /10؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا(80) وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(81) سورۃ بنی اسرائیل17: (80-81)
ترجمہ: اور کہہ: اے میرے رب! مجھے خوبی کے ساتھ پہنچا دے اور مجھے خوبی کے ساتھ نکال لے، اور میرے لیے اپنی طرف سے غلبہ دے جس کے ساتھ نصرت ہو۔ اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
00:48 دنیا میں مثبت و منفی اقدار کی کشمکش کا نظام
01:59 شیطان کا مقصد: تذلیلِ انسانیت
06:02 انبیائے کرامؑ اور ان کے متّبعین کی جدوجہد: سچائی کا غلبہ
11:31 رسول اللہﷺ کے شخصی اوصاف کا کمال اور دشمن کا برملا اعتراف
13:33 رسول اللہﷺ کی مکی زندگی کی جدوجہد کا خلاصہ: انسانیت کو ظلم اور جہالت سے نجات دلانا
15:29 خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
17:46 اسوہ نبویﷺ کا اہم پہلو: ظالم طبقے سے ’’مداہنت‘‘ (سمجھوتہ) کا ردّ
21:21 تعلیماتِ انبیائے کرامؑ کا اہم سبق: جھوٹ اور سچ کی آمیزش (دجل) کا انکار
24:43 معاشرے میں جھوٹی اقدار کے بالمقابل سچی اقدار کا تعارف و غلبہ: سیرت النبیﷺ کے واقعات کے تناظر میں راہ نمائی
29:45 حق اور سچ کی بنیاد پر نئے معاشرے کے قیام کا طریقہ: ہجرتِ مدینہ کے تناظر میں راہ نمائی
32:28 سچے اور جھوٹے لیڈروں کے تعارف کی اہمیت: تاریخ برعظیم پاک و ہند کا تجزیاتی مطالعہ
38:52 سچ اور حقائق کی بنیاد پر موجودہ حالات کے تجزیہ کی ضرورت اور جھوٹے کرداروں سے بچنے کی اہمیت
44:04 دینِ اسلام میں نظمِ حکومت کے قیام اور تشکیلِ ریاست کی اہمیت
47:27 غلبہ دین کا درست مفہوم: عدل اور اعلیٰ انسانی اقدار کا غلبہ
53:10 غلبہ دین کے لیے باطل کو مٹانے کی ضرورت
54:44 تاریخ کے متوازن تجزیے کی اہمیت
56:46 قرآنی تعلیمات کے تناظر میں دُعا کا درست طریقہ کار اور اسوہ حسنہ سے راہ نمائیبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاMon, 13 Jul 2026 - 550 - عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ | 10-07-2026
عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 24؍ محرم الحرام 1448ھ / 10؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ . (4 –النساء:58)
ترجمہ : ”اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے، بیشک اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو“۔
2۔ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا. (33 –الاحزاب:58)
ترجمہ: ”اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو بدون گناہ کئے تو اٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا اور صریح گناہ کا“۔
حدیثِ نبویﷺ:
”أَرْبَى الرِّبَا عِنْدَ اللَّهِ اسْتِحْلَالُ عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ“.
(تفسير ابن أبي حاتم: 10/ 3153)
ترجمہ: ”اللہ کے نزدیک سب سے بڑا سود؛ایک مسلمان شخص کی عزت پامال کرنا ہے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ عدل؛ تمام قوانین اور شرائع الہیہ کی قدرِ مشترک
✔️ قرآن حکیم میں حکمرانوں کو عدل کے قیام کا خصوصی حکم
✔️ عدل و انصاف کی رو کے منافی حکم اور فیصلہ کرنے کی ممانعت
✔️ عدل کی اساس پر تین دائروں میں احترامِ انسانیت لازمی و ضروری
✔️ اثمِ مبین؛ بغیر کسی جرم کے کسی انسان کو ایذا و تکلیف پہنچانا
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور شانِ نزول
✔️ قرآنی حکم کی روشنی میں اسلامی نظام میں انتظامی اور عدالتی اختیارات کو الگ الگ رکھا گیا
✔️ قانون سازی و فیصلہ سازی میں خلفائے راشدینؓ‘ مجلسِ مشاورت و عدلیہ کے پابند تھے
✔️ دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی روشنی میں بارہ سو سالہ مسلم دورِ حکومت میں مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ کے اختیارات کی تقسیم کا نظام قائم رہا
✔️ شہریوں کو حبس بے جا اور ماوراءِ عدالت قتل کرنے کی کھلی چھٹی کا ظالمانہ قانون
✔️ قرآنی آیت کی روشنی میں ظالمانہ نو آبادیاتی دور کے پولیس سسٹم اور عدالتی اختیارات کو بدلنے کی ضرورت نہیں؟
✔️ بغیر شواہد و ثبوت کے الزام ترشی اور ایذا و تکلیف پہنچانا‘ بہتانِ عظیم اور اثمِ مبین
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی فکر کی روشنی میں ”البِرّ“ اور ”الاثم“ کی جامع تعریف
✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں عزت کے تحفظ اور غیبت و بہتان تراشی کی مذمت
✔️ تہذیب یافتہ اور غیرت مند اقوام اپنی قومی شناخت اور عزت و وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتیں!
✔️ قوموں کو بظاہر آزادی دینا مگر عزت و وقار کی پامالی کا سامراجی حربہ
✔️ سیاسی و معاشی غلامی کے گرداب کے ساتھ ساتھ قوم پر لاقانونیت اور ظالمانہ قوانین کا عذاب مسلط
✔️ اہلِ علم و دانش کی بنیادی ذمہ داری؛ مروجہ ظالمانہ سسٹم کی خرابیوں پر غور و فکر کرکے درست کرنے کی ضرورت
✔️ حضرت عمر فاروقؓ کا بطورِ حکمران روشن کردار اور احساس ذمہ داری کی واضح مثالیں
✔️ عقل و شعور کی اساس پر عادلانہ نظام کا قیام ہر فرد کا اجتماعی فریضہ
✔️ آخرت کی سزا و جزا کا دار و مدار‘ دنیا میں اجتماعی نظام اور فیصلوں پر منتج
✔️ آج کا المیہ؛ انفرادی جرائم اور گناہوں پر ندامت لیکن اجتماعی جرائم اور نظام کی خرابیوں سے پہلو تہی
✔️ انسانی حقوق کی پامالی اور توہینِ انسانیت کے ظالمانہ قوانین کے خلاف شعوری و قانونی آواز اٹھانا نہایت ضروری
✔️ قرآن کا بنیادی پیغام؛ عقل و شعور کی اساس پر سوسائٹی کے مسائل کو درست طور پر سمجھ کر علمی و فکری اور آئینی و قانونی حق استعمال کرنا ضروریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 12 Jul 2026 - 549 - سیمینار| ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ
ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
برموقع سیمینار
بتاریخ : 25؍ ذیقعدہ 1447ھ / 13؍ مئی 2026ء
بمقام : مدرسہ رحیمیہ دارالقرآن آئی ٹن ون، اسلام آباد
۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ بین الاقوامی حالات کی تبدیلی کے تناظر میں موضوع کی اہمیت
✔️ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی بکھرتی ہوئی طاقت
✔️ مدِ مقابل عالمی قوتوں کی محدودیت اور داخلی مسائل
✔️ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں بنگلہ دیش سے لے کر مراکش تک مسلم اکثریتی علاقوں کی ذمہ داری
✔️ مسلم معاشروں میں دین اسلام کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر قومی اجتماعی طاقت پیدا کرنے کی ضرورت
✔️ موجودہ جنگ کے تناظر میں پاکستان کی معاشی، سیاسی اور سماجی ابتری کی حالت
✔️ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطابق ترقی اور خوشحالی کے لیے دینی فکر پر قومی شناخت پیدا کرنے کی ضرورت اور اہمیت
✔️ حضرت ابراہیمؑ کی جدوجہد اور فکر کے تناظر میں مشرق وسطیٰ و بلاد شام و مصر کی سماجی، سیاسی و معاشی صورت گری
✔️ انسانی مسائل کے حل کے لیے ابراہیمی اصولوں پر عملی سیاسی معاشی و سماجی نظام کے قیام کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ
✔️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد ابراہیمی اصولوں پر بین الاقوامی سماج کی تشکیل
✔️ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں حقائق اور معروض کو سمجھنے اور حقیقی مسائل کا ادراک حاصل کرنے کی ضرورت و اہمیت
✔️ سائیکوٹ پائیکوٹ معاہدے کے تحت مشرق وسطی کی برطانوی تقسیم
✔️ ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی مسلمان خطوں کے وسائل پر نظر
✔️ شمال مغربی ہند کی مسلم تاریخ کا آغاز‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں کابل کی فتح اور اردگرد کی اقوام کے اسلام قبول کرنے سے ہوتا ہے
✔️ اس دھرتی کے مسلمان ہندوستان میں آٹھ سو سالہ دین اسلام کے نظام کی تاریخ سے ناواقف ہیں
✔️ بدلتے ہوئے عالمی نظام اور طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن میں دینی فکر کی اساس پر قومی اجتماعیت اور سیاسی وحدت پیدا کرنے ضرورت
✔️ مسلم اقوام کی اپنی تاریخ سے ناواقفیت کے اثرات و نتائج
✔️ سماجی تشکیل نو اور قومی شناخت پیدا کرنے کے لیے قرآن چار رہنماء اصول
✔️ پہلا اصول: سامراجی طاقتوں سے قومی آزادی کا حصول
✔️ دوسرا اصول: عدل کی اساس پر سوشل کنٹریکٹ کا قیام
✔️ تیسرا اصول: بلا تفریق رنگ نسل مذہب سیاسی امن و امان کا قیام
✔️ چوتھا اصول: اپنے وسائل کے آزادانہ و عادلانہ استعمال کی اساس پر معاشی خوشحالی
✔️ تاریخی تسلسل توڑنے والی اقوام؛ اپنی شناخت سے محرومی اور غلامی
✔️ ایران اور جاپان نے اپنا قومی تسلسل ٹوٹنے نہیں دیا
✔️ قومی تاریخی تسلسل سے کٹ جانے کے اثرات و نتائج
✔️ موجودہ دور میں مسلم اقوام کی ذمہ داری
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 10 Jul 2026 - 548 - سیمینار | معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات | مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
برموقع سیمینار
بتاریخ : 25؍ ذیقعدہ 1447ھ / 13؍ مئی 2026ء
بمقام : سی پی سی ہال، نیو ٹیچنگ بلاک، ہولی فیملی ہسپتال، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی
۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ اہل علم کی سنجیدہ مجالس معاشرہ کی ترقی کا ذریعہ
✔️ الہی تعلیمات اور کتبِ سماویہ میں انسانی معاشروں کے مسائل زیر بحث
✔️ مکہ مکرمہ اور حجاز کی جغرافیائی و تجارتی اہمیت
✔️ پبلک ہیلتھ اور حفظانِ صحت کے دینی اصول
✔️ ذہنی صحت کے لیے مثبت سوچ کی اہمیت
✔️ جسمانی صحت کا تعلق کھانے پینے اور غذا سے ہے
✔️ کھانے پینے کی اشیاء کو حلال و حرام قرار دینے کی بنیادی حکمت
✔️ جسمانی طہارت کا نبوی نظام
✔️ راستوں اور محلوں کی صفائی کی اہمیت
✔️ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم کے مطابق صحت اور فراغت‘ بہت بڑی نعمت
✔️ معاشی ناہمواری اور غذائی کمی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ
✔️ صحتِ عامہ‘ ریاستی ذمہ داری نیز قومی آزادی کے حصول کے بغیر صحت عامہ کا حصول ممکن نہیں
✔️ داخلی اور خارجی امن کا ماحول جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ضروری
✔️ صحت مند معاشرہ کے لیے معاشی خوشحالی کی اہمیت
✔️ آزادی کے حصول کے بعد نو آبادیاتی دور کے نظام سے نجات ضروریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 08 Jul 2026 - 547 - باہمی تعاون کے معاہداتی سماج کی تشکیل ؛ نبوی تربیت کے اجتماعی کردار کے تناظر میں | 03-07-2026
باہمی تعاون کے معاہداتی سماج کی تشکیل ؛ نبوی تربیت کے اجتماعی کردار کے تناظر میں
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 17؍محرم الحرام 1448ھ / 03؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًاؕ- تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍؕ-اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖؕ-وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(92)
سورۃ النحل16: (92)
ترجمہ: اور اس عورت جیسے نہ بنو جو اپنا سُوت محنت کے بعد کات کر توڑ ڈالے کہ تُم اپنی قَسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بنانے لگو محض اس لیے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے۔ اللہ اس میں تمہاری آزمائش کرتا ہے۔ اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو اللہ اسے ضرور قیامت کے دن ظاہر کردے گا۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ دینِ اسلام بطور دینِ فطرت
✔ رسول اکرمﷺ کے اخلاقِ حسنہ بطورِ خاص ایفائے عہد کا وصفِ باکمال
✔ دینی تعلیمات میں فطری سماجی معاہدات کی اہمیت
✔ صالح معاشرہ کی پہچان: فطری معاہدات کی تکمیل کا نظام
✔ فطری معاہدات کی خلاف ورزی کے نتیجے میں مِلل سابقہ کی تباہی کی قرآنی مثالیں
✔ ظالم طاقتوں کی جانب سے قانونِ فطرت کے بالمقابل تشکیل دیے گئے جھوٹے فلسفوں کی حقیقت
✔ قانونِ فطرت کی تابعداری کا انبیائے کرامؑ کی دعوت میں نمایاں مقام و مرتبہ
✔ سُوت کاتنے والی عورت کی قرآنی تمثیل اور اس کی وضاحت
✔ موجودہ معاشرے میں بداعتمادی کا بحران اور اس کے بھیانک نتائج
✔ اسوہ رسول اکرمﷺ: معاہدات کی اِیفاء کا نمونہ
✔ سوسائٹی کی تشکیل میں معاہدات کی اہمیت اور نبوی حکمت عملی
✔ رسول اکرمﷺ کا فتح مکہ کے موقع پر ایفائے عہد کی حکمت عملی
✔ معاہدات کی خلاف ورزی کو بطورِ جُرم اور اس کی سزاؤں کا دینی تعلیمات میں بیان
✔ صُلُح حُدیبیہ کے موقع پر ابوجُندلؓ کو دشمن کے سپرد کرنےکے واقعہ سے سبق
✔ رسول اللہﷺ کا غیر مسلم قبیلہ سے ایفائے معاہدہ کا نمونہ اور فتح مکہ کا واقعہ
✔ فتحِ مکہ کے موقع پر ایفائے عہد کی نبوی مثال اور دورِ خلفائے راشدین کے عمدہ معیارات
✔ حضرت امیرِ معاویہؓ کا دشمن پر پیش قدمی کا واقعہ اور ایفائے عہد کا اہم پہلو
✔ چینی انقلاب کے پیشوا کا دورِ خلفائے راشدین سے راہ نمائی کی مثال
✔ دورِ نبویﷺ اور خلفائے راشدین کے مطالعہ کی موجودہ دور میں اہمیت و ضرورت
✔ حضرت امیرِ معاویہؓ کا حضرت علیؓ کی مخالفت کے بابت رومی حکمران کو سخت جواب
✔ صحابہ کے مابین اختلافات کی اصل حقیقت اور موجودہ دور میں اس سے راہ نمائی
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 07 Jul 2026 - 546 - تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | مفتی عبد المتین نعمانی
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب: حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی صاحب
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 07 Jul 2026 - 545 - تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب: حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 07 Jul 2026 - 544 - تقریبِ رونمائی | شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری و آثارِ شیخ الہندؒ | ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
تقریبِ رونمائی دو کتب
1۔ شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری (اُردو)
(صحیح بخاری شریف کے ابواب کی تفہیم و تشریح)
تالیف: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ
2۔ آثارِ شیخ الہندؒ ؛ خطبات، مقالات و مکتوبات
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ (اُردو)
ترتیب، تحقیق و تخریج
حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
اظہارِ خیال:
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 7؍ محرم الحرام 1448ھ /23؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 07 Jul 2026 - 543 - تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ دورہ تفسیر کا مقصد‘ علمائے ربانیین کے طریقے کے مطابق قرآن حکیم کے مضامین سے آگہی و شعور حاصل کرنا
✔️ قرآن حکیم کی تفسیر کے لیے جماعتی طریقہ کار‘ ولی اللہی فکر و نظریے کے تحت انفرادی تصورات کی نفی ضروری
✔️ قرآنِ حکیم کی تفسیر کے لیے رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ اور جماعت صحابہؓ کا طریقہ کار
✔️ کسی فرد یا خاندان کے تناظر میں قرآن حکیم کی تفسیر کو امت نے بحیثیتِ مجموعی کبھی قبول نہیں کیا
✔️ سماجی تشکیل کے لیے اجتماعی طریقہ کار کے مطابق تفسیر قرآن کی اہمیت
✔️ شاہ صاحبؒ کے نزدیک دین اسلام کی عبادات کے اجتماعی ہونے کی اہمیت
✔️ دور حاضر کا فتنہ: جماعتی تسلسل، سلف صالحین کے فہم اور علمائے ربانی کے سواد اعظم کی بجائے فرد واحد کی رائے کو معتبر مان لینا
✔️ جماعتِ صحابہؓ‘ قرآن حکیم کو سمجھنے کے لئے معیار ہے
✔️ موجودہ دور کا فتنہ‘ شخصی آراء کی اساس پر دین اسلام کی مغلوبانہ تفسیر ہے
✔️ ولی اللہی فکر کی اساس اجتماعیت پر ہے
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی خصوصیت: جماعت انبیاءؑ کی بنیاد پر رسول اللہؐ کی تربیت یافتہ جماعتِ صحابہؓ کے تسلسل کے ساتھ دین اسلام کی تاریخ، افکار و نظریات کی وضاحت
✔️ دین اسلام کی شعبہ جاتی تقسیم کے بعد بھی تمام محدثین، فقہاء، صوفیاء، اولیاء اللہ اور عادل حکمران سماجی بھلائی کے نظام پر متفق رہے ہیں
✔️ ’’الجادّۃ القویمة المحمدیة‘‘ کے تناظر میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی متعین کردہ سیدھی شاہراہ
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ سے لے کر شاہ سعید احمد رائے پوریؒ تک، ولی اللہ جماعت کی تسلسل کے ساتھ قرآن حکیم کی اساس پر سماجی بھلائی کی جدوجہد کی شاندار اور روشن تاریخ
✔️قرآن فہمی کے ولی اللہی طریقہ کار کے مطابق ذاتی آراء کے بجائے جماعتی رائے‘ تفسیرِ قرآن میں اساس کی حیثیت رکھتی ہے
✔️ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے نزدیک سواد اعظم کا حقیقی معنی اور اس کی اساس پر قرآن فہمی کا جماعتی طریقہ کار
✔️ خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں تفسیرِ قرآن کی مرکزی اہمیت اور رمضان المبارک میں تفسیر قرآن کی سوا سو سالہ روایت
✔️ شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے 1982ء میں دورۂ تفسیر قرآن حکیم کا آغاز فرمایا
✔️ دورۂ تفسیر کا مقصد؛ قرآن فہمی کی اساس قائم کرنا اور ذاتی و اجتماعی زندگی میں قرآن حکیم کا اطلاق کرنا ہے
✔️ قرآن حکیم کا وعدہ: دنیا اور آخرت میں حیات طیبہ کا حصول
✔️ حضرت خالد بن سعیدؓ کا واقعہ‘ اتباع رسولؐ میں جہنم سے نجات کا حصول
✔️ نوجوان نسل کو برا بھلا کہنے کا رویہ درست نہیں ہے
✔️ ’’ذریةً‘‘میں نسبی اولاد کے ساتھ ساتھ قوم کے بچے اور تمام انسانیت شامل ہے
✔️ شیطان کا کام انسان کو مایوس کرنا اور ہمارا کام شیطان کو مایوس کرنا ہے
✔️ جماعت بنا کر پیغامِ قرآن کے پیغام کو پھیلانے کی اہمیت
✔️ سورہ بقرہ سے سورہ توبہ تک قرآن حکیم کے بنیادی مضامین کا تعارف
✔️ دورہ تفسیر کے بعد ہماری ذمہ داری؛ تعمیرِ سیرت اور دعوتِ قرآنی
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاMon, 06 Jul 2026 - 542 - تقریبِ رونمائی | شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری و آثارِ شیخ الہندؒ | مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
تقریبِ رونمائی دو کتب
1۔ شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری (اُردو)
(صحیح بخاری شریف کے ابواب کی تفہیم و تشریح)
تالیف: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ
2۔ آثارِ شیخ الہندؒ ؛ خطبات، مقالات و مکتوبات
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ (اُردو)
ترتیب، تحقیق و تخریج
حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
اظہارِ خیال : مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ : 7؍ محرم الحرام 1448ھ /23؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 05 Jul 2026 - 541 - فساد فی الارض، معاشی غارت گری اور نسل انسانی کی تباہی کے عالمی ”أَلَدُّ الْخِصَامِ“ کردار کا جائزہ | 03-07-2026
فساد فی الارض، معاشی غارت گری اور نسل انسانی کی تباہی کے عالمی ”أَلَدُّ الْخِصَامِ“ کردار کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 17؍محرم الحرام 1448ھ / 03؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِىۡ قَلۡبِہ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾ وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِى الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا وَيُهۡلِكَ الۡحَـرۡثَ وَالنَّسۡلَؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾
(2 –بقرہ: 204، 205)
ترجمہ : ” اور بعض آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر اور وہ سخت جھگڑالو ہے ۔ اور جب پھرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ اس میں خرابی ڈالے اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو “۔
حدیثِ نبویﷺ:
”إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ“. (سنن ترمذی، حدیث:2168)
ترجمہ : ” جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں (یعنی ظلم نہ روک دیں) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا عذاب لوگوں پر عام کر دے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ انسانی سماج کا تحلیل و تجزیہ اور قرآن کا بنیادی موضوع اور اُسلوبِ بیان
✔️ قرآنی اسلوب کے تحت خدمتِ انسانیت اور فساد انسانیت کے اجتماعی اعمال کا تجزیہ
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کے تناظر میں بظاہر عمدہ و اچھی باتوں کے پیچھے چھپے ہوئے انسانیت دشمن کردار کی پہچان ضروری ہے
✔️ ’’ألدّ الخِصام‘‘ کی وضاحت‘ نبوی دور کی مثال اور کردار کا جائزہ
✔️ زندہ معاشروں میں اختلافات اور متعلقہ سماجی فورمز پر اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دینے کا عمل لازمی اور جائز ہے
✔️ ’’الدّ الخِصام‘‘: انسانی سوسائٹی کی اقدار کو پامال کرنے والا اور انسانیت سے بغض رکھنے والا انتہا پسند ہے
✔️ فساد کے دو دائروں یعنی انسانی وسائل معاش اور نسلوں کو تباہی کرنے کی وضاحت
✔️ مریض کے لیے تکلیف دہ علاج اور کڑوی دوائی پلانے پر حضور اکرمﷺ کا ناگواری کا اظہار
✔️ ’’اخنس بن شریح‘‘ کا انسانیت دشمن اور فسادی کردار کے تناظر میں آفاقی قانون کی نشان دہی
✔️ دنیا کے ہر خطے کا اپنا اپنا قومی ”حرث“ ہوتا ہے
✔️ زرع و حرث میں بنیادی فرق اور اصل زارِع‘ اللہ تبارک و تعالیٰ
✔️ طائف کی زرعی معیشت اور مکہ کی تجارتی معیشت کا باہمی ربط
✔️ ہندوستان میں زراعت اور یورپی اقوام کی قدیم زمانے سے صنعت و حرفت میں مہارت
✔️ فساد؛ بدامنی، بدحالی، انسانی نسل اور معاشی وسائل کو تباہ و برباد کرنا
✔️ یورپین اقوام کا انسانی نسل اور معاشی وسائل کی تباہی کی ظالمانہ تاریخ کا خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں تجزیہ
✔️ سرمایہ داری نظام میں عمدہ اور خوشنما باتوں کے پیچھے نسل پرستی، انسانیت دشمنی اور لوٹ کھسوٹ پوشیدہ ہے
✔️ امریکہ میں بسنے والی مقامی آبادی ریڈ اینڈینز کی گوری نسل پرست اقوام کے ہاتھوں نسل کشی
✔️ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی شہنشاہیت کا ہندوستانی فصلوں اور نسلوں کی تباہی میں ظالمانہ کردار
✔️ موجودہ دور کے معاشی وسائل کے تناظر میں معدنیات، معدنی تیل اور سمندری وسائل بھی ”الحرث“ میں داخل
✔️ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر سامراجی ممالک کا قبضہ
✔️ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور GETT معاہدے کے ذریعہ بظاہر آزاد ممالک کی معیشت پر کنٹرول
✔️ سونے چاندی کے سکوں میں نقب زنی کرنا بھی فساد کے زمرے میں داخل
✔️ سرمایہ داری نظام کا بین الاقوامی دجل: زر کو کیپٹل قرار دینے اور زر پر کنٹرول کرنے کا بین الاقوامی فساد
✔️ کمزور ممالک کے بجٹ اور مالی معاملات میں آئی ایم ایف کی مداخلت نیز بجٹ کا بنیادی اصول اور مقاصد و اہداف
✔️ حالیہ بجٹ 2026ء - 2027ء کا انسانی ترقیات اور معاشی و اقتصادی اصولوں کی روشنی میں تحلیل و تجزیہ
✔️ بجٹ بنانے کے لیے ماہر معیشت کی مطلوبہ خصوصیات
✔️ قومی بجٹ میں انسانی ضروریات سے صرفِ نظر نیز ”تلقّیِ رکبان“ کی نبوی ممانعت کی روشنی میں مقامی صنعت و تجارت کی تباہی کا جائزہ
✔️ فری مارکیٹ کے نام پر مقامی کسان، صنعت کار اور مارکیٹس کو تباہ کرنے کا عمل
✔️ غربت بھی انسانی نسلوں کو تباہ کرتی ہے
✔️ آلہ کار سرمایہ دارانہ نظام میں زراعت اور صنعت کی تباہی نیز سروسز پر مبنی غیر حقیقی معیشت کا فروغ
✔️ ظلم کے خلاف اجتماعی جدوجہد سے انکار کا نتیجہ‘ اللہ کی جانب سے عمومی عذاب
✔️ حدیث نبویؐ کے تناظر میں امتِ محمدیہ پر عذاب الہی کی وضاحت
✔️ آزاد قوموں کی عدم تشدد کی اساس پر ظلم کے خلاف اور سماجی بھلائی کے لیے کی جانے والی جدوجہد
✔️ نظام کی خرابی کو سمجھنے کے لیے سیاست، معیشت اور سماجی معاہدات کے نظام کی خرابی کا شعوری مطالعہ ضروریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 05 Jul 2026 - 540 - یومِ عاشورہ، موسوی جدوجہدِ آزادی کی علامت: اسلامی ریاست کی تشکیل میں جماعتِ صحابہؓ، اہلِ بیتؑ اور مسلم خلفاء کا اجتماعی کردار | 26-06-2026
یومِ عاشورہ، موسوی جدوجہدِ آزادی کی علامت: اسلامی ریاست کی تشکیل میں جماعتِ صحابہؓ، اہلِ بیتؑ اور مسلم خلفاء کا اجتماعی کردار
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 10؍محرم الحرام 1448ھ / 26؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ۔ (9 –توبہ: 100)
ترجمہ : ” اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلی ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو ان کے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے“۔
2۔ ہُوَ الَّذِیۡ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ۔ (61- صف:9)
ترجمہ : ”وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ دے کر اور سچا دین کہ اس کو اوپر کرے سب دینوں سے اور پڑے برا مانیں شرک کرنے والے“۔
حدیثِ نبویہﷺ:
”أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ، فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ“. (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث:6018)
ترجمہ : ” میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ یوم عاشورہ ؛ آزادی و حریت کی موسوی جدوجہد کی یادگار
✔️ آزاد قومی ریاست کے قیام کے لیے حضرت موسیٰؑ کی نمونے کی جدوجہد بہترین
✔️ عاشورہ کے دن کے تناظر میں اقوام کی آزادی کے دن کی اہمیت
✔️ نبی اکرمﷺ کا یومِ عاشورہ کاروزہ رکھنے کا پسِ منظر اور مقصد و ہدف
✔️ جماعت کی اساس پر حکومت کا قیام کے لیے حضرت موسیٰؑ اور حضورؐ کی نمایاں جدوجہد
✔️ حضرت موسیٰؑ کی حکومت اور یوسفؑ، داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت کا بنیادی فرق
✔️ اسوۂ رسول اللہ؛ ابراہیمی اصولِ انسانیت کی اساس پر جماعت سازی وحکومت و ریاست کا قیام
✔️ سیاست و ریاست‘ دین اسلام اور محمدی نبوت کا لازمی جزو
✔️ تین سو سالہ غلامی کے نتیجے میں اقوام کی آزادی کے دن عاشورۂ محترم کو انتشار اور اختلاف کا دن بنا دیا گیا
✔️ یوم عاشورہ؛ اسوۂ حسنہ اور جماعتِ رسولؐ کی سیرت و کردار کو سمجھنے کا دن
✔️ جماعتِ صحابہ اور اہلِ بیت میں تفریق و انتشار‘ تین سوسالہ سامراجی و فرعونی نظام کا شاخسانہ
✔️ نبی اکرمؐ کی صحبت وتربیت سے پوری جماعتِ صحابہؓ کے نفوس، قلوب اور عقول مہذب ہوئے
✔️ امام شاہ اللہ دہلویؒ کے نزدیک علوم نبوت کی بارش قبول کرنے والے انسانوں کے تین درجے
✔️ علومِ نبوت کی بارش کی اساس پر صحابہ کا غلبۂ دین کے لیے اپنی استعداد کے مطابق کردار
✔️ جماعتِ رسول اللہﷺ پر الزام تراشیاں‘ آپؐ کے مشن سے بغاوت
✔️ روحوں کے لشکر اور ان کے ملاپ و اختلاف کی نوعیت
✔️ جماعت کی اجتماعیت کو توڑنے کے لیے شخصیت پرستی کا عمل درست نہیں!
