Filtrer par genre
Urdu poetry has always lived in the oral tradition, passed from voice to voice. The Urdu Poetry Podcast continues that journey. Our host, Ahsan Tirmizi, brings you selected nazms from across the Urdu-speaking world: poems of wisdom and passion, of longing, of the struggle for love and for life, of understanding the self and understanding the universe. Join us on this long journey, one bite-sized episode at a time. Tune in every week to hear the melodious language of love and wisdom. Stay connected. Follow along. Send us your suggestions at theurdupoetrypodcast@gmail.com
- 30 - Barahwan khiladi (Iftikhar Arif) - Ahsan TirmiziSun, 25 Oct 2026 - 02min
- 29 - Aaj ki shab to kisi taur guzar jaegi (Parveen Shakir) - Ahsan Tirmizi
If you enjoyed this episode, please share it with your friends and family. And if you haven't already, be sure to follow the podcast on your favorite podcast app so you never miss a new episode.
You can also send your suggestions, feedback, or episode requests to theurdupoetrypodcast@gmail.com.
I'll look forward to hearing from you. :)
Sat, 17 Oct 2026 - 02min - 28 - Jab tere shahr se guzarta hu (Saifuddin Saif) - Ahsan Tirmizi
If you enjoyed this episode, please share it with your friends and family. And if you haven't already, be sure to follow the podcast on your favorite podcast app so you never miss a new episode.
You can also send your suggestions, feedback, or episode requests to theurdupoetrypodcast@gmail.com.
I'll look forward to hearing from you. :)
Wed, 07 Oct 2026 - 06min - 27 - Haqeeqat e husn (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi
If you enjoyed this episode, please share it with your friends and family. And if you haven't already, be sure to follow the podcast on your favorite podcast app so you never miss a new episode.
You can also send your suggestions, feedback, or episode requests to theurdupoetrypodcast@gmail.com.
I'll look forward to hearing from you. :)
Sat, 27 Jun 2026 - 01min - 26 - Banjarah (Javed Akhtar) - Ahsan TirmiziTue, 05 May 2026 - 03min
- 25 - Farsh e naummidi e deedar (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan TirmiziWed, 11 Feb 2026 - 02min
- 24 - Dorahe (Kafeel Aazar Amrohvi) - Ahsan Tirmizi
کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گی
کب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گی
کب تلک منا سے شادی کے کرو گی تذکرے
خواہشوں کی آگ میں جلتی رہو گی کب تلک
چھٹیوں میں کب تلک ہر سال دلی جاؤ گی
کب تلک شادی کے ہر پیغام کو ٹھکراؤ گی
چائے میں پڑتا رہے گا اور کتنے دن نمک
بند کمرے میں پڑھو گی اور کتنے دن خطوط
یہ اداسی کب تلک
کب تلک نظمیں لکھو گی
رؤو گی یوں رات کی خاموشیوں میں کب تلک
بائبل میں کب تلک ڈھونڈو گی زخموں کا علاج
مسکراہٹ میں چھپاؤ گی کہاں تک اپنے غم
کب تلک پوچھو گی ٹیلیفون پر میرا مزاج
فیصلہ کر لو کہ کس رستے پہ چلنا ہے تمہیں
میری بانہوں میں سمٹنا ہے ہمیشہ کے لیے
یا ہمیشہ درد کے شعلوں میں جلنا ہے تمہیں
کب تلک خوابوں سے دھوکے کھاؤ گی
Sun, 15 Jun 2025 - 01min - 23 - Chand ke tamannai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
شہر دل کی گلیوں میں
شام سے بھٹکتے ہیں
چاند کے تمنائی
بے قرار سودائی
دل گداز تاریکی
جاں گداز تنہائی
روح و جاں کو ڈستی ہے
روح و جاں میں بستی ہے
شہر دل کی گلیوں میں
تاک شب کی بیلوں پر
شبنمیں سرشکوں کی
بے قرار لوگوں نے
بے شمار لوگوں نے
یادگار چھوڑی ہے
اتنی بات تھوڑی ہے
صد ہزار باتیں تھیں
حیلۂ شکیبائی
صورتوں کی زیبائی
قامتوں کی رعنائی
ان سیاہ راتوں میں
ایک بھی نہ یاد آئی
جا بجا بھٹکتے ہیں
کس کی راہ تکتے ہیں
چاند کے تمنائی
یہ نگر کبھی پہلے
اس قدر نہ ویراں تھا
کہنے والے کہتے ہیں
قریۂ نگاراں تھا
خیر اپنے جینے کا
یہ بھی ایک ساماں تھا
آج دل میں ویرانی
ابر بن کے گھر آئی
آج دل کو کیا کہئے
با وفا نہ ہرجائی
پھر بھی لوگ دیوانے
آ گئے ہیں سمجھانے
اپنی وحشت دل کے
بن لئے ہیں افسانے
خوش خیال دنیا نے
گرمیاں تو جاتی ہیں
وہ رتیں بھی آتی ہیں
جب ملول راتوں میں
دوستوں کی باتوں میں
جی نہ چین پائے گا
اور اوب جائے گا
آہٹوں سے گونجے گی
شہر دل کی پنہائی
اور چاند راتوں میں
چاندنی کے شیدائی
ہر بہانے نکلیں گے
آرزو کی گیرائی
ڈھونڈنے کو رسوائی
سرد سرد راتوں کو
زرد چاند بخشے گا
بے حساب تنہائی
بے حجاب تنہائی
شہر دل کی گلیوں میں
Tue, 29 Oct 2024 - 02min - 22 - Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi
مت روکو انہیں پاس آنے دو
یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں
میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں
کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
دو پاؤں بنے ہریالی پر
ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر
کچھ جگمگ جگنو جنگل سے
کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے
یہ ایک کہانی نیند بھری
اک تخت پہ بیٹھی ایک پری
کچھ گن گن کرتے پروانے
دو ننھے ننھے دستانے
کچھ اڑتے رنگیں غبارے
ببو کے دوپٹے کے تارے
یہ چہرہ بنو بوڑھی کا
یہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کا
یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں
میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں
کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
السائی ہوئی رت ساون کی
کچھ سوندھی خوشبو آنگن کی
کچھ ٹوٹی رسی جھولے کی
اک چوٹ کسکتی کولھے کی
سلگی سی انگیٹھی جاڑوں میں
اک چہرہ کتنی آڑوں میں
کچھ چاندنی راتیں گرمی کی
اک لب پر باتیں نرمی کی
کچھ روپ حسیں کاشانوں کا
کچھ رنگ ہرے میدانوں کا
کچھ ہار مہکتی کلیوں کے