✔️ صحابہ و اہل بیت کے کسی ایک فرد سے طبعی محبت لائقِ تحسین لیکن افتراق و انتشار کی غرض سے قابل مذمت
✔️ نبی اکرمؐ کی ریاست و سیاست کے استحکام کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا بے لاگ کردار
✔️ شریعت (قرآن)کی جمع و ترتیب اور نشر و اشاعت کے لیے خلفائے راشدین کی کاوشیں
✔️ سلوک و احسان؛ تربیت و تزکیہ کے امور کے لیے خلفاء کا کردار
✔️ حدیثِ نبویؐ کے مطابق شام میں قائم ہونے والی حکومت رسول اللہ کی ہی بین الاقوامی حکومت ہے
✔️ خلفائے بنو امیہ کا شام اور یورپ کی فتوحات کے لیے نمایاں کردار
✔️ بنو امیہ سے یورپ کی سیاسی دشمنی اور فرقہ پرست ذہنیت
✔️ آئمہ اہل بیت کا سیاست کے اعلیٰ ترین معیار کی اساس پر انقلابی کردار
✔️ حضرت حسینؓ کی سیاسی وجاہت اور عظیم قربانی
✔️ برطانیہ کی خلافتِ عثمانیہ کو توڑنے کی سامراجی سازش
✔️ عصری تقاضا؛ دینی سیاست و حکومت کا فہم اور دشمن عناصر کی سازشی مقاصد کو سمجھنا
✔️ دورۂ تفسیر کے اہداف و مقاصد اور قرآنِ حکیم کا بنیادی پیغام
✔️ حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نور اللہ مرقدہ کا پیغام اور ہماری ذمہ داریاں
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 28 Jun 2026 - 539 - معاشی خودمختاری، خود انحصاری اور قومی خودداری کی دینی بنیادوں پر ملکی نظام کا قیام: وقت کی ناگزیر ضرورت | 19-06-2026
معاشی خودمختاری، خود انحصاری اور قومی خودداری کی دینی بنیادوں پر ملکی نظام کا قیام: وقت کی ناگزیر ضرورت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 3، محرم الحرام 1448ھ /19، جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیت
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ (38) وَ الَّذِیْنَ اِذَااَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ(39) وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(40) وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ(41) اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(42) وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ (43)
سورۃ الشوریٰ42: (38-43)
ترجمہ: اور وہ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور ان کا کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ دیا بھی کرتے ہیں، اور وہ لوگ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ پس جس نے معاف کر دیا اور صلح کر لی تو اس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو کوئی ظلم اٹھانے کے بعد بدلہ لے تو ان پر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا، بے شک یہ بڑی ہمّت کا کام ہے۔
خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
03:46 دینِ اسلام بطور جامع نظامِ ہدایت
07:57 منشائے خداوندی اور انسانی معاشرے سے گروہیت کا خاتمہ
10:02 معاشی وسائل پر تسلّط کا ردّ اور ان کی مساوی دستیابی کا الٰہی نظام
13:33 ’انسانیت‘ کا حقیقی مفہوم: انسانی صلاحیتوں کی درست نشاندہی اور ان کا اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال میں لانا
16:09 قیامِ اجتماعیت کے لیےنبوی جامع نظامِ تربیت کا کردار اور بطورِ نمونہ عقدِ مواخات کی مثال
17:38 قیامِ اجتماعیت میں تعاونِ باہمی کی اہمیت اور توکّل علی اللہ کے ساتھ اس کا ربط
22:39 رسول اکرمﷺ کا اعلیٰ نظامِ تربیت اور اس کا عمدہ ترین نمونہ جماعتِ صحابہؓ
26:12 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: خداوند تعالیٰ کی مکمل اطاعت کا اعلان اور نظامِ صلٰوۃ کا قیام
27:24 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: انسانی معاشرے میں رزق کی تقسیم کا مساوی نظام
30:19 دینی احکام (عبادات و معاملات) کے ذریعے اجتماعی شعور کے پروان اور قیامِ اجتماعیت کے اہتمام کا فروغ
31:01 غیر طبقاتی بنیاد پر اجتماعِ انسانیت کے قیام کی دینی ضرورت و اہمیت
34:55 اسوہ نبویﷺ میں عقدِ مواخات کے ذریعے انسانی آبادی اور تقسیمِ وسائل میں توازن کااہتمام
37:33 قومی خودمختاری کا حصول اور قومی وسائل پر انحصاری کا لازم و ملزوم ربط
39:12 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: مشاورت کے ذریعے رائے سازی کا نظام
41:46 اسلامی دنیا کے زوال کی بنیادی وجوہات: معاشی وسائل پر اغیار کا قبضہ اور آزاد رائے سازی کا فقدان
46:16 رسول اللہﷺ کے قائم کردہ معاشرے کے اہم ستون: معاشی خودمختاری اور آزاد رائے سازی کا اہتمام
49:41 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: قومی خودداری کی بنیاد پر دشمن سے مقابلہ کی حکمت عملی
53:09 قرض کے معاملہ میں حد درجہ احتیاط کا اسوہ رسولﷺ اور مروّجہ نظام کی قرضائی معیشت پالیسی
56:13 قرآنی اصولوں کی روشنی میں موجودہ معاشرے کا تجزیہ
01:01:49 قرآنی اصولوں پر قائم معاشرے کی خصوصیات اور حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ کی مثال
✔ ایرانی قوم کی قرضائی معیشت کی بجائے معاشی وسائل کی تقسیم اور قومی خودمختاری پر انحصار کے ذریعے ترقی کی زندہ مثالبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 24 Jun 2026 - 538 - فتنہ شناسی ، قومی بیداری اور مزاحمتی جدوجہد کی قرآنی رہنمائی؛ دور حاضر کا اطلاقی جائزہ | 19-06-2026
فتنہ شناسی ، قومی بیداری اور مزاحمتی جدوجہد کی قرآنی رہنمائی؛ دور حاضر کا اطلاقی جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 3؍محرم الحرام 1448ھ / 19؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیہ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ۔ (8 –انفال: 60)
ترجمہ : ” اور تیار کرو ان کی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کرسکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر “۔
2۔وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔(8 –انفال: 61)
ترجمہ : ”اور اگر وہ جھکیں صلح کی طرف تو تو بھی جھک اسی طرف اور بھروسہ کر اللہ پر بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ ہر دور کے فتنوں سے بچنے کا واحد راستہ
✔️ فتنے کی قرار واقعی حیثیت
✔️ پر فتن دور میں فکری و عملی فتنوں سے بچاؤ کی نبوی رہنمائی
✔️ دین اسلام کا لازوال فکر
✔️ قرآنی فکر؛ قدیم و جدید ہر مادی فلسفے کا توڑ
✔️ دور زوال میں ولی اللہی محقق علماء کی کاوشیں
✔️ یورپ آپ کی دھرتی اور نیشنل ازم کا دشمن
✔️ ایک جفرافیے میں بسنے والی اقوام
✔️ جلا وطنی اور قوم کو غلام بنانا‘ بہت بڑا جرم
✔️ ولی اللہی جماعت کا اعزاز‘ دور کے دشمن کی پہچان پیدا کرنا
✔️ خطبہ کی مرکزی آیت میں دشمن کے مقابلے کے لیے طاقت تیار کرنے کا حکم
✔️ دور زوال میں نوجوان طاقت کا سامراجی استعمال اور سامراج دشمن قوتوں سے مقابلے کی حکمت عملی
✔️ فتویٰ دار الحرب؛ دشمن طاقت سے مزاحمت کی حکمت عملی
✔️ ولی اللہی جماعت کا فکری اسلوب اور عملی جدوجہد کا طریقہ کار
✔️ اکابرین علمائے دیوبند اور تحریک جدوجہد آزادی
✔️ ایران کی قومی مزاحمت اور بین الاقوامی سفارت کاری نے امریکہ کو مذاکرات پر مجبور کیا
✔️ پاکستان کی سیاسی حکومت اور مقتدرہ ایران امریکہ معاہدہ میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد کی مستحق
✔️ پاکستان کو ایران کے ساتھ سیاسی و معاشی تعلقات بحال کرنے چاہیے
✔️ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی ، جغرافیائی اور ثقافتی تعلقات ہیں
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 24 Jun 2026 - 537 - قرضہ کی تباہ کن معیشت کے بالمقابل تعاون باہمی اور منصوبہ بندی کے دینی اصولوں پر سماجی تعمیرِ نو کی ضرورت واہمیت | 12-06-2026
قرضہ کی تباہ کن معیشت کے بالمقابل تعاون باہمی اور منصوبہ بندی کے دینی اصولوں پر سماجی تعمیرِ نو کی ضرورت واہمیت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 26؍ ذی الحجہ 1447ھ / 12؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ (39) اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ (40) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(41)
سورۃ (الروم 30: 39-41)
ترجمہ: ”اور جو سود پر تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے، سو اللہ کے ہاں وہ نہیں بڑھتا۔ اور جو زکوٰۃ دیتے ہو جس سے اللہ کی رضا چاہتے ہو، سو یہ وہی لوگ ہیں جن کے دُونے ہوئے۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر تمہیں مارے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے معبودوں میں سے کبھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکے؟ وہ پاک ہے اور ان کے شریکوں سے بلند ہے۔ خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں“۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
05:18 انسانی معاشرے کی بنیاد: تعاونِ باہمی
08:35 سرکش اور طاغوت کی علامتیں
10:14 صالح اور فاسد تمدن کی پہچان
39:54 غیر متوازن اور طبقاتی معیشت کی اصل خرابی
12:59 قرضائی معیشت کی بنیاد اور اس کی تباہ کاریاں
15:59 قرضوں میں ڈوبی ہوئی پاکستانی معیشت کی زبوں حالی
19:46 قرضائی معیشت کے انسانیت پر فرسودہ اثرات
24:22 رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں قرض سے بچاؤ کا تذکرہ اور صحابہ کو اس کی تعلیم دینا
27:06 احادیث نبویہﷺ کی روشنی میں مقروض کی اخلاقی کیفیت کا ذکر
29:50 معاشی تنگدستی کا اجتماعی اخلاقیات پر اثر
32:00 عالمی مالیاتی اداروں کا ملکی معاشی نظام پر قبضے کا منظم طریقہ کار
35:53 ملک پر مُسلّط قرضائی معیشت کے وسیع تر منفی اثرات
38:22 قرضائی معیشت سے نکلنے کا بنیادی اصول
39:54 حضرت عمرِ فاروقؒ کے دور میں عراقی زمینوں کی تقسیم کا دانش مندانہ فیصلہ
44:02 معاشی نظام میں منصوبہ بندی کی اہمیت اور حضرت عمرفاروق رضی اللّٰه عنہ کا اُسوہ
49:04 وسائلِ دولت کی عادلانہ تقسیم کا قرآنی اصول اور اجماعِ امت
54:48 ملکی وسائلِ دولت کی بجائے قرضائی معیشت پر قائم معاشی نظام کی فرسودگی
58:22 مُقتدرہ کے لیے ایرانی قومی سیاسی نظام سے آزادی اور قومی حمیّت کا سبق سیکھنے کی ضرورت و اہمیت
01:01:30 موجودہ دور کی ذمہ داریوں کا تعیّن اور مستقبل کے حوالے سے مایوسی کی بجائے درست لائحہ عمل کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 17 Jun 2026 - 536 - سودی استحصال اور مغرب کی انسان دشمنی کے بالمقابل قرآن حکیم کے راست تر نظامِ ھدایت کی جامع شعوری دعوت | 12-06-2026
سودی استحصال اور مغرب کی انسان دشمنی کے بالمقابل قرآن حکیم کے راست تر نظامِ ھدایت کی جامع شعوری دعوت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 26؍ذوالحجہ 1447ھ /12؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
1۔ اِنَّ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ يَهۡدِىۡ لِلَّتِىۡ هِىَ اَقۡوَمُ وَ يُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا ۙ
(17 –الإسراء:09)
ترجمہ: ”یہ قرآن بتلاتا ہے وہ راہ جو سب سے سیدھی ہے اور خوشخبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو عمل کرتے ہیں اچھے کہ ان کے لیے ہے ثواب بڑا‘‘۔
2۔ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَـكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ
ترجمہ:”اور ہم نے تم کو جگہ دی زمین میں اور مقرر کریں اس میں تمہارے لئے روزیاں تم بہت کم شکر کرتے ہو“۔
(07 –الأعراف:10)
*خطبے کی رہنما احادیثِ نبویﷺ:*
1۔ ”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (صحیح بُخاری، حدیث: 5027)
ترجمہ: ”تُم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔
2۔ الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْعَيْشِ“. (مسند الشہاب، حدیث:33)
ترجمہ: ” خرچ میں میانہ روی نصف زندگی ہے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔ قرآن حکیم کے حقائق پر غور و فکر کرنا‘ ایک سچے مسلمان کی نشانی
✔ کتاب مقدس سے قلبی، عقلی و شعوری اور عملی تعلق لازمی و ضروری
✔ مسلمان کا بنیادی فریضہ؛ چار دائروں میں قران حکیم کا فہم و شعور حاصل کرنا
✔ حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائپوری نور اللہ مرقدہ کا قرآن فہمی کے لیے دورۂ تفسیر قرآن کا آغاز کرنا
✔ دورۂ تفسیر قرآن حکیم کی چند اہم خصوصیات
✔ قرآن حکیم کے نہ ختم ہونے والے عجائبات، مفاہیم اور بطون
✔ کلام الٰہی کے مفاہیم کی فہم اور عملی اطلاقات کرنے والے ماہر قانون دان اور محقق علماء کی بنیادی خصوصیات
✔ کتب مقدسہ کی اقدار اور قوانین کی روح ختم ہونے کی بنیادی وجہ
✔ قران حکیم و احادیث نبویہ‘ تمام انسانی اقدار و اخلاق کا عملی نظام
✔ تمہیدی گفتگو کے تناظر میں خطبہ کی مرکزی آیت کی تشریح
✔ انسانی معاشرے کے اَقوَم (راست تر) نظام کی قرآنی ہدایت و رہنمائی
✔ عقل، قلب اور نفس کا قِوام؛ عدل و انصاف اور اعتدال و توازن
✔ قران کا حکیم کا بنیادی موضوع بحث
✔ ہر دائرے کے درست قِوام سے متعلق قرآن حکیم کی ہدایات اور خوشخبریاں
✔ الٰہی تعلیمات اور انسانی اقدار سے عاری یورپ کی انسان دشمنی اور قتل و غارت، معاشی لوٹ کھسوٹ کی سیاہ کاریوں کی تاریخ
✔ مشرقِ وسطی اور ایشیا کے خطے علم اور اخلاق کا مرکز
✔ زر کی اساس پر سودی اور قرضوں کی معیشت کا ظالمانہ نظام
✔ 80 سال سے سودی اور قرضوں پر مبنی خسارے کے بجٹ کا تاریخی جائزہ
✔ زراعت، تجارت اور صنعت کی تباہی کے ساتھ قرضوں کا معاشی نظام‘ خوشحالی کا ضامن کیسے؟
✔ ملکوں کے وسائل لوٹنے کے لیے جنگیں مسلط کرنے کا انسانیت دشمن عالمی ہتھکنڈا
✔ فرعونی و ہامانی کرداروں کے حامل سفاک و ظالم حکمران
✔ انسانی اقدار و اخلاق پر مبنی قرآن کا طریقۂ راست تر کی روگردانی کا نتیجہ
✔ قرآن حکیم کی شعوری دعوت، مسلمان کا بنیادی فریضہ اور دورۂ تفسیر قرآن حکیمبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 14 Jun 2026 - 535 - بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں | 05-06-2026
بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 19؍ذوالحجہ 1447ھ /05؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَﭤ(62)۔
(27 –النمل:62)
ترجمہ: ”بھلا کون پہنچتا ہے بےکس کی پکار کو جب اس کو پکارتا ہے اور دور کردیتا ہے سختی اور کرتا ہے تم کو نائب اگلوں کا زمین پر اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تم بہت کم دھیان کرتے ہو‘‘۔
خطبے کی رہنما حدیثِ نبویﷺ:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَ قَالَ:" اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ‘‘۔
ترجمہ : ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب (عامل بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا‘‘۔
[صحيح البخاري‘ حدیث: 2448]
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآنِ حکیم کا کمال؛ انسانی اجتماعیت کے جملہ پہلوؤں کی واضح تفہیم
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں اللہ کو پکارنے والے مضطرّ (بےبس مظلوم) کی دعا کی قبولیت کا بیان
✔️ بےبس اور مظلوم انسانوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے
✔️ دعا کی قبولیت کے بنیادی اصول، شرائط اور اسوۂ نبویؐ
✔️ متنوّع و مختلف مزاجوں کے مجتمعِ انسانی میں مزاحمت و جدوجہد کی نا گُزِیرِیت
✔️ اجتماعی طاقت و قوت ضرور نتیجہ پیدا کرتی ہے
✔️ کرۂ ارض میں نسلِ انسانی کی بقاء و حفاظت کے لیے ارضی خلافت کا نظام
✔️ انبیاءؑ کا بقاءِ انسانیت، ظلم کے خاتمے کے لیے پکار، جدوجہد اور بے لاگ کردار
✔️ مظالم، فتنوں اور مصائب کے دور میں مضطرّ قوم کو اجتماعیت قائم کرنے اور مزاحمتی جدوجہد کا حکم
✔️ تین دعائیں‘ تین لوگوں کے حق میں قبول ہونے کا بنیادی راز
✔️ سفر میں اجتماعیت اختیار کرنے کا حکم
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا واضح پیغام اور بےبس اور مظلوم قوم کی حالتِ زار
✔️ ظالمانہ بجٹ اور اشرافیہ کی عیاشیاں‘ ایک جائزہ
✔️ آمرانہ نظام میں عورت کی حکمرانی‘ ملک و قوم کی تباہی کا پیش خیمہ
✔️ آج کا المیہ؛ مظلوم انسانیت قرآن کے مزاحمتی پکار سے غفلت و لاپرواہی
✔️ ظلم و جبر کے ماحول اور غلامی کے دور میں حضرت شیخ الہندؒ کی پکار اور انتھک جدوجہد
✔️ ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے اجتماعی طاقت پیدا کرنے والی اقوام کا خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں جائزہ
✔️ ظلم و جبر اور بے بس کی اضطراری حالت ختم نہ ہونے کی بنیادی وجہ اور قرآن کا شعوری پیغام فکر و عملبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 07 Jun 2026 - 534 - ملت ابراہیمی اور اس کے نمائندہ نظامِ محمدی ﷺ کی روشنی میں "مہذب فاتح" کے صلیبی اور صہیونی بیانیے کا جائزہ | 29-05-2026
ملت ابراہیمی اور اس کے نمائندہ نظامِ محمدی ﷺ کی روشنی میں "مہذب فاتح" کے صلیبی اور صہیونی بیانیے کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ : 12؍ ذی الحجہ 1447ھ /29 ؍مئی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(67) اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا-وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ(68) وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ-وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّا اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(69) یٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ(70) یٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ (71)
سورۃ آلِ عمران 3 (67-71)
ترجمہ : ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، لیکن سیدھے راستے والے مسلمان تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ لوگوں میں سے سب سے زیادہ قریب ابراہیم کے وہ لوگ تھے جنہوں نے اس کی تابع داری کی اور یہ نبی اور جو اُس نبی پر ایمان لائے، اور اللہ ایمان والوں کا دوست ہے۔ بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کِسی طرح تم کو گمراہ کر دیں، اور گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجھتے۔ اے اہلِ کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم گواہ ہو۔ اے اہلِ کتاب! سچ میں جُھوٹ کیوں ملاتے ہو؟ اور سچی بات کو چھپاتے ہو؟ حالانکہ تم جانتے ہو۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔️ حضرت ابراہیمؑ کے دینِ حنیف کی خصوصیات
✔️ حضرت ابراہیمؑ کا جامع جماعتی کردار
✔️ دینِ حنیف کی حقیقی وارث: شریعت محمدیﷺ
✔️ ابراہیمی دعا کی قبولیت اور رسول اللہﷺ کی بعثت
✔️ ملّتِ ابراہیمی کے حقیقی مصداق: قرآن میں مذکور تین طبقات
✔️ صیہونیت و صلیبی طاقتوں کے بالمقابل مسلمانوں کے عظیم الشان غلبہ کی عادلانہ تاریخ
✔️ دجل و فریب پر مبنی ابراہیمی معاہدے کا تجزیہ
✔️ مغربی ممالک کا دجل پر مبنی انسانی حقوق کے پُر فریب عنوان کا استعمال
✔️ اسرائیلی ریاست کے قیام کی تاریخ اور اس کے پسِ پردہ سامراجی ممالک کے مذموم مقاصد
✔️ دین ابراہیمی حنیفی کی اصل حقیقت اور موجودہ دور میں اس کو سمجھنے کی اہمیت
✔️ سامراجی ممالک کا ابراہیمی معاہدہ کے پُر فریب عنوان کے ذریعے ملمع سازی کا طریقہ کار
✔️ دینِ ابراہیمی کو قائم کرنے والی جماعت کے چار بنیادی اصول
✔️ مروجہ مذہبی راہنماؤں کی طرف سے سامراجی ممالک کو مہذّب فاتح قرار دینے کا پروپیگنڈہ اور دینِ اسلام کی عادلانہ تاریخ کا موازنہ
✔️ سامراجی ممالک کا غدّاروں کے ذریعے اپنے مفادات کی تکمیل کا طریقہ کار اور موجودہ حالات کا تجزیہ
✔️ مروجہ مذہبی راہنماؤں کی سامراجی ممالک سے مفادات کی بنیاد پر مرعوبانہ ذہنیت
✔️ سامراجی ممالک کی استحصالی تاریخ اور عقل و شعور کی بنیاد پر تجزیہ کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاThu, 04 Jun 2026 - 533 - سفلی خواہشات پر مبنی انتشار پسند عالمی سیاسی اور معاشی تسلط سے نجات اور عادلانہ الہی نظام ہدایت کی اہمیت | 29-05-2026
سفلی خواہشات پر مبنی انتشار پسند عالمی سیاسی اور معاشی تسلط سے نجات اور عادلانہ الہی نظام ہدایت کی اہمیت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 12؍ذوالحجہ 1447ھ /29؍ مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ-وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ (50)۔
(28 –القصص:50)
ترجمہ: ”پھر اگر نہ کر لائیں تیرا کہا، تو جان لے کہ وہ چلتے ہیں نری اپنی خواہشوں اور اس سے گمراہ زیادہ کون جو چلے اپنی خواہش پر بدون راہ بتلائے اللہ کے، بیشک اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو‘‘۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ دنیوی و اخروی کامیابی میں نظم و ضبط اور مربوط نظام کا کردار
✔️ ذہنی انتشار‘ حنیفیت کی ضد نیز فکر و عمل کی یکسوئی کے لیے ابراہیمی انبیاءؑ کا منظم کردار
✔️ کائنات کا فلکیاتی و ارضیاتی نظام‘ اعلی ڈسپلن کا مظہر
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں خواہشات کے قیدی انسانوں کو انذار و تنبیہ
✔️ قرآنی اصطلاح ’’ھویٰ‘‘ کی وضاحت
✔️ انسانیت کی بحالی اور مَلَکیّت و بھیمیّت کا شرف کے لیے نظام کی ناگزیریت
✔️ شرفِ انسانیت سے گرے ہوئے جانوروں سے بدتر خواہش پرست انسانوں کی حالت
✔️ گمراہ ترین انسان اور ’’ھویٰ بغیر ھدی من اللہ‘‘ کی نشان دہی
✔️ حدیث میں گھوڑا (سواری) کی مثال سے ”ھویٰ بغیر ھدی من اللہ“ کی توضیح
✔️ ’’ھویٰ‘‘ (خواہشات) کو ڈسپلن میں لانا‘ اللہ کی ہدایات کو ماننا و تسلیم کرنا ہے
✔️ خواہش پرست (ظالم قوم) ہدایت سے محروم
✔️ ظلم و عدل کی تعریف نیز شرک کے ظلمِ عظیم ہونے کا مطلب
✔️ ایک زمانے میں دو رسول ماننا بھی بڑا ظلم اور خواہش پرستی
✔️ رسول اللہﷺ کی ہدایت کے مطابق نظام نہ بنانا‘ ظلم اور ھویٰ بغیر ھدی من اللہ
✔️ قوم کی تعمیر و تشکیل کے لیے نبی اکرمؐ کا نظامِ اقترابات و ارتفاقات
✔️ فطری جغرافیے کی اساس پر اقوام کی شناخت، خود مختاری اور عدل و انصاف کے لیے نبی اکرمؐ کا کردار
✔️ اقوام کے بننے اور پروان چڑھنے کے محرکات، عناصر اور عوامل
✔️ بغیر سر زمین کے قوم کا تصور‘ خود ساختہ یورپی تصورات کا شاخسانہ
✔️ دینِ اسلام کے حقائق کی روشنی میں خواہشات پر مبنی تصوراتی اسلام کا جائزہ
✔️ نمازِ جمعہ و عید کے اجتماعات کی اصل حقیقت
✔️ اقوام کا خود مختاری، عدل و انصاف کے لیے کردار ادا نہ کرنا‘ ظلم اور خواہش پرستی
✔️ حج کی عبادت میں خواہش پرستی اور ظالمانہ سرمایہ پرستی کے قومی و عالمی مفادات
✔️ سیاسی و معاشی و سماجی خرابیاں‘ انفرادی خواہشات سے زیادہ بدتر !
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں علمی طور پر حقائق پسند اور خواہش پرست معاشروں کا تجزیہ
✔️ ایران، امریکہ جنگ کے تناظر میں خواہشات کے علی الرغم خطوں اور علاقائی اقوام کو سیاسی و معاشی امور میں اجتماعی نظام قائم کرنے کی قرآنی دعوت اور نبوی ہدایات
✔️ خطوں کی بندر بانٹ کرنے والی خواہش پرست اقوام و عناصر کی نشان دہی
✔️ علم و شعور اور اسلام کے نظام کو سمجھنا‘ سچے مسلمان کا دینی فریضہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSat, 30 May 2026 - 532 - عشرۂ ذی الحجہ میں تعظیمِ شعائر، تکبیرِ ربّ کی اہمیت اور عبادتِ قربانی کی حقیقت | 22-05-2026
عشرۂ ذی الحجہ میں تعظیمِ شعائر، تکبیرِ ربّ کی اہمیت اور عبادتِ قربانی کی حقیقت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 5 ذی الحجہ 1447ھ/ 22 ؍مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ- فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ- وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘- وَ اتَّقُوْنِ یٰاُولِی الْاَلْبَابِ.
سورۃ البقرۃ (2:197)
ترجمہ: حج کے چند مہینے معلوم ہیں۔ سو جو کوئی ان میں حج کا قصد کرے تو مباشرت جائز نہیں، اور نہ گناہ کرنا، اور نہ حج میں لڑائی جھگڑا کرنا۔ اور تم جو نیکی کرتے ہو، اللہ اس کو جانتا ہے۔ اور زادِراہ لیا کرو، اور بہترین زادِ راہ پرہیزگاری ہے۔ اور اے عقل مندو! مجھ سے ڈرو۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
✔ عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت
✔ شعائراللہ کا مفہوم اور عظمت
✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: رسول اللہﷺ سے محبّت
✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: قرآنِ حکیم کی عظمت
✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: بیت اللہ کا احترام
✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: اِقامتِ صلوٰۃ
✔ قلوب میں عظمتِ الٰہی اجاگر ہونے کا لازمی نتیجہ: غیر اللہ کی مرعوبیت سے نجات
✔ عشرہ ذی الحج میں تکبیراتِ تشریق کا مقصد
✔ تکبیراتِ تشریق کے ذریعے ایمان اور نظریے کی مضبوطی کا اہتمام
✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: قربانی بطور جانی (نفس) عبادت
✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: قربانی بطور ایک مستقل عبادت
✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: خون بہانے کا اہتمام
✔ عشرہ ذی الحجہ بطور ایّامِ تربیت
✔ عبادات میں مساوات کی اہمیت
✔ فلسفہ قربانی کے اِحیاء کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 29 May 2026 - 531 - حجِ بیت اللہ کا محمدیﷺ نظام: ملتِ ابراہیمی کے عالمگیر غیر طبقاتی اقترابی و ارتفاقی مقاصد کے تناظر میں | 15-05-2026
حجِ بیت اللہ کا محمدیﷺ نظام: ملتِ ابراہیمی کے عالمگیر غیر طبقاتی اقترابی و ارتفاقی مقاصد کے تناظر میں
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:27 ذی قعدہ 1447ھ / 15؍مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْقَآىٕمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(26) وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ(27) لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ-فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىٕسَ الْفَقِیْرَ٘ (28) ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ(29) سورۃ الحج (22: 26-29)
ترجمہ: اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے کعبہ کی جگہ معیّن کر دی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سُجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھ۔ اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پاپیادہ اور پتلے دُبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں، تاکہ اپنے فائدوں کے لیے آ موجود ہوں اور تاکہ جو چوپائے اللہ نے انہیں دیے ہیں، ان پر مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں۔ پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔ پھر چاہیے کہ اپنا مَیل کُچیل دُور کریں اور اپنی نذریں پُوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔️ امتِ محمدیہﷺ کے ذریعے ملتِ حنیفیت کی تکمیل
✔️ ملتِ حنیفت کے دو دائرے: اقترابات اور ارتفاقات
✔️ بیت اللہ الحرام بطور ملتِ حنیفیت اور بین الاقوامیت کا مرکز
✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: توحید کا قیام اور شرک کا ردّ
✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: ظاہری و باطنی پاکیزگی کا حُصول
✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: انسانیت کا بین الاقوامی مرکز
✔️ حدیثِ نبویﷺ کی وضاحت اور جہاد کے ساتھ حج کی مماثلت
✔️ حج بطور ایک انسانیت گِیر غیر طبقاتی اجتماع
✔️ خطبہ حجۃ الوداع میں عالمی مساوات کا اعلانِ عام
✔️ ملّتِ ابراہیمی کے اعمال کا شریعتِ محمّدیہ ﷺ میں ارکانِ حج کے طور پر محفوظ ہونا
✔️ ملّت ابراہیمی کی حقیقی وارث: اُمتِ محمدیہ ﷺ
✔️ حج بطور ایک عالم گِیر اجتماعی عبادت
✔️ حج مبرور کی حقیقت
✔️ حضرت عمرؓ کا حج کی رسمیّت کی تردید اور مقصدیّت کی طرف متوجہ کرنا
✔️ حضرت ابوبکرؓ کا بطور امیرِ حج تقرر اور معاہدات سے متعلق اعلانِ عام
✔️ مقصدیّتِ حج کے اِحیاء کی ضرورت و اہمیت
✔️ اسلامی عبادات میں اجتماعیت کی رُوح اور اس کی اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 29 May 2026 - 530 - خطبۂ عید الاضحٰی 1447ھ / 2026ء | مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
خطبۂ عید الاضحٰی
حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 10؍ ذوالحجہ 1447ھ / 27؍ مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 29 May 2026 - 529 - نظامِ حج و قربانی: شعائر اللہ کے احترام ، تعلق مع اللہ اور روحانی ترقی کی اہمیت اور دورِ حاضر کے فتنوں کا جائزہ | 22-05-2026
نظامِ حج و قربانی: شعائر اللہ کے احترام ، تعلق مع اللہ اور روحانی ترقی کی اہمیت اور دورِ حاضر کے فتنوں کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 05؍ذوالحجہ 1447ھ /22؍ مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ۔
(22 –حج:32)
ترجمہ : ”اور جو کوئی ادب رکھے اللہ کے نام لگی چیزوں کا سو وہ دل کی پرہیزگاری کی بات ہے“۔
2۔ وَ الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ۔
(22–حج:36)
ترجمہ: ”اور کعبہ کے چڑھانے کے اونٹ ٹھہرائے ہیں ہم نے تمھارے واسطے نشانی اللہ کے نام کی تمھارے واسطے اس میں بھلائی ہے“۔
حدیث نبویﷺ:
”الْأَضَاحِيُّ: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ“. (سنن ابن ماجہ:3127)
ترجمہ: ”قربانیاں: تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔ تعلق مع اللہ کے تناظر میں ذی الحج کی اہمیت
✔ حج بیت اللہ کی ادائیگی انسانی قلوب کے قصد، ارادہ اور نیت کی درستگی کے لیے ہے
✔ پچھلے جمعہ المبارک کے خطبے سے ربط
✔ حجابات کے توڑنے اور تعلق مع اللہ کے قائم کے لیے دیا گیا نظام شریعت
✔ حج بیت اللہ کی ادائیگی استطاعت کے ساتھ وابستہ ہے
✔ استطاعت کا دوسرا درجہ قربانی اور تیسرا درجہ تکبیرات تشریق ہے
✔ شریعت محمدیہ میں انسانی روح یعنی نسمہ کو بہیمی تقاضوں سے پاک کرنا اور ملکی تقاضوں کے تحت ذات باری تعالی سے تعلق قائم کرنا ضروری ہے
✔ شریعت محمدیہ میں روح کی پاکیزگی کے لیے حلال جانوروں کے کھانے کی اجازت
✔ حلال جانوروں کی ارواح کا تعلق بھی عالم ارواح سے ہے
✔ عالم ارواح کی نمائندگی کرنے والے شعائر اللہ کی اہمیت
✔ ملکوتی نظام کی جانب سے آنے والے روحانی فیضان کی بدولت شعائر اللہ کی خصوصیات
✔ قربانی کے لیے حرم پاک کی طرف لے جائے جانے والے جانوروں کی عظمت اور اہمیت
✔ انسانی روح کی ترقی کے لیے حلال جانور کے ذبح کی ضرورت و اہمیت
✔ امام شاہ ولی اللہ کے نزدیک عظمت الٰہی کے اظہار کے تین طریقے (ذکر، خشوع خضوع، فعل)
✔ قربانی کا فعل عظمت الٰہی کے اظہار کا اونچا ترین درجہ ہے
✔ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل کا عظیم ترین قربانی کا عمل
✔ حدیث نبوی ص کے تناظر میں قربانی کے جانور کو خوب کھلانے پلانے کی اہمیت
✔ ملت طبیعیین اور ملت نجامین کے تناظر میں غیر اللہ کے لیے کیے گئے ذبیحہ کی حرمت
✔ قربانی کے پیسوں کی ادائیگی ذبیحہ کا متبادل نہیں ہے
✔ قربانی کرنا افضل ترین اعمال میں سے ہے
✔ احادیث نبویہ کو ان کے مکمل فریم ورک اور نظام کے تحت سمجھنا ضروری ہے
✔ دور حاضر میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان
✔ حج بیت اللہ کے انتظامات کرنے والی اتھارٹی کی ذمہ داریاں، امیر حج ہونے کے تناظر میںبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 29 May 2026 - 528 - حجِ بیت اللہ: تعظیم شعائر اللہ، تزکیۂ نفس اور فلاحِ انسانیت کے جامع نظام عبادت کی اہمیت | 15-05-2026
حجِ بیت اللہ: تعظیم شعائر اللہ، تزکیۂ نفس اور فلاحِ انسانیت کے جامع نظام عبادت کی اہمیت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 27؍ ذوالقعدة 1447ھ /15؍ مئی 2026ء
بمقام : مدرسہ رحیمیہ دارالقرآن آئی ٹن ون اسلام آباد
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕ۔ (2 –بقرہ:197)
ترجمہ : ”حج کے چند مہینے ہیں معلوم پھر جس نے لازم کرلیا ان میں حج تو بےحجاب ہو ناجائز نہیں عورت سے اور نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا حج کے زمانہ میں اور جو کچھ تم کرتے ہو نیکی اللہ اس کو جانتا ہے“۔
2۔ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا۔ (3 –آل عمران:97)
ترجمہ : ”اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا اس گھر کا جو شخص قدرت رکھتا ہو اس کی طرف راہ چلنے کی“۔
حدیث نبویﷺ:
” مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ“. (صحیح بخاری:1820)
ترجمہ : ” جس نے اس گھر کا حج کیا اور نہ شہوت کی فحش باتیں کیں، نہ گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00:00 آغاز
0:05:18 مسخ شدہ اَدیان کے ماحول میں جامع و کامل دین کا نزول
0:06:56 اسلام کے علاوہ کوئی دین اور نظام قابل قبول نہیں!
0:08:12 جسمانی و روحانی امراض کو دور کرنے کا الہی نظام
0:16:11 جسم و روح کو مُعطّر کرنے والی نفحاتِ الہی
0:12:47 جسمانی و ذہنی علاج کا یومیہ و ہفتہ وارانہ اجتماع
0:23:33 سال بھر کے حجابات توڑنے کے لیے روزوں کی فرضیت
0:24:11 عمر بھر کی کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے حج کی مشروعیت
0:26:45 خطبے کی مرکزی آیات و احادیث کی روشنی میں فریضۂ حج کی توضیح
0:41:00 حج میں رفث، فسوق اور جدال کی ممانعت
0:53:11 انسانی خیر و بھلائی کے کاموں سے اللہ باخوبی واقف
0:56:07 حج کے لیے سامانِ سفر ضروری نیز بہترین زاہِ راہ تقویٰ
0:58:24 ایامِ حج کے مخصوص اعمال و افعال
1:00:45 شعائر اللہ، حدودِ حرم اور احکاماتِ الہی
1:05:53 حضرت ابراہیمؑ کا خواب، شیطانی وسوسے اور قربانی کی مشروعیت
1:15:31 صفا و مروہ کی سعی؛ حضرت ہاجرہ کی سنت کا احیاء
1:18:48 حج کے افعال و مقامات کی نورانیت نیز یوم النحر کی نبوی سنت
1:21:21 قربانی کے جانور کا گوشت باعثِ برکت
1:23:21 خطبے کی مرکزی حدیث کی وضاحت
1:25:24 عرفات کے اجتماع کی ولی اللہی حکمت
1:29:58 حج کی سعادت حاصل کرنا بڑی خوش نصیبی!بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 29 May 2026 - 527 - تمدّن، امن اور بِلا تفریق معیشت کا ارتفاقی نظام: ملّتِ ابراہیمی کی روشنی میں سماجی تشکیل سے اجنبی مذہبی تصور کا جائزہ | 08-05-2026
تمدّن، امن اور بِلا تفریق معیشت کا ارتفاقی نظام: ملّتِ ابراہیمی کی روشنی میں سماجی تشکیل سے اجنبی مذہبی تصور کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:20 ذی قعدہ 1447ھ / 8 ؍مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(126)
سورۃ البقرۃ (2:126)
ترجمہ: اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے ربّ! اسے امن کا شہر بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق دے جو کوئی ان میں سے اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے۔ فرمایا: اور جو کافر ہو گا سو اسے بھی تھوڑا سا فائدہ پہنچاؤں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب میں دھکیل دوں گا، اور وہ بُرا ٹھکانہ ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ ملّتِ حنیفیت کی تعلیمات میں جامعیت
✔ دینِ اسلام کی تعلیمات میں دین و دنیا کی ترقی کا تصور
✔ دُعا کا عملی جدوجہد کے ساتھ گہرا ربط
✔ مزاحمت سے بھرپور جدوجہد کا ابراہیمی اُسوہ
✔ حضرت ابراہیمؑ کا نئے تمدن کی تشکیل میں کردار
✔ تمدّن کا پہلا بنیادی تقاضا: امن و امان
✔ نبوّت کا وسیع سماجی دائرہ کار
✔ تمدّن کا دوسرا بنیادی تقاضا: عادلانہ معاشی نظام
✔ انبیائے کرامؑ کی دعوت کا پہلا اثر: انسانی معاشرے کی ترقی
✔ بِلا تفریق مذہب معاشی وسائل کی تقسیم کا مساوات پر مبنی اسلامی نظام
✔ اسلامی سیاسی نظام میں ذِمّی کے حقوق
✔ ملّتِ ابراہیمی حنیفی: ارتفاق اور اقترابِ الٰہی کی جامعیت کا حسین امتزاج
✔ دینِ اسلام میں ظلم کے خلاف مزاحمت کے تصورکی اہمیت
✔ دُنیوی زندگی کا تسلسل: اُخروی زندگی
✔ موجودہ دور میں مزاحمتی تحریک کی شعوری جدوجہد کی ضرورت و اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 15 May 2026 - 526 - استخفافِ قوم‘‘ کے سرمایہ دارانہ ملمع کار فرعونی بیانیہ کے خلاف علم و عدل پر مبنی دینی مزاحمت کی ضرورت و اہمیت | 08-05-2026’’
’’استخفافِ قوم‘‘ کے سرمایہ دارانہ ملمع کار فرعونی بیانیہ کے خلاف علم و عدل پر مبنی دینی مزاحمت کی ضرورت و اہمیت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 20؍ ذی قعدہ 1447ھ / 08؍ مئی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (43 – الزّخرف: 54)
ترجمہ : ”پھر عقل کھو دی اپنی قوم کی، پھر اسی کا کہنا مانا مقرر وہ تھے لوگ نافرمان“۔
حدیث نبویﷺ:
”إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مَا شَاءَ وَهُوَ مُقِيمٌ عَلَى مَعَاصِيهِ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ اسْتِدْرَاجٌ مِنْهُ لَهُ“. (تفسیر ابن أبی حاتم: 10/ 3284 )
ترجمہ: ” جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ (کسی) بندے کو اس کی خواہش کے مطابق (دنیا کی نعمتیں) عطا فرما رہا ہے حالانکہ وہ گناہوں پر قائم (بضد) ہے، تو (سمجھ لو کہ) یہ اللہ کی طرف سے اس کے لیے ”استدراج“ (ڈھیل دیا جانا اور رفتہ رفتہ پکڑ کی طرف لے جانا) ہے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ علم و عدل پر مبنی تعلیماتِ انبیاءؑ اور بعثت کا مقصد و ہدف
✔️ ظلم و جہالت کے در پردہ عدل اور علم کی ملمع کاری سے انسانیت یرغمال
✔️ سورۂ زخرف کا بنیادی موضوع؛ ظلم و جہالت کی ملمع کاری سے کا پردہ چاک کرنا
✔️ حقائق کے منافی علمی بیانیے، آراء و اعمال اور غلط فیصلوں کے نتائج
✔️ عمل سے پہلے عزم اور ارادہ ضروری نیز بنی اسرائیل کی غلامی کی بنیادی وجہ
✔️ حضرت موسیٰؑ کی بنی اسرائیل کی آزادی کے لیے علم و عدل پر مبنی جدوجہد
✔️ فرعون کا گمراہ کن اور ظالمانہ کردار اور (فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ) میں اس کے اپنی قوم کو بے شعور اور گمراہ کرنے کی طرف اشارہ
✔️ (فَاَطَاعُوْهُ) میں قوم کا پست ذہنیت کی اساس پر جھوٹے فرعونی بیانیے کو تسلیم کرنے کا ذکر
✔️ سیاسی شناخت اور معاشی طاقت سے قومی اجتماعیت کی حفاظت
✔️ (اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ) کے تناظر میں فاسقین کے بد کردار اور انجام کار
✔️ بنی اسرائیل اور فرعون کے قصے کا مقصد‘ امت محمدیہ کو نتائج سے خبردار کرنا
✔️ عذابِ الہی کی تین شکلوں میں سے پہلی دو صورتوں سے امتِ محمدیہ کا محفوظ رہنا
✔️ سطحی سوچ اور مفاد پرست حکمرانوں کے خلاف مزاحمتی شعور کی حامل جماعت (طائفہ منصورہ) کی ناگزیریت
✔️ ’’استخفافِ قوم‘‘ کے سرمایہ دارانہ ملمع کار فرعونی بیانیہ کی تین سو سالہ تاریخ کا جائزہ
✔️ استخفافِ اقوام و ممالک کے لیے سرمایہ کاری کے نام پر سودی ملمع کاری
✔️ اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملہ کو "Iran War" قرار دینے کا جھوٹا بیانیہ
✔️ بنگال پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے دھوکہ دہی پر مبنی قبضے کو جائز قرار دینے کا جھوٹا پروپیگنڈا
✔️ 1857ء کی جنگ آزادی کو بغاوت اور غدر قرار دینے کا جھوٹا بیانیہ
✔️ آئین و قانون اور اداروں کی بالادستی کی بنیاد پر قوم کو جاہل اور ذلیل رکھنے کی سیاہ تاریخ
✔️ دین کے حقیقی اور ٹھوس علم پر مبنی تعلیمی نظام کا خاتمہ
✔️ ظالمانہ نظام کی داستان
✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی حدیث مبارکہ کی تشریح
✔️اللہ کی نافرمانی کے باوجود وسائل کی فراوانی‘ اللہ کی طرف سے رسی ڈھیلی چھوڑنا ہے
✔️ خطبے کا مزکری پیغام؛ عزم و ہمت کے ساتھ جہالت و ظلم کے خلاف مزاحمتی شعور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSat, 09 May 2026 - 525 - یومِ مزدور: انبیاءؑ کی عادلانہ جدوجھد اور دین فطرت کی روشنی میں محنت کُش سرمایہ داری نظام کا جائزہ | 01-05-2026
یومِ مزدور: انبیاءؑ کی عادلانہ جدوجھد اور دین فطرت کی روشنی میں محنت کُش سرمایہ داری نظام کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 13؍ذی القعدہ 1447ھ /یکم مئی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
قَالَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا يٰاَبَتِ اسْتَاْجِرۡهُ ۖ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَـاْجَرۡتَ الۡقَوِىُّ الۡاَمِيۡنُ ۔ (28 –قصص:26)
ترجمہ : ”بولی ان دونوں میں سے ایک اے باپ اس کو نوکر رکھ لے، البتہ بہتر نوکر جس کو تو رکھنا چاہے وہ ہے جو زور آور ہو امانت دار“۔
حدیث نبویﷺ:
”آجرْتُ نَفْسِي مِنْ خَدِيجَةَ سَفْرَتَيْنِ بِقَلُوصٍ“. (السنن الكبرى – البيهقي:6/ 195 ط العلمية)
ترجمہ : ”میں نے خدیجة کے لیے دو سفروں کی اجرت ایک اونٹنی لی“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ کل انسانیت کی ترقی اور فلاح کا ہمہ گیر اور آفاقی نظام
✔️ بنی آدم کی خدمت پر مامور فرشتوں کا ملکوتی نظام
✔️ انبیاءؑ کے اقترابی و ارتفاقی پہلو کی فہم کی ضرورت واہمیت
✔️ ابلیس کا انسانیت دشمنی کی اساس پر خدمتِ انسانیت کے اعلی پروگرام کا انکار
✔️ شیطان کے الحادی فکر و عمل کے زیرِ اثر حکمائے مُلحدِین کے ناقص مادی تصورات
✔️ اِلحادی تصورات اور مسخ شدہ مذہبیت کا مقابلہ کرنے والے انبیائے کرام و حکمائے ربّانین اور تجزیاتی شعوری تقاضے
✔️ یومِ مزدور کے پسِ منظر میں تمہیدی گفتگو
✔️ محنت کی سماجی تشکیل میں مرکزیت و اساسیت
✔️ انبیاءؑ کا محنت و جدوجہد کا نظام
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں اجرت کے قانون کی اساسیات اور مزدور کی دو خصوصیات کا بیان
✔️ حضرت شعیبؑ کا حضرت موسیٰؑ سے اجرت کا معاملہ اورسلیقۂ نبوت کی تعلیم
✔️ بکریاں چرانے کے صبر آزماء کام کے ذریعے انبیاءؑ کی انسانی مینیجمنٹ کی تربیت
✔️ ہر نبی کا معاشی محنت کے لیے پیشہ اختیار کرنا
✔️ خطبے کی مزکری حدیث میں رسول اللہؐ کا معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے تجارتی اسفار کا ذکر
✔️ مزدور کے لیے ضروری ہے کہ درست طور پر کام مکمل کرے جیسے امتِ محمدیہ
✔️ مزدور کی مزدوری کے بارے میں انصاف پسند اور فسادی ذہنیت کا تجزیہ
✔️ حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت بلالؓ کے واقعے میں رسول اللہؐ کا مزدوروں کی قرار واقعی حیثیت اور اس کے حقوق پر تنبیہ کرنا
✔️ آپؐ کا خلفائے راشدین کو اور آگے آنے والے ہر حکمران کی محنت کشوں کے حقوق کی ادائیگی کی وصیت
✔️ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا خلیفہ کی حیثیت سے اپنے لیے مزدور کے برابر اجرت کا تعین کرنا
✔️ دینی معاشی نظام میں حصولِ نفع کی شرط انسانی محنت
✔️ بینکنگ سسٹم کی ابتداء، زر کی اساس پر ظالمانہ سودی نظام اور سرمائے کی بنیاد پر مزدوروں سے مجرمانہ رویے
✔️ یورپین بھیڑیوں کی معاشی لوٹ کھسوٹ اور وسائل لوٹنے کی تین سو سالہ سیاہ اور الم ناک تاریخ
✔️ 1876ء میں کھیوڑہ اور 1886ء میں شکاگو کے مزدوروں کا قتل عام
✔️ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش دور سے مزدوروں کے حقوق چھینے کا ظالمانہ نظام آج تک جاری
✔️ اسلامی بینک کاری کے نام پر مذہبی طبقے کی سودی ملمع کاری اور مزدوروں کا استحصال
✔️ شہزادہ چارلس کی تقریر کے تناظر میں استحصالی تاریخ کا جائزہ
✔️ مسلمان کی بنیادی ذمہ داری اور عملی تقاضےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاMon, 04 May 2026 - 524 - ابراہیمیؑ اصول عشرہ میں عدل کی اساسیت: تاریخ انبیاء کے تناظر میں معاصر سامراجی کرداروں کا جائزہ | 24-04-2026
ابراہیمیؑ اصول عشرہ میں عدل کی اساسیت: تاریخ انبیاء کے تناظر میں معاصر سامراجی کرداروں کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 06؍ ذی قعدہ 1447ھ /24؍ اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
1۔ وَ اِذَا قُلۡتُمۡ فَاعۡدِلُوۡا وَ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ۚ وَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ اَوۡفُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ۔ (6 –انعام: 152)
ترجمہ : ” اور جب بات کہو تو حق کی کہو اگرچہ وہ اپنا قریب ہی ہو،اور اللہ کا عہد پورا کرو، تم کو یہ حکم کردیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو“۔
حدیث نبویﷺ:
”ثَلَاثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ، فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ وَالْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ“. (صحیح البخاری:28 )
ترجمہ: ”جس نے تین چیزوں کو جمع کر لیا اس نے سارا ایمان حاصل کر لیا۔ اپنے نفس سے انصاف کرنا، سلامتی کو عالم میں پھیلانا اور تنگ دستی کے باوجود اللہ کی راہ میں خرچ کرنا“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ دینِ حنیفیت کا پیغام انسانیت
✔️ سماجی ترقی کے دس ابراہیمیؑ اصول اور صحفِ انبیاءؑ میں ان کی تشریح
✔️ اصولِ عشرہ میں سے آخری اصول کی وضاحت، خطبے کی رہنما آیت کے تناظر میں
✔️ ہر معاملے میں فیصلہ کی اساس و بنیاد‘ عدل و انصاف
✔️ مشرق و مغرب کے سیاسی و معاشی امور میں مشرق وسطیٰ کی بالا دست جغرافیائی حیثیت
✔️ انصاف پر مبنی فیصلوں اور معاہدات کی پاسداری میں قرابت داری رکاوٹ نہ بنے
✔️ انسانی معاشرے میں معاہدہ عمرانی کی ناگزیریت اور لا قانونیت کی حوصلہ شکنی
✔️ حضرت ابراہیمؑ کی اصولِ عشرہ کی دعوت اور جماعت سازی کا عمل
✔️ عراق کی بین الاقوامی مرکزیت اور پہلے اصولِ توحید کی اساس پر حضرت ابراہیمؑ کا دو مراکز کا قیام
✔️حضرت یوسفؑ کا اپنے والدین سے حسن سلوک‘ دوسرے حنیفی اصول کا عملی نمونہ
✔️ حقوقِ انسانیت کی بحالی کے لیے اصولِ عشرہ کی روشنی میں حضرت یوسفؑ کا ریاستی ماڈل
✔️ ابراہیمی اصولوں پر موسوی جدوجہد، تربیت یافتہ جماعت کی تیاری اور تورات کی اساس پر مستحکم ریاست کا قیام
✔️ حضرت داودؑ اور حضرت سلیمانؑ کے دور میں حکومتی توسیع اور ہیکلِ سلیمانی کے مقاصد و اہداف
✔️ حضرت سلیمانؑ کے بعد بنی اسرائیل کا ابراہیمی ملت کے اصولوں سے انحراف اور مسخ شدہ یہودیت کی ابتداء
✔️ حضرت عیسیٰؑ پر آفاقی اصولوں کا نزول اورعملی کردار
✔️ حضورﷺ کی ابراہیمی اصولوں کی اساس پر قومی و بین الاقوامی جدوجہد
✔️ ہرقل کے دربار میں پیغام نبوت اور اس کا مفاداتی سیاست و ریاست کی وجہ سے آپؐ کی دعوت کا انکار
✔️ نبی اکرمؐ کی سیرتِ مقدسہ سراپا عدل و انصاف اور معاہدات کی پاسداری سے عبارت
✔️ دس ابراہیمی اصولِ حنیفیت اور معاہدات کی پاسداری پر مبنی دینِ اسلام کے غلبے کا ہزار سالہ دور
✔️ دس ابراہیمی اصولوں اور کتبِ الہیہ کی تعلیمات کی پامالی اور ظالمانہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی تین سو سالہ سیاہ تاریخ
✔️ ایران پر مسلط جنگ کے تناظر میں عالمی سامراج اور اس کی ہم نوا سیاسی و مذہبی قیادت کے ظالمانہ و مجرمانہ کردار کا جائزہ
✔️ ظالمانہ ریاست کے ظلم و زیادتی کے اقدامات کا ملبہ افراد پر ڈالنے کا سامراجی و سرمایہ پرستانہ ہتھکنڈا
✔️ ایران کی انقلابی قیادت اور مظلوم ایرانیوں کے خلاف فرسودہ شیعت کے نام پر سامراجی پروپیگنڈا
✔️ ایران سے امریکی دشمنی اور پیچ و تاب کی اصل وجہ
✔️ حقائق و واقعات کا اصولِ عشرہ کی اساس پر درست تجزیہ، آزادانہ رائے اور فیصلہ سازی‘ مسلمان کا بنیادی فریضہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 01 May 2026 - 523 - معرفتِ الٰہی کی اساس پر ملتِ حنیفیہ کی تشکیل؛ آذری و نمرودی نظام کے بالمقابل ابراہیمی جدوجہد کی اہمیت | 24-04-2026
*معرفتِ الٰہی کی اساس پر ملتِ حنیفیہ کی تشکیل؛ آذری و نمرودی نظام کے بالمقابل ابراہیمی جدوجہد کی اہمیت*
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 6؍ذی قعدہ 1447ھ / 24؍اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ (51) اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ(52) قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ (53) قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (54) (الانبیاء:54-51)
*ترجمہ* : اور ہم نے پہلے ہی سے ابراہیمؑ کو اس کی صلاحیت عطا کی تھی اور ہم اس سے واقف تھے۔ جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو انہیں کی پُوجا کرتے پایا ہے۔ کہا البتہ تحقیق تم اور تمہارے باپ دادا صریح گمراہی میں رہےہو۔
*۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇*
✔ انبیائے کرامؑ کی بنیادی ذمہ داری: معرفتِ الٰہی سے شناسائی
✔ ربّ تعالیٰ کے ساتھ براہِ راست ربط قائم کرنے کا نبوی طریقہ
✔ تاریخی واقعات کا قرآنی اُسلوب: تزکیہ قلوب
✔ سلسلہ نبوت میں تاریخی تسلسل کی اہمیت اور قرآن حکیم کی راہنمائی
✔ ملّتِ حنیفیت کی حقیقت
✔ عقل و شعور کے ذریعے معرفتِ الٰہی کے حصول کا ابراہیمیؑ طریقہ کار
✔ ستارے کے طلوع و غروب سے معرفت الہی کا ابراہیمی طریقہ
✔ چاند کے مشاہدے سے معرفت الہی کا ابراہیمی طریقہ
✔ سورج کی مثال سے معرفت الہی کا ابراہیمی طریقہ
✔ فاسد مذہب کے تسلط اور اس کے ردّ کا ابراہیمی اسوہ
✔ فاسد مذہبی افکار پر سوالات کے ذریعے غوروفکر کا ابراہیمی اسوہ
✔ خوف اور جبر کے نمرودی نظام کو چیلنج کرنے کی ابراہیمی حکمت
✔ سیاسی و سماجی ظلم کو ختم کرنے کی ابراہیمی بصیرت
✔ ایّامِ حج میں ابراہیمی فکر اور جدوجہد کا شعور بیدار کرنے کی ضرورت
✔ ملّت حنیفیت کے اِحیاء کے اسوہ نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورتWed, 29 Apr 2026 - 522 - توحید کی اساس پر استحصالی سماج کو چیلنج کرنے کا اسوہ ابراہیمیؑ اور صہیونی اِکارڈ کے خلاف مزاحمتی جدوجہد | 17-04-2026
*توحید کی اساس پر استحصالی سماج کو چیلنج کرنے کا اسوہ ابراہیمیؑ اور صہیونی اِکارڈ کے خلاف مزاحمتی جدوجہد*
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 28 ؍شوال 1447ھ /17؍اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۚ-اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ٘-كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(4) رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(5) (الممتحنہ:5-4)
ترجمہ: بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے، اور ان لوگوں میں جو اس کے ہم راہ تھے۔ جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ بے شک ہم تم سے بے زار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو: ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بَیر ہمیشہ کے لیے ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں تمہارے لیے معافی مانگوں گا اور میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی بات کا مالک بھی نہیں ہوں۔ اے ہمارے رب! ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اے ہمارے رب! ہمیں ان کا تختہ مشق نہ بنا جو کافر ہیں۔ اور اے ہمارے رب! ہمیں معاف کر، بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ الہامی کتب کے ساتھ انبیائے کرام کی بعثت بطور عملی نمونہ
✔ ہدایت کے عملی نظام کے لیے جماعتِ حقّہ کی ضرورت
✔ رسول اکرمﷺ ملت ابراہیمی حنیفی کے حقیقی وارث
✔ امتِ محمدیہﷺ کے لیے اُسوہ ابراہیمیؑ کی اہمیت
✔ اُسوہ ابراہیمی کا نمایاں پہلو: ظالمانہ مشرکانہ نظام سے اعلانِ براءت
✔ ظالمانہ نظام کے دو ستون: ظالم سیاسی طبقہ اور مفاد پرست مذہبی طبقہ