کچھ نام وطن کی گلیوں کے
مت روکو انہیں پاس آنے دو
یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں
میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں
کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
کچھ چاند چمکتے گالوں کے
کچھ بھونرے کالے بالوں کے
کچھ نازک شکنیں آنچل کی
کچھ نرم لکیریں کاجل کی
اک کھوئی کڑی افسانوں کی
دو آنکھیں روشن دانوں کی
اک سرخ دلائی گوٹ لگی
کیا جانے کب کی چوٹ لگی
اک چھلا پھیکی رنگت کا
اک لاکٹ دل کی صورت کا
رومال کئی ریشم سے کڑھے
وہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھے
مت روکو انہیں پاس آنے دو
یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں
میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں
کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
کچھ اجڑی مانگیں شاموں کی
آواز شکستہ جاموں کی
کچھ ٹکڑے خالی بوتل کے
کچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کے
کچھ بکھرے تنکے چلمن کے
کچھ پرزے اپنے دامن کے
یہ تارے کچھ تھرائے ہوئے
یہ گیت کبھی کے گائے ہوئے
کچھ شعر پرانی غزلوں کے
عنوان ادھوری نظموں کے
ٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑی
اک خشک قلم اک بند گھڑی
مت روکو انہیں پاس آنے دو
یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں
میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں
کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
کچھ رشتے ٹوٹے ٹوٹے سے
کچھ ساتھی چھوٹے چھوٹے سے
کچھ بگڑی بگڑی تصویریں
کچھ دھندلی دھندلی تحریریں
کچھ آنسو چھلکے چھلکے سے
کچھ موتی ڈھلکے ڈھلکے سے
کچھ نقش یہ حیراں حیراں سے
کچھ عکس یہ لرزاں لرزاں سے
کچھ اجڑی اجڑی دنیا میں
کچھ بھٹکی بھٹکی آشائیں
کچھ بکھرے بکھرے سپنے ہیں
یہ غیر نہیں سب اپنے ہیں
مت روکو انہیں پاس آنے دو
یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں
میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں
کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
Sat, 12 Oct 2024 - 04min - 21 - Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi
Feel free to share your opinions with me at theurdupoetrypodcast@gmail.com
nazm:
تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو
اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا
اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں
شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا
راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری
کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں
کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں
میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں
یوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا
کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیں
کچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے
دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیں
ایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش
جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہے
مسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں
اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہے
گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر
جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہے
میں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید
پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے
کیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول
چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہت
ایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق
ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہت
پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں
کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہو
کاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو
اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو
آج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے
میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گا
تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو
اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا
Sat, 06 Jul 2024 - 02min - 20 - Sab Maaya Hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
Sab Maaya Hai by Ibn e Insha:
سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے
ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایا ہے
اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے
معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشاؔ بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے
کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو
جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو
اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے؟
سبب مایا ہے
جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
تم جانتے ہو ہم کیوں کر اس کا نام لکھیں
دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے
سب مایا ہے
وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے
سب مایا ہے
جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
سب مایا ہے
جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہے
اور اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے
Sat, 29 Jun 2024 - 02min - 19 - Taaruf (Nun meem Rashid) - Ahsan Tirmizi
اجل، ان سے مل،
کہ یہ سادہ دل
نہ اہل صلوٰۃ اور نہ اہل شراب،
نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب،
نا اہل کتاب
نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشین
نہ اہل خلا اور نہ اہل زمین
فقط بے یقین
اجل، ان سے مت کر حجاب
اجل، ان سے مل!