✔ توحید کا بنیادی تقاضا: استحصالی نظام سے اعلانِ لاتعلقی
✔ ملّتِ ابراہیمی کی اتباع کے لیے عقل و شعور کی ضرورت
✔ امت محمدیہﷺ ؛ ملتِ ابراہیمؑ کی حقیقی وارث
✔ عالمی استحصالی نظام کی مذہبی چال: معاہدہ ابراہیمی (ابراہیم اکارڈ) کا عنوان
✔ رسول اکرمﷺ کی بعثت کے ذریعے ملتِ ابراہیمی کا اِحیاء
✔ نمرود کے ظالمانہ نظام اور موجودہ عالمی استحصالی نظام کی انسانیت دشمن طبقاتی سوچ میں مماثلت
✔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے مفاد پرست مذہبی طبقات کی معاونت سے صیہونیت کا استحصالی غلبہ
✔ یہودیت و عیسائیت کی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں صیہونیت کا ردّ
✔ موجودہ دور میں اُسوہ ابراہیمی کا تقاضا: سیاسی شعور کی بنیاد پر ظالمانہ نظام سے اعلانِ لاتعلّقیTue, 21 Apr 2026 - 521 - ظلم کے نظاموں کے انجام اور ملت ابراھیمیہ کے قرآنی اصولوں کے تناظر میں ڈیجیٹل دور میں دینِ حق کے انسان دوت عادلانہ جدوجہد کی اہمیت | 17-04-2026
ظلم کے نظاموں کے انجام اور ملت ابراھیمیہ کے قرآنی اصولوں کے تناظر میں ڈیجیٹل دور میں دینِ حق کے انسان دوت عادلانہ جدوجہد کی اہمیت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 28؍ شوال 1447ھ /17؍ اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۔ (3 –آل عمران:177)
ترجمہ : ” جنہوں نے مول لیا کفر کو ایمان کے بدلے وہ نہ بگاڑیں گے اللہ کا کچھ اور ان کے لئے عذاب ہے دردناک “۔
2۔ وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ جَعَلَ فِیۡکُمۡ اَنۡبِیَآءَ وَ جَعَلَکُمۡ مُّلُوۡکًا وَّ اٰتٰکُمۡ مَّا لَمۡ یُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ۔ (5 –المائدہ:20)
ترجمہ : ” اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو اے قوم یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب پیدا کئے تم میں نبی اور کردیا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں“۔
حدیث نبویﷺ:
” ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ، أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ“. (صحیح البخاری:16)
ترجمہ: ” تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ انبیاءؑ کی ایمان باللہ کی دعوت‘ دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضامن
✔️ خطبے کی مرکزی آیات کی تشریح؛ کفر انسانیت کے لیے نقصان دہ
✔️ ایمان اور کفر پر استوار معاشروں کا فرق سمجھنا ضروری
✔️ انسانی معاشروں میں جان، مال اور عزت کے تحفظ اور مالی وسائل کی ضرورت و اہمیت
✔️ اس تناظر میں کفر کی حقیقت، قومِ نوحؑ کے کافرانہ تصورات اور حضرت نوحؑ کی دعوت
✔️ انسانی سماج کے ارتقائی سفر میں کفر پر قائم ریاستوں کا عملی کردار، قوم عاد و ثمود و قوم صالح کے تناظر میں
✔️ حضرت ابراہیمؑ کا ملکوتی نظام کا مشاہدہ اور ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی اساسیات
✔️ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کےاصول عشرہ کی اساس پر حضرت یوسفؑ کا مصر میں پہلی ایمانی ریاست کا قیام
✔️ حضرت یوسفؑ کا پندرہ سالہ اقتصادی منصوبہ اور معاشی وسائل کی بہترین مینیجمنٹ
✔️ خطبے کی دوسری مرکزی آیت میں بنی اسرائیل کے لیے سماجی تشکیل کےلیے اعلٰی علمی صلاحیتیں اور بہادر و دلیر حکمران کا بطور انعام تذکرہ
✔️ اعلٰی علم اور مضبوط حکمرانی کے ذریعے ریاست کا قیام‘ انسانی معاشروں پر فضیلت کی بنیاد
✔️ حقیقی مَلِک (حکمران) اور حقیقی مُلک (ریاست) کی پہچان
✔️ مشرق وسطٰی میں ایمانی ریاست کے ارتقاء کا اگلا مرحلہ‘ حضرت موسیٰؑ کی جدوجہد کے نتیجے میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے اصولوں کی پاسدار پہلی جماعت
✔️ قران حکیم میں ملوکیت (بادشاہت) کا بطور انعام ذکر
✔️ رسول اللہ ﷺ اور جماعتِ صحابہؓ کا بین الاقوامی حکومت و ریاست کے قیام کے لیے انتھک کوشش
✔️ دین اسلام کا کل انسانیت کے لیے عادلانہ معاشی نظام کا قیام
✔️اولو العزم خلفاء کا قیصر و کسریٰ کے زر پر کنٹرول کا خاتمہ اور مبادلۂ اشیاء کے لیے آزاد نظامِ زر کا قیام
✔️ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروانؒ کے دور میں زر کے یکساں معیارات پر قائم زر کا اجراء
✔️ دینِ اسلام کی ہزار سالہ ایمانی ریاست اور انبیاءؑ کا اسوہ و نمونہ
✔️ یورپ آج بھی داؤدؑ و سلیمانؑ کی قائم حکومت و ریاست کو معیاری مانتا ہے
✔️ دینِ اسلام کی قومی و بین الاقوامی ریاست کے مراکز
✔️ بین الاقوامی کفر کی حکمرانی کے لیے یورپین اقوام کاسیاسی ومعاشی وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت گری کا گھناؤنا حربہ
✔️ مرکنٹائل دور کے اختتام پر زر کے اضافے اور کنٹرول کا اگلا سرمایہ دارانہ دجل و فریب
✔️ ڈیجیٹل دور میں نئے سیاسی اور معاشی تقاضوں کی پیدائش اور غالب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی نئی صورت گری
✔️ ڈیجیٹل ایج میں جنگ اور لڑائی کا محور‘ ٹیکنالوجی کے انسانیت دوست اور انسانیت دشمن استعمال
✔️ رسول اللہ ﷺ کی ایمانی جماعت اور اس کے نظام کے قائم رہنے کی پیشن گوئی
✔️ ایرانی قوم کی دینی تعلیمات کی اساسیات قومی نظام کی تشکیل اور مادی ارتقاء کا جائزہ نیز عالمی طاغوتی نظام کا جال
✔️ پیٹرو ڈالر سے کرپٹو کرنسی کی جانب بڑھتا ہوا سامراجی سفر ؛ لاحق خطرات، مفادات اور اقوام کے تحفظات
✔️ قرآنی تعلیمات کی اساس پر ممالک و ملوک کے قومی و بین الاقوامی فیصلوں کا شعوری جائزہ اور حالیہ مذاکرات میں درست رائے کی ضرورت و اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 19 Apr 2026 - 520 - معاہدات کے نبوی اقدامات کی روشنی میں معاہدہ شکن عالمی نظام کے خلاف شعوری اجتماعی حکمت عملی کی ضرورت و اہمیت | 10-04-2026
معاہدات کے نبوی اقدامات کی روشنی میں معاہدہ شکن عالمی نظام کے خلاف شعوری اجتماعی حکمت عملی کی ضرورت و اہمیت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ:21؍شوال 1447ھ /10؍اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖ، اَلَّذِیْنَ
عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ،
فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ.
(الانفال:57-55)
ترجمہ: اور اللہ کے ہاں سب جانداروں میں سے بدتر وہ ہیں جنہوں نے کُفر کیا، پھر وہ ایمان نہیں لاتے۔ جن لوگوں سے تو نے عہد لیا ہے، پھر وہ ہر دفعہ اپنے عہد کو توڑتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے۔ سو اگر کبھی تو انہیں لڑائی میں پائے تو انہیں ایسی سزا دے کہ ان کے پچھلے دیکھ کر بھاگ جائیں تاکہ انہیں عبرت ہو۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
01:03 شریعت اسلامیہ میں حقوق و فرائض کا توازن
05:38 انسانی معاشروں کی ترقی میں فطری معاہدات کی اہمیت
09:41 انسانی معاشرے میں حقوق کے قیام میں انبیائے کرامؑ کی جدوجہد
13:50 معاہدہ مواخات سے راہنمائی
16:59 سیرت رسولﷺ کے مکّی و مدنی ادوار میں مواخات کا ثبوت
18:58 انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا اہم پہلو: عہد شکنی سے باز رکھنا
حقائق کا انکار؛ کفر
22:58 عہد شکنی اور معاشرتی انتشار کا باہمی تعلق
25:40 سیرت نبویﷺ میں میثاق(معاہدات) کی اہمیت
31:03 عہد شکن قوموں کا انجام
36:31 صلح حدیبیہ کا سبق: خدا اعتمادی اور خود اعتمادی کی بنیاد بنانے پر معاہدات کی تکمیل
40:07 دینِ اسلام میں جنگی معیشت کا رد اور مسلمانوں کا تاریخی کردار
43:14 معاہدہ شکن قوم کے خلاف سخت کاروائی کا قرآنی حکم
47:07 معاہدہ شکنی سے محفوظ رہنے میں احتیاط کا اصول: حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰه عنہ کا واقعہ
54:22 عہد شکن قوم کی ظالمانہ روِش کو سخت سزا کا حکم
57:57 وقت کا تقاضا: باشعور اجتماعیت کا قیامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSat, 18 Apr 2026 - 519 - مزاحمت اور مذاکرات کی نبوی حکمت کی روشنی میں خطہ میں عالمی شیطانی پالیسی کا جائزہ | 10-04-2026
مزاحمت اور مذاکرات کی نبوی حکمت کی روشنی میں خطہ میں عالمی شیطانی پالیسی کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 21؍ شوال 1447ھ / 10؍ اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
1۔ فَلَا تَہِنُوۡا وَ تَدۡعُوۡا اِلَی السَّلۡمِ وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ وَ اللّٰہُ مَعَکُمۡ وَ لَنۡ یَّتِرَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ۔ (47–محمد:35)
ترجمہ : ” سو تم بودے نہ ہوئے جاؤ اور لگو پکارنے صلح اور تم ہی رہو گے غالب اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور نقصان نہ دے گا تم کو تمہارے کاموں میں“۔
2۔ وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ۔ (03 –آل عمران:139)
ترجمہ : ” اور سست نہ ہو اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان رکھتے ہو“۔
حدیث نبویﷺ:
1۔ ” يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا“. (سنن ابی داؤد، حدیث:4297)
ترجمہ: ”قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں “۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ کل انسانیت کی ہدایت و نصیحت کے لیے قرآنی ہدایات و تعلیمات
✔️ شیاطین الجن و الانس کی کارستانیاں
✔️ شیطان کی انسانوں سے اعلانیہ دشمنی اور دو شیطانی کام
✔️ انسان کی طبعی فطرت
✔️ شیطانی خیال (وسوسہ) اور نفسانی خیال میں فرق
✔️ تقویٰ کی حامل جماعت کی تین خصوصیات
✔️ شیاطین الجن و الانس سے تعلقات نبھانے اور ان کی ولایت ماننے کی ممانعت
✔️ خطبے کی مرکزی آیات کی تشریح
✔️ غزوۂ بدر کے موقع پرنازل ہونے والی آیت میں شیطان صفت انسانوں کا مقابلہ کرنے اور صلح نہ کرنے کا قرآنی حکم
✔️ دوسری آیت میں وھن اور حزن کی ممانعت
✔️ خطبے کی مرکزی حدیث کی تشریح
✔️ غلامی کے اثرات و نتائج؛ کثرت کے باوجود رعب ختم ہونا
✔️ دلوں میں وہن و بزدلی پیدا ہونے کی بڑی وجہ
✔️ حزن کے جسم پر مضر اثرات
✔️ احد کے موقع پر مشرکین کا اعلی قیادت کے شہید ہونے کا پروپیگنڈا اور دشمن کا مقابلہ و مزاحمت کرنے والی جماعت
✔️ صلح کے اصول اور نبوی حکمت عملی
✔️ صلح حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ نے صلح کا مطالبہ کیا
✔️ حالت امن اور حالت جنگ کے الگ الگ قرآنی احکامات
✔️ ریاستی وسائل کے اصل مالک‘ وہاں رہنے والے باشندے ہیں
✔️ 1916ء میں فرانس اور برطانیہ کی عرب خطے کی غیر فطری و ظالمانہ بندر بانٹ
✔️ امریکہ و اسرائیل کی مذاکرات و معاہدات کی خلاف ورزی کی روش
✔️ ایران کا دس نکاتی ایجنڈا‘ اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی حقوق کے عین مطابق
✔️ ایرانی قوم اور ریاستی مزاحمت کا امریکہ کو صلح کے لیے مجبور کرنا
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 12 Apr 2026 - 518 - کلمۂ توحید کے پیغام آزادی کی روشنی میں عالمی استعمار کے غلام ساز نظام کا جائزہ | 03-04-2026
کلمۂ توحید کے پیغام آزادی کی روشنی میں عالمی استعمار کے غلام ساز نظام کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 14؍شوال 1447ھ /03؍اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ، وَ مَاۤ اَدْرٰكَ مَا الْعَقَبَةُ، فَكُّ رَقَبَةٍ، اَوْ اِطْعٰمٌ
فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍ، یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ، اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ.
(البلد:11-16)
ترجمہ: پس وہ (دین) کی گھاٹی میں سے نہ ہو کر نکلا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے: گردن کا چھوڑنا، یا بھوک کے دن میں کِھلانا کسی رشتہ دار یتیم کو، یا کسی خاک نشین مسکین کو۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انسانی فطرت اور توحید کا باہمی تعلق
✔ انبیائے کرام کی دعوت میں طاغوت کی بالادستی کا ردّ
✔ انبیائے کرام کی دعوت؛ تو حید کی جامعیت اور خوف کا خاتمہ
✔ کلمہ کی دعوت کا مقصد؛ انسانیت کی عظمت اور آزادی کا پیغام
✔ مغرب کے انسانی حقوق کے خوش نما نعرے اور تیسری دنیا کی انسانی تجربہ گاہیں
✔ آزادی کے علمبردار امریکہ کا تصور غلامی
✔ قومی خود مختار اور آزاد فیصلہ سازی کے بغیر اصلاحات کے تصور کا دھوکہ
✔ دینِ اسلام میں انسانی آزادی اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کی اہمیت
✔ موجودہ قومی نظام کی استحصالی ذہنیت اور اس کا شعوری ادراک
✔ بے شعوری کے پست ماحول میں شعوری جدوجہد کی ضرورت و اہمیت
✔ توحید کی بنیاد پر ذہنی غلامی سے آزادی کا شعور اور ہماری ذمہ داریاں
Wed, 08 Apr 2026 - 517 - دینِ قیّم کے فطری اصولوں کے بالمقابل کج روی کی استعماری حکمت عملی اور اس کے خلاف آزاد قومی مزاحمت کا جائزہ | 03-04-2026
دینِ قیّم کے فطری اصولوں کے بالمقابل کج روی کی استعماری حکمت عملی اور اس کے خلاف آزاد قومی مزاحمت کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: ۱۴؍ شوال المکرم 1447ھ / 03؍ اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) پشاور کیمپسخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
آیتِ قرآنی:
1۔ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا غَیۡرَ ذِیۡ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ۔ (39 –زمر:28)
ترجمہ : ”قرآن ہے عربی زبان کا جس میں کجی نہیں تاکہ وہ بچ کر چلیں “۔
2۔ اَلَا لَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ، الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ۔ (11 –ہود:19،18)
ترجمہ : ”سن لو پھٹکار ہے اللہ کی ناانصاف لوگوں پر۔ جو کہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈھتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں آخرت سے منکر“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ نبی اکرمﷺ کے لائے نظام زندگی کو اپنانے کی ضرورت و اہمیت
✔️ مادی نظام‘ انسانیت کی مجموعی و کامل کامیابی کا ضامن نہیں!
✔️ انسان کے اقوال و افعال کے سوسائٹی پر اثرات
✔️ حکمرانوں اور رہنماؤں کی حرکات و سکنات اور اخلاق ماتحت افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں
✔️ انسانی اقوال و اعمال کا قرآنی تجزیہ اور صراطِ مستقیم کا تعین
✔️ خطبے کی مرکزی آیات میں دینِ قیّم (صراط مستقیم) اور عوج کے بنیادی فرق کی وضاحت
✔️ قانون؛ عام فہم زبان، آسان اور واضح و دو ٹوک ہونا ضروری
✔️ نبی اکرمؐ کے لائے ہوئے نظام زندگی کی یہی دو اساسیات
✔️ دینِ اسلام کے قومی و بین الاقوامی نظام تک ان اصولوں کی پاسداری
✔️ صحابہ کرامؓ نے غیر عرب اقوام کو ان کی قومی زبان میں دینِ قیم کے آفاقی اصولوں کی تعلیم دی
✔️ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی اپنے فارسی شاگرد کی قومی زبان میں تربیت
✔️ ہر قوم کو دینِ قیم کے قوانین کی قومی زبان میں تعلیم و تربیت دینا‘ اس آیت کا بنیادی تقاضا
✔️ خطبے کی دوسری آیت کی توضیح و تشریح؛
✔️ بدیسی زبان میں قانون سازی‘ دینِ قیم میں کجی و رکاوٹیں کھڑی کرکے عوام کے حقوق کے استحصال کا ذریعہ
✔️ حق بات میں رکاوٹ پیدا کرنے والے انسانیت دشمن عناصر کا گھناؤنا کردار
✔️ مغل حکمرانوں، برعظیم کی دیگر قوموں اور متحدہ ہندوستان کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور حقائق مسخ کرنے کاسامراجی بیانیہ
✔️ قومی ریاستوں کے دور میں عالمی سامراج کی برصغیر اور عرب خطوں کی ظالمانہ تقسیم
✔️ سرمایہ دارانہ نظام کے قوانین انسانیت کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ اور جنگ عظیم اول کے بعد ورلڈ آرڈر کی بنیاد پر خطوں کی غیر حقیقی تقسیم
✔️ سرمایہ درانہ نظام میں جائز بیع میں رکاوٹ کھڑی کر کے قرضوں کی معیشت اور سود کا فروغ
✔️ قرضوں کی معیشت کا انکار کرنے والی قومی ریاستیں (لیبیا، عراق و ایران) کے خلاف جنگ اور دہشت گردی کا پراپیگنڈا
✔️ مظلوم کے حقوق سے توجہ ہٹانے کے لیے الجھاؤاور کجی کی مذہبی و سیاسی روش
✔️ سیاسی غلامی اور معاشی بد حالی کی صورت میں لعنت کی مستحق اقوام اور ممالک
✔️ قرآنی شعور کی بنیاد پر کجی و رکاوٹ ختم کرکے دین قیم کے لیے جدوجہد کی عصری ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 07 Apr 2026 - 516 - تقریبِ تکمیل قرآنِ حکیم در ریجنل مراکز اِدارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ | مفتی شاہ عبد الخالق آزاد
تقریبِ تکمیل قرآنِ حکیم در ریجنل مراکز اِدارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ
خطاب: حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 21؍ رمضان المبارک 1447ھ / 11 مارچ 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 31 Mar 2026 - 515 - خطبہ عید الفطر 2026ء / ۱۴۴۷ھ | حضرت مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری
خطبہ عید الفطر 2026ء / ۱۴۴۷ھ
حضرت مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری
تاریخ: 21 مارچ 2026ء / یکم شوال ۱۴۴۷ھ
مقام: ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔ 👇🏻
✔️ نماز‘ تمام مذاہب کی عبادات کی جامع شکل
✔️ معیشت کا جامع عالمی نظام
✔️ نکاح و طلاق کے مسلمہ بین الاقوامی قوانین
✔️ مختلف خطوں کی غیر فطری جغرافیائی تقسیم اور سامراجی مفادات
✔️ عید کا تہوار اور انسانی حریت و آزادیبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 31 Mar 2026 - 514 - نقضِ عہد، قطعِ رحمی اور فساد فی الارض پر مبنی دجل و رافضیت کے عالمی نظام کے خلاف مزاحمت کی عصری جدوجہد | 27-03-2026
نقضِ عہد، قطعِ رحمی اور فساد فی الارض پر مبنی دجل و رافضیت کے عالمی نظام کے خلاف مزاحمت کی عصری جدوجہد
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: ٧؍ شوال المکرم 1447ھ / 27؍ مارچ 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۡ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ
(2-بقرہ:27)
ترجمہ: ”جو توڑتے ہیں خدا کے معاہدہ کو مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے فرمایا ملانے کو اور فساد کرتے ہیں ملک میں وہی ہیں ٹوٹے والے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
دین اسلام کے دور عروج اور انسانی ترقی کے لئے قرآن حکیم کے اساسی اصول
✔️ اسلام کا دور عروج: بحیثیت مجموعی صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرہ
✔️ ناقابلِ اصلاح معاشرتی بگاڑ اور مرض مزمن کی صورت میں انبیاء علیہم السلام کی بعثت
✔️ بعثت خاتم النبیین اور رحمۃ للعالمین کی رحمت عمومی کے طفیل انسانیت مکمل تباہی سے محفوظ رہے گی
✔️ ”خاتم النبیین“ کا معنی و مفہوم نیز ”العلماء ورثۃ الانبیاء“ کی تشریح
✔️ مضبوطی دین اور بقائے انسانیت کے لیے رجلِ فاجر سے بھی کام لیتا ہے
✔️ انسانیت کی ترقی اور بقا کے لئے "دین ابراہیمی کے اصول عشرہ" (احکام عشرہ)
✔️ انسانی اجتماعی ضمیر میں ان اصولوں کا رسوخ
✔️ دور عروج میں ان ابراہیمی اصولوں پر رسوخ اور عادلانہ سماج کی تشکیل
✔️ حقوق انسانیت اور "اصول عشرہ" "لیگ آف نیشن" اور "یونائیٹڈ نیشنز" کی تشکیل اور قوموں کی حفاظت حقوق کے معاہدات
✔️ دین فطرت کی مزاحمت اور "الناموس الانسانی" کے لیے وسعت و گہرائی
✔️ خطبہ میں پڑھی گئی آیت مبارکہ کی توضیح
✔️ ریاستوں کے نظام کی تشکیل میں توحید باری تعالیٰ اور معاہدات پر عمل درآمد پیش نظر
✔️ "معاہدہ حلف الفضول" اور "میثاق مدینہ" کی اصل روح معاہدات کی پاسداری
✔️ آیت میں بیان کردہ"خاسرون" (گھاٹے والوں) کی تین علامات:
1۔ "نقض عہد" (معاہدوں کو توڑنا)
2۔ خاندانی، قومی اور بین الاقوامی انسانی رشتوں کو توڑنا
3۔ "فساد فی الارض" زمین میں فساد مچانا
✔️ "فساد فی الارض" کی دو صورتیں اور فسادیوں کو روکنے والی حق جماعت کی ذمہ داریاں
✔️ "نقض عہد" "قطع رحمی" اور "فساد فی الارض" پر قائم غاصب حکومتوں کی طبعی عمر
✔️ پہلی و دوسری جنگ عظیم کے بعد قومی ریاستوں کی حدود اور تحفظ حقوق انسانیت کے معاہدات کے بین الاقوامی چارٹر کا قیام
✔️ امریکی سامراج کا گزشتہ سو سال میں معاہدہ شکنی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی تاریخ کا طائرانہ جائزہ
✔️ "نقض" اور "رفض" کا مفہوم اور تاریخی پس منظر اور موجودہ دور کی "رافضیت" کی مصداق تحریکات کا جائزہ
✔️ "رافضیت" کا تعلق مذہب سے نہیں ، بلکہ "سیاسیات" سے ہے
✔️ موجودہ دور کی بین الاقوامی "رافضیت" اور"دجالیت" کے خلاف ایرانی انقلاب کے مجاہدانہ کردار کا جائزہ
✔️ موجودہ جنگ میں انسان دوست اور انسانیت کش کردار کا جائزہ
✔️ دجال کی دوزخ اور جنت والی حدیث کی تشریح
✔️ اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ایران کے پانچ قانونی و اصولی نکات
✔️ پیغام فکر و عملبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاMon, 30 Mar 2026 - 513 - ظلم کے خلاف مزاحمت اور حقِ دفاع: قرآنی حکم اور انبیاءؑ و حکماء کا مسلمہ اصول ، اس کی روشنی میں انسانیت دشمن سامراجی یلغار کا جائزہ | 20-03-2026
ظلم کے خلاف مزاحمت اور حقِ دفاع: قرآنی حکم اور انبیاءؑ و حکماء کا مسلمہ اصول ، اس کی روشنی میں انسانیت دشمن سامراجی یلغار کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : ۳۰؍رمضان المبارک 1447ھ / 20؍ مارچ 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
1۔ وَ لَا تَرۡکَنُوۡا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ۔ (11-ہود:113)
ترجمہ : ”اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے“۔
حدیث نبویﷺ:
1۔ عن ابن محيريز قال: قال رسول الله ﷺ:’’عن ابن مُحَيْريز مرفوعاً: "فارس نطحة أو نطحتان ثم لا فارس بعد هذا، والروم ذوات القرون كلما هلك قرن خلفه قرن، هيهات إلى آخر الدهر هم اصحابكم ما كان في العيش خير‘‘
ترجمہ: ’’حضرت ابن محیریز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فارس مسلمانوں سے ایک یا دو مرتبہ جنگ کرے گا، پھر اس کے بعد مملکت فارس کا وجود نہ رہے گا۔ روم صدیوں رہے گا، وہ سمندر اور چٹانوں کے مالک لوگ ہیں۔ جب ایک دور ختم ہو گا دوسرا آ جائے گا، روم کا آخری دور بہت برا ہوگا۔یہ تمہارے ساتھی ہیں جب تک کے اچھے طریقے پر رہیں۔ ( فارس کی حکومت ایک یا دو بار مسلمان فوجوں سے لڑ سکے گی پھر بکھر جائے گی، جبکہ رومیوں کی سلطنت چلتی رہے گی جب تک کہ وہ مسلمانوں کے تابع رہیں گے ان میں خیر رہے گی۔ جب مسلمانوں سے الگ ہو گئے، ہیہات الی آخر الدہر کا مطلب یہ ہے کہ اس کا آخری دور بہت بھیانک ہو گا)‘‘۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجهاد/حدیث: 20490]🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآنی تعلیمات اور نبوی احکامات میں تا قیامت جامع رہنمائی
✔️ خطبے کی مرکزی آیت ’’وَ لَا تَرْكَنُوْا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ‘‘ کا معنی و مفہوم
✔️ حضرت آدمؑ سے مسیحِ دجال تک ظالم و مظلوم کی کشمکش جاری
✔️ مغربی نسلوں میں جبلی سفاکیت و ظلم کی اصل وجہ
✔️ مظلوم کو حق دفاع حاصل نیز ظالموں کی طرف معمولی رجحان رکھنے کی قطعی ممانعت
✔️ صاحبِ اقتدار افراد و اقوام اور ممالک چار انسانی امور کی حفاظت کے پابند
✔️ تمام مذاہب میں ظالموں کے خلاف عملاً اقدام کا حکم
✔️ ظالموں سے جنگ اور مقابلہ کرنا ہر دور کے انبیاءؑ، مصلحین اور انسان دوست حکماء کا تقاضا رہا ہے
✔️ عدم تشدد وقتی حکمت عملی لیکن حدیث’’انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا‘‘ کے تناظر میں مظلوم کی حمایت کی ناگزیریت
✔️ ظلم کے خاتمے، عدل کے قیام اور ظالم طبقوں کے خلاف نبی اکرمؐ کی تنبیہ
✔️ خطبے کی مرکزی حدیث کی توضیح و تشریح؛ فارس کی فتح کی نبوی بشارت
✔️ حدیث کے الفاظ؛ الروم ذوات القرون اور اصحابِ بحر و صخر کا معنی و مفہوم
✔️ مغربی شیطانوں کی آخری زمانے میں انسانیت پر یلغار کی نبوی پیشن گوئی اور بچاؤ کا حکم
✔️ سامراجی بھیڑیوں کا مسلسل انسانیت پر ظلم، قتل وغارت گری اور معاشی استحصالی جارحیت
✔️ مغربی بدمعاشوں کی آماجگاہ اور عیسوی تعلیمات کی خلاف ورزی
✔️ رسول اللہ ﷺ کا امتی، مسلمان حکمران اور مسلم امہ ظالم کے حامی یا مظلوم کے حمایتی؟
✔️ مزاحمت کے تین طریقے اور مجرموں کی قرآنی نشان دہی
✔️ آج مشرق وسطی اور دنیا بھر ’’فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ‘‘ کا مصداق اور دنیا و آخرت کی آگ سے بچاؤ اور نجات کا راستہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاMon, 30 Mar 2026 - 512 - اِتباعِ شہوات کے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابل ضبطِ نفس اور حرمتِ اِنسانیت کا دِینی تصوّر ، ماہِ صیام کے تناظر میں جائزہ | 13-03-2026
اِتباعِ شہوات کے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابل ضبطِ نفس اور حرمتِ اِنسانیت کا دِینی تصوّر ، ماہِ صیام کے تناظر میں جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:23؍رمضان المبارک 1447ھ /13؍مارچ 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟ وَ یُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ
الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا، یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ
عَنۡکُمۡ ۚ وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا. (النساء:27-28)
ترجمہ: اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اپنی رحمت سے متوجہ ہو، اور جو لوگ اپنے مزوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ سے بہت دور ہٹ جاؤ۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کر دے، کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت اور انسان کی خصوصیت
✔ انسان کی دو صفات: حیوانیت اور روحانیت
✔ معرفتِ ربّ بذریعہ معرفتِ نفس
✔ اتباعِ شہوات اور عقل کی مغلوبیت
✔ انسانی تحریصات پر غیر پیداواری صنعت کی تشکیل
✔ انسان کی غالب حیثیت اور روزے کے ذریعہ شہوات کی تنظیم
✔ انسانی ہوس کو ابھارنے والا سرمایہ داری نظام
✔ امریکہ کا قائم کردہ انسانیت دشمن عالمی نظام
✔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں انسانوں کی تحقیراور نوجوانوں میں اس کی مرعوبیت
✔ دین اسلام میں انسانی حرمت اور سرمایہ داری نظام میں حقوق کی پامالی
✔ ماہ صیام کے بنیادی مقصد کے تناظر میں سرمایہ پرستی سے مرعوب نوجوانوں کے لیے شعوری پیغام
✔ انسانی آزادی اور ترقی کے لیے دین کے آسان نظام اور سرمایہ داری کے جبری نظام کا موازنہ
✔ رمضان؛انسانی بیداری اور اقدار کی ترقی کا مہینہTue, 17 Mar 2026 - 511 - تقریب رونمائی | إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة وشاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک
تقریب رونمائی
امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی دو مایہ نار کتب؛ ’’إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة‘‘(عربی) و امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک کی تقریب رونمائی
اظہارِ خیال : حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسنبتاریخ : ۲۵؍رمضان المبارک 1447ھ / 15؍ مارچ 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 17 Mar 2026 - 510 - تقریب رونمائی | إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة وشاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک
تقریب رونمائی
امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی دو مایہ نار کتب؛ ’’إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة‘‘(عربی) و امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک کی تقریب رونمائی
اظہارِ خیال : حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ : ۲۵؍رمضان المبارک 1447ھ / 15؍ مارچ 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 17 Mar 2026 - 509 - تقریب رونمائی | إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة وشاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک
تقریب رونمائی
امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی دو مایہ نار کتب؛ ’’إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة‘‘(عربی) و امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک کی تقریب رونمائی
اظہارِ خیال : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : ۲۵؍رمضان المبارک 1447ھ / 15؍ مارچ 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 17 Mar 2026 - 508 - دینی سیاسی شعور کی تشکیل میں رمضان المبارک کے تربیتی کردار کی اہمیت؛ فتح مکہ کے تاریخ ساز انقلاب کے تناظر میں جائزہ | 13-03-2026
دینی سیاسی شعور کی تشکیل میں رمضان المبارک کے تربیتی کردار کی اہمیت؛ فتح مکہ کے تاریخ ساز انقلاب کے تناظر میں جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 23؍رمضان المبارک 1447ھ / 13؍ مارچ 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ، وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا، فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ اسۡتَغۡفِرۡہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا ۔ (110 -نصر)
ترجمہ : ” جب پہنچ چکے مدد اللہ کی اور فیصلہ، اور تو دیکھے لوگوں کو داخل ہوتے دین میں غول کے غول، تو پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں اور گناہ بخشوا اس سے بیشک وہ معاف کرنے والا ہے“۔
2۔ اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا، لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا۔ (48- فتح: 1-2)
ترجمہ : ” ہم نے فیصلہ کردیا تیرے واسطے صریح ، تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہوچکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے اور پورا کر دے تجھ پر اپنا احسان اور چلائے تجھ کو سیدھی راہ“۔
حدیث نبویﷺ:
1۔ ” الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ “. (سنن ابن ماجہ، حدیث:2628)
ترجمہ: ” اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور کفار کے گروہوں کو اس نے اکیلے ہی شکست دے دی “۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ رمضان المبارک‘ قلب، عقل اور نفس کو تین دینی مقاصد کے تحت اقدامات کی صلاحیت و استعداد پیدا کرنے کا مہینہ
✔️ رمضان المبارک میں اہم دینی شعبہ؛ سیاستِ نبویہ سے لاپرواہی و غفلت کا عمومی ماحول
✔️ شریعت، طریقت اور سیاست کا آپس میں گہرا تعلق
✔️ دینِ اسلام کے سیاسی استحکام کا رمضان سے بڑا جوڑ
✔️ نبی اکرمؐ کی سیاسی زندگی سے بے شعوری و بے اعتنائی کی اصل وجہ
✔️ دینِ اسلام کی خلافت و حکومت کے خلاف غلط پروپیگنڈا‘ خرابی کی جڑ
✔️ رمضان المبارک سیاسی سوچ کے تزکیے اور انسانیت کے آئین اور دستور؛ قرآنِ حکیم کے نزول کا مہینہ
✔️ تلاوتِ قرآن، قیامِ لیل اور فہم قرآن سے سیاسی رائے قائم پیدا کرنا ضروری
✔️ نبی اکرمؐ کا بحیثیت حکمران اور آپؐ کی تیار کردہ مستحکم رائے رکھنے والی بنیاد مرصوص جماعت کا شعوری سیاسی مطالعہ
✔️ نبی اکرمﷺ کی سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں فتح مکہ کاپسِ منظر اور پیش منظر
✔️ فتح مکہ کا آغاز صلح حدیبیہ سے ہوانیز فتحِ مبین کی توضیح و تشریح
✔️ معاہدہ صلحِ حدیبیہ؛ حضورؐ کی مدبرانہ اور مستحکم سیاسی رائےاور ریاستِ مدینہ کو تسلیم کرنے کا اظہار
✔️ معاہدے کے بعد سیاسی طاقت کو تسلیم کرنے کے لیے وفود کی مدینہ آمد
✔️ قریش مکہ کے اتحادی قبیلے بنو بکر کا ریاستِ مدینہ کے اتحادی قبیلے بنو خزاعہ پر حملہ
✔️ مکہ کی بڑی طاقت کے سربراہ ابوسفیانؓ کا معاہدے کی توسیع کے لیے درخواست کرنا
✔️ دس رمضان المبارک کو فتحِ مکہ کے لیے نبی اکرمؐ کی مدینہ سے روانگی
✔️ ابو سفیانؓ کا حضورؐ کی خدمت میں پیش ہو کر اسلام قبول کرنا
✔️ قریش کےلیے عام معافی کا اعلان اور بیعت عام
✔️ فتح مکہ کے بعد سیاسی طاقت کا اظہار اور اردگرد کے قبائل کی حلفِ وفاداری
✔️ حضورؐ کے اولو العزم صحابہؓ کا دنیا بھر میں اسلام کی آبیاری میں روشن کردار
✔️ رمضان المبارک میں دین اسلام کے غلبے کی تاریخ کے مطالعے اور سیاسی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت واہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 15 Mar 2026 - 507 - پیغامِ رمضان اور اسوۂ بدر کے تناظر میں جماعتِ شیخ الہندؒ کی جدوجہد آزادی اور ایرانی انقلاب پر اس کے اثرات: قتل و غارت کے عالمی نظام کے خلاف جرات مند قیادت کو خراجِ تحسین | 06-03-2026
پیغامِ رمضان اور اسوۂ بدر کے تناظر میں جماعتِ شیخ الہندؒ کی جدوجہد آزادی اور ایرانی انقلاب پر اس کے اثرات: قتل و غارت کے عالمی نظام کے خلاف جرات مند قیادت کو خراجِ تحسین
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 16؍رمضان المبارک 1447ھ / 6؍ مارچ 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ۔ (3 -آل عمران: 123)
ترجمہ : ” اور تمہاری مدد کرچکا ہے اللہ بدر کی لڑائی میں اور تم کمزور تھے سو ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم احسان مانو“۔
2۔ وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ ۚ فَمَا وَہَنُوۡا لِمَا اَصَابَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَ مَا ضَعُفُوۡا وَ مَا اسۡتَکَانُوۡا ؕ وَ اللہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ ۔ (3- آل عمران: 146)
ترجمہ : ”اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے“۔
خطبے کی رہنما احادیثِ نبویہﷺ:
1۔ ” مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“. (صحیح بخاری، حدیث:38)
ترجمہ: ” جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے “۔
2۔ ” مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“. (صحیح بخاری، حدیث:37)
ترجمہ: ” جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں “۔
3۔ ”كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ“. (سنن دارمی، حدیث: 2755)
ترجمہ: ”کتنے روزے دار ایسے ہوتے ہیں جن کو روزے کا کوئی ثواب نہیں ملتا، وہ (بھوکے) پیاسے رہتے ہیں، اور کتنے رات میں عبادت کرنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے قیام کا رت جگے (جاگنے) کے سوا کوئی فائدہ نہیں“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️رمضان المبارک؛ نزولِ قرآن اور فتحِ بدر کا مہینہ
✔️ ریاستیں ہمیشہ سے امن ، عدل اور معاشی خوشحالی پر قائم ہوتی رہی ہیں
✔️ معاشروں میں ظلم و ستم، غلامی، بدامنی کی صورت میں انبیاءؑ کی بعثت
✔️ خطبے کی مرکزی آیت’’وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ ‘‘ کی روشنی میں تربیت یافتہ جماعتِ صحابہ کے معرکۂ بدر کا ذکر
✔️ خطبے کی دوسری آیت’’وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ‘‘ کی تشریح
✔️ رمضان‘ انقلابات کا مہینہ نیز خطبے کی مرکزی حدیث میں روزے کے اہداف و مقاصد کا ذکر
✔️ تقویٰ کی تین اساسیات؛ فہم و شعور، حق پرستی اور بلا عوض تعلیم و تربیت
✔️ تقویٰ کی اساس پر انبیاءؑ کی جماعت سازی اور سچی، باشعور، حق پرست اور تربیت یافتہ جماعت کے لیے غلبے کا وعدہ
✔️ ’’یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ‘‘ بنی اسرائیل کے لیے بلاد الشام کے وعدے کی اساسیات اور یہودی مغالطے کی نشان دہی
✔️ بلاد الشام کا وعدہ‘ خاص نسل، رسمی مذہب اور قومِ عمالقہ کا کردار اداکرنے والے انسانیت دشمنوں یہودیوں کے لیے نہیں!
✔️ بلاد الشام اور زمین پر اللہ کی حکمرانی قائم کرنے کا اصل حق دار
✔️ عربوں کی ترکوں کے خلاف بغاوت کے پسِ پردہ یہی انسان دشمنی اور نسلی ذہنیت کار فرما
✔️ امنِ عالم کی تباہی میں سامراجی و طاغوتی طاقتوں، ان کی حامی رجعت پسند مذہبیت اور آلہ کار طبقات کا گِھناؤنا کردار
✔️ غزوہ بدر میں نبی اکرمؐ نے نیا منظم ملڑی ازم متعارف کرایا
✔️ صبر و استقامت، تقویٰ اور عزم و ہمت والی جماعت کے لیے میدانِ بدر میں فرشتوں کا تعاون؛ مفسرین کی دو آراء
✔️ نبوی غزوات اور اسلامی جنگوں کا سبق؛ تنظیم سازی، منظم حکمت عملی اور غیر روایتی جنگ
✔️ ہندوستان کی جدوجہدآزادی میں شیعہ و سنی طبقوں کے حریت پسندوں کا کردار
✔️ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا شیعہ سنی مناظرے اور اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لیے کردار
✔️ عالمی سامراج کا بلا تفریق شیعہ وسنی مسلم و غیر مسلم ملکوں کو رَوندنا اور ہمارا المیہ
✔️ آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای‘ ولی اللہی تحریک کی جدوجہدِ آزادی کے کردار کے معترف
✔️ ایرانی شیعہ علماء کے حریت پسندانہ تصورات میں جماعت شیخ الہندؒ کا رہنماء کردار
✔️ ایرانی انقلاب کے مثبت سیاسی و معاشی اور تہذیبی اثرات
✔️ جمعة المبارک کی اجتماعیت اور خطبہ جمعہ کے مقاصد
✔️ ایران پر سامراجی یلغار اور سپریم لیڈر کو شہید کرنا کس قانون کے تحت؟
✔️ آزادی و حریت اور حکمرانی کی بھی ایک لذت و مٹھاس ہوتی ہے
✔️ نسبتِ ائمۂ اہل بیت کے حاملین، رجعت پسند گروہیت اور کامیابی کا آفاقی اصول
✔️ ماہِ رمضان اور پیغام فکر و عملبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSat, 07 Mar 2026 - 506 - ملت ابراہیمی کی اساس پر دین محمدی کا جامع جادہ اعتدال، ماہ رمضان المبارک کے اعمال کے تناظر میں | 27-02-2026
ملت ابراہیمی کی اساس پر دین محمدی کا جامع جادہ اعتدال، ماہ رمضان المبارک کے اعمال کے تناظر میں
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 9؍رمضان المبارک 1447ھ / 27؍ فروری 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ (2 البقرہ: 183)
ترجمہ: ”اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے پہلے لوگوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ
2۔ قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ (6 – الأنعام: 161)
ترجمہ: ”کہہ دو! میرے رب نے مجھے ایک سیدھا راستہ بتلا دیا ہے، ایک صحیح دین ابراہیم کی ملت جو ایک ہی طرف کا تھا، اور مشرکوں میں سے نہیں تھا“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ رمضان المبارک کی ضرورت اہمیت
✔️ روزہ ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے بڑا تریاق
✔️ روزہ انسانیت کا بنیادی وصف اور فطری ضرورت
✔️ انسانوں کی ترقی و بقاءکے لیے ملتِ جامعہ کا تعین
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں ملت اور دین کی وضاحت
✔️ ملتِ جامعہ (قصویٰ)اور دین میں بڑا فرق
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات کی روشنی میں ملت کی حقیقت
✔️ ملتِ قصویٰ کے تحت ارتفاقات و اقترابات کے لیے تین ملتوں کی تشکیل
✔️ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی جامعیت اور دیگر دو ملتوں میں انحرافات
✔️ حضرت ابراہیمؑ کا ملتِ نجوم و مجوس کی اساس پر تشکیل پانے والے دین (نظام) کی خرابیوں کی قرار واقعی حیثیت سے آگاہ کرنا
✔️ ملتِ ابراہیمیؑ کے تحت تین ادیان تشکیل پائے
✔️ دینِ موسویؑ و عیسوی میں ملتِ نجامیین و طبیعیین کی خصوصیات کا اختلاط
✔️ دینِ اسرائیلی میں نسلی حکومت کے خود ساختہ تصورات؛ یہودیت کا فروغ اور تورات میں تحریفات
✔️ وحی الہی اور فہمِ وحی کی استعداد و صلاحیت کے فرق کے تناظر میں نبی و مجدد کا فرق سمجھنا ضروری
✔️ یہود و نصاریٰ کی خواہشات کی بنیاد پر اصولِ حنیفیت میں معنوی تحریف اور اصلِ ملت کی اتباع کا حکم
✔️ جامعیت پر مبنی ملتِ ابراہیمی کی اساس پر دینِ محمدیؐ کا معیاری جادۂ اعتدال
✔️ ارتفاقات و اقترابات کے تقاضوں کے تناظر میں دینِ محمدیؐ کے بنیادی اصول
✔️ مقاصدِ نبوت میں سے ایک اہم مقصد؛ انسانیت میں صفتِ احسان پیدا کرنا
✔️ حنیفی اصولوں کی روشنی میں طبعی حجابات توڑنے میں روزے کا بنیادی کردار
✔️ نصاریٰ کی خواہش پرستی کی بنیاد پر روزوں میں تغیرات و تبدلات
✔️ نبی اکرمؐ کا روزوں میں تحریفات کے خاتمے کا سدِ باب
✔️ رمضان کی رسم؛ عبادات و اجتماعیت کا باہمی التزام
✔️ قیامِ رمضان (تراویح کی اجتماعیت ) سے تحریفِ قرآن کا دروازہ بند
✔️ دین محمدی کی حفاظت کی اساس پر باجماعت تراویح کا اجرا‘ حضرت عمرؓ کا عظیم کارنامہ
✔️ حضرت عمرؓ کے لیے حضرت علیؓ کی دعا
✔️ دینی رسومات کی اجتماعیت کاقیام‘ دین دشمن عناصر پر سیاسی رعب پیدا کرنے کا ذریعہ
✔️ حکمت کے تناظر میں عوام میں اچھی رسومات پیداکرنا‘ دین کی نصر کا باعث
✔️ تراویح محسنین اور رہنماؤں کے لیے اکسیر اعظم
✔️ دینِ قیّم میں رسمِ صالح جاری کرنا‘ حجابات توڑنے کا باعث
✔️ رمضان المبارک کے چار اعمال کی پابندی کرنا ضروریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا✔️
Sat, 28 Feb 2026 - 505 - تصفیۂ روح اور بصیرتِ فرقان کا پیغامِ رمضان اور اس کی نمائندہ ولی اللہی تحریک | 20-02-2026
تصفیۂ روح اور بصیرتِ فرقان کا پیغامِ رمضان اور اس کی نمائندہ ولی اللہی تحریک
خطبۂ جمعۃ المبارک
بتاریخ : 2؍رمضان المبارک 1447ھ / 20؍ فروری 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ:
آیاتِ قرآنی:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ (2 – البقرۃ : 185)
ترجمہ : ”مہینہ رمضان کا ہے، جس میں نازل ہوا قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے، اور دلیلیں روشن راہ پانے کی، اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی، سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اس کے‘‘۔احادیثِ نبوی ﷺ :
1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1901)
ترجمہ : رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". (صحیح بخاری، حدیث: 37)
ترجمہ : رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے عبادت کرے، اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ رمضان المبارک؛ سید الشہور اور عظمت و برکات والا مہینہ
✔️ اس ماہِ مبارک میں ذاتِ باری تعالیٰ کی انسانیت کی طرف خاص توجہ
✔️ خالص انسانیت کے قلوب خود بخود اللہ کی طرف کھچتے ہیں
✔️ زنگ آلود قلوب اور ارواح کی صفائی و ستھرائی کے لیے انبیاءؑ کی بعثت
✔️ روح کی پاکیزگی اور الائشوں کی صفائی کے لیے پانچ وقت کی نماز کی فرضیت
✔️ روح کی ناپاکی اور زنگ چڑھنے والے فاسد افکار و اعمال
✔️ روزے بھی روح کی گندگیوں کے لیے اکسیرِ اعظم
✔️ ہدایتِ انسانیت کے لیے واضح نشانیوں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی مقدس کتاب کا نزول
✔️ فرقان کا معنی و مفہوم
✔️ ہر مادی و روحانی عمل کی روح پر خاص کیفیت و حالت طاری ہوتی ہے
✔️ امام انسانی کے واسطے سے کلماتِ طیبہ اور اعمالِ صالحہ تدلی اعظم تک پہنچتے ہیں
✔️انسان میں بصیرت و شعور کا تعلق اسی نورانیت سے ہے البتہ استعداد کے درجات مختلف ہیں
✔️ نبی اکرمﷺ کل انسانیت کے مسائل حل کرنے کی استعداد اور بصیرت کے حامل
✔️ آپؐ کی صحبت سے جماعتِ صحابہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوا
✔️ قومی و بین الاقوامی رہنماء کی بصیرت و شعور کا معیار اور اولو العزم صحابہ کرامؓ
✔️ بصیرت و فرقان کی صلاحیت تمام ارتفاقات و اخلاق کے دائروں میں ہونا چاہیے
✔️ کتابِ الہی سے حالت و کیفیت پیدا کرنے کا صحیح طریقۂ کار اور آج کا المیہ
✔️ اسی حالت و کیفیت کے ساتھ دینِ اسلام کا بارہ سو سالہ حکومتی نظام کا تسلسل اور انگریز کا پروپیگنڈا
✔️ دینِ اسلام کی حکومت کا قیام بنیادی ہدف نیز شریعت و طریقت سے سیاست سے الگ کرنے کے مذہبی ہتھکنڈے
✔️ شعور و بصیرت پر مبنی ولی اللہی تحریک اور اس جماعت کی خصو صیات
✔️ مولانا سندھیؒ کی احسانی کیفیت و حالت پر مبنی شعوری کلماتِ طیبہ اور اعمالِ صالحہ کا ثمرہ‘ ’’شاہ ولی اللہؒ اور ان کی سیاسی تحریک‘‘
✔️ رمضان المبارک میں اذکار واعمال سے عقل و شعور اور فہم و بصیرت کی بلندی‘ آج کا پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Sat, 21 Feb 2026 - 504 - تقریب رونمائی ”ملفوظات رحیمیہ“ مع سوانحی حالات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
تقریب رونمائی ”ملفوظات رحیمیہ“ مع سوانحی حالات مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ
کتاب ”ملفوظات رحیمیہ“ کا تعارف
مقرر: محقق العصر فکر ولی اللہی حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
تاریخ: 8؍ فروری 2026ء / 19؍ شعبان المعظم 1447ھ
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ٹرسٹ لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ ہندوستان پر انگریز سامراج کے ظالمانہ تسلط کا پر آشوب دور
✔️ حضرت شا ہ عبدالرحیم رائے پوریؒ تین اہم مشائخ کے جامع فکر و عمل کے جانشین
✔️ ولایتِ نبوت کی حقیقت، تین بنیادی وصف و کمالات اور ان کے اثرات و نتائج
✔️ شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیات اور ان کے تربیت یافتہ حضرات
✔️ دار العلوم دیوبند کے نظم و نسق کی درستگی میں شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا کردار
✔️ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا دارالعلوم کی بقاء کے لیے وجیہانہ کردار
✔️ قطبِ عالم حضرت رائے پوریؒ کا مدرسہ مظاہر العلوم کے لیے بھی حکیمانہ کردار
✔️ ہندوستان بھر میں مکاتیبِ قرآنیہ کا قیام
✔️ تحریکِ ریشمی رومال کے حوالے سےحضرت رائے پوری کی بصیرت پر مبنی سیاسی رائے
✔️ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا بیعتِ طریقت اور مسنون اذکار متعین کرنے میں نمایاں تجدیدی کام
✔️ حضرت رائے پوریؒ کے جامع ملفوظاتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 18 Feb 2026 - 503 - رمضان المبارک: روحانی ارتقاء، تحفظِ حقوق اور شیطانی قوتوں کے خلاف تربیتی نظام | 13-02-2026
رمضان المبارک: روحانی ارتقاء، تحفظِ حقوق اور شیطانی قوتوں کے خلاف تربیتی نظام
خطبۃ جمعۃ المبارک
بتاریخ: 24؍ شعبان المعظم 1447ھ / 13؍ فروری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ (2 البقرہ: 183)
ترجمہ: ”اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے پہلے لوگوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ
2۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ (5 – المائدۃ: 90)
ترجمہ: ”اے ایمان والو شراب اور جو ا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ“۔حدیثِ نبوی ﷺ:
كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 5927)
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: ”(کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ اتّباعِ سنت میں رمضان المبارک کی تیاری کا پختہ عزم و ارادہ کرنا ضروری
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی تشریح؛ روزوں کی فرضیت کا معنی و مفہوم
✔️ کائنات کی حاکمیتِ مطلقہ اور منشائے خداوندی؛ حفظ جان و مال اور عزت
✔️ تمام شرعی قوانین اور عبادات کا مقصد ان تین حقوق کی حفاظت
✔️ کائنات کی ہر مخلوق کے نمائندہ ڈاٹس اور تاثیرات انسان میں کارفرماں
✔️ انسان کی صحت و ترقی اور حقوقِ انسانیت کی حفاظت کے قوانین کا نفاذ
✔️ ’’كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِصَاصُ فِى الۡقَتۡلٰى‘‘ میں جان کی حفاظت اور ’’كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ‘‘ میں انسانی روح کی ترقی کے قانون کی فرضیت
✔️ انسانی روح کے تمام دائروں کی درستگی کا راستہ روزہ ہے نیز صوم کی لغوی و شرعی توضیح
✔️ ’’لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ‘‘ میں روزے کے مقاصد و اہداف کا تعین؛ روح کا شدتِ خواہشات سے بچنا
✔️ روح کی پاکیزگی کے لیے رمضان المبارک کا روزہ ضروری
✔️ اصلاحِ نفس کے لیے ایامِ بیض میں روزے رکھنے کی حکمت
✔️ رمضان المبارک کا مہینہ‘ تعلق مع اللہ کا ذریعہ اور نیکیوں کا موسمِ بہار
✔️ ”كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ“ میں امام انسانیت سے روزوں کی فرضیت کا ذکر
✔️ نصاریٰ کی حکمِ الہی کی خلاف ورزی کا ارتکاب؛ رمضان المبارک کے تیس روزوں میں تغیر و تبدل
✔️ تیس روزوں میں تحریفات اور اضافہ کرنے کی وجوہات
✔️ روزہ صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے ہے
✔️ روزے دار کے قلب پر حالتِ الہیہ پیدا ہوتی ہے
✔️ نورانی اعمال و کلماتِ طیبہ کے تسلسل سے خاص ملکہ و مہارت اور بصیرت پیدا ہوتی ہے
✔️ متقی انسان کو یہ بصیرت حاصل اور غلبۂ دین کے لیے کردار
✔️ استقبالِ رمضان المبارک کے لازمی امور اور بنیادی ہدایات
✔️ ہندو ممبر سندھ اسمبلی کی شراب پر پابندی کی قرارداد اور سندھ اسمبلی کی مخالفت
✔️ شراب تمام مذاہب اور عقل مندوں کے ہاں ناجائز
✔️ رمضان کا غفلت پر مبنی استقبال اور حرام کو حلال قرار دینا‘ غضبِ الہی کو دعوت
✔️ رمضان میں شیاطین کو زنجیر پہنانے کا درست مفہوم
✔️ رمضان میں انسان نما شیطانوں کا راج
✔️ رمضان المبارک‘ مواسات اور ہمدردی کا مہینہ
✔️ رمضان المبارک میں کرنے کے چار کام
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 18 Feb 2026 - 502 - درسِ حیح بخاری شریف | 1447ھ / 2026ء | مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
صحیح ترین احادیثِ رسول اللہ ﷺ پر مشتمل امام بخاریؒ کی مایۂ ناز تصنیف ’’صحیح بخاری‘‘ کی تقریبِ تکمیل کے موقع پر
درسِ صحیح بخاری شریف
مدرس: شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 14؍ رجب المرجب 1447ھ / 4؍ جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔👇
0:00 آغاز درس
1:30 بخاری شریف میں نظامِ نبوت کے تناظر میں انسانی اخلاق و اقدار، عمل میں لانے کی اتھارٹیز اور عملی نظام کے امور کی وضاحت؛ دینِ اسلام کا جامع تعارف
13:11 وحی الہی سے کتاب کا آغاز اور دینِ اسلام کی فلسفہ و حکمت؛ توحید پر اختتام
16:33 انسانی معاشرے میں توحید کے اثرات و نتائج؛ عدل و انصاف کا قیام
17:42 توحید کی بنیادی قدر‘ عدل و انصاف پر مشتمل بخاری شریف کا آخری باب
18:13 محشر میں وزنِ اعمال کی اساس و بنیاد
21:06 انسانی افعال، اعمال و اقوال کی پیمائش اور وزن کا معیار
25:57 آیت کے لفظ ”القسط“ کی تشریح
27:54 ”المقسط“ اور ”القاسط“ کے معنی سے ظلم و عدل کا فرق
30:17 آخری حدیث کے اسنادی پہلو نیز سلسلہ سند کی ضرورت و اہمیت
33:52 برعظیم پاک و ہند میں بخاری شریف کی سند میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ بنیادی کڑی
35:06 شیخ الحدیث حضرت اقدس مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری کا سلسلۂ اسنادِ صحیح بخاری
38:25 فہمِ حدیث کی بنیاد اور معروض کے مطابق ولی اللہی مشائخ واکابرین کے اطلاقی پہلو
43:15 آخری حدیث کی تشریح؛ دو کلموں کی تین خصوصیات
44:55 فیوض الحرمین کی روشنی میں ان دو کلمات کی تحقیقی بحث
46:43 رقائق کی تعریف، اقسام اور اطلاقی پہلو
51:27 رقیقہ ظلمانی ونورانی کے تناظر میں غزہ اور وینزویلا میں ظلم و زیادتی کا جائزہ
55:50 دونوں کلمات کا تعلق رقائقِ نورانی نیز ان کی جامع تشریح
1:07:01 پیغام فکر و عمل
https://www.rahimia.org/
https://facebook.com/rahimiainstitute/
منجانب رحیمیہ میڈیاMon, 09 Feb 2026 - 501 - امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ریاستی ذمہ داری اور عہد نبوی کی صحت بخش جسمانی سرگرمیوں کے تناظر میں سرمایہ پرست مافیاز کے ثقافتی منکرات کا جائزہ | 06-02-2026
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ریاستی ذمہ داری اور عہد نبوی کی صحت بخش جسمانی سرگرمیوں کے تناظر میں سرمایہ پرست مافیاز کے ثقافتی منکرات کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
بتاریخ: 17؍ شعبان المعظّم 1447ھ / 6؍ فروری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ۔ [22 - الحج: 41]
ترجمہ: ”وہ لوگ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے“۔2۔ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا۔ [17 - الإسراء: 64]
ترجمہ: ”ان میں سے جسے تو اپنی آواز سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھا دے اور ان کے مال اور اولاد میں بھی شریک ہو جا اور ان سے وعدے کر اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں“۔احادیثِ نبوی ﷺ:
1۔ إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 59)
ترجمہ: ”جب (حکومت کے کاروبار) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر“۔
2۔ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 420)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کی جنھیں (جہاد کے لیے) تیار کیا گیا تھا، مقامِ حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد "ثنیۃ الوداع" تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ "ثنیۃ الوداع" سے "مسجد بنی زریق" تک کرائی۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز خطاب
✔️ انسانیت اللہ کو بہت محبوب اور الہی محبت کا تقاضا
✔️ انسانیت کی کامیابی؛ علمی ترقی اور عملی مہارت کا نظام
✔️ حضورﷺ کی تربیت یافتہ جماعتِ صحابہؓ‘ صحیح علم اور درست عمل کا حسین امتزاج
✔️ اس حوالے سے خلفائے راشدینؓ کی امتیازی حیثیت نیز جماعتِ صحابہؓ‘ عروة الوثقیٰ (مضبوط کڑا)
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا مصداق‘ اصحابِ محمدﷺ، خلفائے راشدین کے ’’تمکین فی الارض‘‘ کے لیے چار اہم کام
✔️ (1) تمکین فی الارض کا پہلا تقاضا؛ انسانیت کو اللہ کے ساتھ جوڑنے کے لیے نماز کا قیام
✔️ (2) حالتِ الٰہیہ کے تقاضے سے اللہ کے کنبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال خرچ کرنا
✔️ نماز اور زکوة کا چولی دامن کا تعلق
✔️ (3) انسانی بھلائی کے معروفات (متفقہ امور) کا حکم اور (4) منکرات (انسانیت کے وجود کے لیے اجنبی کاموں) سے روکنا
✔️ مُنکر کی مزید تشریح؛ قومیت کے غلط بیانیے اور فرسودہ تصورات کا شعوری جائزہ
✔️ نبی اکرمؐ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں امر بالمعروف کی عملی شکلیں
✔️ ’’نیروز‘‘ اور ’’مہرجان‘‘ محض کھیل کود کے دن تھے
✔️ نبی اکرمؐ نے انسانیت کی بھلائی اور یادِ الہی کے لیے دو دن مقرر فرمائے
✔️ انسانی سوسائٹی کے مفید کھیل کود اور سرگرمیاں
✔️ پہلا واقعہ: حضورؐ کی نگرانی میں ’’حفیاء‘‘ سے ”ثنیۃ الوداع“ تک گھوڑوں کی ڈور کا مقابلہ
✔️ دوسرا واقعہ: حبشہ کے قبیلے بنی ارفدہ کا مسجد میں نیزوں کا کھیل
✔️ تیسرا واقعہ: صحابہ کرامؓ کا تیز اندازی کا مقابلہ اور نبی اکرمؐ کی حوصلہ افزائی
✔️ مفید سرگرمیاں اور کھیلوں کا شمار معروفات میں اور انہیں رواج دینے کا حکم
✔️ انسانوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ کھیلوں کا تعلق مُنکرات اور انہیں روکنے کا حکم
✔️ شیاطین کا منکرات کی بنیاد پر کھیلوں کو پرموٹ (رائج) کرنا
✔️ خطبے کی دوسری مرکزی آیت کی توضیح و تشریح
✔️ ’’وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ‘‘: جہالت، انسانیت دشمنی اور ہر قسم کی منکرات کی آواز مراد
✔️ ’’وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ‘‘: شیطانی خیالات اور توہمات کے گھوڑے اور پیادے
✔️ ’’وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ‘‘ مال و اولاد میں شیطان کے شریک ہونے کا معنی
✔️ ’’وَعِدْهُمْ ۚوَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا‘‘ شیطان کی دھوکہ بازی اور وعدہ خلافی
✔️ اللہ کے بندوں پر شیطان کا تسلط قائم نہیں ہو سکتا!