بڑھو، تم بھی آگے بڑھو
اجل سے ملو،
بڑھو، نو تونگر گداؤ
نہ کشکول دریوزہ گردی چھپاؤ
تمہیں زندگی سے کوئی ربط باقی نہیں
اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنساؤ!
بڑھو بندگان زمانہ بڑھو بندگان درم
اجل یہ سب انسان منفی ہیں
منفی زیادہ ہیں انسان کم
ہو ان پر نگاہ کرم
Sat, 25 May 2024 - 01min - 18 - Ek ladka (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر
جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے
آج میلہ لگا ہے اسی شان سے
آج چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں
آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں
نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں
پر وہ چھوٹا سا الھڑ سا لڑکا کہاں
Mon, 20 May 2024 - 01min - 17 - Ek dost ki khushmazaqi par (Majaz) - Ahsan Tirmizi
نظم:
ہو نہیں سکتا تری اس ''خوش مذاقی'' کا جواب
شام کا دل کش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب
رکھ بھی دے اب اس کتاب خشک کو بالائے طاق
اڑ رہا ہے رنگ و بو کی بزم میں تیرا مذاق
چھپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہر زر فشاں
دید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں
موجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیر سحاب
جس طرح رنگین شیشوں میں جھلکتی ہے شراب
اک نگارش آتشیں ہر شے پہ ہے چھایا ہوا
جیسے عارض پر عروس نو کے ہو رنگ حیا
شانۂ گیتی پہ لہرانے کو ہیں گیسوئے شب
آسماں میں منعقد ہونے کو ہے بزم طرب
اڑ رہے ہیں جستجو میں آشیانوں کے طیور
آ چلا ہے آئنے میں چاند کے ہلکا سا نور
دیکھ کر یہ شام کے نظارہ ہائے دل نشیں
کیا ترے دل میں ذرا بھی گدگدی ہوتی نہیں
کیا تری نظروں میں یہ رنگینیاں بھاتی نہیں
کیا ہوائے سرد تیرے دل کو تڑپاتی نہیں
کیا نہیں ہوتی تجھے محسوس مجھ کو سچ بتا
تیز جھونکوں میں ہوا کے گنگنانے کی صدا
سبزہ و گل دیکھ کر تجھ کو خوشی ہوتی نہیں
اف ترے احساس میں اتنی بھی رنگینی نہیں
حسن فطرت کی لطافت کا جو تو قائل نہیں
میں یہ کہتا ہوں تجھے جینے کا حق حاصل نہیں
Sun, 12 May 2024 - 01min - 16 - Manzar (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan TirmiziTue, 07 May 2024 - 01min
- 15 - Raqeeb se (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
Mon, 28 Nov 2022 - 02min - 14 - Itna maloom hai (Parveen Shakir) - Ahsan Tirmizi
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟ آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟ میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا کل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا - کٹھن سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگا راہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریب اس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا ایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا یہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیں اس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا جان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیر ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگا کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسے اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر دوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگا یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں ''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگا اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگا جب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دل یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا! اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ؟ کیسے تھے؟ مجھ کو پوچھا تھا - مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟ اس نے اک لمحے کو دیکھا مجھے - اور پھر ہنس دی اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے کیا کہا اس نے مجھے یاد نہیں ہے لیکن اتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا
Thu, 06 Oct 2022 - 02min - 13 - ye mahlon ye takhton ye tajon ki duniya (Sahir Ludhianvi) - Ahsan Tirmizi
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم بد حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جوانی بھٹکتی ہے بد کار بن کر جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
Wed, 06 Jul 2022 - 01min - 11 - Mujh se pahle (Ahmad Faraz) - Ahsan Tirmizi
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
Wed, 25 May 2022 - 01min - 10 - Numuu (Obaidullah Aleem) - Ahsan Tirmizi
میں وہ شجر تھا کہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھی زمیں کی آنکھیں درازیٔ عمر کی دعاؤں میں رو رہی تھیں اور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میں کہ میں اک آواز کا سفر تھا عجب شجر تھا کہ اس مسافر کا منتظر تھا جو میرے سائے میں آ کے بیٹھے تو پھر نہ اٹھے جو میری شاخوں پہ آئے جھولے تو سارے موسم یہیں گزارے مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا عجب مسافر تھا رہ گزر کا جو چھوڑ آیا تھا کتنی شاخیں مگر لگا یوں کہ جیسے اب وہ شکستہ تر ہے وہ میرے خوابوں کا ہم سفر ہے سو میں نے سائے بچھا دئیے تھے تمام جھولے ہلا دئیے تھے مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا عجب مسافر تھا رہ گزر تھا کہ لمحے بھر میں گزر چکا تھا میں بے نمو اور بے ثمر تھا مگر میں آواز کا سفر تھا سو میری آواز کا اجر تھا عجب شجر تھا عجب شجر ہوں کہ آنے والے سہ کہہ رہا ہوں اے میرے دل میں اترنے والے اے مجھ کو شاداب کرنے والے تجھے مری روشنی مبارک تجھے مری زندگی مبارک
Fri, 03 Dec 2021 - 02min - 9 - Jis roz qazaa aayegi (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اول شب بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب نیم وا کلیوں سے سر سبز سحر یک بیک حجرۂ محبوب میں لہرانے لگے اور خاموش دریچوں سے بہ ہنگام رحیل جھنجھناتے ہوئے تاروں کی صدا آنے لگے کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی شاید اس طرح کہ جس طور تہہ نوک سناں کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ از کراں تا بہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی خواہ قاتل کی طرح آئے کہ محبوب صفت دل سے بس ہوگی یہی حرف وداع کی صورت للہ الحمد بہ انجام دل دل زدگاں کلمۂ شکر بہ نام لب شیریں دہناں
Sun, 24 Oct 2021 - 01min - 8 - Woh kitaab (Zehra Nigah) - Ahsan Tirmizi
مری زندگی کی لکھی ہوئی مرے طاق دل پہ سجی ہوئی وہ کتاب اب بھی ہے منتظر جسے میں کبھی نہیں پڑھ سکی وہ تمام باب سبھی ورق ہیں ابھی تلک بھی جڑے ہوئے مرا عہد دید بھی آج تک انہیں وہ جدائی نہ دے سکا جو ہر اک کتاب کی روح ہے مجھے خوف ہے کہ کتاب میں مرے روز و شب کی اذیتیں وہ ندامتیں وہ ملامتیں کسی حاشیے پہ رقم نہ ہوں میں فریب خوردۂ برتری میں اسیر حلقۂ بزدلی وہ کتاب کیسے پڑھوں گی میں؟
Sat, 16 Oct 2021 - 01min - 7 - Har shay musafir har cheez rahi (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi
ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میداں تو میر لشکر نوری حضوری تیرے سپاہی کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی یہ بے سوادی یہ کم نگاہی دنیائے دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے کردار بے سوز گفتار واہی
Sat, 09 Oct 2021 - 01min - 6 - Aadarsh (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi
کیسی ہے یہ رسم تاؤ کیا ہے یہ آدرش مان کی خاطر جان گنوائی دل کی خاطر پریت رات کی خاطر صبح بنائی ہار کی خاطر جیت چاند کی خاطر شہر بناۓ دشت کی خاطر قہر آنکھ کی خاطر اشک بناۓ جام کی خاطر ز ہر جسم کی خاطر فرش بنایا روح کی خاطر عرش گرد کی خاطر راہ بنائی راہ کی خاطر خار بوجھو تو پاگل کا سپنا سمجھو تو سنسار
Sun, 19 Sep 2021 - 00min - 5 - Naya Amrit (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi
دواؤں کی المایوں سے سجی اک دکاں میں مریضوں کے انبوہ میں مضمحل سا اک انساں کھڑا ہے جو اک نیلی کبڑی سی شیشی کے سینے پہ لکھے ہوئے ایک اک حرف کو غور سے پڑھ رہا ہے مگر اس پہ تو ''زہر'' لکھا ہوا ہے اس انسان کو کیا مرض ہے یہ کیسی دوا ہے؟
Sat, 11 Sep 2021 - 00min - 4 - Kal humne sapna dekha hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
کل ہم نے سپنا دیکھا ہے جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے اس شخص کو اپنا دیکھا ہے وہ شخص کہ جس کی خاطر ہم اس دیس پھریں اس دیس پھریں جوگی کا بنا کر بھیس پھریں چاہت کے نرالے گیت لکھیں جی موہنے والے گیت لکھیں دھرتی کے مہکتے باغوں سے کلیوں کی جھولی بھر لائیں امبر کے سجیلے منڈل سے تاروں کی ڈولی بھر لائیں ہاں کس کے لیے سب اس کے لیے وہ جس کے لب پر ٹیسو ہیں وہ جس کے نیناں آہو ہیں جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی جو درد بھی ہے اور دارو بھی وہ الہڑ سی وہ چنچل سی وہ شاعر سی وہ پاگل سی لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں ہم نام نہ اس کا بتلائیں اے دیکھنے والو تم نے بھی اس نار کی پیت کی آنچوں میں اس دل کا تینا دیکھا ہے؟ کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
Sun, 05 Sep 2021 - 01min - 3 - Ek baar kaho tum meri ho (Ibn e insha) - Ahsan Tirmizi
ہم گھوم چکے بستی بن میں اک آس کی پھانس لیے من میں کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہو جب سورج دھوپ نہاتا ہو یا شام نے بستی گھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلا ہے ہم کب تک پیت کے دھوکے میں تم کب تک دور جھروکے میں کب دید سے دل کو سیری ہو اک بار کہو تم میری ہو کیا جھگڑا سود خسارے کا یہ کاج نہیں بنجارے کا سب سونا روپا لے جائے سب دنیا، دنیا لے جائے تم ایک مجھے بہتیری ہو اک بار کہو تم میری ہو
Mon, 30 Aug 2021 - 01min - 2 - Rang hai dil ka mere (Faiz Ahmed Faiz)- Ahsan TirmiziThu, 08 Jul 2021 - 01min
- 1 - Bahaar aai (Faiz Ahmed 'Faiz') - Ahsan Tirmizi
بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے وہ خواب سارے شباب سارے جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے نکھر گئے ہیں گلاب سارے جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں جو تیرے عشاق کا لہو ہیں ابل پڑے ہیں عذاب سارے ملال احوال دوستاں بھی خمار آغوش مہ وشاں بھی غبار خاطر کے باب سارے ترے ہمارے سوال سارے جواب سارے بہار آئی تو کھل گئے ہیں نئے سرے سے حساب سارے
Wed, 23 Jun 2021 - 00min
Podcasts similaires à The Urdu Poetry Podcast
Alles Geschichte - Der History-Podcast ARD
Kein Mucks! – Der Krimi-Podcast mit Bastian Pastewka ARD
Mit den Waffeln einer Frau barba radio, Barbara Schöneberger
IQ - Wissenschaft und Forschung Bayerischer Rundfunk
Easy German: Learn German with native speakers | Deutsch lernen mit Muttersprachlern Cari, Manuel und das Team von Easy German
Machtwechsel Dagmar Rosenfeld und Robin Alexander
Verbrechen DIE ZEIT
Psychologie to go! Dipl. Psych. Franca Cerutti
Kriminalhörspiel Hörspiel und Feature
Wissen mit Johnny Johnny
Julia Leischik: Spurlos Julia Leischik, Sylvia Lutz
MORD AUF EX Leonie Bartsch & Linn Schütze
Gysi gegen Guttenberg – Der Deutschland Podcast Open Minds Media, Karl-Theodor zu Guttenberg & Gregor Gysi
Mordlust Paulina Krasa & Laura Wohlers
RONZHEIMER. Paul Ronzheimer
Sinnlos Märchen RADIO PSR
Im Visier – Verbrecherjagd in Berlin und Brandenburg rbb
Geschichten aus der Geschichte Richard Hemmer und Daniel Meßner
Verbrechen von nebenan: True Crime aus der Nachbarschaft RTL+ / Philipp Fleiter
Das Wissen | SWR SWR
WDR Zeitzeichen WDR
Einschlafen mit Wikipedia Wikipedia & Schønlein Media
Aktenzeichen XY… Unvergessene Verbrechen ZDF - Aktenzeichen XY
Lanz + Precht ZDF, Markus Lanz & Richard David Precht