✔️ شیاطن الانس کی کارستانیاں نیز معاشرے کی صحت بخش اور مفید سرگرمیاں
✔️ مسلم ریاست میں مُنکرات کے فروغ کے دن بدن بڑھتے دائرے
✔️ بسنت کا تہوار؛ رہنما و مرشد کے ساتھ تعلیم و تربیت کی اجتماعیت کا عمل
✔️ نااہل حکمرانوں کے تسلط سے قومی نظام پر قیامت برپا!
✔️ اسلام، انسانیت اور غریب کا مزاق؟
✔️ اشاعتِ منکرات کی وجہ سے اللہ سے معافی مانگنا اور توبہ کرنا ضروری!https://www.rahimia.org/
https://facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 09 Feb 2026 - 500 - استکباری تسلط کے مقابلے میں عزتِ نفس اور اجتماعی شعور کے داعی نظامِ توحيد کی قرآنی فکر | 30-01-2026
استکباری تسلط کے مقابلے میں عزتِ نفس اور اجتماعی شعور کے داعی نظامِ توحيد کی قرآنی فکر
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ:10؍شعبان المعظم 1447ھ /30؍جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما آیاتِ قرآنی:
اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ۔لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ۔(النحل: 22-23)
ترجمہ: تمہارا معبود اکیلا معبود ہے پھر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل نہیں مانتے اور وہ تکبر کرنے والے ہیں۔ ضرور اللہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انسانوں کی عزت اور فضیلت کی اساس؛ اللہ کی بالادستی
✔ (استکبارکی بدخلقی) انسانی اقداراوراعمال کے نتائج سے انکار کا رویہ
✔ مستکبرین کی شیطانی جماعت اور معاشرتی فساد میں اس کا کردار
✔ اللہ کی کبریائی اور عظمت کی سماجی حقیقت اور استکبار کا مرض
✔ وسائل کی جغرافیائی تقسیم اور ان سے استفادہ کے لیے باہمی تعاون کی اساس پر عمرانی معاہدہ
✔ دنیا میں افراتفری کے ذمہ دار مستکبرین اور ان کے مقابلے کے لیے واضح نصب العین کی ضرورت
✔ مستکبرین کے خلاف انبیاء کی جدوجہد اورآج کے مسلمانوں میں موجود وہن کا مرض
✔ استکباری نظام کی آلہ کار، پست ذہنیت کی حامل، مرعوب قیادتیں
✔ عزت نفس کا بنیادی تقاضا عبدیت الہی اور حضرت عمر کا نظام انصاف کا مطالعہ
✔ دینی اقدار اور حمیت کے لیے عزت نفس اور اجتماعی شعورکی ضرورت
Wed, 04 Feb 2026 - 499 - لھو و لعب کی حقیقت اور اس کے اطلاق کا انحرافی تصور اور صحت بخش ارتفاقی سرگرمیوں کی قرآنی وتاریخی رہنمائی کا جائزہ | 30-01-2026
لھو و لعب کی حقیقت اور اس کے اطلاق کا انحرافی تصور اور صحت بخش ارتفاقی سرگرمیوں کی قرآنی وتاریخی رہنمائی کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
بتاریخ: 10؍ شعبان المعظم 1447ھ / 30؍ جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:
آیتِ قرآنی
وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔ (29 - العنکبوت: 64)
ترجمہ (از حضرت شیخ الہندؒ): ”اور یہ دنیا کا جینا تو بس جی بہلانا اور کھیلنا ہے، اور پچھلا گھر (آخرت) جو ہے سو وہی ہے زندہ رہنا، اگر ان کو سمجھ ہوتی“۔حدیثِ نبوی ﷺ:
الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، ثُمَّ تَمَنَّى عَلَى اللَّهِ". (سنن ابن ماجہ، حدیث: 4260)
ترجمہ: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآنِ حکیم؛ بلندی فکر اور انسانی کامیابی کی اہم ترین کتاب
✔️ انسانوں کی بلندی کا معیار اور ترقی کی بنیاد‘ علوم نبوت ہیں
✔️ نئے علمی زاویے متعارف کرانے والوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے
✔️ نبی اکرم ﷺ کی آمد اور علوم ارتفاقات و اقترابات کی بارش
✔️ علوم القرآن و الحدیث کے درست فہم کی ناگزیریت
✔️ قرآن و حدیث کے علوم سے رسمی تعلق کے نقصانات
✔️ اعلی علم کے لیے بلند ہمت اور اعلی دماغ لازمی و ضروری
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی تشریح اور سورۂ عنکبوت کا بنیادی موضوع
✔️ سورت کا بنیادی موضوع منتخب کرنے کا طریقۂ کار
✔️ دنیا کی زندگی کے ’’لَهْوٌ وَلَعِبٌ‘‘ ہونے کا معنی و مفہوم
✔️ دارِ آخرت کی زندگی کی حقیقت شناسی اور لہو و لعب کا صحیح مصداق
✔️ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ہاں لہو و لعب کا درست مفہوم
✔️ اس پہلو سے حزب الشیطان اور حزب اللہ کا مقابلہ
✔️ لہو و لعب کا ادھورا و ناقص تصور
✔️ سماجی و سیاسی اور معاشی امور کو کھیل تماشہ قرار دینا‘ اصل تعلیمات سے انحراف
✔️ رسول اللہ ﷺ اور جماعتِ صحابہ کرام کی سماجی و سیاسی اور اقتصادی امور کی انجام دہی‘ لہو و لعب تھا؟
✔️ برطانوی سامراج کے تسلط کے بعد کا غلط بیانیہ نیز کسروی کھیل اور سیاسی چال کا سدِ باب کرنے کے لیے حضرت عمرؓ کی ہرمزان سے مشاورت
✔️ غلط پروپیگنڈا نیز تاتاریوں کا قبول اسلام کے بعد غلبۂ دین کے لیے کردار
✔️خطبے کی مرکزی حدیث کا معنی و مفہوم
✔️ تمناؤں اور خواہشات کا اسیر‘ لہو و لعب کا مصداق
✔️ سماجی بگاڑ، سیاسی ظلم اور معاشی بدحالی کا شیطانی کھیل اور ”لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“ کی روشنی میں دعوتِ فکر
✔️ آج کا شعوری پیغام اور مومن کا بنیادی فریضہhttps://www.rahimia.org/
https://facebook.com/rahimiainstitute/Mon, 02 Feb 2026 - 498 - ربوبیّتِ اقوام کے اُصول سے انحراف، نوآبادیاتی جبر اور آلۂ کار طبقے کے سماجی بگاڑ کا جائزہ | 23-01-2026
ربوبیّتِ اقوام کے اُصول سے انحراف، نوآبادیاتی جبر اور
آلۂ کار طبقے کے سماجی بگاڑ کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمٰن حفظہ اللہ
بتاریخ: ۳؍ شعبان المعظم ۱۴۴۷ھ / 23؍ جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ۔فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ۔لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا، إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ۔ (الانبیاء:11-13)
ترجمہ: اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ظالم تھیں غارت کر دیا ہے اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں۔ پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے۔ مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں جاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ اجتماع انسانی میں باہمی تعاون کا اصول
✔ ربوبیت اقوام کی اساس پر بننے والے سماجی نظام
✔ تاریخ کا اصول اورظالم قوموں کا انجام
✔ نوآبادیاتی ذہنیت کے سماج پر تباہ کن اثرات
✔ نوآبادیاتی ارتقاء اور جبر و استحصال کا قومی دور
✔ پاکستان کی سیاسی و معاشی حقیقت اوراصل نظام کو چھوڑ کر نتائج پر بحث کارویہ
✔ قانون شکن اشرافیہ اوراستحصال زدہ اکثریت
✔ برصغیر کی تابناک تاریخ اورآزاد مملکت کی حقیقی پہچان
✔ سوسائٹی کے اصل مرض کی شناخت ، جماعتوں کے بے معنی ٰ منشور اور ہماری ذمہ داری
Mon, 02 Feb 2026 - 497 - مذہبی انحراف اور نسل پرستی پر استوار عالمی صہیونی تسلط اور قومی شعوری بیداری کا اجتماعی تقاضا | 16-01-2026
مذہبی انحراف اور نسل پرستی پر استوار عالمی صہیونی تسلط اور قومی شعوری بیداری کا اجتماعی تقاضا
خطبۂ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 26؍ رجب المرجب 1447ھ /16؍ جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗؕ-قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَؕ-یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا٘-وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ (المائدہ:18)
ترجمہ: اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہہ دو پھر تمہارے گناہوں کے باعث وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے بلکہ تم بھی اور مخلوقات کی طرح ایک آدمی ہو جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے اور آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ دین اسلام اور منحرف مذہبی گروہ
✔ علم المخاصمہ (قرانی تعلیمات کی روشنی میں چار منحرف گروہوں کے رویوں کا علمی تجزیہ)
✔ یہود ونصاریٰ کا مفاداتی اتحاد اور نسلی برتری کا دعویٰ
✔ صہیونیت کی حقیقت اور اس کا دائرہ کار
✔ ملت ابراہیمی کا قرآنی بیان اور ابراہام اکارڈ
✔ نسلی و مذہبی عنوان اور گروہیتوں کا انسداد
✔ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ شعوری جدوجہد کا عصری تقاضا
✔ موجود صہیونی عالمی نظام کے خلاف عوامی بیداری کی ضرورت
✔ قرآن کا اسلوب بیان اور معاصر تعبیر اور ہماری ذمہ داریاں
Mon, 02 Feb 2026 - 496 - قومِ ثمود کے کردار کی روشنی میں "امن" کے نام پر بدامنی کے عالمی کردار کا جائزہ اور نبوی اقترابی و ارتفاقی عادلانہ نظام کی ناگزیریت | 23-01-2026
قومِ ثمود کے کردار کی روشنی میں "امن" کے نام پر بدامنی کے عالمی کردار کا جائزہ اور نبوی اقترابی و ارتفاقی عادلانہ نظام کی ناگزیریت
خطبۂ جمعۃ المبارک
بتاریخ: 3؍ شعبان المعظم 1447ھ / 23؍ جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ
قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48)
ترجمہ: ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔
حدیثِ نبوی ﷺ:
”أن رسولَ اللهِ ﷺ نهى أن تُكْسَر سِكَّةُ المسلمينَ“۔ أخرجه البيهقي (11284) واللفظ له، والحاكم (2233)
ترجمہ: ”رسولِ اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مسلمانوں کے رائج سکّوں کو توڑا یا نقصان پہنچایا جائے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ ہر دم پیش آمدہ مسائل اور صراطِ مستقیم پر چلنے کاحکم
✔️ انبیاءؑ کی بعثت کا ہدف؛ صراطِ مستقیم کی ہدایت و رہنمائی
✔️ انبیاءؑ کے واسطے سے اقترابات و ارتفاقات کے علوم اور ان کی عملی شکلیں
✔️ دور کے علوم الاقترابات و الارتفاقات نبیِ وقت کے ذریعے دنیا میں منتقل ہوتے ہیں
✔️ ملاءِ اعلیٰ؛ علوم کا مرکز و منبع اور انسانوں میں سے مقربین بارگاہ الہی اس عمل میں شریک
✔️ علوم کے ذریعے سے راہِ ہدایت واضح ہونے کے بعد انسانوں کو اچھے اور برے کا مکمل اختیار
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود کے غلط رویے اور بد اعمالیوں کا تذکرہ
✔️ قومِ ثمود کا اپنی تمام تر علمی، عقلی اور عملی صلاحیتوں سے فساد فی الارض مچانا
✔️ ’’تسعة رھط‘‘ نو جماعتوں کے سرداروں کا فساد مچانے کا مطلب
✔️ العیاذ باللہ نبیِ وقت (حضرت صالحؑ) کو قتل کرنے کا مزعومہ منصوبہ
✔️ نبی اکرمؐ کی آمد کے بعد علوم الاقترابات و الارتفاقات کا واحد ذریعہ ذاتِ گرامیﷺ
✔️ کل انسانیت کے لیے رفاقتوں کے آفاقی اصول اور عبادات کا بین الاقوامی منہج‘ رسولِ اکرمؐ نے متعارف کرایا
✔️ رحمت کا نظام بنانے میں رسول اللہؐ کے ساتھ کائنات کی مثالی قوتیں شریک کار
✔️ وصالِ نبیؐ کے بعد ان قوائے مثالیہ کا خلفائے راشدین کے لیے واضح کردار
✔️ بین الاقوامی مالیاتی خرابیاں اور اموی بادشاہ عبدالملک بن مروانؒ کا مالیاتی لین دین کا عادلانہ نظام
✔️ مسلمانوں کے غلبے کے بارہ سو سالہ دور میں علوم الارتفاقات و الاقترابات میں حسنہ کا غلبہ برقرار رہا
✔️ یورپین بھیڑیوں کا فسادی کردار اور ’’لِمَ تَسۡتَعۡجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِ‘‘ کے عملی مصداق
✔️ ظالمانہ عالمی سرمایہ دارانہ ڈھانچہ اور’’وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ‘‘ کا انطباقی پہلو
✔️ لوٹ کھسوٹ کے لیے عالمی لیٹرے‘جوتیوں میں دال بَٹنے کے محاورے کے مصداق اور ’’وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ‘‘ کی قرآنی پیشن گوئی
✔️ فسادی طاقتیں اور ان کے دم چھلہ قوتوں کی ناشکری اور امن وعدل کے نام پر بدامنی و فساد کا عالمی بورڈ؟
✔️ مسلمان ممالک کی نعمتوں کی ناشکری اور فسادی کردار کا انجام‘ سیاسی غلامی اور معاشی بدحالی کے عذاب میں مبتلا
✔️ آج کے نام نہاد مسلمان ’’وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ‘‘ کے مصداق تو نہیں؟
✔️ کیا امن کے نام پر بورڈ بنانا پچھلے سوسالہ بدامنی پیدا کرنے والوں کے منہ پر تماچہ نہیں؟
✔️ ’’لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‘‘ کی پکار اور مسلمانوں اور اقوام و ممالک کے لیے بنیادی پیغام
https://www.rahimia.org/
https://facebook.com/rahimiainstitute/
منجانب: رحیمیہ میڈیاSun, 25 Jan 2026 - 495 - فعل الخیرات کے ابراہیمی و محمدی منہج اور اس کے تاریخی تسلسل کی روشنی میں موجودہ دور کے نظامِ جبر کے خلاف جدوجہد کی اہمیت | 16-01-2026
فعل الخیرات کے ابراہیمی و محمدی منہج اور اس کے تاریخی تسلسل کی روشنی میں موجودہ دور کے نظامِ جبر کے خلاف جدوجہد کی اہمیت
خطبہ جمعۃ المبارک
بتاریخ: 26؍ رجب المرجب 1447ھ / 16؍ جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ:
آیتِ قرآنی:
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ۔ (21 – الأنبیاء: 73)
ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”اور ہم نے انھیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے اور ہم نے انھیں اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ ہماری ہی بندگی کیا کرتے تھے“۔احادیثِ نبوی ﷺ:
1۔ ”خَيْرُ النّاسِ مَن يَّنْفَعُ النّاسِ“۔ (المبسوط للسرخسي 30/ 252)
ترجمہ: ”لوگووں میں سے بہترین وہ ہے، جو لوگوں کو نفع دے“۔
2۔ الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4169]
ترجمہ: ”حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ انبیاءؑ کی خصوصیت؛ معروضی حالات میں بروقت درست رہنمائی
✔️ علم وفکر کی اساس پر قائم محدود عملی شکل
✔️ دو اہم باتیں؛ بروقت حکم و فیصلہ اور اس کے مطابق عملی طریقۂ کار کا تعیّن
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور تشریح و توضیح
✔️ مشہور قصے کے تناظر میں حضرت ابراہیمؑ کی رشد وہدایت اور فعل الخیرات؛ غور وفکر کی دعوت اور فعل المنکرات پر تنبیہ
✔️ ملتِ ابراہیمی کے ائمہ وھداة کو فعل الخیرات کی وحی اور معروض کے مطابق بے لاگ کردار
✔️ حضرت ابراہیمؑ کے فعل الخیرات کے قلوب و اَذہان پر اثرات
✔️ ائمۂ ھدیٰ کی دو خصوصیات
✔️ کلامِ الہی کی پانچ نشئات نیز نشأةِ نسمہ محمدیﷺ کی وضاحت
✔️ اسمِ ہادی کا نورِ محمدیؐ پر ظہور اور تا قیامت فیضان جاری
✔️ ہر دور کے نبی کا فعل الخیرات کا منہج اور طریقۂ کار
✔️ نورِ محمدیؐ سے انبیاءؑ کے فعل الخیرات کی تکمیل
✔️ حضرت عیسیٰؑ رسول اللہؐ کے ارہاص
✔️ شریعت و طریقت کے فعل الخیرات پر بحث لیکن سیاست اور غلبۂ دین میں اس سے پہلو تہی
✔️ آج افراد و اقوام اور ریاستوں کی غلامی کے دور میں فعل الخیرات کا تعین کرنا ضروری
✔️ دورِ زوال میں ولی اللہی سلسلے کے علماء کی خصوصیت؛ دور کے تقاضے کے مطابق فعل الخیرات کے لیے کردار
✔️ آج کے فرعون و نمرود اور قیصر وکسریٰ کا مقابلے کرنے کے لیے فعل الخیرات کیا ہے؟
✔️ مضبوط قومی جمہوریت کی ناگزیریت اور سامراجی کھیل
✔️ جمہوریت کے خلاف پیش کی جانے والی آیت کا درست مفہوم
✔️ جمہوری جدوجہد کے تناظر میں علمائے حق کے فعل الخیرات کا جائزہ
✔️ ائمۂ ھدیٰ کا فعل الخیرات کا کام‘ بطور عبادت اور رضائے الہی کا ذریعہ
✔️ زوال کا بڑا سبب اور علم فعل الخیرات کا عصری تقاضا
https://www.rahimia.org/
https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب: رحیمیہ میڈیا
Mon, 19 Jan 2026 - 494 - قرآن حکیم کی نمائندہ انسانی تہذیب کے تناظرمیں موجودہ استحصالی ورلڈ آڈرکے انسانیت دشمن کردار کا جائزہ | 09-01-2026
قرآن حکیم کی نمائندہ انسانی تہذیب کے تناظر میں موجودہ استحصالی ورلڈ آڈر کے انسانیت دشمن کردار کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ:19؍ رجب المرجب 1447ھ /9؍ جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیتلَا یَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(8)اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔(الممتحنہ:8-9)
ترجمہ: اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تمہیں اللہ انہیں سے منع کرتا ہے کہ جو دین میں تم سے لڑے اور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (لوگوں کی) مدد بھی کی کہ ان سے دوستی کرو اور جس نے ان سے دوستی کی تو پھر وہی ظالم بھی ہیں۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔
0:00 آغاز
00:59 مظلوم طبقات کی حفاظت؛ انبیاء کی جدوجہد کا محور
06:51 دین اسلام کا بنیادی مقصد؛ ظلم کا خاتمہ، انسانی حقوق کی حفاظت
11:29 قومی اور انسانی وسائل کے متعلق دین کا بین الاقوامی اصول
17:46 عالمی استحصالی انجمن اور اس کے ہتھکنڈے
20:19 اقوام سے تعلقات کے دینی اصول
26:16 مسلم دور کے عالمی نظام کا مروج نظام سے موازنہ
31:25 دین اسلام کا جنگ کا اصول اور تقسیم انسانیت کا سامراجی طریق کار
36:24 باہمی تعاون پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کا دینی اصول
42:25 استحصال کا عالمی نظام اور عدل و انصاف کے مسلم ورثہ کے تعارف کی ضرورتhttps://www.rahimia.org/
https://facebook.com/rahimiainstitute/
منجانب رحیمیہ میڈیاTue, 13 Jan 2026 - 493 - خیر و حکمت کا جامع قرآنی تصور ، اس کے قیام میں امت کے طبقات کا کردار اور معروضی تقاضے | 09-01-2026
خیر و حکمت کا جامع قرآنی تصور ، اس کے قیام میں امت کے طبقات کا کردار اور معروضی تقاضے
خطبہ جمعۃ المبارک
بتاریخ: 19؍ رجب المرجب 1447ھ / 9؍ جنوری 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:
آیتِ قرآنی:
وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا۔ (2 – البقرۃ: 148)
ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ) ”اور ہر ایک کے لیے ایک طرف ہے، جس طرف وہ منہ کرتا ہے، پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو اللہ سمیٹ کر لے آئے گا “۔
حدیثِ نبوی ﷺ:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ۔ (جامع ترمذی، حدیث: 3235)
ترجمہ: ” اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں “
۔۔۔ خطبے کے چند مرکزی نکات ۔۔۔
✔️فکری سمت کے تعین اور خیر میں سبقت کا قرآنی حکم
✔️خیر بطور منظم عملی نظام، نہ کہ محض نیت یا جذبہ
✔️ہر فرد، خاندان، قوم اور ریاست کی ایک وِجْہَة
✔️ بیت المقدس کی طرف سترہ ماہ رخ اور دعوتی حکمت
✔️ بیت اللہ الحرام بطور عالمی قبلہ اور دعوت میں تدریج
✔️ سمت کے مقابلے میں خیر کی اصل اہمیت اور جامع مفہوم
✔️ نیکی میں مقابلہ: فعلُ الخیرات بمقابلہ فعلُ المنکرات
✔️خیر کی متحرک حیثیت اور حکمت کے ساتھ اس کی صورت
✔️ حکمت بطور خیرِ کثیر کا قرآنی اصول
✔️علمُ الحکمة بطور قرآن کا بنیادی اور اولین علم
✔️حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی کے دائرے
✔️موعظتِ حسنہ کے بعد فعلُ الخیرات کا مرحلہ
✔️فعلُ الخیرات بطور امرِ الٰہی کو عملی شکل دینا
✔️امامت: وعظ نہیں بلکہ ہدایت بالامر اور اجتماعی نظم
✔️حضرت ابراہیمؑ کی امامت اور امام کی دو بنیادی صفات
✔️نماز کا عملی نظام بطور فعلُ الخیرات کا نمونہ
✔️نَسَمَہ کا اسمِ الہادی سے رنگین ہونا اور عمل کا ظہور
✔️ صِبْغَةُ اللّٰہ: عقل، قلب اور نفس کی ہم آہنگی
✔️منکر بطور انسانیت دشمن عمل اور ترکُ المنکرات
✔️نبوی دعا: فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات کی اہلیت
✔️ہر مومن بطور امام اور حدیثِ راعی کا تصور
✔️خلفائے راشدین، فقہاء، محدثین اور اولیاء کا منہج
✔️فقہی قانون سازی میں حکمت کا تنوع
✔️امام بخاریؒ کا حدیثی منہج بطور فعلُ الخیرات
✔️اولیاء اللہ کا تزکیۂ نفس اور روحانی تطبیق
✔️ہر دور میں حالات کے مطابق فعلُ الخیرات کی تعیین
✔️1920 کے بعد ولی اللّٰہی جماعت اور قومی وحدت اور نیشنل ازم
✔️نَسَمَہ کی ہدایت اور فعلُ الخیرات بطور زندگی کا منہج
✔️فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات بطور نجات کا قرآنی راستہ
منجانب رحیمیہ میڈیا
Mon, 12 Jan 2026 - 492 - انسانیت سے بغاوت کے نظاموں کے ردّ میں دین کے سلامتی و مالیاتی اصولوں پر سماجی نظام کی تشکیل کی ضرورت اور نسل نو کے کردار کی اہمیت | 02-01-2026
انسانیت سے بغاوت کے نظاموں کے ردّ میں دین کے سلامتی و مالیاتی اصولوں پر سماجی نظام کی تشکیل کی ضرورت اور نسل نو کے کردار کی اہمیت
خطبۂ جمعة المبارک
بتاریخ: 12؍ رجب المرجب 1447ھ / 2؍ جنوری 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:
آیتِ قرآنی:
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔ (3 – آلِ عمران: 19)
ترجمہ (از حضرت شیخ الہندؒ) : ”بے شک دین جو ہے اللہ کے ہاں، سو یہی مسلمانی حکم برداری، اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے مگر جب ان کو معلوم ہوچکا آپس کی ضد اور حسد سے، اور جو کوئی انکار کرے اللہ کے حکموں کا تو اللہ جلدی حساب لینے والا ہے“۔
حدیثِ نبوی ﷺ:
”خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“۔ (الجامع الصحیح للبخاري، حدیث: 6428)
ترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔ پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز
1:21 سلامتی کے نظام کا فہم و شعور اور علمی و عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت
3:28 خطبے کی مرکزی آیت کا ما قبل آیت سے ربط اور مختصر تشریح
4:16 دینِ اسلام کے علاؤہ کوئی دین عند اللہ قابل قبول نہیں!
6:02 سوسائٹی کے علمی و عملی حقائق پر مشتمل دینِ اسلام کے نظام کا قیام
8:41 انسانوں میں دو طرح کی قوتیں کارفرماں نیز علمی گمراہی اور عملی خرابی کی حامل جماعتیں
11:09 اہلِ کتاب کی خرابی؛ انسانیت سے بغاوت اور سلامتی کے نظام کے قیام کا انکار
13:34 بغاوت پر قائم ریاستیں اور ممالک اور بقائے انسانیت کے لیے سلامتی کا نظام لازمی و ضروری
14:49 بغاوت کی اساس پر دین کے لیے ریلیجن کی اصطلاح‘ سامراجی ہتھکنڈا
15:41 اسلام کے دین ہونے کی بنیاد علم پر قائم
17:13 نوعِ انسانیت کی بقاء و سلامتی کا سسٹم: معروفات کا حکم اور مُنکرات کی ممانعت
20:48 سلامتی کے نظام کے اصول یکساں لیکن معروض کے مطابق منہج (حکمت عملی) مختلف
23:46 تورات کی شکل میں سلامتی اور انسانی اقدار پر مبنی پہلا آئین اور یہود کی بغاوت
24:43 حضرت موسیٰؑ کا تورات کے سلامتی کے نظام کی حفاظت اور نفاد کی وصیت
28:02 تیسرے قرن کے بعد نظامِ تورات میں بگاڑ پیدا ہوا
28:38 ملکی نظام کی دو اساسیات اور بے اختیار حکومتوں کا تحلیل و تجزیہ
31:23 اہلِ کتاب کا اختیارات و وسائل کا غلط استعمال‘ آیت کے تناظر میں ان کی بغاوت کا جائزہ
37:09 حضور ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب کا علم ہونے کے باوجود بغاوت و سرکشی کا رویہ
42:56 ہر نبی اور ان کی جماعت کا سلامتی کے نظام کے لیے جدوجہد؛ تاریخی جائزہ
44:31 سلامتی کے نظام کے لیے اگلی نسلوں کے کردار کی نبویؐ نشان دہی
47:29 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’قرن‘‘ کی لاجواب تشریح
50:25 سلامتی و سیاسی نظم و نسق اور مالیاتی ڈسپلن پر مبنی نبویؐ قرن
53:15 مربی و رہنما کا مطمح نظر نیز نبی رحمتﷺ کا اہلِ طائف سے حد درجے سلامتی کا طریقہ
55:35 اگلی نسلوں میں سلامتی کے دین کو منتقل کرنے میں حضرت عمر فاروقؓ کا کردار
1:00:57 حضرت امیر معاویہؓ کا اگلے دور میں امن و سلامتی کے نظام کے قیام کے لیے بے لاگ کردار
1:02:36 حضرت امیر معاویہؓ کا شاہانہ طرزِ حکومت اختیار کرنے کا ہدف و مقصد
1:11:00 حضرت امیر معاویہؓ کے لیے ’’کسری العرب‘‘ کے لقب کا درست معنی و مفہوم
1:11:45 حضرت ابن عباسؓ کی پیدائش کے وقت حضورؐ کی خلافت بنو عباس کی پیشنگوئی
1:14:16 حدیثِ قرونِ ثلاثہ کو سیاست و خلافت کے نظام کے بغیر بیان کرنا‘ ناقص تشریح
1:19:35 یورپین قزاقوں اور بھیڑیوں کا سلامتی کے علی الرغم بدامنی و لوٹ مار پر مبنی بغاوت کا نظام
1:23:03 سرمایہ دارانہ نظام؛ علمی بغاوت، انسانی اقدار اور سلامتی کی پامالی
1:24:59 اگلی جنریشن کے سوالات و تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت؛ ولی اللہی مشائخ کی امتیازی خصوصیت
1:28:44 اگلی جنریشن کے تقاضوں کے مطابق سلامتی کا سیاسی نظم و نسق اور مالیاتی ڈسپلن کا شعوری فہم اور عملی جہدوجہدبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Sun, 04 Jan 2026 - 491 - سماجی تعمیر کے لیے توحید و عدل کے اُصول پر صاحِبُ الرائے اجتماعیت کی ضرورت واہمیت | 26-12-2025
سماجی تعمیر کے لیے توحید و عدل کے اُصول پر صاحِبُ الرائے اجتماعیت کی ضرورت واہمیت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمٰن حفظہ اللہ
بتاریخ: ۵؍ رجب المرجب ۱۴۴۷ھ / 26؍ دسمبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :
قُلۡ اَمَرَ رَبِّىۡ بِالۡقِسۡطِ وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ؕ كَمَا بَدَاَكُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ۔ (-7الاعراف:29)
ترجمہ: کہہ دو میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور ہر نماز کے وقت اپنے منہ سیدھے کرو اور اس کے خالص فرمانبردار ہو کر اسے پکارو جس طرح تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح دوبارہ پیدا ہو گے.۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
0:44 قسط اور عدل کا عالمگیر اصول
5:16 انسانوں میں ارادہ اور اختیار کا اصول
10:09 انسانی سماج میں عدل کا اصول
14:26 رائے دینے کا حق اورمشاورت و عدل کا باہمی تعلق
19:18 صاحب الرائے جماعت اور عصر حاضر کا مشاورتی ڈھونگ
23:23 شعوری بنیادوں پر رائے کا حق (اسوہ حسنہ کی روشنی میں)
29:52 قسط اور عدل کے اصول پر جماعت صحابہؓ کی تربیت
35:14 دین کے دو اساسی شعبے (توحید اور عدل)
40:16 عدل کا انفرادی و اجتماعی تقاضا
45:15 شریعت اور عدل کا باہمی تعلق اور عدل کی پامالی کے سماجی اثراتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Wed, 31 Dec 2025 - 490 - ردّ نوآبادیاتی تناظر میں نظام فطرت پر استوار دینِ اسلام کا علمی بیانیہ اور اس کی اساس پر انسان دوست نظام کے قیام کی ناگزیریت | 26-12-2025
ردّ نوآبادیاتی تناظر میں نظام فطرت پر استوار دینِ اسلام کا علمی بیانیہ اور اس کی اساس پر انسان دوست نظام کے قیام کی ناگزیریت
خطبہ جمعۃ المبارک
بتاریخ: 5؍ رجب المرجب 1447ھ / 26؍ دسمبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیہ:
1۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (3 – آلِ عمران: 190-191)
ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ وہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے ہیں، (کہتے ہیں): اے ہمارے رب ! تُو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا، تُو سب عیبوں سے پاک ہے، سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا“۔
2۔ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ (2 – البقرۃ: 284)
ترجمہ: ”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور اگر تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے اللہ تم سے اس کا حساب لے گا پھر جس کو چاہے بخشے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔ دینِ اسلام کے مکمل علمی و عملی نظام کا فہم و ادراک، بقائے انسانیت کے لیے ضروری
✔ انسانیت‘ حیوانیت کے بھنور میں، راہِ نجات کیا ہے؟
✔️ ذات خداوندی کے ساتھ سچا تعلق؛ مقاصد و اہداف
✔️ انسان میں اصل حیثیت روح کی ہے، نہ کہ محض جسم کی!
✔️ انسانی روح کے تقاضوں کے تین مراکز؛ نفس، قلب، عقل؛ دو دائرے اور اثرات و نتائج
✔️ انسان کی وِجدانی حالت‘ حصولِ علم کی سب سے اعلیٰ قسم
✔️ صحیح اور فاسد وِجدان کا دار ومدار اور اَثرات و نتائج
✔️ خدا شناسی کا شعور و ادراک‘ ہر انسان کا فطری وِجدان
✔️ عقل مند انسان کے لیے قرآنی معیارات اور ان کا معرفتِ خداوندی کے لیے غور و تدبر
✔️ عقلی غور و فکر کے نتیجے میں حضرات انبیاء علیہم السلام کا اقترابات و ارتفاقات کے عملی نظام کا قیام
✔️ ریاست و سیاست اور نظام کی ضرورت و اہمیت اور ذمہ داریاں
✔️ دینی سسٹم کی اَساسیات
✔️ حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے حیوانی عقل کی بنیاد پر سوالات اور اس کا علاج
✔️ خدا شناسی کے متعلق عقلی شکوک و شبہات کا قرآنی مخاصمہ
✔️ اسلام کے بارہ سو سالہ دورِ عروج میں ہر علمی و عملی شبہے کے ازالے کے لیے مکمل رہنمائی
✔️ ہندوستان میں دورِ زوال میں اسلام کے متعلق علمی شکوک وشبہات کے ہتھکنڈے
✔️ شکوک وشبہات پر مبنی غلامی کا نیا علمی بیانیہ؛ پسِ پردہ محرکات
✔️ عیسائی مشنری کی طرف سے خدا کے وجود پر سوالات اور حضرت نانوتویؒ کا حقانیتِ اسلام کا عملی و عقلی بیانیہ
✔️ اس علمی بیانیے کی اساس پر حضرت نانوتویؒ کا ”حجۃ الاسلام“ کے لقب سے موسوم ہونا
✔️ نوآبادیاتی دور کے بیانیے کی ناکامی؛ برٹش شہنشاہیت کا تشدّد اور فتوے بازی کے ماحول کا حربہ نیز مناظروں و مذہبی مکالموں کی اساس پرعلمی تقاضوں سے رُوگردانی
✔️ یورپین سامراجی نظام کے زیرِ اثر نام نہاد اسلامی جماعتیں اور ان کے بیانیے
✔️ وجودِ باری تعالیٰ پر بحث و مباحثے قابلِ تحسین لیکن دین کے عملی نظام کے قیام کے حوالے سے مکالمہ کیوں نہیں؟
✔️ عملی نظام سے کٹا ہوا علمی بیانیہ کمزور حیثیت رکھتا ہے
✔️ علمی مکالمہ اور دو انتہائیں
✔️ معروضی تقاضے؛ دین اسلام کا ٹھوس علمی بیانیہ اور عملی نظام کے قیام پر مکالمے و مباحثے کی ناگزیریتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Mon, 29 Dec 2025 - 489 - حکمتِ نظری و عملی کے دائروں میں ولیُ اللّٰہی اُسلوبِ فکر اورعصرِ حاضر کی حکمتِ سعیدیہ کا جائزہ | 19-12-2025
حکمتِ نظری و عملی کے دائروں میں ولیُ اللّٰہی اُسلوبِ فکر اورعصرِ حاضر کی حکمتِ سعیدیہ کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 27؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 19؍ دسمبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی
آیتِ قرآنی:
ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔ (-16 النّحل: 125)
ترجمہ: ”اپنے رب کے راستے کی طرف دانش مندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز
1:15 ادھورے اور ناقص نظام اور دینِ اسلام کے کامل و مکمل فکر و عمل کی دعوت
3:24 حکمت کا بنیادی اصول؛ غلط افکار و نظریات اور اعمال کو روک کر صحیح سمت کی طرف گامزن کرنا
9:10 حکمت کے دو دائرے؛ حکمتِ نظری و عملی اور انبیاءؑ کی بعثت
11:08 ایمان کی تعریف؛ ہر علم و عمل میں اتباعِ رسول اللہ ﷺ اور اس پر پختہ یقین
12:44 حکمت نظری و عملی کی تین قسمیں
19:35 نبی اکرم ﷺ کی حکمت کے ان چھ دائروں کی درستگی کی دعوتِ حق اور درست فکر و عمل کا تعین
20:10 مکہ میں مشرکین کے غلط الوہی تصورات اور مدینہ میں یہود ونصاریٰ کے فاسد ابہامات کا رد
27:48 آپؐ کا حکمتِ ریاضیہ و طبیعیہ کے نکتۂ نظر سےغلط تصورات و خیالات کی تردید اور صحیح فکر و عمل کا تعین
35:03 حکمتِ عملیہ کے تینوں دائروں میں نبی اکرمؐ کی رہنمائی
46:15 خلفائے راشدینؓ کا اس حوالے سے اسوۂ حسنہ کا کامل اتباع اور حکمت، موعظتِ حسنہ و مجادلہ و حسنہ کی اساس پر مضبوط و مستحکم قومی و بین الاقوامی نظام کا قیام
56:34 گذشتہ خطبہ جمعہ سے ربط و تعلق
✔ پہلے دور میں فلسفہ، حکمتِ نظری و عملی کا چیلنج اور ولی اللہی حکمت کا اسلوب
✔ دوسرے دور (1857ء) میں دہریت و غلامی کا چیلنج اور امداد اللہی و قاسمی ورشیدی حکمتِ عملی
✔ تیسرے دور (1947ء) میں جدید ظالمانہ نظام کا چیلنج اور حکمتِ سعیدیہ کی اساس پر مجدد العصر کا فکرو عمل
✔ آج کا معروضی تقاضا اور دعوتِ فکر و عملبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Thu, 25 Dec 2025 - 488 - دین اسلام کا تصور عدل و توازن اور امتِ وسط کی ذمہ داری | 28-11-2025
دین اسلام کا تصور عدل و توازن اور امتِ وسط کی ذمہ داری
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 7؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 28؍ نومبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَجَاهِدُوْا فِى اللّـٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْـرَاهِيْـمَ ۚ هُوَ سَـمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِىْ هٰذَا لِيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُـوْنُـوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّـٰهِۖ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْـرُ (الحج:78)
ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے، اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی، تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، اسی نے تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو، پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوط ہو کر پکڑو، وہی تمہارا مولٰی ہے، پھر کیا ہی اچھا مولٰی اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ اسلام دین فطرت اور دیگر عنوانات پر قائم مذاہب کی حقیقت
✔ دین محمد ﷺ کی حقیقی پہچان اور ملت ابراہیم
✔ الٰہی شریعت کی خصوصیت اور انسانی قوانین
✔ انسانیت کی ابدی اقدار
✔ قابل تغیر احکام اور دین اسلام کی متوازن شریعت
✔ فرد اور اجتماعیت میں توازن اور انتہا پسندانہ فلسفے
✔ دینی اسلام کے شعبوں (شریعت، طریقت اور سیاست) میں توازن
✔ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ سے توازن کی سنت
✔ اخلاق اور معیشت میں توازن کا دینی تصور
✔ ہر شے کے حق کی ادائیگی (حضرت ابو درداؓ اور حضرت سلمان فارسی ؓکا واقعہ)
✔ غلبہ دین کے لیے جدوجہد کا حق اور تنگی کی ممانعت
✔ اسوہ حسنہ او رایمان والی جماعت کی ذمہ داری
✔ دین کی بنیادی پہچان (توازن اور عدل)بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSat, 06 Dec 2025 - 487 - مواطنِ حیاتِ انسانی اور مشائخِ رائے پور کا سلسلۂ ولایت؛ حکمتِ سعیدیہ کے تناظر میں مولانا محمد عباس شادؒ کا یقظانی کردار | 05-12-2025
مواطنِ حیاتِ انسانی اور مشائخِ رائے پور کا سلسلۂ ولایت؛ حکمتِ سعیدیہ کے تناظر میں مولانا محمد عباس شادؒ کا یقظانی کردار
خُطبۂ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 13؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 05؍ دسمبر 2025ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِؕ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَـنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ (03– آل عمران: 185)
ترجمہ: ’’ہر جی کو چکھنی ہے موت اور تم کو پورے بدلے ملیں گے قیامت کے دن پھر جو کوئی دور کیا گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا جنت میں اس کا کام تو بن گیا اور نہیں زندگانی دنیا کی مگر پونجی دھوکے کی‘‘۔حدیثِ نبوی ﷺ :
۱۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" يَعْنِي: الْمَوْتَ.
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4258]۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ 1۔ موت اور انسانی زندگی کا فلسفہ
✔️ انسانی زندگی کا خاتمہ ایک اٹل حقیقت
✔️ موت کا وجودی مقام اور اگلے موطن تک رسائی
✔️ انسان کے مواطن اور ان کے اثرات
✔️ جسمانی و روحانی ارتقاء کے معیار
✔️ دنیاوی زندگی کی حیثیت: "متاعِ غرور"
✔️ مرنے کے بعد ہیئتِ نفسانی کے مطابق نتائج
✔️ 2۔ قبر و حشر کے مراحل اور روحانی قانونِ جزا
✔️ مسلمانوں اور منافقوں کے مراتبِ قبر و حشر
✔️ نیک اعمال کا نعمتوں اور بد اعمالیوں کا سزا کی صورت میں جواب
✔️ حدیث: محبت اور حشر کی نسبت
✔️ قیامت میں جماعتوں کے اپنے امام کے ساتھ اٹھائے جانے کا قانون
✔️ روحوں کی باہمی محبت و نفرت اور اس کے اثرات
✔️3۔ انبیاء کی اجتماعیتیں، روحانی لشکر اور ولایت کا تسلسل
✔️ ارواح کے متنوع لشکر
✔️ قرآن میں انبیاء کی جماعتوں کا حوالہ اور شاہ صاحب کا منفرد استدلال
✔️ اجتماعیتِ انبیاء کے غلبے کا وعدہ
✔️اولیاء اللہ کے سلاسل کا جاری ارتقاء
✔️ صحبت کے ذریعے ہدایت و ضلالت کا انتقال
✔️ اجتماعی ماحول کا فرد کی دنیا و آخرت پر اثر
✔️4۔ مشائخِ رائے پور کی روحانی روایت اور حضرت عباس شادؒ کا تعلق
✔️حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی مشائخ سے محبت
✔️اولیاء کی روحوں کا اپنے محبین کو کھینچ لینا
✔️انسان کے اگلے مواطن کا اثر: بلوغت سے موت تک
✔️ مولانا محمد عباس شادؒ کی خانقاہ سراجیہ کندیاں سے تربیت کا آغاز
✔️ 5۔ مولانا محمد عباس شادؒ کی تعلیمی و تربیتی زندگی کا سفر
✔️ابتدائی تربیت: جامعہ عربیہ اسلامیہ بورے والا
✔️جامعہ اشاعت العلوم میں تعلیمی قیام
✔️جامعہ رشیدیہ اور پھر جامعہ اشرفیہ سے سندِ فراغت
✔️مشائخ اور مفتیانِ کرام کی صحبتیں
✔️6۔ حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی صحبت اور مولانا شادؒ کی فکری تشکیل
✔️حضرت شاہ سعید احمد کی توجہات اور عملی تربیت
✔️شعبہ مطبوعات کی طرف رہنمائی
✔️حکمتِ سعیدیہ کے فروغ کی ذمہ داری
✔️مولانا شادؒ کا "یقظان بالطبع" ہونا
✔️تجدیدی فکر کے عصری تقاضوں کی خدمت
✔️7۔ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ میں 25 سالہ خدمات
✔️ ابتدائی مطبوعات اور مکی دار الکتب کا دور
✔️’’قرآنی شعور انقلاب اور مشائخِ رائے پور‘‘ کی طباعت
✔️ادارہ رحیمیہ کے طباعتی و علمی منصوبوں کی سرپرستی
✔️جدید ابلاغ کے دور میں مسلسل جدوجہد
✔️حکمتِ سعیدیہ کے لیے سپاہیانہ کردار
✔️8۔ زندگی کے مصائب، آزمائشیں اور روحانی استقامت
✔️ دنیاوی مشکلات کا سامنا اور صبر و رضا کا مقام
✔️ آخرت کی کامیابی کا اصول
✔️ آزمائشوں کے بعد انعامات کا وعدہ
✔️ رجوع الی اللہ ہر مصیبت کا شفا بخش نعم البدل
✔️اجتماعیت سے فرد کی جدائی اور اس کے اثرات
✔️ 9۔ سانحہ ارتحال اور اہلِ دل کی کیفیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Sat, 06 Dec 2025 - 486 - جمعہ کی اجتماعیت کے مقاصد اور انسانی معاہدات کی اساسی اہمیت، قرآنِ حکیم کے تصورِ تقویٰ کے تناظر میں | 28-11-2025
جمعہ کی اجتماعیت کے مقاصد اور انسانی معاہدات کی اساسی اہمیت، قرآنِ حکیم کے تصورِ تقویٰ کے تناظر میں
خُطبۂ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 06؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 28؍ نومبر 2025ء
بمقام: جامعہ عثمانیہ مکی مسجد، حسین کالونی، چشتیاںخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
يٰـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا (33– الأحزاب: 70,71)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور کہو بات سیدھی، کہ سنوار دے تمہارے واسطے تمہارے کام اور بخش دے تم کو تمہارے گناہ اور جو کوئی کہنے پر چلا اللہ کے اور اس کے رسول کے اس نے پائی بڑی مراد‘‘۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
1:35 جمعہ کی اجتماعیت کے مقاصد
6:05 جمعہ کی اجتماعیت کا قائم کرنا اور خطبہ دینا ریاست کے سربراہ کی ذمہ داری
7:21 جمعة المبارک کا بنیادی ہدف؛ اجتماعی قوت کا اظہار
9:50 جمعہ کے دن دو خطبوں کی مشروعیت کا راز
11:49 جمعہ کے دن اردو خطبہ سے مقصود‘ دین کے احکامات کی تعلیم و تفہیم
12:56 جمعہ کی اجتماعیت اور معاہدات کی پاسداری
15:11 جمعہ کے اجتماع سے دینی اجتماعیت اور مادی اجتماعیت کا بنیادی فرق سمجھنا ضروری
21:46 مسلمانوں کی بے روح اجتماعیتیں اور جمعہ کا شعوری پیغام
25:47 انسانی سماج کی پہلی اکائی؛ معاہدۂ نکاح کے بنیادی اساسی امور
29:14 خطبۂ نکاح کی پہلی آیت کا مقصد؛ تقویٰ کی اساس پر فریقین کی مساوی حیثیت کا تعین
42:30 دوسری آیت کا ہدف؛ قولِ سدید کا عہد و قرار اور خاندان کا ادب و احترام
46:29 ان امور کا لازمی نتیجہ اعمال و افعال کی درستگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے
49:07 تیسری آیت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایمان و سلامتی اور ایفائے عہد کی پاسداری کا بیان
51:20 ان اساسی امور کی شعبۂ زندگی کے ہر معاہدے اور اجتماعیت میں پاسداری ضروری
58:53 قولِ سدید کی تشریح اور دینی اجتماعیت پر مبنی آزادی و امن اور عدل کے نظام کا قیام
1:09:37 تین سو سال سے مادی مفادات کی اساس پر ظالمانہ نظام کا تسلط
1:18:17 اجتماعیت کا قیام اور تبدیلی نظام کا شعوری پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Mon, 01 Dec 2025 - 485 - سیمینار | سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت میں ریاستی ذمہ داریاں سیرتُ النبی ﷺ کی روشنی میں
سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت میں ریاستی ذمہ داریاں سیرتُ النبی ﷺ کی روشنی میں
خطاب:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 10؍ ربیع الاول 1447ھ / 4؍ ستمبر 2025ء
بمقام: یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
1:04 کلماتِ تشکر اور جامعات کے علمی و سماجی کردار کی نشان دہی
2:09 سوشل میڈیا کو دجّال و فتنہ قرار دینے کے بجائے علمی طور پر غور وفکر کرنے کی ضرورت
5:21 نئی ٹیکنالوجی کو فتنہ قرار دینے کی پُرانی رِیت ، نیز اس کے نسبتی شر کو پہچاننا اور فطری خیر کو استعمال میں لانا ضروری
6:41 موضوع کے تین دائروں کا اجمالی جائزہ
7:46 آپ ﷺ کی سیرت کا پہلا بنیادی تقاضا؛ ظالمانہ ریاستی ڈھانچے کی درستگی
9:48 رسولُ اللہﷺ کا مکی دور میں ریاستی سربراہی کی حیثیت سے کردار: ’’رئیسُ مدینةٍ مِن المُدُن‘‘
11:10 آپ ﷺ کا مدنی دور میں پورے حجاز کے سلطان”سلطان ناحیۃ العرب“ اور اقوامِ عالم کےلیے ’’ذوالقرنین‘‘ کی حیثیت سے کردار
12:37 آپ ﷺ کی سیرت کا بنیادی تقاضا‘ ریاست سازی ہے اور اس کی تشکیل کے چار اُصول
14:25 ریاستی تشکیل کا پہلا اُصول؛ قومی آزادی و خود مختاری اور اُسوۂ حسنہ ﷺ
17:17 ریاستی تشکیل کا دوسرا اُصول؛ عدل و انصاف کا نظام
19:03 ریاستی تشکیل کا تیسرا اُصول؛ امن و امان کا نظام
21:24 ریاستی تشکیل کا چوتھا اُصول؛ معاشی خوش حالی کا نظام
23:19 ان چار اصولوں کی روشنی میں عملی نظام کی تشکیل‘ ریاست کی بنیادی ذمہ داری
24:25 قومی ریاستوں کے زمانے میں ہمیں سیرتِ نبی ﷺ سے کیا رہنمائی لینی ہے؟
25:21 سیرتِ نبویہ ﷺ کی اساس پر ریاستی تشکیل کے لیے نیشنل ازم لازمی و ضروری
26:49 ہمارا لمحۂ فکریہ ہے کہ برعظیم پاک و ہند کی ہزار سالہ اسلامی ریاست و سیاست سے بے خبر ہیں
27:57 انگریز کےظالمانہ نظام اور پورپین ڈھانچے کا تسلط اور سیرت کا رہنما کردار
31:14 انسانی حقوق کی آواز کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال اور ریاستی جبر
33:08 سوشل میڈیا کی تین بنیادی اَساسیات اور ریاست کی ذمہ داریاں
35:25 یٰاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡا (الآیہ) کا پسِ منظر اور سیرتِ رسولﷺ کے تناظُر میں قومی ریاست کی ذمہ داریاں
36:45 سماجی وحدت کو برقرار رکھنا ‘ سوشل میڈیا کی بڑی بنیادی ذمہ داری
37:20 پہلے ہمیں اپنا بیانیہ درست کرنا چاہیے
38:36 ریاستی ذمہ داریوں کے ساتھ سوشل میڈیا نعمت سے کم نہیںبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 26 Nov 2025 - 484 - سُنّتُ اللّٰه اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں درپیش معاشرتی زوال سے نجات کا لائحۂ عمل | 21-11-2025
سُنّتُ اللّٰه اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں درپیش معاشرتی زوال سے نجات کا لائحۂ عمل
خُطبۂ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 29؍ جمادی الاولیٰ 1447ھ / 21؍ نومبر 2025ء
بمقام: جامعہ خدیجۃُ الکبریٰ، بورے والاخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا (48– الفتح: 23)
ترجمہ: ’’رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آتی ہے پہلے سے اور تو ہرگز نہ دیکھے گا اللہ کی رسم کو بدلتے‘‘۔حدیثِ نبوی ﷺ :
”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (صحیح بُخاری، حدیث: 5027)
ترجمہ: ”تُم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
1:22 دورِ زوال میں قرآنِ حکیم کا پیغام، عملی نظام اور مسلمان جماعت کا فریضہ
4:09 ’’حَبلُ اللہ المَمدود‘‘ سے سچا ربط و تعلق ہی ہماری نجات کا واحد راستہ ہے
7:50 خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں سنت اللہ کے مطابق انسانی معاشروں کی ترقی کے نبوی منہج کی تفصیلات
20:13 سنت اللہ کے مطابق انبیاءؑ کا انقلاب و تبدیلی کا منہج اور اس کا تاریخی تسلسل
29:37 سنت اللہ کے عملی منہج کی نبوی تعلیمات اور زوال کے خاتمے کا درست طریقہ کار کے چار اساسی امور
47:27 قرآنی منہج کے مطابق تعلیم و تربیت کا شعوری پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Wed, 26 Nov 2025 - 483 - تقریبِ رونمائی کتاب: دار العلوم دیوبند | قاری محمد طیّب قاسمیؒ | ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن
تقریبِ رونمائی کتاب: دار العلوم دیوبند
◼️ بنیادی اُصولِ تعلیم و انتظام اور مسلک
◼️ معتدل مکتبِ فکر اور تاریخی تسلسل
◼️ جامعیت پر مبنی مسلک علمائے دیوبنداز حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند
ترتیب و تقدیم، تحقیق و حواشی: حضرت مولانا شاہ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بتاریخ: 24؍ جمادی الأولیٰ 1447ھ / 16؍ نومبر 2025ء
اظہارِ خیال: حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن مدظله
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاThu, 20 Nov 2025 - 482 - تقریب | قومی مستقبل کی تعمیر میں اُسوۂ حسنہ کی ترجمان ولی اللّٰہی فکر کے نمائندہ ادارے کے طور پر ادارہ رحیمیہ کی اہمیت
قومی مستقبل کی تعمیر میں اُسوۂ حسنہ کی ترجمان ولی اللّٰہی فکر کے نمائندہ ادارے کے طور پر ادارہ رحیمیہ کی اہمیت
خطاب
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه الله
برموقع: تقریبات بسلسلۂ پندرہ سو سالہ ولادتِ باسعادت ﷺ اور پچیس سالہ قیامِ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ وتقریبِ رونمائی "تقریر الخیر الکثیر"
بتاریخ: 20؍ ربیع الاول 1447ھ / 14؍ ستمبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاThu, 20 Nov 2025 - 481 - جبری بالادستی اور سماجی فساد کے فرعونی و قارونی نظاموں کے خلاف قرآنی تصوُّرِ تقویٰ پر شُعوری تربیّت کی ضرورت | 14-11-2025
جبری بالادستی اور سماجی فساد کے فرعونی و قارونی نظاموں کے خلاف قرآنی تصوُّرِ تقویٰ پر شُعوری تربیّت کی ضرورت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 22؍جمادی الاولیٰ 1447ھ /14؍نومبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
”تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔“ (القصص:83)
ترجمہ: یہ آخرت کا گھر ہم انہیں کو دیتے ہیں جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور نیک انجام تو پرہیز گاروں ہی کا ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
0:49 انسانی زندگی کے دو مربوط مراحل اور نتائج کا نظام
7:47 اعمال کے مکمل نتائج کا نظام اور عقلی تقاضا
12:18 مغرب کا تصورِ انسان اور حقوق کا نظام
19:53 وسائل پر تصرف اور زمین پر فساد مچانے والی سامراجی قوتیں
25:39 متقی کہلانے کے حق دار لوگ
27:38 انسانی وحدت کے قیام میں انبیاء کا اجتماعی کردار اور سماجی ردعمل کی وجوہات
32:19 سماج میں فساد اور قارونی کردار کے خلاف انبیاء کی جدوجہد
39:40 تقویٰ کی حقیقت اور متقین کا اجتماعی و سماجی کردار قرآنی تعلیمات کی روشنی میںبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاThu, 20 Nov 2025 - 480 - تقریبِ رونمائی کتاب: دار العلوم دیوبند | قاری محمد طیّب قاسمیؒ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
تقریبِ رونمائی کتاب: دار العلوم دیوبند
◼️ بنیادی اُصولِ تعلیم و انتظام اور مسلک
◼️ معتدل مکتبِ فکر اور تاریخی تسلسل
◼️ جامعیت پر مبنی مسلک علمائے دیوبنداز حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند
ترتیب و تقدیم، تحقیق و حواشی: حضرت مولانا شاہ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بتاریخ: 24؍ جمادی الأولیٰ 1447ھ / 16؍ نومبر 2025ء
اظہارِ خیال: حضرت مولانا شاہ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظله
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاWed, 19 Nov 2025 - 479 - سامراج کے آئین شکن ظالمانہ تسلط کا تسلسل اور برعظیم کے علماء حق کی اجتماعی جدوجُہد عصری تناظر میں | 14-11-2025
سامراج کے آئین شکن ظالمانہ تسلط کا تسلسل اور برعظیم کے علماء حق کی اجتماعی جدوجُہد عصری تناظر میں
خُطبۂ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 22؍ جمادی الاولیٰ 1447ھ / 14؍ نومبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
”وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا-اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ۔ وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا-تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ-اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ-وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ“۔ (16– النحل: 91,92)
ترجمہ :”اور پورا کرو عہد اللہ کا جب آپس میں عہد کرو اور نہ توڑو قسموں کو پکا کرنے کے بعد، اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا ضامن، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ اور مت رہو جیسے وہ عورت کہ توڑا اس نے اپنا سوت کاتا ہوا محنت کے بعد ٹکڑے ٹکڑےکہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ ایک دوسرے میں، اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے، یہ تو اللہ پرکھتا ہے تم کو اس سے اور آئندہ کھول دے گا اللہ تم کو قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑ رہے تھے“۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔ شرائعِ الہیہ میں معاہدات کی اساسیات اور ان کی ناگزیریت
✔ معاہدات؛ فطرتِ انسانی کی بنیادی خصوصیت
✔ شریعتِ الہی میں معاہدات کی پہلی اساس؛ فریقین کی آزاد مرضی سے معاہدہ ہو
✔ دوسری اساس؛ عدل اور با اعتماد ذات؛ ذاتِ باری تعالی کی بنیاد پر معاہدہ ہو
✔ تمام ابنیاؑ کے ہاں معاہدات میں ذاتِ باری تعالی کے نام پر حلف اٹھانا ضروری
✔ تمام انسانوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کا شعوری یا غیر شعوری تعلق اور تقدس پایا جاتا ہے
✔ تیسری اساس؛ معاہدہ کرنے کے بعد اس کی پاسداری اورتمام تقاضوں کو پورا کرنا ضروری
✔ انبیاءؑ کا معروضی حالات کا جائزہ لیکر معاہدات کی قرار واقعی حیثیت کا تعین
✔ پہلی مثال؛ نبی اکرمؐ نے معاہدۂ نکاح کے تین غیر فطری طریقوں کو منسوخ کرکے صحیح طریقے کو برقرار رکھا
✔ دوسری مثال؛ مالی لین دین میں بیع اور سود کا فرق واضح کرکے سود کی حرمت
✔ دینِ اسلام میں قانون سازی کی بنیاد‘ معاہدات کی اصل روح کا تحفظ ہے
✔ انسانی معاہدات کی اساس پر دینِ اسلام کا قومی و بین الاقوامی نظام
✔ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق معاہدات و معاملات کا دینی فکر و عمل
✔ معاہدات انسانی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں
✔ سرمایہ دارنہ نظام میں انسان دشمن اور مفادات پر مبنی معاہدات کی سیاہ تاریخ
✔ معاہدہ شکنی و آئین شکنی کا نام‘ سرمایہ داری نظام
✔ سرمایہ دارانہ نظام میں معاہدات شکنی کے ظالمانہ تصورات
✔ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں معاہدات پورا کی اساسیات اور انہیں پورا کرنے کا حکم
✔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش شہنشاہیت کی معاہدات شکنی کی سیاہ تاریخ
✔ دین اسلام کی تعلیمات اور اسلامی ادوار میں معاہدات کی پاسداری کی روشنی مثالیں
✔ سماجی معاہدات کی حفاظت کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی سیاسی تحریک اور ’’فکُّ کلِ نظامٍ‘‘ کا درست مفہوم
✔ معاہدہ شکن طاقتوں (ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش شنہشاہیت) کے خلاف ولی اللهی تحریک کی جدوجہد و کوشش
✔ جمعیت علمائے ہند کا سیاسی شعور؛ سرمایه شکن طاقتوں کے خلاف آزادی و عدل و امن کی جمہوری جدوجہد
✔ 1920ء سے آج تک ولی اللہی تحریک کا ایک ہی مطالبہ؛ آئینی فریم کی اساس پر آزاد مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ کا قیام
✔ 1927ء میں قانونی نظام کی اہمیت،آئینی اصلاحات اور جمہوریت پر مبنی حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا جمعیت علمائے ہند کاخطبۂ صدرات
✔ 1927ء سے لیکر آج تک معاہدات توڑنے اور آئین شکنی کے اوچھے ہتھکنڈے
✔ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں معاہدات شکنی کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ اور شعوری دعوتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Tue, 18 Nov 2025 - 478 - اقامتِ دین بطور مقصدِ بعثتِ انبیاء: مذہب کے قنوطی و اقتداری رجحانات کا مطالعہ | 07-11-2025
اقامتِ دین بطور مقصدِ بعثتِ انبیاء: مذہب کے قنوطی و اقتداری رجحانات کا مطالعہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ:15؍جمادی الاولیٰ 1447ھ /7؍نومبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِؕ-كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِؕ-اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ۔ (الشوریٰ:13)
ترجمہ: تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور اسی راستہ کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اور اسی کا ہم نے ابراھیم اور موسی اور عیسی کو حکم دیا تھا کہ اسی دین پر قائم رہو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ مشرکوں کو بلاتے ہیں ، وہ ان پر گراں گزرتی ہے۔ الله جسے چاہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے راہ دکھاتا ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
0:55 اللہ کا سب سے بہترین شاہکار؛انسان
5:50 انبیاء کا سماجی کردار اور دین کا اجتماعی تصور
11:08 انبیاء کا ہدف اور مشن اور بالادست طبقہ کا ردعمل
17:07 اقامت دین ؛توحید کی اشاعت اورطبقاتیت کا خاتمہ
24:01 انبیاء کے مد مقابل طبقات کا تجزیہ
31:13 دینی وحدت اور فرقہ واریت
35:08 قنوطی مذہب اور سیاسی مذہب
41:06 دینی اصولوں پر سیاست کا مفہوم
44:40 اقامۃ دین اور تفرقہ فی الدین میں فرقبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاThu, 13 Nov 2025 - 477 - سماجی معاہدات کی پاسداری کے تناظُر میں رِجالُ الله کے کردار کی اہمیت اورتحریکِ بالا کوٹ کی جدوجہد کا خصوصی جائزہ | 07-11-2025
سماجی معاہدات کی پاسداری کے تناظُر میں رِجالُ الله کے کردار کی اہمیت اورتحریکِ بالا کوٹ کی جدوجہد کا خصوصی جائزہ
خُطبۂ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 15؍ جمادی الاولیٰ 1447ھ / 7؍ نومبر 2025ء
بمقام: جامع مسجد قبا، مانسہرہ
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
1۔ ”مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا“۔ (33– الأحزاب: 23)
ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ):”ا یمان والوں میں سے ایسے آدمی بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچ کر دکھایا، پھر ان میں سے بعض تو اپنا کام پورا کر چکے اور بعض منتظر ہیں اور عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی“۔
2۔ ”وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ“۔ (2- البقرہ: 154)
ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ):”اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے“۔
۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
1:35 حسنة فی الدنیا والآخرة کا دینی تصور
4:24 دنیا کی کامیابی کی بنیاد‘ سماجی معاہدات کی پاسداری
8:36 مہذّب معاشروں کی ترقی اور کامیابی کا بنیادی راز
10:58 مسلمان اور کافر میں بنیادی فرق
17:11 بے نیاز ذات اللہ تعالی کے ساتھ معاہدہ کیوں نہیں ہوسکتا؟
21:34 ذاتِ باری تعالی سے معاہدات کی تفصیل؛ اثرات ونتائج
31:20 معاہدات میں رضائے الہی کا حصول اور تعلق مع اللہ پیش نظر رکھنا ضروری
32:45 اسلامی و غیر اسلامی ریاست میں فرق
33:59 اللہ کے نام پر کیے گئے معاہدات کو توڑنے کی ممانعت
37:06خطبے کی مرکزی آیت میں اولو العزم جماعتِ صحابہؓ کی معاہدات کی پاسداری کا ذکر
47:46 معاہدات پورا کرنے والے رجال اللہ کی روشن تاریخ
53:27 دینِ اسلام کی انسانی وقومی ریاست کی بنیاد اور روشن کردار
54:31 سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کا بطور رجال اللہ کردار نیز دینِ اسلام میں جہاد اور فتوحات کا انسانی تصور
1:07:16 دین کے نام پر قربان ہونے والے قومی ہیرو اور شہداء اور آج کا المیہ
1:08:08 حضرت شاہ عبدالرحیم ولایتی شہیدؒ کا تحریکِ بالاکوٹ کے لیے کردار
1:12:05 سید احمد شہیدؒ کی تحریک‘ قومی آزادی کی تحریک تھی نیز اس بارے سامراج نواز پرتشدد انحرافی رویوں کا شعوری جائزہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Mon, 10 Nov 2025 - 476 - دین حق کے دُنیوی کردار کی نفی کا مرعوبانہ تصور؛ اسلام کے جامع نظریہ فلاح کے تناظر میں | 31-10-2025
دین حق کے دُنیوی کردار کی نفی کا مرعوبانہ تصور؛ اسلام کے جامع نظریہ فلاح کے تناظر میں
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 8؍جمادی الاولیٰ 1447ھ /31؍اکتوبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
اَفَـغَيْـرَ اللّـٰهِ اَبْتَغِىْ حَكَمًا وَّهُوَ الَّـذِىٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّـذِيْنَ اٰتَيْنَاهُـمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٝ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُـوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَـرِيْنَ ۔ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ۔ (الانعام:114-115)
ترجمہ: کیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو منصف بناؤں حالانکہ اس نے تمہاری طرف ایک واضح کتاب اتاری ہے، اور جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ ٹھیک تیرے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے، پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف کی انتہائی حد تک پہنچی ہوئی ہیں، اس کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
01:01 انبیاء کا موضوع؛ معاشرتی مسائل اور ان کا حل
6:25 انبیاء ؑ؛کمزور طبقات کے حقوق کے محافظ
9:43 انبیاءؑ کی جدوجہد کا مرکز؛ انسانی آزادی اور فلاح
15:04 دین کا محدود تصور، ایک فکری بددیانتی کا جائزہ
20:38 دین کا مقصد، متوازن زندگی کا قیام
25:50 انفرادی مفادات اور خواہشات کا دین
29:37 قرآن حکیم کی جامع راہنمائی اور ناقابل تبدیل اقدار
34:06 قرآن حکیم کا جامع نظام حیات اور قابل تبدیل احکام
40:20 دین اسلام کی ابدی تعلیمات اور معروضی تقاضے
44:37 فطرت انسانی کی حفاظت کے لیے صدق و عدل کے اصول
49:37 فلاح دنیا کی اساس پر فلاح آخرت کا دینی تصور، سیرت طیبہ سے راہنمائیبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاFri, 07 Nov 2025 - 475 - دینِ حق کا نورانی شعور اور ظلمانی نظاموں پر اس کے غلبہ کی جدوجہد کے تقاضے | 31-10-2025
دینِ حق کا نورانی شعور اور ظلمانی نظاموں پر اس کے غلبہ کی جدوجہد کے تقاضے
خطبہ جمعۃ المبارک
بتاریخ: 8؍ جمادی الاولیٰ 1447ھ / 31؍ اکتوبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) پشاور کیمپس
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ، يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ۔ (9 – التوبہ: 31-32)
ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا ہے، اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی، حالانکہ انہیں حکم یہی ہوا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سےپاک ہے۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں، اللہ اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر نہیں رہے گا، اور اگر چہ کافر ناپسند ہی کریں“۔
۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
1:34 انسانیت کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا معیار اور مسلمان کا لازمی فریضہ
3:46 الہی تعلیمات کی نورانیت اور گروہی مقاصد پر مبنی نظاموں کی ظلمتیں
6:48 سورۂ توبہ کا موضوع؛ دینِ اسلام کی بین الاقوامی تعلیمات کا تعارف
9:10 خطبے کی مرکزی آیات کی روشنی میں دینِ حق اور دینِ باطل میں فرق و امتیاز
14:27 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نکتۂ نظر سے دینِ حق اور دینِ باطل میں فرق کی وضاحت
16:29 دینِ حق کی حقانیت اور اسے دینِ باطل پر غالب کرنے کا معنی و مفہوم (فیوض الحرمین کی روشنی میں)
21:17 انسان کے نور (روحِ الہی) کے تقاضے پورا کرنا‘ اس کی بقا و فلاح کی ضمانت
23:37 کفر واسلام کے تناظر میں انسانی نورانیت کے فوائد اور حیوانی ظلمتوں کے نقصانات
25:04 بنی اکرم ﷺ کی ذات گرامی میں نور اور بشر کے حسین امتزاج کے تناظر میں انسان کی ترقیات کے امور کی وضاحت
27:34 شعائر اللہ کی نورانیت کے انسانی روح کی نورانیت پر اثرات
31:56 برکت کا مفہوم نیز نبی اکرمؐ، قرآنِ حکیم و کعبة اللہ اور نماز کی نورانیت کے اثرات
33:41 دینِ حق اور باطلِ نظام کے تناظر میں اعمال و اخلاق کی نورانیت اور بد اعمالیوں و بد اخلاقیوں کی ظلمتیں
49:48 قومی و بین الاقوامی ریاستی ڈھانچے کا دینِ حق اور دینِ باطل کے تناظر میں فرق و امتیاز
57:49 دینِ حق میں ایک خاص نور اور دینِ باطل میں ایک خاص ظلمت‘ سورۂ نور کی روشنی میں
1:00:11 دینِ حق کی نورانیت کو مٹانے اور اس کے غلبے کو ختم کرنے والے ظالم حکمرانوں اور اَحبار ورہبان کا تحلیل وتجزیہ
1:12:12 اللہ تعالی کا اپنے نور کو مکمل کرنے، دینِ حق کو غالب کرنےکا قطعی فیصلہ اور ہماری ذمہ داریاں
1:17:25 دنیا و آخرت کی ترقی و کامیابی کے لیے اتمامِ نور کے شعوری تقاضےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 04 Nov 2025 - 474 - مُعاصِر مسائل کے حل کے لیےتقویٰ اور عِلْم کی قرآنی اَساس پر فکری بیداری کی اہمیّت | 24-10-2025
مُعاصِر مسائل کے حل کے لیےتقویٰ اور عِلْم کی قرآنی اَساس پر فکری بیداری کی اہمیّت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: یکم؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۷ھ /24؍ اکتوبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی :
وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّصَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَـهُـمْ ذِكْرًا، فَـتَعَالَى اللّـٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٝ ۖ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِىْ عِلْمًا (20 - طٰهٰ: 113-114)
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں سنائیں تاکہ وہ ڈریں یا ان میں سمجھ پیدا کر دے۔سو اللہ بادشاہ حقیقی بلند مرتبے والا ہے، اور تو قرآن کے لینے میں جلدی نہ کر جب تک اس کا اترنا پورا نہ ہوجائے، اور کہہ اے میرے رب مجھے اور زیادہ علم دے۔۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
0:58 سنت اللہ اور قرآن حکیم کی جامعیت
6:15 شریعتوں کا بنیادی مقصد انسانی زندگی میں وحدت
10:01 قرآن حکیم ایک جامع دستور حیات اور پاکستانی سماج کا المیہ
15:09 قرآن کا اُسلوب اور مسلم سماج کی حالت زار کا درست تجزیہ کرنے کی ضرورت
21:12 قرآن حکیم کی دعوت فکر (قصص القرآن کے تناظر میں)
30:07 تقویٰ اور عدل و انصاف کا باہمی تعلق
34:33 قرآن حکیم کی فکر اور حضور اکرم کا دعوتی اُسلوب
42:26 فکری حملے اور جذباتیت کے ماحول میں حقائق سے ناواقفیت (مسئلہ غزہ کے تناظر میں)
45:25 امریکی سامراج کے مذہبی حربے اور سادہ لوح مذہبی قیادت
50:13 سامراجی دجل و فریب کو سمجھنے کے لیے قرآنی شعور کی اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاSat, 01 Nov 2025 - 473 - قرآنی تعلیمات کی روشنی میں انسانی اقدار و معاہدات کی حرمت اور جبر کے عالمی نظام کا معاہدہ شکن طرزِ عمل | 24-10-2025
قرآنی تعلیمات کی روشنی میں انسانی اقدار و معاہدات کی حرمت اور جبر کے عالمی نظام کا معاہدہ شکن طرزِ عمل
خطبہ جمعۃ المبارک
بتاریخ: یکم؍ جمادی الاولیٰ 1447ھ / 24؍ اکتوبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:*
”وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللّٰهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ۔ (16 – النحل: 91)
ترجمہ: ”اور اللہ کا عہد پورا کرو جب آپس میں عہد کرو، اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد نہ توڑو، حالانکہ تم نے اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا یا ہے، بے شک اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو“۔
۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
1:14 اختلافِ آراء‘ انسانیت کا فطری عنصر لیکن انسانی اقدار کی حفاظت ضروری
2:54 دینِ اسلام میں عقیدے کا جبر نہیں!
4:20 انسانی اقدار کی پامالی کی قطعاً اجازت نہیں!
5:03 پہلا خلق؛ انسانی جان کی حفاظت
5:49 قتلِ انسانیت شیطانی بد خلقی
6:54 دوسرا خلق؛ ظلم وزیاتی کی بنیاد پر دوسروں کا مال لوٹنے کی ممانعت
8:42 تیسرا خلق؛ تہمت و الزام تراشی کی ممانعت اور انسانی عزت کی حفاظت
10:23 الہی تعلیمات میں ان اقدار کی پامالی کی سخت ترین سزائیں
11:15 خطبے کی مرکزی آیت میں اختلافِ رائے کے حل کا طریقہ کار؛ معاہدات کی قانونی شکل
14:17 معاہدات و معاملات میں اللہ کے نام پر حلف کا راز
15:56 دائیں ہاتھ کو مقدس امور کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
20:26 معاہدات کی ہر شق کو پورا کرنا ضروری اور دھوکہ دہی کی ممانعت
22:19 معاہدات میں دونوں فریق حقیقی ہوں نہ کہ مصنوعی!
25:09 معاہدے کے فریقین کی یکساں حیثیت بھی ضروری
26:32 معاہدہ میں حقیقی رضا مندی ضروری، جبراً معاہدہ کرنا درست نہیں!
27:05 انسانی معاشرہ معاہدات پر قائم ہے
28:05 اس کی مثال؛ صلح حدیبہ کے موقع پر حضور ﷺ کا ریاستِ مکہ سے معاہدہ
33:40 ہر زبانی معاہدے اور تحریری میثاق کی پاسداری بھی ضروری!
36:08 تمام مذاہب، اقوام اور معاشروں کا اللہ کو معاہدے کا کفیل بنانا
38:31 معاہدات توڑنے والا منافقت کا حامل
39:21 قرآن میں جا بجا معاہدات کی اہمیت کا ذکر اور اسلام کی بنیادی خصوصیت
40:53 ایسٹ انڈیا کمپنی کی معاہدات کی روح کی خلاف ورزی
46:06 عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی معاہدات کی روح کی خلاف ورزی کی سیاہ تاریخ
48:39 ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہندوستان میں فراڈ بازی اور کرپشن کی ابتدا
53:36 اقوام و ممالک کو فتح کرنے کا صدیوں سے رائج عالمی انسانی اصول
55:14 ایسٹ انڈیا کمپنی سے لیکر آج تک عوام کے حقوق کی پامالی کا ظالمانہ نظام مسلط
58:15 غزہ کے امن معاہدہ میں معاہدات کے اصل تقاضوں اور روح کی خلاف ورزی
1:05:01 شرم الشیخ کے معاہدے میں اصل فریق کی عدم موجودگی اور حقیقی امن کی خلاف ورزی
1:10:48 ظالمانہ معاہدات سے براءت اور ملکی و سماجی معاہدوں کے جائزے کی شعوری دعوتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاTue, 28 Oct 2025 - 472 - جہادِ کبیر کے قرآنی حکم کی شعوری اہمیت اور عصری حکمت عملی کے تعیّن کی ضرورت| 17-10-2025
جہادِ کبیر کے قرآنی حکم کی شعوری اہمیت اور عصری حکمت عملی کے تعیّن کی ضرورت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 23؍ ربیع الثانی 1447ھ /17؍ اکتوبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت
”وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَـهُـمْ لِيَذَّكَّرُوْاۖ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِىْ كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيْـرًا ۔ فَلَا تُطِـعِ الْكَافِـرِيْنَ وَجَاهِدْهُـمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْـرًا۔“
ترجمہ: اور ہم نے اسے لوگوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں، پس بہت سے آدمی ناشکری کیے بغیر نہ رہے۔اور اگر ہم چاہتے تو ہر گاؤں میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ پس کافروں کا کہا نہ مان، ان کے ساتھ بڑے زور سے ان کا مقابلہ کر۔۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ دین فطرت اور وضعی دین کا فرق
✔ انسانی فطرت اور محمد ﷺ پر دینِ فطرت کی تکمیل
✔ قرآن حکیم فطری اصولوں کی اَبدی کتاب
✔ رسول اللہ ﷺ کے مشن کی وارث جماعت کی ذمہ داری اور مقابل کافر جماعت کی حقیقت
✔ جہاد کا ادھورا تصور اور جہاد کبیر کے تقاضے
✔ جماعت کی نفسی و ذہنی تیاری کا نبوی طریقہ کار
✔ بے سمت جماعتوں کی بے بصیرت قیادت اور بے شعور کارکن
✔ مسلم دنیا میں قیادت کا بحران اور بے شعور مسلم سماج‘ ایک تجزیہ
✔ مسلم نوجوان کے لیےجذباتی جدوجہد اور مایوسی سے نکلنے کا درست راستہ
✔ قرآنِ حکیم کا پیغام اور واضح نصب العین کے ساتھ جہاد کبیر کی راہنما سنت
✔ دجل کی حقیقت کو سمجھنے اور شعوری صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاThu, 23 Oct 2025 - 471 - فلاحی سماج کے قیام کے لئے چار ایمانی اصولِ تربیت پر حکمت عملی کی تشکیل کی ضرورت واہمیت | 10-10-2025
فلاحی سماج کے قیام کے لئے چار ایمانی اصولِ تربیت پر حکمت عملی کی تشکیل کی ضرورت واہمیت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 16؍ربیع الثانی 1447ھ /10؍اکتوبر 2025ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِـرُوْا وَصَابِـرُوْا وَرَابِطُوْاۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (3-آل عمران:200)
ترجمہ: اے ایمان والو! صبر کرو اور مقابلہ کے وقت مضبوط رہو اور لگے (ڈٹے) رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ اللہ کا منشا، انبیاء کی بعثت کا مقصد اور دین کا فلاحی پیغام
✔ کتب الہی کا تقاضا اور سماج کا عملی نظام
✔ فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے، قرآن حکیم کا عملی نظام
✔ مخلوقات پر انسانی امتیاز
✔ ایمان والی جماعت اصول؛ صبر (پہلا اصول )
✔ ایمان والی جماعت کے اصول؛ ثابت قدمی اور شعوری مزاحمت (دوسرا اصول)
✔ حضور اکرمﷺ کی تربیت یافتہ جماعت کا ڈسپلن
✔ ایمان والی جماعت کے اصول؛فکری رباط (تیسرا اصول) اور دشمن کی چالوں کے خلاف شعوری حکمت عملی
✔ مسلم سماج میں تشد د کی حکمت عملی کا فروغ اور نتائج
✔ سیرت رسولﷺ سے حکمت عملی سیکھنے کی ضرورت
✔ حضرت شیخ الہند ؒ کی بصیرت افروز حکمت عملی اور حضرت رائے پوری رابع کی جدوجہد
✔ ایمان والی جماعت کے اصول: تقویٰ (چوتھا اصول)بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیاThu, 23 Oct 2025
Podcasts similaires à خطبات
El Partidazo de COPE COPE
Herrera en COPE COPE
La Linterna COPE
Es la Mañana de Federico esRadio
La noche de Cuesta esRadio
Hondelatte Raconte Europe 1
Au Coeur du Crime Europe1
Affaires sensibles France Inter
LEGEND Guillaume Pley
El colegio invisible OndaCero
La Rosa de los Vientos OndaCero
Les grands dossiers de l'Histoire par Franck Ferrand Radio Classique
Espacio en blanco Radio Nacional
Enquêtes criminelles RTL
Entrez dans l'Histoire RTL
Le grand récit RTL
Les Grosses Têtes RTL
L'Heure Du Crime RTL
Parlons-nous RTL
El Larguero SER Podcast
SER Historia SER Podcast
Todo Concostrina SER Podcast
Un Libro Una Hora SER Podcast
HISTORIAS DE LA HISTORIA VIVA RADIO
